حاضری رجسٹر کی گت


جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

یہ جان ایلیا کا مقام اور جرات ہے، میری نہیں، یہ میرے اطراف موجود افراد کی بصیرت کا فقدان ہے کہ انہوں نے مجھے خاموش تماشائی بننے کی راہ نہیں دی۔ وہ اپنا کام کرتے رہتے مجھے میری راہ پر چلنے دیتے، لیکن نہیں۔

ہم نے دیکھا کہ لوگ تین تین مہینے غیر حاضر رہتے تھے، امتحان سے پہلے آ کر حاضری لگاتے، طالب علموں کو نوٹس دیتے یا لکھواتے، امتحانی کمرے کے دروازے پر باہر دیکھتے ہوئے ڈیوٹی کرتے، کاپی پر بھر کر نمبر دیتے، طالب علم بھی خوش، راوی بھی چین سے سوتا تھا۔ مجھے اس صورت ِ حال سے کیا لینا دینا، صدر ِ شعبہ جانیں، طالب علم جانیں، میں نہ پدی نہ پدی کا شوربہ۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہم کاروں کی غیر حاضری رجسٹر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی لیکن ہماری غیر حاضری پہ رجسٹر کی آنکھوں سے لہو ٹپکنے لگتا اور کیوں کہ وہ سچ ہوتا تھا تو ہم بھی خاموش رہتے۔ نہیں آنے کا مطلب غیر حاضری ہے اگرچہ کہ حاضری لگنے کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ حاضر بھی ہیں لیکن یہ ہمارے لیے نہیں تھا۔

شعبہ ابلاغ ِ عامہ، اور ابلاغ کی صورتِ حال یہ کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کلاسیں شروع ہو گئیں اور ہمیں صدرِ شعبہ کی جانب سے ایک موبائل پیغام تک موصول نہیں ہوا۔ اگر انہیں تعلیمی ماحول اور طالب علموں کے نقصان سے دل چسپی ہوتی تو مطلع کرتے، انہوں نے تو دوسرے کی کمزوریوں کو جمع کرنا تھا، اسی طرح ایک حساس معاملے کو انہوں نے وہ فضا مہیا کی جس میں وہ پھل پھول سکے اس کا تذکرہ ابھی باقی ہے۔ رجسٹر پر صدرِ شعبہ نے ہماری غیر حاضری بھی نہیں لگائی اور حاضری رجسٹر کی ہماری نظر میں کوئی قدر اور وقعت رہی نہیں تھی کہ یہ بھی جھوٹ کا پلندہ ہی تو تھا۔

ایک دن صدرِ شعبہ خان صاحب نے فرمایا کہ آپ رجسٹر میں حاضری نہیں لگا رہیں، ہم نے حاضری رجسٹر اٹھایا، اپنے کمرے میں لائے اور ساری حاضریاں لگا دیں۔ اب رجسٹر صدر ِ شعبہ کے سامنے حاضر ہوا تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں فضا میں دونوں ہاتھوں لرزاتے ہوئے کہا کہ آپ نے ساری حاضریاں لگا دیں، ہم نے جواب میں کہا کہ سر رجسٹر تو آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے، آپ لگا دیتے غیر حاضریاں، آپ کا کس نے ہاتھ پکڑا تھا؟ کچھ دنوں بعد ہمیں رجسٹرار کی جانب سے وضاحت طلبی کا خط موصول ہوا کہ آپ اتنے دن غیر حاضر رہیں۔

اب اگر ہم انہیں اپنی غیر حاضری کی سچی سچی وجہ بتاتے ہیں کہ ہمیں صدرِ شعبہ کی جانب سے کوئی اطلاع نہیں موصول ہوئی تو رجسٹر کی حاضریاں ہمارا منہ چڑائیں گی، تو ہم نے سوچنا شروع کیا ( یہ المیہ ہے کہ سوچنے اور کرنے کے یہی کام رہ گئے تھے ) ، سوچا سوچا سوچا اور اتنا سوچا کہ رجسٹرار کو ایک جملے میں جواب تحریر کیا کہ ”غالباً صدرِ شعبہ کو غلط فہمی ہوئی ہے، اس لیے کہ ہماری حاضری موجود ہے۔ “

