سقوط ڈھاکہ اور مجیب الرحمٰن
حال ہی میں تحریک انصاف کی جانب سے شیخ مجیب الرحمٰن کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، اور عمران خان خود کو مجیب الرحمٰن ثانی بنا کر پیش کر رہے ہیں، یہ بات اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ کیا عمران خان واقعی ہی مجیب الرحمٰن بن سکتے ہیں، لیکن اس مقام پہ اس بحث سے غض بصر کرتے ہوئے اپنے قلم کو مجیب الرحمٰن کے سقوط ڈھاکہ میں کردار تک محدود رکھیں گے۔ دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ مجیب الرحمٰن بھی غدار تھا، اس بات کو خود حسینہ واجد نے تسلیم کیا۔
7 مارچ 2010 ء کو ڈیلی میل میں حسینہ واجد کا اعترافی بیان شائع ہوا۔ اس بیان حسینہ واجد نے اقرار کیا کہ اس کا باپ غدار تھا، ایسے ہی بنگلہ دیش کے سابق ڈپٹی سپیکر شوکت علی اسمبلی میں کھڑا ہو کر اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرتلہ سازش کیس درست تھا، اور اس کیس کے ملزم واقعی مجرم تھے۔ ان دو عدد گواہ کے بیانات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مجیب الرحمٰن ہیرو نہیں بلکہ غدار تھے۔ ایسے ہی آر کے یادو جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کے افسر تھے انہوں نے مشن را کے نام سے ایک کتاب لکھی۔
اس کتاب کے صفحہ 196 پر یہ اقرار کیا کہ اس سازش میں بھارت ملوث تھا، اور اس کیس میں ملوث لوگ بھارت کے ایجنٹ تھے۔ حامد میر اپنی کتاب بھٹو کی سیاسی پیش گوئیاں اور چوتھا مارشل لاء کے صفحہ نمبر 74 پر لکھتے ہیں کہ شیخ مجیب ایک تیسرے درجے کے سیاسی کارکن تھے، جنہیں اس وقت کے اخبارات نے عظیم سیاست دان بنا کر پیش کیا۔ یہی کردار موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا ادا کر رہا ہے۔ میڈیا کی اکثریت عمران خان کو ایک دیوہیکل قسم کی شخصیت بنا کر پیش کرتی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
خان صاحب اپنے بل پہ ایک سیٹ بھی نہ جیت سکے، ان کی ساری جدوجہد ایمپائر کی انگلی کی مرہون منت ہے۔ جنرل اسلم بیگ کی سوانح اقتدار کی مجبوریاں کے نام سے منظر عام پہ آئی ہے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 301 پر جنرل صاحب فرماتے ہیں کہ 2014 ء کے دھرنے میں خان صاحب مسلسل ایمپائر کی انگلی کا انتظار کرتے رہے کہ کب آرمی مداخلت کر کے نواز شریف کی حکومت گراتی ہے۔ بالکل اسی طرح 1998 ء میں عمران کی جماعت کے لوگ جی ڈی اے کا حصہ ہوتے ہوئے میرے پاس آئے تھے کہ میں بھی سازش کا حصہ بن جاؤں لیکن میں نے انکار کر دیا۔
شجاع نواز صاحب پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کے بھائی ہے۔ انہوں نے بیٹل آف پاکستان کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ کتاب کی اشاعت عمران خان دور میں ہوئی۔ 24 دسمبر 2019 کو شجاع نواز نے فیس بک پہ یہ پیغام دیا کہ ان کی کتاب کی تقریب رونمائی کو روک دیا گیا ہے۔ خیر یہ عمل جس نے بھی کیا ہو، خان صاحب بطور حکمران اس کے برابر کے ذمہ دار ہیں، جس طرح وہ موجودہ حکومت کو اپنے خلاف کارروائیوں کے لئے مطعون کرتے ہیں۔
الغرض اس کتاب کے صفحہ نمبر 185 پر شجاع نواز نے یہ انکشاف کیا ہے کہ 2014 میں یہ خبر گرم تھیں کہ تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان کو دھرنے کے لئے مدد سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام فراہم کر رہے تھے۔ ان حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوئی کہ خان صاحب اپنے بل پر کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے، ہمیشہ سہاروں کی تلاش میں سرگرداں نظر آئے۔ آج بھی وہ موجودہ آرمی چیف سے مذاکرات کے متمنی ہیں، لیکن ہمارا میڈیا ان کے برعکس ان کی شخصیت کو ایک کرشماتی کردار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
