یمن : 3000 حجاج کا قتل اور جنوب کی آزادی سے انضمام تک (1)


26 مئی 1923 کو جہاں دنیا بھر سے حاجی حج کی ادائیگی کے لئے اللہ کے گھر کی طرف رواں دواں تھے وہیں پر 3605 حاجیوں کا ایک قافلہ شمالی یمن سے رواں دواں تھا جسے سعودی عرب کے تنوما کے مقام پر حملہ آوروں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں 3105 یمنی شہید ہو گئے، 150 زخمی حالت میں حج کی جانب روانہ ہوئے اور باقی شمالی یمن کی جانب لوٹ گئے، لیکن یہ دردناک کہانی تاریخی اوراق کے گرد میں کہیں کھو گئی، اس کے مزید احوال سامنے لانے سے قبل ضروری ہے کہ ہم سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد یمن کے کردار کی بات کریں۔

سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد دنیا نئے بلاکس میں تقسیم ہونا شروع ہو گئی، ایک جانب برطانوی راج بے لگام گھوڑے کی طرح دنیا میں پھیل رہا تھا تو دوسری جانب سوویت یونین کے بین الابراعظمی بلاک نے جنم لیا، برطانوی بلاک نے کہیں پر کمپنیاں بنا کر سازش کے ذریعے قبضے کیے تو کہیں افواج روانہ کر کے قہر ڈھایا لیکن اس کا سب سے مضبوط ہتھیار اپنے من پسند حکمرانوں کو مسلط کر کے راج کرنا ثابت ہوا، فوجوں نے شکست کھائی، کمپنی راج سے بھی آزادی مل گئی لیکن من پسند حکمرانوں کے ذریعے بالواسطہ اقتدار کو دوام ملتا گیا، جسے کٹھ پتلی راج کہا جاسکتا تھا۔

آل سعود عالم عرب میں برطانوی استعمار کی کٹھ پتلی بن گئے۔ جہاں دیگر عرب ریاستیں برطانوی راج پر بیعت کرتی رہیں وہیں پر یمن میں مزاحمت دیکھنے کو ملی۔ یمن دو حصوں میں تقسیم تھا، مختصر بات کریں تو 1839 میں یمن کی عدن بندرگاہ پر برطانوی بحریہ نے حملہ کیا اور مزاحمت کو پسپا کر کے قبضہ جما لیا لیکن یمن کے شمال میں سلطنت عثمانیہ قائم رہی جو سلطنت کے زوال کے بعد شمالی علاقوں میں جمہوریہ یمن کے نام سے علیحدہ مملکت وجود میں آئی، اب جنوب پر قابض برطانوی راج کو یمن کے پڑوسی ملک سعودی عرب، جسے سلطنت عثمانیہ کے دور میں حجاز مقدس کہا جاتا تھا کی حمایت ہو گئی، جہاں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد آل سعود قابض ہو گئے، آل سعود کے برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے شمالی یمن کے لئے زمین تنگ ہونا شروع ہوئی، صنعا کی تاریخی جامع مسجد میں محفوظ دستاویزات ”یمنی حجاج کے قتل عام“ کی گمشدہ کہانی اسی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لئے وفاداری کے طور پر یمنی عوام کے خون سے دی گئی۔

پروفیسر حمود الاحنومی کی کتاب کے مطابق 1923 میں سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز ابن سعود کے زیر سایہ کام کرنے والے کچھ گروہوں نے سالانہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ جانے والے یمنی حجاج پر حملہ کیا، عین اس وقت جب وہ سعودی عرب کے شہر تنومہ اور سدوان پہنچے تو الغطاث نامی گروہوں نے حجاج پر فائرنگ شروع کر دی، جس سے 3,105 پرامن حجاج شہید ہو گئے۔ مکہ سے آنے والے ایک عالم احمد ال واشلی نے بتایا کہ ”زندہ بچ جانے والوں کی تعداد تقریباً 500 تھی۔

