طویل سجدہ پاکستانی اور متحدہ عرب امارات کا شکوہ


ہمارا برادر اسلامی ملک دبئی ہمیں ویزے دینے سے ہی انکاری ہو گیا، آخر ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے اپنے مسلمان بھائیوں سے ہی منہ موڑ لیا؟ ہم بے چارے تو اکیلے ہی دنیا بھر میں مذہب کا پرچم سر بلند کیے ہوئے ہیں، دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو ہم فرض کفایہ کے طور پر صدائے حق بلند کرتے ہیں۔ سڑکوں پر نکل آتے ہیں، اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر پرسکون ہو جاتے ہیں۔

درجنوں مسلم مالک تو ستو پی کر سو رہے ہیں یا ان کی ایمانی غیرت ہم سے کہیں کم ہے اور انہیں کیا خبر کہ دنیا بھر میں ان کے بھائی بندوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ یہ تو ہم ہی وارثان امہ ہیں جو دنیا بھر کے مسلمانوں اور ان کے سربراہوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔

اتنی اہم خدمات کے عوض بھی متحدہ عرب امارات نے ہمیں ویزے دینے سے انکار کر دیا۔ کیا ہم مسلمان نہیں رہے یا ہمارا ایمان کمزور ہو گیا؟ یا اسلام کی سربلندی کی کاوشوں میں کہیں ہم سے کوتاہی ہو گئی؟ جب اس معاملے کو کھنگالا تو پتا چلا کہ برادر اسلامی ملک کے متعلق جو وسوسے یا خدشات ہمارے ذہنوں میں ہیں ان کا تو دور دور تک کوئی واسطہ ہی نہیں ہے بلکہ معاملہ تو کچھ اور ہی ہے اور خاصا دلچسپ بھی ہے۔

معروف صحافی عمر چیمہ نے ان وجوہات کی بڑے اچھے سے وضاحت بھی کی ہے لیکن جو ان وجوہات میں سے خاصی دلچسپ اور فکر انگیز ہیں یہاں صرف ان چند ایک کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔

متحدہ عرب امارات کا ہم سے گلہ ہے کہ پاکستانی مزدور جو معاش کے سلسلے میں یہاں آتے ہیں وہ زیادہ تر کام چور ثابت ہوتے ہیں اور دوران کام نماز کی چھٹی لیتے ہیں اور گھنٹوں بعد کام پر واپس آتے ہیں۔ انہیں اس بات کا ذرا سا احساس بھی نہیں ہوتا کہ جو وہ کام کرتے ہیں اس کا انہیں پورا معاوضہ ملتا ہے لیکن وہ اپنا زیادہ تر وقت نمازوں کو خشوع و خضوع سے ادا کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ وہ اس اصول یا احساس سے ماورا ہو جاتے ہیں کہ یہ بھی ایک طرح کی بددیانتی ہوتی ہے۔ جس کام کا معاوضہ لیتے ہیں اسے دیانتداری سے پورا کرنا بھی آپ پر فرض ہوتا ہے۔ ہمارے برادر اسلامی ملک کے مطابق ایسا صرف پاکستانی مزدور ہی کرتے ہیں اور لیبر میرٹ پروفائلنگ کے حساب سے اس قسم کا رویہ یا عادت ڈس کوالیفکیشن کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

مارکیٹنگ اور کیپیٹلزم کی دنیا میں صرف وہی شخص کامیاب تصور ہوتا ہے جو پروفیشنلزم کی حدود و قیود سے آشنائی رکھتا ہو۔ ذمہ داری کے بیچ عبادات کو حائل کرنا بددیانتی اور کام چوری تصور ہوتا ہے اور جو ملک اس کا شکوہ کر رہا وہ بھی ایک اسلامی ملک ہے اور اپنے عباداتی بندوبست کو بڑے اچھے سے جانتا ہے۔

ہمارے بھائی اسلامی ملک نے دوسری وجہ یہ بتائی کہ پاکستانی مزدور صفائی ستھرائی کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دیتے۔ مطلب ہائیجین کے مسائل بہت زیادہ ہیں، جسمانی صفائی کا خیال نہیں رکھتے اور نا ہی اپنا رہن سہن بہتر کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ یہ جس مذہب کے داعی ہیں اس کے نزدیک تو صفائی نصف ایمان ہے مگر جو عملی حقیقت ہے اس کے متعلق ہمیں دبئی کی حکومت نے بتا دیا ہے۔

تیسری وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ہمارے مزدور سوشل میڈیا ایتھکس سے بالکل نابلد ہیں زیادہ تر ان پڑھ اور اجڈ ہیں اور انگریزی زبان تو بالکل بھی نہیں جانتے۔

