نارتھ اور ساؤتھ میں تقسیم سے پہلے وانا انتظامی طور پر وزیرستان کا مرکز تھا۔ بعد میں ساؤتھ وزیرستان کا مرکز رہا۔ ہم اکثر وزیرستان کو دہشتگردی، بم دھماکے جیسے سابقے و لاحقے کے ساتھ سنتے آرہے ہیں۔ مگر مقامی آبادی کے مسائل اور روزگار کے وسائل کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔ نوجوان اکثر روزگار کے لئے آبائی وطن کو خیر آباد کہہ کے دیار غیر جیسے پنجاب، کراچی، ڈیرہ اسماعیل خان اور خلیج ممالک کی طرف کوچ کر جاتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے والے افراد کا انحصار ان مسافروں کی آمدنی پر یا مقامی طور پر زراعت سے ضروریاتِ زندگی پورا کرتے ہیں۔

وزیرستان وانا میں زراعت سے پہلے لوگ گلہ بانی پیشے سے سے منسلک اور اس واسطے آبادی مال مویشیوں کے ساتھ سردیوں میں افغانستان کے ساتھ ملحقہ وزیرستان کا زین داور نامی علاقہ جبکہ سردیوں کی آمد کے ساتھ درہ گومل سے ہوتے ہوئے گومل نامی علاقے کی طرف آتے۔ بعد میں گلہ بانی کو ترک کر کے لوگ زراعت کی طرف مائل ہونے لگے۔ عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو چند عوامل زراعت پر بہت اثرانداز ہوتے ہیں جیسے زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی، علاقائی موسم، سیم و تھور، روشنی کا دورانیہ، اچھے معیار و مقدار میں کھاد، ادویات اور بیج تک رسائی، افرادی قوت، باغات سے منڈی تک کا فاصلہ، روڈوں کی حالات اور منڈیوں میں مال کی ڈیمانڈ اور خریداروں کی خریداری قوت وغیرہ۔

چار اطراف سے پہاڑ ہونے کی وجہ سے وانا کی زمینیں زراعت کے لئے بے انتہا زرخیز ہوتے ہیں۔ یہاں کئی اقسام کے پھل جیسے سیب، آڑو، آلوچے، خوبانی، ناشپاتی، انجیر، انار، بادام، اخروٹ وغیرہ جبکہ سبزیاں میں ٹماٹر، شلجم، الو، گاجر، مولی، پیاز وغیرہ ہوتے ہیں۔

سال میں اکثر بارشوں کی وجہ سے پہاڑوں سے ندی نالوں میں پانی اپنے ساتھ زرخیزی لاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسانوں کو کھاد کے استعمال کی اتنی ضرورت نہیں رہتی۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں چار موسم کے علاوہ سوائے سال کے چار مہینے سردی، باقی یہاں معمولی اتار و چڑھاؤ کے درجہِ حرارت اوسطاً ° 25 جبکہ سال میں کافی بارشوں کے باوجود یہاں فضا صاف اور سال کے 365 دنوں میں 300 پلس دنوں کے لئے تقریباً یومیہ کے حساب سے 12 گھنٹے دھوپ پڑتی ہے۔

 ابتدا میں یہاں وانا وزیرستان میں زراعت کے لئے کاریز سسٹم زیر استعمال تھا مگر واٹر ٹیبل کی گرتی ہوئی حالت کی وجہ سے بات ٹیوب ویل سے ہوتی ہوئی سولر پینلز تک پہنچ گئی۔ یہاں کے کسان اپنا مال یا تو مقامی منڈیوں میں سوداگروں کے ہاتھ بھیجتے یا پنجاب کے شہر جیسے سیالکوٹ، ملتان، گوجرانوالہ، لاہور وغیرہ میں واقع بڑی منڈیوں میں بھیجتے ہیں۔

کسان کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حوالے سے آگر بات کریں تو سب سے سنگین نوعیت کا مسئلہ واٹر ٹیبل کی گرتی ہوئی حالت ہے۔ سمال و لارج ڈیمز کی تعمیر سے مسئلہ کا سدباب ممکن ہے مگر انتظامیہ و حکومت کی خاموشی جبکہ مدمقابل مقامی آبادی اور صوبائی و قومی اسمبلیوں میں وزیرستان کے نمائندوں کی خاموشیاں لمحہ فکریہ ہے۔ کسان اپنا مال سینکڑوں کلومیٹر دور پنجاب کے شہروں میں واقع منڈیوں میں بھیجتے ہیں۔ اتنے دور اپنا مال بھجوانا یقیناً خطرے سے کم نہیں اور مال خراب ہونے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے جبکہ روڈوں کی ناگفتہ بہ حالات ضروریات پورا کرنے سے تقریباً قاصر ہے۔ اکثر زیادہ بارشوں کی وجہ سے راستے بند پڑتے ہیں جس کے نتائج کسان کو مال سڑنے کی شکل میں برداشت کرنا ہوتا ہے۔ تدارک کے لیے بہترین آپشن مقامی طور پر فیکٹریاں لگانا اور نقصان کی صورت میں نقصان کا ازالہ جبکہ زرعی ترقیاتی بینک اور جدید زرعی لیبارٹری مقامی طور پر قائم کرنا ہے۔

اگر چہ کسان کو کھاد کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی مگر اچھے نتائج کے لئے کسان کو کھاد کے استعمال کی ضرورت اک پڑتی ہے مگر وزیرستان و طالبان کے سابقے و لاحقے سے مقامی و غیر مقامی مافیاز گٹھ جوڑ کی شکل میں فوائد سمیٹتے ہوئے کھاد پر اس بہانے کہ کھاد بارود بنانے میں استعمال ہوتا ہے پابندی لگا کے اپنے اپنے کمیشن وصول کرتے ہیں جبکہ کیڑے مار ادویات و استعمال کے بارے میں سطحی علم اور اکثر ادویات غیر معیاری ہونے کی وجہ سے یہی تریاق مقامی آبادی کو زہر کی شکل میں پانی میں دستیاب ہوتا ہے۔