جن میں سے 150 نے حج کا سفر جاری رکھا۔“ ، احنومی لکھتے ہیں کہ یہ قتل عام آل سعود کا برطانوی راج کے لئے قبولیت کا امتحان تھا، جس سے انہوں نے واضح پیغام دیا کہ وہ خطے میں ان کی ہی کٹھ پتلیاں ہیں۔ الاحنومی نے لکھا کہ آل سعود کو یہ شک گزرا کہ اہل یمن آل سعود کو حجاز مقدس کا قبضہ نہیں دیں گے جس وجہ سے انہوں نے اس انتہائی اقدام کے ذریعے یمنی حجاج کے خون کے دریا بہا دیے۔ الاحنومی لکھتے ہیں کہ برطانیہ اور آل سعود، دونوں فریقوں نے یمنیوں کو دو مقدس مقامات کے دفاع سے روکنے کے لیے تنومہ اور صدوان کے قتل عام کا ارتکاب کیا، تاہم یہ تو سچائی ہے کہ 1923 کے اس سانحے کے بعد 1924 میں آل سعود نے حرمین شریفین اور مسجد نبوی پر بھی اپنے تسلط کو قائم کر لیا تھا اور ریاض کو دارالحکومت بنایا گیا۔

تاہم چونکہ جنوبی یمن کے کچھ حصے پہلے ہی برطانیہ کے زیر تسلط تھے اور شمالی یمن میں کسی ایسی قابل ذکر تحریک کا ذکر نہیں ملا جس میں انہوں نے حجاز مقدس پر قبضہ کی خواہش ظاہر کی ہو، لگتا ہے کہ اس قتل عام کے مقاصد شمالی یمن کو برطانوی بیعت کا پیغام دینا ہو سکتا تھا۔ وقت بڑھتا گیا اور یمن اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا، سعودی عرب اور یمن کے درمیان 1934 میں جنگ شروع ہو گئی۔ الاحنومی کے مطابق یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کی وجوہات میں یہ قتل عام بھی ایک اہم وجہ تھی۔

اس جنگ میں ابن سعود نے یمن کے امام یحییٰ زیدی کی دستبرداری اور سرحدی علاقوں پر پانچ سالہ کنٹرول کا اعلان کیا لیکن اسے یمن نے تسلیم نہیں کیا، یمن کی زمین پہاڑی ہے جبکہ سعودی سپاہی پہاڑوں پر یمن کی افواج کا مقابلہ کرنے کے لئے ماہر نہیں سمجھے جاتے تھے۔ مارچ میں شروع ہونے والی جنگ مئی میں ایک معاہدے پر ختم ہوئی، جسے معاہدہ طائف کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد آل سعود کو نجران، عسیر اور جیزان چھوڑ کر حجاز اور نجد کی سلطنت میں جانا پڑا۔

7 جولائی کو سعودی عرب کی فوجیں یمن سے نکل گئیں۔ 30 ہزار سعودی جبکہ 35 ہزار یمنی فوجی اس جنگ میں عملی طور پر شریک تھے، سعودی عرب کو برطانوی خفیہ حمایت اور اسلحے کے فراہمی کے باوجود جیت یمن کے نام ہوئی کیونکہ یمن کے امام یحییٰ زیدی نے اپنے دیے ہوئے مطالبات پر معاہدہ کیا۔ سعودی عرب کے ساتھ بیس سالہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد برطانیہ کے زیر تسلط جنوبی یمن میں تحریک اور مزاحمت کا آغاز ہوا اور یہ مزاحمت ایک طویل عرصہ جاری رہی اور بالآخر 33 سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد برطانیہ نے جنوبی یمن پر قبضہ چھوڑ دیا۔ جس میں بہت سے تاریخی کرداروں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ برطانوی راج کے خاتمے کے بعد تقریباً اگلے تیس سال تک جنوبی یمن ایک علیحدہ ملک کے طور پر قائم رہا اور 1990 میں بالآخر یمن کے دونوں حصے آپس میں ضم ہو گئے۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS