ڈاکٹر سعادت سعید کا سماجی شعور


فرد سماج کی اکائی تصور ہوتا ہے اور اکائیاں مل کر سماج کی تشکیل کرتی ہیں۔ عام آدمی گزشتہ سے پیوستہ سماجی زندگی میں ڈھلتا چلا جاتا ہے لیکن ادیب سماج کی ناہمواریوں کو محسوس کرتا ہے اور اُس کی تشکیلِ نو چاہتا ہے۔ وہ تنہا نہیں رہ سکتا اور موجود ناہمواریوں سے سمجھوتے پر بھی تیار نہیں ہوتا ہے۔ یہاں سے تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے جو فکری سطح پر قطع و برید کے بعد نظریے کی صورت میں ڈھلتا ہے۔ کچھ نظریات مخصوص طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ الہامی نظریات سے قطعِ نظر ترقی پسند نظریہ مجموعی بنی نوع انسان کے مادی مفادات و معاملات کی شرائط پوری کرتا ہے۔ ڈاکٹر سعادت سعید سماج کو ترقی پسندانہ زاویوں سے دیکھتے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اشرافیہ، انتظامیہ اور عدلیہ ایسے سماج کے محافظ ہیں جو استحصال پر مبنی ہے۔ وہ نہایت جرات سے واشگاف الفاظ میں نظم ”ذہن کے کینوس“ میں کہتے ہیں :

بندگی کے بھی دو ہی طبقے ہیں
ایک سرمایہ دار ایک غریب
چیختے ہیں معاشرے کے دُکھ
ان کا سرچشمہ جانتے ہیں سب
قصرِ انصاف میں ہما نہ رہا
خوفِ فریاد بے نوا نہ رہا

ہمارے سماج میں شخصیت پرستی نے جہالت کو فروغ دیا ہے۔ سماجی، مذہبی اور سیاسی سطح پر یہ چلن عام دیکھنے میں آتا ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہیں اور دائرے سے باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مرشد کی اصطلاح عام ہے حتیٰ کہ ادباء میں بھی مرشدوں کا ظہور دیکھنے میں آ رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کسی کو مرشد سمجھنے والا ساری زندگی مرید کیوں رہتا ہے اور اُسے خود مرشد کے منصب پر پہنچنے کا خیال کیوں نہیں آتا ہے۔ سعادت سعید نظم ”شخصیت پرستی“ میں کہتے ہیں :

ڈھونڈنے ہیں مجھ کو اپنے راستے
اپنے مکتب کے لیے
اپنے ڈھب کے قاعدے
اپنے رجحانات سے لے کر شعور
توڑنا ہے مرشدوں کا ہر غرور

شخصیت پرستی کا دوسرا پہلو عقائد پرستی سے جڑا ہوا ہے۔ فرمودگی، کہنہ تاریکی، غلامی اور اندھی تصدیق نے سماج کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ روشنی کی ذرا سی شعاع سے ڈر کر اپنے خول میں پناہ لینے کا وتیرا عام ہے۔ مصائب و مشکلات برداشت کرتے ہیں مگر فرسودہ عقائد کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں۔ نظم ”عقائد پرستی“ دعوت فکر دیتی ہے اور لوگوں کو گمراہ کن عقائد سے باہر نکل کر زندگی کی سچائیوں سے متعارف کرواتی ہے۔

عقائد پرستی کے مارے ہوئے دوستو
تم تعصب کی عینک سے
زندہ حقائق کو دیکھو گے کیسے؟
دکھوں کے لذائذ کو بھولو گے کیسے؟
سکھوں کی نئی وادیوں کو سرا ہو گے کیسے؟
غلامی کی عادت کو بدلو گے کیسے؟
کہ رجعت پسندی کے کیڑوں نے تاریخ کے خستہ اوراق پر
سانپ لہریں بنائی ہوئی ہیں

ڈاکٹر سعادت سعید تہذیب کی زبوں حالی پر سخت دل گرفتہ ہیں۔ اقدار کی پامالی، اخلاقیات کی فراموشی اور ثقافت سے روگردانی کی بنیادی وجہ انسانیت کا چھن جانا ہے۔ ہمارے اردگرد لوگوں کی بہتات ہے مگر کوئی انسان نظر نہیں آتا ہے۔ جو تہذیب کا نمائندہ قرار دیا جائے ہر طرف ہوس کے پتلے اور غرض کے بندے دکھائی دیتے ہیں۔ ”نظم اُٹھ گیا سینہ ٔ گیتی سے“ کا ابتدائی حصہ ملاحظہ کیجیے :

