جذبہ انسانیت پر کچھ باتیں


میرا ہر کالم یا بلاگ اپنے اندر کوئی نہ کوئی اصلاحی پیغام سموئے ہوتا ہے۔ ایک اچھے لکھاری کے لکھنے کا مقصد صرف اپنا دل ہلکا کرنا نہیں بلکہ ارد گرد نظر آنے والی خرابیوں اور برائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرنا ہوتا ہے۔ انسان اور معاشرہ خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہیں، اگر ہم ان کی لسٹ بنائیں اور پھر ہر خامی کو خوبی میں بدلنے کی کوشش کریں تو اس عمل کو اصلاح کی کوشش کہتے ہیں۔

چند دن پہلے دفتری سیاست پر میں نے جو مضمون لکھا تھا اس میں پندرہ سال پہلے کے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا تھا۔ بہت سے دوستوں نے ای میل، واٹس ایپ اور کال کے ذریعے رابطہ کر کے نا صرف تحریر کی تعریف کی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ پڑھ کر ایسا لگا جیسے ان کے متعلق بیان کیا جا رہا ہو۔ میری ہر تحریر کا بس یہی مقصد ہوتا ہے کہ اس میں عام اور مشترکہ معاشرتی مسائل کا ذکر اور اصلاح کی ترغیب ہو، اسی کو قلم کے ذریعے جہاد کہتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر نے سڑک سے گزرتے ہوئے بہت سارے حادثات دیکھے ہیں اور یہ بھی دیکھا ہے کہ کہیں پر حادثہ ہوا ہو تو تماشا دیکھنے والے زیادہ اور مدد کرنے والے کم ہوتے ہیں بلکہ ویڈیو بنانے والے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں پولیس کو سنبھالنا آسان نہیں اور گواہی کے لیے عدالتوں کے چکر لگانا پڑیں تو معاملہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے، لیکن مدد کے وقت ویڈیو بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

یہ بات صحیح ہے کہ سڑک پر دو ہی چیزیں ایسی ملتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان اپنا راستہ بدل لیتا ہے، جانوروں میں کتا اور آدمیوں میں پولیس والا، دونوں پر صرف نظر پڑ جائے تو بے گناہ کو مستقبل کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ پولیس والے کا ذکر کیا تو ایک واقعہ یاد آ گیا۔ کافی پرانی بات ہے، میں لاہور شہر میں ایک کام سے جا رہا تھا اور ضلع کچہری کے پاس کسی جگہ کی تلاش میں تھا، اچانک سے کچھ پولیس والے سڑک کے کنارے کھڑے نظر آئے، میں نے ان کے قریب جا کر گاڑی روکنے کی غلطی کی اور راستہ پوچھا، راستہ بتانے سے پہلے ایک پولیس افسر میرے قریب آیا اور کہنے لگا راستہ تو میں آپ کو بتاؤں گا لیکن پہلے کار کے کاغذات دکھا دیں۔

چلیں اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں، کسی حادثے کے وقت مدد کرنے کی بجائے تماشا دیکھنا اور ویڈیو بنانا ہمیں سب سے آسان کام لگتا ہے۔ ہم نظام کی خرابی بہت جلدی دیکھ لیتے ہیں لیکن اپنے اندر کی خرابی کا پتا نہیں چلتا ہے۔ آدمی انسان بنتا ہی تب ہے جب اس میں انسانیت موجود ہو۔

محکمہ موسمیات نے بہت ترقی کر لی ہے۔ گرمی، سردی، برف باری اور بارشوں کے بارے میں پہلے سے کافی حد تک صحیح بتا دیا جاتا ہے، اس کے باوجود ضروری نہیں ہے کہ ہر شہری کو پہلے سے ان سب باتوں کا علم ہو یا ہر کسی نے تیاری کر رکھی ہو۔ اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ اچانک سے اگر بارش شروع ہو جائے تو پیدل چلنے والے بہت مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ صاحب حیثیت شہریوں کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں، کچھ چھتریاں بازار سے خرید کر اپنی گاڑی میں رکھ لیں، جب بارش کے دوران آپ باہر جائیں تو بہت سے پیدل چلنے والے افراد بارش میں بھیگتے ہوئے پریشان نظر آئیں گے، ان کو چھتری دے کر ڈھیروں دعائیں سمیٹیں۔

دفتروں اور گھروں کے اندر اے سی میں بیٹھ کر ہمیں باہر کی گرمی اور لوگوں کی تکلیف کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ شدید دھوپ اور گرمی میں روزی کماتے محنت کش افراد کا بھی ضرور سوچیں۔ ریڑھی پر سبزی بیچنے والے سے دس روپے کم کرانے کے لئے بحث نہ کریں، بلکہ کچھ زیادہ دے کر اجر کما لیں۔ رائیڈرز یا کوریئرز آپ کے گھر آئیں تو انہیں تحفہ کے طور پر اضافی پیسے دے دیں، ان کو دینے کے لیے سکے نہ ڈھونڈیں بلکہ اپنی فضول خرچیوں کو یاد کریں اور یہ سوچیں کہ آپ کے مال میں ان کا بھی حصہ ہے جس کا آپ کو اللہ کی بارگاہ میں حساب دینا پڑے گا۔ ٹھنڈے پانی یا شربت کے بغیر انہیں جانے نہ دیں، پانی یا کولڈ ڈرنک کی چھوٹی بوتلیں اکثر ہمارے گھروں میں ہوتی ہیں، انہیں دھو کر شربت بھریں اور ان کو دیں۔

تعلیم اور تربیت کو ہمیشہ اکٹھا لکھا جاتا ہے، اس سے ان دونوں کی مشترکہ اہمیت کا پتا چلتا ہے۔

جس کے پاس تعلیم ہو اور تربیت نہ ہو تو ایسا شخص پڑھا لکھا جاہل ہے۔ تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور اس میں ماں باپ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ میرے بچپن میں مجھے سکھایا گیا تھا کہ جب کھانسی یا چھینک آئے تو منہ پر ہاتھ رکھتے ہیں، یقینی طور پر آپ سب کی تربیت میں بھی یہ شامل ہو گا۔ پھر ایک وقت آیا جب کرونا نے سب کی زندگی مشکل بنا دی، ماسک پہننا لازمی کر دیا گیا۔ جب کرونا کی بیماری زیادہ پھیلی ہوئی تھی تو لوگوں میں خوف بہت تھا لیکن جب کرونا کم ہوا تو اکثریت نے احتیاط کم کر دی۔

آدمی سے انسان بننے کے سفر میں ضروری ہے کہ غرض کو خود سے دور کر دیا جائے تاکہ خود غرضی قریب نہ آئے۔ میرا دفتر سترہویں منزل پر ہے جس کے لیے لفٹ کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ میں اکثر دیکھتا ہوں کہ پڑھے لکھے لوگ نزلہ زکام میں بغیر ماسک کے لفٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور بند لفٹ میں کھانستے اور چھینکتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ساتھ موجود لوگوں کے لئے یہ غیر اخلاقی حرکت خطرے کا باعث ہے۔ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں جب آپ کی زندگی میں بہتری لائیں تو مجھے دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

Facebook Comments HS