جس طرح اس وقت کے اخبارات نے شیخ مجیب کو ہیرو بنا کر سقوط ڈھاکہ کی راہ ہموار کی، اس طرح آج کا میڈیا بھی اسی روش پہ چلتے ہوئے پاکستان کو کسی حادثہ سے ہمکنار نہ کر دے۔ سقوط ڈھاکہ میں مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کا اہم کردار تھا۔ تحریک انصاف کی جانب سے اکثر یہ سوال اٹھا یا جاتا ہے کہ مجیب الرحمٰن کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا، مگر ان کی جانب سے مکمل تاریخی حقیقت کو کبھی منظر عام پہ نہیں لایا جاتا۔
اصل وجہ یہ تھی کہ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات پاکستان کو توڑنے کے مترادف تھے، انہیں تسلیم کرنا صوبوں کو الگ وطن سے تعبیر کرنے کے مترادف تھا۔ یہاں بھی ہم اپنے اس تجزیہ کی تائید میں حامد میر صاحب کا حوالہ رقم کیے دیتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج کل تحریک انصاف تاریخی حقائق کے لئے میر صاحب پہ انحصار کرتی ہے۔ میر صاحب نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 75 پر بھٹو صاحب کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اصل مسئلہ اس نکتے پہ تھا کہ اگر صوبوں کو بیرون ملک تجارت کا اختیار دے دیا جائے تو ہر صوبے میں مختلف بیرونی طاقتوں کے اڈے قائم ہوجائیں گے، جس طرح مغل دور میں ہوا تھا اور اس کا منطقی نتیجہ انتقال اقتدار نہیں بلکہ انتقال پاکستان تھا۔
مجیب الرحمٰن سے بارہا یہ کہا گیا کہ وہ چھ نکات ترک کر دے اور حکومت حاصل کر لے، کیونکہ چھ نکات کو تسلیم کرنا ملک توڑنے کے مترادف تھا۔ لیکن وہ ڈٹا ہا، جس کی بنیادی وجہ شیخ مجیب کا پاکستان کے خلاف سازش میں ملوث ہونا تھا۔ اگر غیر جانبداری سے چھ نکات کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے واضح ہے کہ مجیب الرحمٰن شروع دن سے ہی ملک کو توڑنے کی سازش میں ملوث تھا، ان سطور کے اختتام پر عمر ایوب صاحب کی خدمت میں بھی ایک عریضہ پیش کرنا ہے۔
جنرل ایوب کا سقوط ڈھاکہ میں کیا کردار تھا، یہ بحث طویل ہونے کے بعث الگ مضمون کی متقاضی ہے لیکن جسٹس منیر نے اپنی کتاب فرام جناح تو ضیاء کے صفحہ نمبر 92 پر لکھا ہے کہ ایوب خان جسٹس منیر کی اس بات سے اتفاق کیا کہ مشرقی پاکستان کو اس کے معاملات سپرد کر دینے چاہیے، جسے رمیض الدین نے علیحدگی سے تعبیر کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعہ پہ تبصرہ کرتے ہوئے حامد میر اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 70 پر لکھتے ہیں ایوب خان اس سلسلے میں قطعی سنجیدہ نہ تھے بلکہ وہ مشرقی پاکستان سے جان چھڑانے کے چکر تھے۔
اس واقعہ سے یہ نتیجہ تحریک انصاف کے موجودہ دور کے معتمد صحافی نے کشید کیا ہے، جسے عمر ایوب صاحب بھی قبول کریں گے۔ ہاں ہمارا اس واقعہ اور اس کی اخذ نتیجہ سے متفق ہونا ضروری نہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر ایوب خان واقعی مشرقی پاکستان کو توڑنے کے حق میں ہوتے تو اگرتلہ سازش کیس کو منظر عام پہ نہ لاتے نہ ہی اسے روکنے کی کوشش کرتے۔ الغرض مجیب صاحب کا کردار سقوط ڈھاکہ میں انتہائی اہم تھا، ان کے ہتھکنڈوں نے پاکستان کو تقسیم کیا۔ لیکن یہ تاریخ ادھوری ہے۔ اگر کوئی مجیب الرحمٰن بننا چاہتا ہے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ موصوف اپنی ہی فوج کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہوئے اور عبرتناک موت ان کا مقدر ٹھہری۔


