28 مئی 1998
کرہ ارض پر جنوبی ایشیا میں واقع مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان پر 11 مئی 1998 ایسا دن بپا ہوا جب اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھنے والوں نے بھارت کے سینے پر نوک کی طرح چبھنے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہڑپ کرنے کے لیے اکھنڈ بھارت کے ناپاک اور پلید ارادوں کو قوت بخشنے کے لئے ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی دھماکے کر ڈالے۔ یہ ایٹمی دھماکے خالصتا اسلامی جمہوریہ پاکستان کو طاقت کے توازن میں بے سر و پا، بے توقیر اور مستقبل میں طاقت کی چنگھاڑ دکھاتے ہوئے اکھنڈ بھارت کے خواب کو سچ کرنے کے لئے کیے گئے تھے۔
بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے ساتھ ہی بھارت نے پاکستان کو ممکنہ ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لئے اس وقت کی سپر پاورز اور عالمی اثر و رسوخ رکھنے والے تمام اداروں نے پاکستان کو ممکنہ ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے سے روکنے کے لئے ہر حربہ آزمایا۔ اس مد میں کبھی عالمی پابندیاں اور کبھی فوجی و مالی خطیر امداد کی بھی پیشکش کی گئی، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ذمہ داران اس بات کو اچھے طریقے سے سمجھ اور جان چکے تھے کہ عالمی پابندیاں اور عالمی امداد خطے میں بگڑنے والے طاقت کے توازن کو کسی بھی طرح درست نہ کر پاتے۔
24 مئی 1998 کو بھارت نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لئے آخری حربے کے طور پر گوادر سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز کو دہشت گرد تنظیم کے کارکنان کے ذریعے اغوا کر لیا اور طیارے کو بھوج ائر پورٹ بھارت اور پھر دہلی ائر پورٹ لے جانے کا پروگرام بنایا گیا تاکہ پاکستان کو ممکنہ ایٹمی دھماکوں سے روکا جا سکے۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ طیارے کے کپتان نے کمال مہارت سے شام کے ملگجے اندھیرے میں ہائی جیکرز کو پتہ چلے بغیر حیدر آباد ائر پورٹ پر لینڈ کروا دیا۔
حیدر آباد ائر پورٹ پر مقامی پولیس اور فوج کے اہم اداروں کے افسران نے علی الصبح کامیاب آپریشن کرتے ہوئے ہائی جیکرز کو گرفتار کر لیا اور تمام مسافر خواتین و مرد و بچوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔ اس آپریشن میں پنجاب پولیس کے آئی جی ڈاکٹر عثمان انور جو کہ اس وقت اے ایس پی حیدر آباد تعینات تھے فرنٹ لائن کے سپاہی کا کلیدی کردار ادا کیا۔ اور یوں بھارت کے خوفناک منصوبہ کو خاک میں ملا دیا گیا۔ اور بالآخر 28 مئی 1998 کو ہر قسم کے دباؤ کو بالائے طاق رکھ کر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں بگڑے ہوئے طاقت کے توازن کو برابر کر دیا اور مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط، مستحکم، پائیدار اور ”ہمسایہ“ کے ساتھ امن کی خواہش کو برابری کی سطح پر قائم کرنے میں اہم ترین ذمہ داری نبھائی۔
میں یہاں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ سیاست دان اور سیاست دانوں کے نمائندے ہمیشہ ایٹمی دھماکے کرنے کے لئے عالمی برادری کی پابندیاں اور امداد کی پیش کش اور دھمکیوں کو سب سے اہم دباؤ قرار دیتے ہیں مگر میرے نزدیک سب سے اہم اور حقیقی دباؤ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دینا تھا کہ اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھنے والے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے نہ ہونے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہو جاتے۔ اور پاکستان کے ذمہ داران نے اس دباؤ کے آگے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے وجود کو دوام بخشا۔
