امریکہ میں پاکستان کے بارے میں پالیسی پر سوچ بچار
حال ہی میں یہ خبریں بہت گردش کرتی رہی کہ اعلی سطح کے سفارت کار کی پاکستان کے اعلی سطح کے پالیسی ساز حکام سے ملاقات یا ملاقاتیں رہی ہیں ویسے تو ایسی ملاقاتیں معمول کی بات ہے مگر اس میں خاص بات یہ ہے کہ اس کو پبلک نہیں کیا گیا ہے۔ اس پر گزارشات سے قبل ذرا ماضی کی سیر کر لی جائے۔
امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کی نومبر انیس سو ساٹھ میں ”جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی“ میں کہا گیا تھا کہ موجودہ استحکام کے پیش نظر پہلے کی طرح مسئلہ یہ نہیں رہا کہ ایک کے بعد دوسرے بحران زدہ انفرادی سیاست دانوں کے ساتھ حساب چکایا جائے۔ اب ہم پاکستان کے امکانات کا طویل المیعاد جائزہ لے سکتے ہیں۔ چوں کہ اس وقت ہم ایک مستحکم سیاسی صورت حال کو اپنے لئے مفید سمجھتے ہیں، اس لئے ہم پاکستانی حکومت ( ایوب حکومت ) کو اس کی مجوزہ معاشی اور سماجی اصلاحات میں اپنی ہمدردانہ دل چسپی اور اپنے تعاون کا یقین دلانے پر خصوصی زور دیتے ہیں ”۔ حالاں کہ امریکا اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس فوجی آمریت کی حمایت کرنے کے پاکستان پر کتنے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔
نیشنل آرکائیوز، واشنگٹن کی ڈپلومیٹک برانچ میں پانچ دسمبر انیس سو اٹھاون کی امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ ”پاکستان کی فوجی حکومت کو کٹھن مسائل درپیش ہیں“ میں درج ہے کہ ”اس صورت حال میں فوجی حکومت کا طویل دور جس کا ایوب خان بظاہر ارادہ رکھتے ہیں، صوبائی اور طبقاتی کشیدگی کو تیز کر سکتا ہے۔ اس سے دانش ور، استاد، صحافی، قانون دان اور درمیانے طبقے کے دوسرے لوگ مایوس بھی ہوں گے۔ جن کی گہری آرزو یہ رہی ہے کہ وہ پاکستان کو مشرق وسطی یا لاطینی امریکا کی آمریت کی سطح پر اترنے کی بجائے بھارت کی جمہوریت کا مقابلہ کرتے دیکھیں۔ صرف جمہوری نظام کے تحت زیادہ آبادی والا مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کی فوج اور افسر شاہی کے زیادہ وزن کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ تاہم فوجی غلبے کے تحت سیاسی آزادیوں کے طویل عرصے تک خاتمے کے امکان سے مشرقی پاکستان میں کشیدگی اور بے چینی کے اس حد تک بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا جو شاید ملک کے دونوں حصوں کی وحدت کو تباہ کر دے گا ”اور بد قسمتی سے ایسا ہی ہوا۔
اب بھی اس امر کو نہایت محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ پاکستان سے کیا چاہ رہا ہے اور اس چاہت کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں؟ کیوں کہ افغان جنگ کا امریکہ کو مطلوبہ انجام نہیں مل سکا ہے اور وہاں پر ابھی تک پاکستان کے حوالے سے ایک معاندانہ رویہ اور احساس پایا جاتا ہے اور بد قسمتی سے امریکہ میں متعین پاکستانی سفارت کار اس صورت حال کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے لئے سابق امریکی نمائندہ خصوصی اور ایشیا فاؤنڈیشن کی صدر لورل ملر نے حال ہی میں انٹرویو دیتے ہوئے اس امریکی صورت حال کی اچھی منظر کشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”آپ کے پاس اس وقت امریکی حکومت کی اعلی ترین سطحوں پر خدمات انجام دینے والے بہت سے ایسے لوگ ہیں، جو افغانستان میں بیس سالہ تجربے کی بنیاد پر پاکستان سے سخت نفرت رکھتے ہیں“
یہ وہ ہی لورل ملر ہے کہ جن کی شریک سربراہی میں انسٹیٹیوٹ آف پیس یونائیٹڈ اسٹیٹس نے پاکستان اور افغانستان کے معاملات پر اسٹڈی گروپ تشکیل دیا تھا اور اس کی رپورٹ ابھی چودہ مئی کو جاری کی گئی ہے اس اسٹڈی گروپ میں لورل ملر کے ہمراہ لیفٹننٹ جنرل مائیکل ناکاٹا شریک سربراہ، پاکستان میں امریکہ کی سابق سفیر این پیٹرسن، افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر مائیکل میک کینلے اور دیگر مختلف دفاعی و پالیسی ساز اداروں سے افراد شامل تھے۔
اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو تجویز کیا گیا ہے کہ وہ افغان جنگ کے دوران پیش آئے واقعات کے اثر سے باہر نکلے کیوں کہ وہاں پر اس حوالے سے ابھی بھی بہت تلخی اور صدماتی کیفیت موجود ہے۔ اور اس کیفیت کی وجہ سے امریکہ پاکستان اور افغانستان کے معاملات کو اس طرح سے نہیں دیکھ پا رہا ہے کہ جس طرح سے اس کو دیکھنا چاہیے اور اس وجہ سے ان دونوں ممالک میں شدت پسند تنظیمیں دوبارہ سے طاقت پکڑ رہی ہیں۔ اور اس صورت حال میں افغان طالبان کی حکومت میں اسلامک اسٹیٹ خراسان ( داعش خراسان ) کو پناہ گاہیں حاصل ہیں حالاں کہ وہ افغان طالبان کے شدید مخالفین ہیں۔ اسی طرح سے پاکستان کی مخالف کالعدم ٹی ٹی پی بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔
اس رپورٹ کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس میں امریکی حکومت کو روایتی جنگ سے بچتے ہوئے فوجی کارروائی تک کے امکان پر غور کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مل کر امریکہ کو دوبارہ ان معاملات پر اقدامات کرنے چاہیے اور پاکستانی فضائی حدود تک طویل المدتی امریکی رسائی کو محفوظ بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو واضح طور پر کہہ دینا چاہیے کہ اگر پاکستان سے کوئی بھارت کے خلاف عسکریت پسندی کی گئی تو اس کے سنگین منفی نتائج ہوں گے۔ امریکہ میں پنپتے ان خیالات کو کسی وقت بھی عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے کیوں کہ امریکہ پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے

