یوم تکبیر پر تعطیل، حکومت کی کمزوری کا اقرار ہے
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی طرف سے جوہری دھماکے کرنے کی 26 ویں سالگرہ پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ تمام سرکاری دفاتر، عدالتیں اور کاروبار بند رہیں گے۔ قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی، وزیر اعظم شہباز شریف اور پاک افواج نے اس موقع پر قوم کو مبارک باد پیش کی اور ملکی دفاع کے لیے پرعزم رہنے کا اقرار کیا۔
تاہم بحران اور معاشی مشکلات سے گھرے پاکستان میں ایک غیر ضروری عام تعطیل کا اعلان حکومت کی بدحواسی اور پریشانی کے اظہار کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اوّل تو ایٹمی ہتھیاروں کو ’ڈیٹرنٹ‘ قرار دینے سے ہی یہ مقصد حاصل نہیں ہوجاتا۔ دنیا میں صرف 7 ممالک اعلان شدہ ایٹمی طاقتیں ہیں، باقی ماندہ سینکڑوں ممالک بھی اپنی حفاظت کے لیے ویسے ہی پرعزم و مستعد ہوتے ہیں جو جذبہ پاکستانی عوام یا مسلح افواج میں پایا جاتا ہے۔
یہ دعویٰ بجائے خود ناقص ہے کہ چھبیس سال پہلے 28 مئی 1998 کو جوہری دھماکے کر کے پاکستان کو محفوظ بنا لیا گیا تھا۔ ان دھماکوں کے بعد برصغیر میں استحکام، ہمسایوں کے درمیان خوشگوار تعلقات اور سماجی اطمینان پیدا کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔ یکے بعد دیگرے اقتدار سنبھالنے والی حکومتیں اس مقصد کے لیے کوئی موثر اقدام کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس لیے سرکاری جوش و خروش اور بلند بانگ دعوؤں کے باوجود یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان اس ربع صدی کے دوران میں ہر لمحے کمزور ہوا ہے۔
اس کمزوری کی سب سے بڑی وجہ پاک فوج کی طرف سے سیاسی معاملات میں مداخلت کا افسوسناک چلن ہے۔ سیاست کو اپنے زیر فرمان رکھنے کے بارے میں فوجی جرنیلوں کی مستعدی اسی حقیقت سے ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ 1998 میں ملک کو ایٹمی قوت بنانے والی نواز شریف کی حکومت کو ایک سال بعد ہی اکتوبر 1999 میں چلتا کیا گیا۔ آئین معطل کر دیا گیا اور تمام اختیارات فرد واحد پرویز مشرف نے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ وزیر اعظم اور ان کے اہل خاندان کو ایک دہائی کے لیے ملک چھوڑ کر جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔
اب نواز شریف کے بھائی شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت قوم کو ایٹمی ہتھیاروں کا ’تحفہ‘ دینے کا سہرا اپنے سر سجا کر خوشی و مسرت کا شدید اظہار کر رہی ہے۔ حیرت ہے کہ مایوس، مفلوک الحال، پریشان اور معاشی و سیاسی بحران کا شکار ملک کی حکومت کس بنیاد پر اس قسم کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے۔ غور کیا جائے تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کی حکومت کمزور اور بے بس ہے۔ وہ اہم فیصلے کرنے میں ناکام ہے۔ ادارے خود مختاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور سیاسی قیادت مسلسل عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب یوم تکبیر پر قوم پرستی سے بھرپور پیغامات اور عام تعطیل کا اعلان اسی مقصد کی غمازی کرتا ہے۔
پاکستان نے 1998 میں ایٹمی صلاحیت حاصل کی تو عالمی پابندیوں کی وجہ سے اسے شدید مالی مشکلات کا سامنا رہا تھا۔ کسی بھی قوم کو جب بڑے فیصلے کرنے کے بعد کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے تو وہ پورے عزم کے ساتھ مل جل کر اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پاکستان کی ماضی قریب کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اگر اس وقت کی سیاسی قیادت کے ذہن میں ایسا کوئی منصوبہ تھا بھی تو بھی عسکری قیادت نے اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے اسے اہم نہیں سمجھا۔ گو کہ مسلم لیگ (ن) نے بعد میں دو بار حکومت حاصل کی اور اب بھی مرکز اور پنجاب میں اسی کی حکومت ہے۔ لیکن اس کے طرز سیاست سے کبھی اندازہ نہیں ہوسکا کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی جوڑ توڑ سے بالا ہو کر ملک کو کسی استحکام کی طرف لے جانا چاہتی تھی۔ 26 سال بعد یوم تکبیر مناتے ہوئے قومی سطح پر شدید تقسیم کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جو بالواسطہ طور سے موجودہ سیاسی اقتدار میں شراکت دار ہیں، ملک کو ایٹمی جنگ میں ’خود کفیل‘ کرنے کا سہرا، اپنے اپنے لیڈر کے سر باندھ رہی ہیں۔ اور ان کی ’عظمت‘ کو سلام پیش کیا جا رہا ہے۔
حالانکہ جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تباہ کاری کی وجہ سے دنیا بھر میں ان ہتھیاروں کی حوصلہ شکنی کرنے اور جوہری صلاحیت محدود کرنے کی بحث عروج پر ہے۔ اس اندیشے کے علاوہ کہ ایٹمی ہتھیار اچانک دنیا بھر کے انسانوں کے لیے خوفناک تباہی کا سبب بن سکتے ہیں، ان ہتھیاروں کے لیے کیے جانے والے دھماکوں سے ماحولیات پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ مباحث ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک میں زیادہ جوش و خروش سے ہوتے ہیں تاکہ سیاسی لیڈروں کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ بنی نوع انسان کی بھلائی جوہری ہتھیار تلف کرنے میں ہے۔ اور ان کا ملک ان خطرناک اور مہلک ہتھیاروں کے بغیر بھی ترقی کا سفر طے کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس اس معاملہ کو پاکستان میں افتخار کا سبب سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کا معاشی ڈیفالٹ تک پہنچ جانا کسی فخر کی نہیں تشویش و پریشانی کی بات ہے۔
اہل پاکستان اور ان کے لیڈروں کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی ربع صدی کے بعد یہ مان لینا چاہیے کہ ایٹمی ہتھیاروں نے نہ ملک کو محفوظ کیا ہے اور نہ ہی پاکستانی لیڈر اس ذمہ داری کا مظاہرہ کرسکے ہیں جو ایسی خطرناک ٹیکنالوجی کے حامل ملک میں موجود ہونی چاہیے۔ پاکستان کے علاوہ باقی چھے ممالک میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا حتمی اختیار ملک کی سول قیادت کے پاس ہے لیکن بادی النظر میں ہمارے ہاں یہ اختیار و کنٹرول بھی فوج ہی کے ہاتھوں میں ہے۔ قوم کو یہ ضرور بتایا جاتا ہے کہ ملک کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور انہیں کنٹرول کرنے کا منظم طریقہ کار موجود ہے۔ بظاہر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے ) بھی اس انتظام سے مطمئن ہے۔ لیکن اس سے بہر طور یہ اصول واضح نہیں ہوتا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں کلی اختیار ملک کی سویلین قیادت ہی کو حاصل ہو۔ پاکستانی عوام کو کبھی یہ ضمانت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یوں بھی اس دوران میں 9 سال تک براہ راست فوج کی حکومت رہی ہے اور جب شدید احتجاج کے بعد 2008 میں جمہوری نظام کو کام کرنے کی اجازت دی گئی تو ہر حکومت عسکری قیادت کی مرضی و منشا کے سامنے بے بس دکھائی دی۔ یا پھر عدالتی جبر کا شکار رہی۔
آئین کے نام پر ملک میں یکے بعد دیگرے وزرائے اعظم کو نا اہل قرار دینے اور اہم سیاسی امور میں دخل اندازی کرنے والی پاکستانی عدلیہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے ماضی میں آئین توڑنے والے ہر فوجی آمر کو ’قانونی تحفظ‘ فراہم کیا۔ پرویز مشرف کے مارشل لا کو تحفظ فراہم کرنے والے سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے تو اپنے فیصلہ میں فوجی حکمران کو آئین میں تبدیلیاں کرنے کا اختیار بھی عطا کیا تھا۔ واضح رہے یہ وہی عدلیہ ہے جو ملکی پارلیمنٹ کے حق قانون سازی کو مکمل طور سے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ عدلیہ کی اس کمزوری کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس (ر) ارشاد حسن خان نے ’ارشاد نامہ‘ لکھ کر اپنے ضمیر کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی تو اس کی تقریب رونمائی سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہوئی اور اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد مہمان خصوصی کے طور پر اس تقریب میں شریک تھے۔ حالانکہ ایک متنازعہ سابق چیف جسٹس کے سیاسی بیانیے پر مشتمل کتاب کو سپریم کورٹ کی چھتری فراہم کرنا ہر لحاظ سے غیر اخلاقی اور ناجائز اقدام تھا۔