گزشتہ دنوں دبئی میں بارشیں ہوئیں اور سیلاب کی سی کیفیت میں بدل گئیں، جس پر ہمارے پاکستانیوں نے موبائل پر ویڈیوز بنانا شروع کر دیں اور بارشوں کی تباہ کاریوں کی اپنے طور پر وجہ یہ بتائی کہ دبئی والے یہاں ایک مندر تعمیر کر رہے تھے جس کی وجہ سے اللہ کی ناراضی ہوئی اور دبئی ڈوب گیا۔ سوشل میڈیا پر جب اس طرح کی باتیں وائرل ہونا شروع ہوئیں تو وہاں کی حکومت نے ایکشن لیا تو پتا چلا کہ اس پروپیگنڈا میں تو ہمارے ہی بھائی شامل ہیں۔

چوتھی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان سے جو مزدور یہاں مزدوری کرنے آتے ہیں وہ زیادہ تر بھیک مانگتے ہیں۔ یہ بھی ایک ڈائیکاٹمی ہے، ایک طرح سے کام چوری کا چکر ہوتا ہے۔ ہاتھ سے محنت کرنے کی بجائے ہاتھ پھیلانے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔

برادر اسلامی ملک کے مطابق پانچویں وجہ یہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے جن ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں مثلاً اسرائیل یا انڈیا وغیرہ ان کے متعلق غلط خبریں پھیلاتے ہیں اور ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں کن ممالک کے ساتھ تعلق داری بنانی چاہیے اور کن کے ساتھ نہیں۔ اب یہ تو وہی بات ہو گئی نا ”ذات دی کوہڑ کرلی تے شہتیراں نو جپھے“۔ مطلب اپنا اسٹیٹس دیکھو، کیا ہماری اتنی اوقات ہے کہ ہم دوسروں کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کریں؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کوتاہیوں کا سارے کا سارا ملبہ پاکستانی مزدوروں پر ڈالا جا سکتا ہے؟ کیا ان ساری خامیوں اور کوتاہیوں کے صرف اور صرف ہمارے مزدور ذمہ دار ہیں؟ ظاہر ہے ایسا کہنا تو ایک طرح سے ”سویپنگ سٹیٹمنٹ“ ہوگی۔ کہیں نا کہیں ان کوتاہیوں کی ریاست بھی ذمہ دار ہے۔

مہذب دنیا میں انسانوں کو افرادی قوت کہا جاتا ہے اور وہ اپنے عوام کی تعلیم و تربیت پر خرچ بھی بہت زیادہ کرتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کا شخص دوسری ریاست میں اپنی ریاست کا سفیر ہوتا ہے اور ریاست اپنی افرادی قوت کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دوسری ریاستوں میں جا کر بہتر سفیر ثابت ہوں۔ کیا ہماری حکومت نے ایسا کوئی بندوبست کیا؟

بالکل بھی نہیں۔ اگر کچھ کیا ہوتا تو دنیا بھر میں ہم یوں ذلیل و رسوا نہ ہوتے جن کی طرف ہمارے برادر اسلامی ملک نے ہماری توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ ریاست تو اپنا فرض نبھانے میں ناکام رہی ہے لیکن حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ جس دیس میں حج کے بعد دوسرا بڑا تبلیغی اجتماع منعقد ہوتا ہو اور دنیا بھر کے لوگوں کی اصلاح کے لیے تبلیغی قافلے روانہ ہوتے ہوں، لاکھوں مساجد و مدارس ہوں اور خانقاہیں و درگاہیں بھی کثیر تعداد میں پائی جاتی ہوں اس کے باوجود بھی ہمارے عوام اخلاقی طور پر اس قدر بودے ثابت ہوں تو ناکامی کا کچھ نا کچھ بوجھ ہمارے مذہبی طبقے کے کندھوں پر بھی پڑتا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس اخلاقی بندوبست کی چھتر چھایا میں ہم بچپن سے بلوغت تک کا سفر طے کرتے ہیں وہ ہمارے ذہنوں میں کوئی دیرپا اثرات کیوں نہیں چھوڑ پاتا؟ جبکہ ہماری مذہبی فکر کا تو یہ ماننا ہے بلکہ دعویٰ ہے کہ صرف اور صرف مذہب اور مذہبی تعلیمات ہی انسان کو انسان بناتی ہیں، دنیاوی بندوبست یا تعلیم تو انسانوں سے انسانیت تک چھین لیتی ہے۔

معزز علماء کرام سے رہنمائی درکار ہے کہ ہمارے برادر ملک نے جو ہماری خامیاں گنوائی ہیں ان خرابیوں کو پروان چڑھانے میں بنیادی کردار کس کا ہے؟ اور ان خرابیوں کا ذمہ دار کون ہے؟ فرائض سے کوتاہی، ذمہ داریوں سے بھاگنا، عبادات پر حد سے زیادہ زور، جسمانی صفائی ستھرائی سے اجتناب برتنا اور دھڑلے سے جھوٹ بولنا ایسے معاملات و مسائل کا ڈائریکٹ تعلق اخلاقیات سے بنتا ہے۔

اب جو اخلاقیات کے دعویدار ہیں انہیں سوچنا چاہیے۔ جب دنیا کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہی لیا ہے تو اپنے دامن میں بھی جھانک لینا چاہیے۔

Facebook Comments HS