اوپر بیان کیا گیا طیارہ ہائی جیک کا واقعہ ایٹمی دھماکوں کے ساتھ ہی تاریخ میں ثبت ہو کر رہ گیا۔ یہاں پر ہائی جیکنگ کے اس واقعہ کا ذکر میں نے اس لئے کرنا لازم سمجھا کہ آج کے پاکستان کے معروضی حالات میں پاکستان کے عوام الناس پاکستان کے وجود کے نظریاتی مخالفین کو سمجھ سکیں۔ پاکستان کے نظریاتی مخالفین بہروپ بدل کر پاکستان کے داخلی و خارجی و سیاسی معاملات میں دخل اندازی کر کے آج بھی پاکستان کو کمزور اور حالات کو بگاڑ کی سمت میں لے کر جانا چاہ رہے ہیں۔
28 مئی 2024 کو پاکستان کے کمزور ترین معاشی حالات، خستہ حال امن، مہنگائی کے عفریت میں جکڑے عوام الناس، لسانی اور مذہبی تقسیم کو مضبوط کرتے عوامل و عناصر، راہ زنی اور ڈکیتی کی وارداتیں، صحت عامہ اور نظام تعلیم کی خامیاں و خاموشیاں، عدل و انصاف کے انتظار میں عدالتوں کے چکر لگاتے ہوئے عوام الناس کا نسلوں کا سفر، دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کی پاکستان کی تنصیبات پر حملے، کچے کے ڈاکو، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نشانے پر ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ۔
28 مئی 1998 کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے والے پاکستان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کیوں کہ 28 مئی 1998 کو پاکستان دنیا میں موجود اقوام عالم میں ایٹمی قوت حاصل کر کے ممتاز قوت کے طور پر ابھرا تھا۔ مگر کیا ہم ممتاز رہنے کے اس تسلسل کو قائم رکھ سکے یا سیاست کے نام پر پھیلائی ہوئی تقسیم کا شکار ہو کر رہ گئے؟
پاکستان کے سیاستدان تقسیم کی اس سیاست کے سلسلے کو کب تک فروغ دیں گے اور حکومت حاصل کرنے کی خواہش میں کب تک پاکستان کی عوام الناس کو آئی ایم ایف جیسے سودی اداروں کے سامنے گروی رکھتے رہیں گے۔ کیا پاکستان کے ذمہ دار سیاست دان وطن عزیز کی ترقی و حمیت کے لئے سنجیدہ اور مطلوبہ کردار ادا کرتے ہوئے مفاہمت اور برداشت کا رویہ نہ خود اپنائیں گے اور نہ ہی اپنے عقیدت مندوں اور عوام الناس کو پاکستان کی بہتری کے لئے مفاہمت، گنجائش، برداشت اور اتحاد کے میدان میں یکجا کریں گے کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز، مشکلات و مصائب سے نبرد آزما ہوا جا سکے؟
مگر آج کا پاکستان اپوزیشن اور حکومتی ایوانوں کے سیاست دانوں کے بکتے بیانئے کی زد میں ہے اور تقسیم و نفرت کے نظریات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
یہاں پاکستان کی تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر جب پاکستان کی معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف جیسے اداروں کی مرہون منت ہیں حکومت اور خاص طور پر اپوزیشن کے رہنماؤں کو مفاہمت کے تحت ریاستی اداروں اور ریاستی وسائل کو یکجا اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ حکومت کے حصول کے لئے تقسیم اور ریاستی اداروں کو متنازعہ بنانے اور تفریق کو پھیلانے کی۔ مگر اقتدار کے خواہاں سیاست دان کیا یہ سب کر پائیں گے یا عوام الناس، ریاستی اداروں اور ریاست پاکستان کو ہی محض تختہ مشق بنائیں رکھیں گے۔ کیوں کہ اہل اقتدار اور انتظامی امور چلانے والے تو بالآخر سیاست دان ہی ہیں۔


