اقوامِ متحدہ کے امن دَستوں کا عالمی دن
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد جب 1945 میں اقوامِ متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا تو ممالک کے مابین قیام امن کی کوششوں کو خصوصی توجہ دینا اِس کے بنیادی مقاصد میں شامل تھا۔ اسی تناظر میں 1948 میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز یا امن دستوں کا قائم عمل میں لایا گیا۔ جن کی خدمات کے اعتراف میں 2002 میں 29 مئی کا دن عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے نام منسوب کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے امن دستوں کا عالمی دن 29 مئی اُن تمام مردوں اور عورتوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مختص کیا گیا ہے جنہوں نے اپنی اعلیٰ سطحی پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور جرات سے اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات سر انجام دی ہیں یا جو اب بھی اِس خدمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اِس دن اُن افراد کو بھی یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے فروغِ امن کی خاطر اپنی جانیں تک پیش کر دیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق 1948 میں اقوام متحدہ کے پہلے امن مشن کے قیام کے بعد سے اب تک لگ بھگ 4000 فوجی، پولیس اور سویلین اہلکار تشدد، حادثات اور بیماریوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں امن کی خدمات سرانجام دیتے ہوئے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
امن دستوں کے لئے اِس دن کو مقرر کرنے کی درخواست یوکرین کی حکومت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں باضابطہ طور پر پیش کی تھی اور یوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 11 دسمبر 2002 کو ایک قرارداد کے ذریعے اس دن کو امن دستوں کے نام مختص کیا اور اس سلسلے کا پہلا عالمی دن 29 مئی 2003 کو منایا گیا۔
امن دستے عام شہریوں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں۔ یہ تنازعات کو حل کرنے، تشدد کو کم سے کم اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی اور مضبوط بنانے میں کوشاں رہتے ہیں۔
مختلف ممالک قیامِ امن کی ان کوششوں میں انتہائی سنجیدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جولائی 2023 تک امن مشن میں سب سے زیادہ ( 73،000 افراد) بنگلہ دیش کا تعاون رہا، دوسرے نمبر پر نیپال اور تیسرے نمبر پر بھارت نے اپنے فوجی بھیجے۔
اقوام متحدہ کے امن مشن تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔
الف) فریقین کی رضامندی
ب) غیر جانبداری
ج) طاقت کے استعمال سے انکار ماسوائے دفاع
قیامِ امن کی اِن کارروائیوں کا مطالبہ نہ صرف امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے، بلکہ سیاسی عمل کو آسان اور آگے بڑھانے، شہریوں کی حفاظت، تخفیفِ اسلحہ میں مدد اور تخفیف کاری کے لیے بھی کہا جاتا ہے۔ جمہوری عمل کی حمایت، انسانی حقوق کا فروغ اور قانون کی حکمرانی کو بحال کرنے میں مدد کرنا ہے، البتہ کامیابی کی ضمانت کبھی نہیں دی جاتی۔ تاہم سات دہائیوں میں قابلِ قدر کامیابیوں کا ریکارڈ موجود ہے، جن میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
امن دستے اپنے اپنے ملک کی وردی پہنتے ہیں البتہ صرف ہیلمٹ پر اقوام متحدہ کا نیلے رنگ کا لوگو اِن کے امن مشن سے تعلق کی پہچان ہوتا ہے۔ امن آپریشنز کے سویلین عملہ کو بین الاقوامی سرکاری ملازمین کا درجہ حاصل ہوتا ہے، جنہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ کے ذریعے بھرتی اور تعینات کیا جاتا ہے۔
اس وقت پاکستان آٹھ ہزار سے زائد امن فوجیوں کے ساتھ سب سے زیادہ فوجی تعاون کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے جو اقوام متحدہ کی کل تعیناتی کا 9 % سے زیادہ ہے۔ پاکستان امن پولیس کی مدد کرنے والا چھٹا بڑا ملک بھی ہے۔
سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن دستوں نے مختلف ممالک کے نازک سیاسی اور سیکورٹی حالات میں زندگیاں بچانے اور تبدیل کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ 1948 کے بعد سے 20 لاکھ سے زیادہ یونیفارم اور سویلین اہلکاروں نے ممالک کو جنگ سے امن کی طرف منتقل کرنے میں مدد کی ہے۔ آج 70,000 سے زیادہ امن دستے دنیا بھر میں درجن بھر مشنوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
”موزوں مستقبل : مل کر بہتر تعمیر“ کے موضوع کے تحت منایا جانے والا اس سال کا یہ عالمی دن گزشتہ سات دہائیوں کے دوران فوج، پولیس اور سویلین امن دستوں کی جانب سے کی جانے والی انمول شراکت کو سراہتا ہے۔
یہ دن ہم سب کو امن کی عالمی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ تنہا، کامیابی نہیں مل سکتی لیکن مل کر اور متحد ہو کر ہی ہم پُر امن معاشرے کے قیام کے لیے ایک مضبوط قوت بن سکتے ہیں۔