اُٹھ گیا سینۂ گیتی سے وہ انسان کہ جو
دورِ تہذیب کا عنوان ہوا کرتا تھا
آؤ فریاد کریں
کسی معبد میں چلیں یا کسی مے خانے میں
آنسوؤں سے اِسے آباد کریں
اُس کے جانے کا سبب یاد کریں

ہم نے اقدار کو فراموش کر کے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ صدیوں کے تجربات و مشاہدات اور اصول و ضابطہ زندگی سے عنقا ہو گئے ہیں۔ یادِ ماضی محض قصہ بن کر رہ گئی ہے۔ صرف سوچا جا سکتا ہے کہ دھرتی سونا اُگلتی تھی اور اس پر رہنے والے دکھ درد میں دست و بازو بنتے تھے۔ اب بڑے بڑے گھر میں تنہائی کے عفریت ہیں۔ لوگ مغائرت کا شکار ہیں۔ گلیاں ویران ہو گئی ہیں اور دِل کے نگر میں جاگنے والے تنہائی کا عذاب جھیلتے ہیں۔

”نظم ماضی سے کیا لینا ہے“ کا ایک حصہ دیکھیے :
صدیوں پرانے وقت کی یادیں ہیں انمول رتن
ہر بستی تھی امن کی بستی، ہر قریے میں سکھ
سانسوں میں خوشبوئیں تھیں
روحوں میں کیف، سرور
اک دوجے کے سکھ کا سہارا
سونا اُگلتی دھرتی پہ بستے لوگ
پوتّر لوگ!
پرانے وقت کی یادیں روشن ہیں، چمکیلی ہیں
حال سے ان کا ربط نہیں ہے

ڈاکٹر سعادت سعید اپنی اکثر نظموں میں ظالمانہ نظام زر کو نشانہ بناتے ہیں۔ کیوں کہ اس نظام کی قباحتوں نے زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔ زر و مال کے دیوتا کے چرنوں میں نسلوں نے اپنا خون بہایا ہے مگر اس دیوتا کی پیاس نہیں بجھتی ہے۔ ہمارے اردگرد فطرت کے حسین رنگ ہیں مگر سسکتے لوگوں کو انہیں دیکھنے کی سہولت نہیں ہے۔ جواں سال نسلوں کو منحوس تہذیبی رسموں سے محفوظ رکھنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ ڈاکٹر سعادت سعید معاشی معاملات کو خوب سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس نظام میں عام انسان کبھی زندگی کی حقیقی رعنائیوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا ہے۔ نظم ”مرنا تمہارا مقدر ہے“ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے :

یہاں زندگی موت کے زائچوں کی شناسا ہے
بے کار ڈھانچوں کا انبوہ، ہر سُو
سسکتے شب و روز کے بطن میں پرورش پا رہا ہے
زر و مال کے دیوتاؤں کے مندر طلائی ہیں
ہیروں سے آراستہ ہیں
کروڑوں جوانوں کے
جسمانی سر مے سے حاصل ہوئے ہیں
زر و مال کے دیوتا خوش ہیں
ان کا دعویٰ ہے سب لوگ خوش ہیں
مگر کون ان سے کہے کہ یہاں
زندگی کے ستارے نحوست کی زد میں ہیں
بجھنے ہی والے ہیں

یہ ڈاکٹر سعادت سعید کے سماجی شعور کا اجمالی جائزہ ہے۔ میں نے اس مضمون کے لیے ڈاکٹر سعادت سعید کے شعری مجموعے ”بانسری چپ ہے“ سے نظموں کا انتخاب کیا ہے۔ مزید نظموں کے مجموعے بھی اُن کے سماجی شعور کی عکاسی کرتے ہیں۔ ثقافت، مذہب، اخلاق، معیشت، روایت سمیت کئی عوامل مل کر سماج کی تشکیل کرتے ہیں۔ پاکستان سماج کے روبہ زوال کی بنیادی وجہ تمام سطحوں پر مسلسل انحطاط ہے۔ کوئی سطح بھی قابلِ تحسین نہیں ہے۔ اس حوالے سے ان نظموں کا مطالعہ اُن کی بلند فکر، شعری جمالیات اور فنی پختگی کا غماز ہے۔ یہ نظمیں ہماری فکری تربیت کا بہترین ذریعہ اور موجودہ سماج کے معاملات کو سمجھنے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔

 

Facebook Comments HS