ایسا کیسے چلے گا؟


دیسی مرغی، دیسی گھی اور خالص دودھ تو قصۂ پارینہ بن چکے۔ اب یہ سب کچھ خواب و خیال کہ دیسی مرغی کے نام پر فارمی مرغی اور دیسی گھی کی محض مہک ہی باقی ہے۔ دیسی گھی میں عام گھی اور کیمیکلز کی ملاوٹ کی جاتی ہے اور دودھ میں سنگھاڑے کا آٹا، کارن سٹارچ، کھاد، سرف اور پانی کی آمیزش تھوک کے حساب سے۔ اِس لیے ہم نے اِن اشیاء سے توبہ کرلی البتہ ایک شخص ایسا ہے جو جیل میں بیٹھا اِن خالص اشیاء سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اُسے دیسی گھی میں بھُنی ہوئی دیسی مرغی ملتی ہے جسے جیل کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ کی نگرانی میں تیار کر کے ڈاکٹر کی پڑتال کے بعد بصد ادب اُس کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ وہ جیل سے باہر بھی لاڈلا تھا اور اندر بھی لاڈلا ہی ہے۔ اُس کی ناز برداریوں کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم اور حفاظتی عملہ ہمہ وقت مستعد رہتا ہے۔ اِس وقت تک وہ ٹیکسوں کی مَد میں قوم کی نَسوں سے نُچڑے ہوئے لہو کے 36 لاکھ روپے سے زیادہ ڈکار چکا پھر بھی وہ قیدی۔ بامشقت قیدی۔

ہمیں 21 جولائی 2014 ء کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب ہم واشنگٹن ڈی سی میں تھے اور لاڈلا وہاں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ”نواز شریف کہتا ہے جیل کا کھانا اچھا نہیں ہے، مجھے ائرکنڈیشن لگا دو ، مجھے ٹی وی چاہیے۔ اگر یہی سبھی کچھ جیل میں دینا ہے تو یہ سزا تو نہ ہوئی۔ واپس جاکر اے سی اور ٹی وی جیل سے نکالیں گے، گھر کا کھانا بند کریں گے جس پر مریم بی بی بہت شور مچائے گی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ آصف زرداری جیل جاتے ہی ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔

آپ کو بھی ہم جیل میں ہی رکھیں گے جہاں اے سی اور ٹی وی نہیں ہو گا“ ۔ اُس مغرور و متکبر شخص کے یہ الفاظ اُس کی رعونت اور نفرت کا پتہ دیتے تھے۔ حیرت یہ کہ وہ ایک غیر ملک میں 3 بار کے منتخب وزیرِاعظم اور سابق صدرِ مملکت کے بارے میں ایسے الفاظ کہہ رہا تھا۔ آج جب وہ خود جیل میں ہے تو ہمیں رہ رہ کر یہ شعر یاد آتا ہے

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خُدا کے لہجے میں

آج اُس کی جیل کی کوٹھری میں اے سی تو ہے لیکن اتنی شدید گرمی میں اے سی بھی دَم توڑ جاتے ہیں۔ ناز و نعم میں پَلا ہوا لاڈلا بھلا کہاں تک یہ گرمی برداشت کر پاتا۔ اُس نے اپنے حواریوں سے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس یہ عرضداشت لے کر جاؤ کہ اُسے جیل سے نکالا جائے۔ لاڈلے کو اچھی طرح سے علم ہو چکا کہ اب اُس کی کال پر کوئی باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ اِسی لیے اُس نے مولانا کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہا۔ دروغ بَر گردنِ راوی جب عمر ایوب اور اسد قیصر لاڈلے کی عرضداشت لے کر مولانا سے معافی کے طلب گار ہوئے تو اُنہوں نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بتکرار دِن کو رات کہو تو میں مان لوں گا لیکن اگر تم یہ کہو کہ لاڈلا اپنے وعدوں پر قائم رہے گا تو میں تسلیم نہیں کروں گا۔

واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کرتے ہوئے لاڈلے نے یہ بھی کہا کہ اِن 2 حکومتوں (نواز لیگ اور پیپلز پارٹی) نے ملک کا قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا۔ ہمیں اِن حکومتوں سے یہ پیسہ واپس لینا ہے۔ مفرور مُراد سعید بھی کہا کرتا تھا کہ جب عمران خاں آئے گی تو باہر پڑا 200 ارب ڈالر واپس لائے گی۔ اُس وقت تو لوگوں نے یقین کر لیا کہ واقعی بیرونی ممالک میں 200 ارب ڈالر موجود ہیں جسے لاڈلا واپس لائے گا لیکن وہ سب جھوٹ تھا۔ لاڈلے کے ساڑھے 3 سالہ دَورِ حکومت میں 2 ارب تو کُجا 2 ڈالر بھی واپس نہیں ہوئے البتہ یہ حکومت پاکستان کو مزید 25 ہزار ارب روپے کی مقروض کر کے چلتی بنی۔ آج تک قوم کو یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ آخر وہ 25 ہزار ارب روپے گئے کہاں؟