اب اسی عدلیہ کے جج ریمارکس میں ایجنسیوں پر غراتے اور قانون کی عمل داری یقینی بنانے کے دعوے کرتے ہیں لیکن کوئی عدالتی فیصلہ ابھی تک ملک میں آئینی بالادستی کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ البتہ ایسے متعدد فیصلے بدستور ملکی جیورس پرونڈنس کا حصہ ہیں جن کے تحت فوجی آمروں کو ملک پر حکمرانی کا حق تفویض کیا گیا تھا۔ کسی قابل اعتبار قوم کی ذمہ دار عدلیہ اس وقت تک ملک میں آئینی عملداری یقینی نہیں بنا سکے گی جب تک وہ ماضی کے قانونی و آئینی لحاظ سے غلط فیصلوں سے دستبردار نہیں ہوتی۔ پاکستانی سپریم کورٹ تو پچاس سال بعد ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف عدالتی نا انصافی کا اعتراف کرنے کے باوجود انہیں انصاف فراہم کرنے کا اقدام بھی نہیں کر سکی۔
یہ پس منظر بیان کرنے کا مقصود صرف اتنا ہے کہ کسی ملک کی حفاظت وہاں کا نظام قانون، آئین کی بالادستی اور عوام کے اطمینان سے ہی ممکن ہے۔ ایٹمی ہتھیار ملکوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ پاکستان نے 1998 کے بعد سے زوال کا جو سفر شروع کیا ہے، اس کی وجہ سے پاکستان اور اس کے اعلان شدہ ہمسایہ دشمن بھارت کے درمیان طاقت کا توازن مسلسل بگڑ رہا ہے۔ ایسے میں یہ اعلان عوام کو دھوکہ دینے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی صورت میں ملک کو ڈیٹرنس حاصل ہے اور علاقے میں طاقت کا توازن بحال ہو چکا ہے۔ معاشی ترقی، سیاسی استحکام، سفارتی اثر و رسوخ، اسلحہ کے ذخائر، عسکری صلاحیتوں اور فوج کو دستیاب وسائل کے اعتبار سے پاکستان اور بھارت کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ یہ نعرہ فرسودہ اور گمراہ کن ہے کہ کوئی جنگ جذبے سے جیتی جا سکتی ہے۔ اب جذبے اور قومی حمیت سے زیادہ اسلحہ کے انبار یا تکنیکی صلاحیت کسی ملک کی دفاعی صلاحیت کا تعین کرتی ہے۔ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف بیان بازی کرتی ہے۔ ایسے میں پاکستان صرف معاشی و سیاسی استحکام سے ہی بھارت کے جارحانہ عزائم کا مقابلہ کر سکتا ہے، ایٹمی ہتھیاروں پر فخر کرنے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ کسی ذمہ دار فرد یا لیڈر کو ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی بات بھی زبان پر نہیں لانی چاہیے۔ وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا نشانہ بننے والا دوست ہے یا دشمن، کلمہ گو ہے یا مرتد۔
ماحولیاتی تنظیمیں ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتی ہیں۔ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے ایٹمی ہتھیار ’مجبوری‘ تو ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لیے کسی اعزاز کا سبب نہیں بن سکتے۔ شہباز شریف نے اپنے جوشیلے بیان میں اسے قومی اعزاز بتاتے ہوئے قوم کو گمراہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے اور اس روز تعطیل کا اعلان کر کے اس پر مہر تصدیق ثبت کی گئی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو قوموں کی تاریخ سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ قومیں محنت کرنے سے تعمیر ہوتی ہیں، چھٹی کے اعلان سے نہیں۔ شہباز شریف تعطیل کا اعلان کرنے کی بجائے اگر کام کے اوقات میں پندرہ منٹ روزانہ کا اضافہ کرتے تو اسے ترقی کے سفر کا اشارہ کہا جاسکتا تھا۔ لیکن ایسے اعلان سے ایک کمزور حکومت کا سیاسی مقصد پورا نہیں ہو سکتا تھا۔