ہماری اتنی اوقات کبھی نہیں رہی کہ ہم صدرِ شعبہ سے بھڑیں، یہ سب ہماری بد دماغی کے کرتوت تھے۔ رجسٹرار سے خطوط وصول کرنا اور کمیٹیوں کا سامنا کرنا یہ سرکاری نوکری کی خوبصورتیاں ہیں۔ ہر کمیٹی میں ہمیں یہ سننے کو ملتا تھا کہ آپ کی کسی صدر ِ شعبہ سے نہیں بنی۔ پھر ہم نے ممتاز مفتی کو پڑھا، ان کی بھی پیشیوں پہ پیشیاں لگتی تھیں، جب ان سے کسی نے یہی سوال کیا کہ آپ کی اپنے کسی سینئر سے نہیں بنی، کیوں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ان سے پوچھیں۔ اب ہمیں بھی ایک جواب مل چکا تھا کہ ہم سے ہی کیوں پوچھا جائے، ان کی بھی تو ہم سے نہیں بنی، تو ہم دھیمی آواز میں یہی جواب دینے لگے کہ ان کی ہم سے نہیں بنی۔ آواز، الفاظ اور جذبات کو قابو میں رکھنا سیکھنا ان ہی پیشیوں کی دین ہے، جیسے اب ان تحریروں کا چھپنا میرا ’اثاثہ‘ ہے۔

شعبے کے تین سینئرز میں خان صاحب کے بعد صدرِ شعبہ بننے کی باری تھی جناب ت عین کی۔ اب خان صاحب کو ایک اور کام مل گیا۔ اس میں شک نہیں کہ خان صاحب کا گروہ عبدالحق کیمپس کا مضبوط گروہ تھا، ان کی یہ کوششیں ہوتی تھیں کہ اپنا ڈین ہو، اپنا رجسٹرار اور اپنا شیخ الجامعہ۔ جب ت عین شعبے کے انچارج بنے تو اس وقت کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر محمد قیصر تھے اور خان صاحب کا گروہ ان کے نزدیک تھا۔ ایک دن بظاہر شعبے کے معاملات پر ، ڈین آفس میں میٹنگ رکھی گئی، جس کی صدارت شیخ الجامعہ فرما رہے تھے، حیرت کہ خان صاحب کے معتمدِ خاص اس میٹنگ میں نہیں تھے۔

ت عین صاحب نے یہ کہا تھا کہ طالب علموں سے اسائنمنٹ نہ کروائیں بس پرچہ لیں۔ میں نے انچارج شعبہ کی زبانی ہدایت کے باوجود اور محض بھول میں طالب علموں کو اسائنمنٹ دے دیا تھا۔ میں نے جتنی میٹنگوں میں ت عین صاحب کو دیکھا، وہ اپنے طریقے سے معاملہ کرتے ہیں کہ ان سے معاملہ اتنا آسان بھی نہیں رہتا۔ مثلاً ایک موقع پر کہ ت عین ہی انچارج تھے، خان صاحب اپنی جبلت کے مطابق کوئی مسئلہ کر رہے تھے، خان صاحب، شاہد صاحب، انچارج صاحب ت عین کے کمرے میں بات کر رہے تھے، انچارج صاحب نے شاہد کی موجودگی پر اعتراض کیا کیوں کہ وہ شعبے کے سابق طالب علم تھے اور شعبے میں ان کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی۔

خان صاحب نے کہا کہ یہ نہیں جائیں گے۔ انچارج صاحب نے فرمایا کہ اچھا تو پھر میں چلا جاتا ہوں، اللہ اللہ خیر صلا۔ اُس دن رئیس کلیہ فنون کے دفتر میں شیخ الجامعہ نے ت عین کی شعبے میں غیر حاضری کا ذکر کیا، جس کا جواب ت عین صاحب نے یہ دیا کہ اور شعبے میں بھی یہ مسئلے ہیں آپ کو شعبہ ابلاغ عامہ ہی کیوں یاد رہتا ہے، یہ کہتے ہوئے ت عین صاحب کی آواز ذرا بلند ہو گئی جس پر شیخ الجامعہ معترض ہوئے لیکن اس میٹنگ کا نتیجہ کوئی ایسا نہیں نکلا کہ جو خان صاحب کے حق میں جاتا۔

پھر خان صاحب نے کہا کہ ِانہوں نے اسائنمنٹ لینے سے منع کر دیا ہے۔ اب شیخ الجامعہ نے مجھ سے براہِ راست سوال کیا کہ کیا انہوں نے اسائنمنٹ لینے سے منع کر دیا ہے۔ جواب تو اس سوال کا ہاں تھا، لیکن میں نے جواب دیا کہ میں نے اسائنمنٹ لیا ہے۔ شیخ الجامعہ نے دوبارہ پوچھا اور کہا کہ آپ ڈریں نہیں، میرا ہاں جواب خان صاحب کے حق میں جاتا، اور جو جواب میں دے رہی تھی وہ بھی جھوٹ نہیں تھا، میں نے اسائنمنٹ لے لیا تھا، لہٰذا میں نے اپنا جواب دہرایا کہ میں نے اسائنمنٹ لیا ہے۔ بعد میں خان صاحب کے معتمدِ خاص کا میرے پاس ملامت بھرا فون آیا۔ اس وقت میں نے کیا بات کی اور بعد میں میری سمجھ میں کیا کیا پہلو آئے، وہ بعد میں۔

Facebook Comments HS