یوم تکبیر کی یاد


قیام پاکستان سے قبل ہی آزادی کے حوالے سے جس مخالفت اور مخاصمت کا سامنا تھا وہ دن بدن بڑھتی گئی۔ بھارت نے علاقائی چوکیدار بننے کا جو کام آزادی کے بعد اٹھایا اور چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستوں پہ بزور بازو قبضہ جما لیا یوں اس کی دھاک بیٹھ گئی مگر شوق جنوں اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا کہ 1962 میں بھارت چین کشیدگی میں اسے شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جو اسے ایٹمی توانائی کی جانب لے گیا۔ تجربات کی خبر ملنے کے بعد پاکستان نے بھی اپنی توانائی کے حصول کے لئے ایٹمی پروگرام شروع کر دیا۔

سلام عقیدت کے حقدار ہیں وہ تمام لوگ جو اس پروگرام سے وابستہ رہے ہیں اور آج بھی شب و روز کی محنت سے اس گلشن کی آبیاری کر رہے ہیں۔ اٹل بہاری واجپائی نے پوکھران میں جب ایٹمی دھماکے کیے تو ساری دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔ ظاہر اس موقعہ پہ پاکستان کے پاس کوئی اور باعزت راستہ رہ نہیں گیا تھا کہ وہ بھی اس کا ترکی بہ ترکی جواب دے۔ اس وقت وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وطن عزیز کے معززین اور ماہرین سے ضروری صلاح مشورہ کیا۔

ممتاز صحافی جناب مجید نظامی صاحب نے میاں صاحب کو ببانگ دھل کہہ دیا ”میاں صاحب دھماکہ کر دیو ورنہ قوم نے تواڈا دھماکہ کر دینا اے“ ۔ یہ کوئی آسان اور سیدھا سادا فیصلہ نہیں تھا۔ عالمی طاقتوں کی اس موقع پہ بے چینی دیدنی تھی۔ وہ شب و روز اس جستجو میں تھے کہ پاکستان کو روکا ٹوکا جائے مگر پاکستان کی حکومت اور انتظامیہ یہ طے کرچکی تھی کہ بے عزت طریقہ سے زندگی گزارنے سے مر جانا اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

پھر وہ تاریخ ساز گھڑی 28 مئی 1998 کو آ گئی جب پاکستان نے بھارتی پانچ دھماکوں کا جواب چھ دھماکوں سے دیا۔ اللہ اکبر کی صدائیں چاغی کے ریگزاروں میں گونجیں جن کی آواز پوری کائنات میں پھیل گئی۔ پاکستان پوری امہ اسلامی میں پہلا ملک تھا اور اب تک یہ اعزاز اس کے پاس ہے۔ یوم تکبیر کا نام خیر بعد میں ایک ملک گیر سروے کے ذریعے اپنایا گیا۔ بہرحال آزاد خیال طبقہ اور غیر ملکی بدخواہ اس پروگرام کے آغاز سے ہی مخالف رہے ہیں۔ مگر یہی پروگرام بھارت جیسے بزدل دشمن کے دانت کھٹے کرنے کا ضامن ہے۔ وطن عزیز اگرچہ ایک جمہوری ملک ہے اختلاف رائے کے باوجود کچھ قومی پالیسیاں ایسی ہیں جن پہ عوام اور حکام کا متفقہ اتفاق اور یکجہتی پائی جاتی ہے اور ایٹمی صلاحیت ایک ایسی ہی بات ہے جس پہ کوئی دوسری رائے نہیں۔

اس صلاحیت کے حصول کا بیڑا پہلے جمہوری وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اٹھایا تھا اور ہمارے نیوکلیئر ماہرین اور انجنیئرز نے شبانہ روز محنت اور لگن سے محدود وسائل کے باوجود جس خوش اسلوبی سے مکمل کیا وہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1976 میں اس کام کا بیڑا اٹھایا اور ایٹمی توانائی کمیشن کے زیر تحت اس کام کو کرنا شروع کیا۔ اس کی حساسیت کا اس قدر خیال شاید ہی کسی قوم نے اس طرح کیا ہو جس طرح ہمارے ہنرمندوں نے دل جمعی اور تندہی سے کیا ہے اور اسے محفوظ ترین پروگرام بنایا، اللہ کریم کی مہربانی سے ہمارا پروگرام مکمل طور پہ محفوظ ہے اور عالمی پراپیگنڈا غلط ثابت ہوا کہ یہ پروگرام خدانخواستہ چوری ہو سکتا ہے، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی حفاظت اسلام کے وہ نڈر اور جری شیر دل کر رہے ہیں جو ہر ایک لمحہ چوکس بھی رہتے ہیں اور باخبر بھی لہذا یہ ایک مکمل محفوظ اور جامع سیکورٹی پلان کے تحت محفوظ و مامون ہے۔

اس کی نگرانی و حفاظت محض ایک فریضہ ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک قلبی و روحانی مشق بھی ہے۔ پوری قوم کا اتفاق و اتحاد اس سے جڑا ہوا ہے اور شاید یہ دنیا کا واحد پروگرام ہے جس کی فرض کی ادائیگی ایک روحانی و قلبی سکون و انبساط کا باعث ہے۔ نوجوان نسل کے لئے یہ شاید ہمارا بہترین خزینہ ہے جس پہ پوری امت واحدہ کو فخر ہے۔ یوم تکبیر کی مبارکباد قبول فرمائیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments