پاکستانی سماج میں معاشرتی تبدیلیاں
صدیوں سے کرہ ارض سماجی و معاشرتی تبدیلیوں کا گواہ ہے۔ دنیا کے معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک اس میں تغیر و تبدیلیوں کی وقوع پذیری کا عمل جاری و ساری ہے۔ سماج و معاشروں میں تبدیلی ایک فطری امر ہے اور یہ عروج زوال کا فسانہ لئے ہوئے ہیں۔ قرون اولی کے انسانوں سے لے کر موجودہ انسان ایک ارتقائی عمل کا سفر طے کیے ہوئے ہے۔ فطری طور پر انسان تبدیلیوں کا خوگر، نئی ایجادات کا متمنی اور ہر شے میں تجسس کا عنصر لئے ہوئے ہے۔
کسی بھی معاشرے کی معاشرتی تبدیلی میں کئی عوامل شامل ہیں۔ جن میں دوسرے معاشروں سے روابط، ان کی اپنی ماحولیاتی تبدیلی۔ جس سے اس معاشرے میں قدرتی وسائل کا نایاب ہو جانا یا وبائی مرض کا پھیل جانا، ٹیکنالوجی کی تبدیلی بشمول صنعتی ترقی۔ جس سے نئے گروپس کی تشکیل عمل میں آنا، اربنائزیشن یعنی شہری زندگی اور شہروں کا پھیلاؤ، اصولات زندگی میں تبدیلی، جس میں معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ قدرت کے نظام میں تبدیلیاں متوقع ہو جاتی ہیں۔ جدید دور میں معاشروں کے ایک دوسرے سے رابطوں میں تیزی نے ثقافتوں اور اس کے خد و خال پر نمایاں اثرات چھوڑ رہے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ اپنی تبدیلی میں کئی قسم کی معاشرتی تبدیلیوں کا مظہر ہے۔ جس کے اثرات ریاست و اس کے کام کرنے کی صلاحیتوں پر پڑ رہے ہیں۔ ریاستی سطح پر ان تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت ایک اہم عنصر ہے جسے پس پشت ڈھالنے سے ریاست تنازعات کا شکار ہو سکتی ہے۔ اور اس کی اساس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت معاشرہ تھوڑ پھوڑ کے عمل سے گزر رہا ہے۔ جس میں جدید سوشل میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اب اگر ریاست کے ستون اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال، کرپشن اور اقربا پروری کرتی ہے تو ان کی تفصیل سرعت کے ساتھ عوام کی دسترس میں آ جاتی ہیں۔ اسی کے ساتھ جب سیاسی کلچر، سیاسی و ریاستی ادارے عوامی امنگوں سے مطابقت نہیں رکھتے تو اس سے معاشرے پر اثر پڑتا ہے۔ اس وقت پاکستانی معاشرہ کی بدلتی رتوں میں سیاستدان، بیوروکریسی، ادارے اور عوام ہم آہنگ نظر نہیں آتے۔ جس کا خمیازہ ملکی سلامتی کو بھگتنا پڑے گا۔
دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ جس سے معاشرتی تبدیلیوں کا ایک دوسرے کے معاشروں پر اثر پڑ رہا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی مغربی ثقافت کی اندھی تقلید ہے جو زور پکڑ گئی ہے۔ یہ جانے بنا کہ اس میں کون سی چیز اچھی یا بری ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی یورپ، انگلستان اور امریکہ کے تعلیمی اداروں سے مستعار لیا گیا ہے۔ اپنی تحقیق و جستجو کے بارے ہمیں احساس تک نہیں اور نہ ہی ہماری تعلیمی میراث نے اس پر کوئی توجہ دی۔
جس سے تعلیمی انحطاط بڑ ہتا چلا گیا۔ اس کے تدارک کے لئے ہمارے معاشرے کو اپنی بنیادوں کو دوبارہ جانچنا ہو گا کہ کہاں ہم سے کوتاہی ہوئی اور اب ہم کیسے اس چیلنج سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔ ہمارا میڈیا بھی زیادہ تر منفی رجحانات بیان کرنے کا ماہر ہے۔ اسے ملکی شناخت، ثقافتی تنوع اور مختلف اکائیوں میں ہم آہنگی و امن کا پرچار پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف پاکستانی معاشرہ ہی تبدیلیوں کا مظہر نہیں بل کہ تمام دنیا اور بل خصوص ہمارا ہمسایہ ہندوستان بھی اس تبدیلی سے گزر رہا ہے۔
جہاں بنیاد پرستی نے اپنی جڑیں پھیلانا شروع کر دیں ہیں اور اقلیتوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ ان کا جینا حرام ہو رہا ہے۔ سیکولرازم کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ یورپ اپنے اختلافات ختم کر کے ایک نئی راہ لئے ہوئے ہے اور ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ جب کہ برصغیر کے یہ دونوں ممالک اختلاف تو دور کی بات ہے۔ اچھے ہمسایہ بھی نہیں بن سکے۔ عوام کو اپنے اپنے ممالک میں غربت کی لکیر سے نکالنا اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے مل بیٹھ کر نئی راہیں تلاش کرنا ایک چیلنج ہونا چاہیے مگر ہم اس میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ یورپ میں اسلام مخالفانہ نظریات و رویوں میں روز بروز اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن مسلم معاشرہ اپنی راتیں بدلنے کا نام نہیں لے رہا۔ خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ دنیا، چاند ستاروں پہ کمند ڈال رہے ہیں اور ہم اپنے اختلافات کو بڑھاوا دینے اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔
ہم اپنی ثقافت کو کیسے زندہ رکھتے ہیں اس المیے کا جواب ہمارے اپنے ہی پاس ہے۔ کوئی دوسرا اس میں ہماری مدد نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے ہمیں اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم سے کہاں کوتاہی ہوئی یا ہو رہی ہے۔ ہم جب تک اپنی ثقافت کی بنیادوں کی طرف نہیں لوٹتے، ثقافتی تنوع کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اس وقت ہم تک اپنی منزل کی راہ کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔ آج کل کے جدید دور میں میڈیا کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اس کی ذمہ داری میں مذہبی ہم آہنگی، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، مساوات، دلیل کا جواب دلیل سے، سیاسی بیداری و قوت برداشت اور قانون کی عملداری بارے عوامی آگاہی و شعور کو اجاگر کرنا ہے۔ ان میں احساس ذمہ داری و حقوق دونوں کو بھی اجاگر کرنا ہے۔ تعلیم انسان کا زیور ہے جو اسے بامقصد تربیت، رویوں میں تبدیلی اور سائنسی ترقی سے ہم آہنگ کر سکتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اپنی ثقافتی تنوع اور جدیدیت کے سنگم کا امتزاج رکھتا ہے۔ یہ چیزوں کو اپنے اندر سمو لینے کی طاقت رکھتا ہے۔ گو کہ طبقاتی کشمکش اس میں پائی جاتی ہے لیکن اگر اسے صحیح راہ دکھائی جائے تو یہ اپنی ثقافت، ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ اس کے لئے دلجمعی و لگن کی ضرورت ہے۔
جب ملکی ادارے معاشرتی تبدیلی لانے میں ناکام ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف ریاست کو سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں بل کہ اس سے لامتناہی مسائل و پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک اور سنگین مسئلہ آبادی کا اس کے وسائل کے تناسب سے کہیں زیادہ بڑھنا ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی، متشدد رویے، ہر چیز میں دو نمبری کرنا ایک دوسرے کو دھوکہ دینا، احساس ذمہ داری سے کوتاہی برتنا بل کہ تمام معاشرتی برائیوں کو ہم اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لیکن ہم اپنے آپ کو بدلنے کے لئے تیار نہیں۔ خدا را اب بھی وقت ہے خود کو بدل لیں۔ یہ نہ ہو کہ داستان نہ داستانوں میں۔