جس میاں نواز شریف کے خلاف اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور عمران خاں نے مل کر سازشوں کے جال بُنے اُس کے ملک و قوم کی ترقی کے لیے کارنامے اظہر مِن الشمس۔ اُنہوں نے مسلم لیگ نون کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”بانی پی ٹی آئی نے میری کمر میں چھُرا گھونپا۔ مجھے کہا تعاون کروں گا لیکن لندن میں ظہیر الاسلام، طاہر القادری سے ملا پھر دھرنے شروع کر دیے۔ پتہ نہیں اُسے کہاں سے اشارہ ملا۔ میرے پاس آڈیو ہے جس میں ثاقب نثار نے کہا عمران کو لانا ہے، نواز اور مریم کو جیل میں رکھنا ہے۔

ایسے چیف جسٹس کا احتساب ہو، مظاہر نقوی بھی نیب بھگتے۔ آج تک سمجھ نہیں آیا 1993 ء میں ہماری حکومت کا تختہ کیوں اُلٹا۔ اُس وقت ملکی ترقی کے لیے جو ایجنڈا دیا اگر اِس پر عمل ہوجاتا تو آج ہمارا ملک ایشیا میں سب سے آگے ہوتا۔ کرپٹ ججز کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے۔ قوم سے گلہ ہے ہمیں تنخواہ نہ لینے سے نکال دیا جاتا ہے اور وہ خاموش رہتی ہے“ ۔ میاں صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ بالکل بجا لیکن اُنہیں علم ہونا چاہیے کہ اُن کے خلاف سازشیں بُننے والوں کو گلہ ہی صرف ایک ہے کہ نواز شریف اصولوں پر ڈٹ جاتے ہیں اور ”ڈکٹیشن“ نہیں لیتے۔

اُنہوں نے 3 بار وزارتِ عظمیٰ کو ٹھوکر ماری لیکن ڈکٹیشن نہیں لی۔ 17 اپریل 1993 ء میں اُنہوں نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایوانِ صدر کو سازشوں کی آماجگاہ قرار دیا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ وہ نہ استعفیٰ دیں گے، نہ اسمبلی توڑیں گے اور نہ ہی ڈکٹیشن لیں گے۔ تب اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خاں کے آرٹیکل 58۔ 2 B کا نشانہ بنے۔ یہ الگ بات ہے کہ غلام اسحاق خاں کو بھی مستعفی ہو کر گھر جانا پڑا۔

2013 ء کے عام انتخابات کے بعد ایک دفعہ پھر میاں صاحب کے خلاف سازشوں کے جال بُنے گئے اور 2014 ء میں لندن پلان مرتب کیا گیا۔ جیو نیوز کے رپورٹر مرتضی ٰ علی شاہ کے مطابق اِس سازش میں عمران خاں، طاہر القادری، جنرل ظہیر الاسلام، چودھری شجاعت، چودھری پرویز الٰہی اور مبشر لقمان شامل تھے۔ طے یہ پایا کہ عمران خاں اور طاہر القادری 14 اگست 2014 ء کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں جلوس لے کر پہنچیں گے اور وہاں دھرنا دیں گے جس پر امپائر کی اُنگلی کھڑی ہو جائے گی۔

پروگرام کے مطابق یہ لوگ اسلام آباد پہنچے تو ضرور لیکن اِن کے ساتھ پہنچنے والے افراد کی تعداد اتنی کم تھی کہ امپائر بھی مایوس ہو گئے۔ طاہر القادری کے مطابق پی ٹی وی پر حملہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پرکیا گیا لیکن امپائر کی انگلی تو کیا کھڑی ہوتی فوج نے کال سُننا ہی بند کر دی جس پر طاہر القادری بددل ہو کر دھرنا ہی چھوڑ گئے۔ دھرنے کی ناکامی کے بعد 2017 ء میں پانامہ سے اقامہ نکالا گیا کیونکہ میاں نواز شریف کو بہرصورت مائنس کرنا تھا۔

اِس لیے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں چُن چُن کر ایسے ججز کا 5 رُکنی بنچ تشکیل دیا گیا جو کسی نہ کسی حوالے سے نواز شریف کے مخالف تھے۔ اِس بنچ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اِس لیے وہی فیصلہ ہوا جو اسٹیبلشمنٹ کو مطلوب تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب 2017 ء سے پہلے ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا تو پھر اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو میاں نواز شریف کو مایوس کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اگر تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہی تو ایسا کیسے چلے گا۔ امریکہ (ہیوسٹن) سے

Facebook Comments HS