ایکس وائف کے نام آخری خط
یکم جون 2024
السلام علیکم! محترمہ بیگم صاحبہ!
اُمید ہے، مزاج بَہ خیر ہوں گے، آپ گاہے گاہے بیٹی کی تصاویر بھیجتی رہتی ہیں، اچھا لگتا ہے، جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، ہم بوڑھے اور بیٹی جوان ہوتی جا رہی ہے۔ یہ عمر کا معاملہ بھی عجب ہے، انسان دیکھتے دیکھتے بوڑھا ہوجاتا ہے، بچپن، جوان اور، بڑھاپا بھی مزے کی کیفیات ہیں، بچپن میں سب کچھ چھین لینے کا من چاہتا ہے، جوانی میں سب نثار کر دینے کو جی چاہتا ہے اور بڑھاپے میں سب کچھ بے سود اور لاحاصل محسوس ہوتا ہے۔
انسان دُنیا میں کیا لینے آتا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہے، انسان دُنیا میں کس لیے بھیجا جاتا ہے؟ اس سوال کے سیکڑوں ہزاروں جوابات ہیں، جن کی تلاش میں ہم اپنا آپ کھو دیتے ہیں۔ میں دُنیا میں کیا لینے آیا تھا، مجھے معلوم نہیں ہے لیکن جب سے ہم جُدا ہوئے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے اس سوال کا جواب مِل گیا ہے۔
ایک محبت کرنے والا، جی جان سے چاہنے والا رفیقِ حیات سے بلاوجہ کی معمولی رنجش کے حائل ہونے سے ہمیشہ کے لیے جُدا ہو جائے تو اِسے تمام سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ بیٹی جیسے جیسے بڑی ہو رہی ہے مجھے یہ خوف کھائے جاتا ہے کہ جب بیٹی ہم دونوں کو کسی روز آمنے سامنے بٹھا کر یہ پوچھے گی کہ تم دونوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے مجھے کیوں استعمال کیا؟ میرا کیا قصور تھا، جواب دیجیے، کیا ہم جواب دے سکیں گے؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم اِسے پیدا کرنے سے پہلے ہی جُدا ہو جاتے، ایک اُولاد کو پیدا کرنے کے بعد یوں ہمارا ایک دوسرے جُدا ہو جانا کیا ٹھیک اور درست فیصلہ تھا؟
چلو، میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میری عقل ماری گئی تھی، مجھے تمہاری سچائی اور بے قصوری کا علم نہ تھا، میں تمہیں پوری طرح سمجھ نہ سکا تھا، میں تمہاری عادات و افعال اور جملہ رویے کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے اپنے بہن بھائیوں کو آپ کی ذات و شخصیت اور خاندان پر ترجیح دی، آپ کے جائز حقوق کو پورا نہیں کیا، آپ کی بنیادی ضرورتوں سے ہاتھ کھینچتا رہا، آپ کو بہانے بہانے سے تنگ کرتا رہا، آپ کی عزت اُچھالتا رہا، آپ کو بدنام اور رُسوا کرنے کی ہر پست کوشش کرتا رہا، اس سے بڑھ کر وہ سب کچھ جو میرے حوالے سے آپ کے ذہن و قلب میں پلتا رہا، وہ سب میں نے دانستاً کیا ہے۔
کیا اِس اقرار نامہ کو بیٹی کے ذہن و قلب میں اُٹھنے والے ہزاروں سوالات کا تشفی بخش جواب نامہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ اگر تم یہ تسلیم کرو کہ تمہیں اپنی خواہشوں اور آرزوؤں کو دبانا نہیں آیا، میرے ساتھ وقت گزارنے کا سلیقہ نہیں آیا، میری شخصیت اور رکھا رکھاؤ کو آنکنے کا فن نہیں آیا، رشتے سنبھالنے اور دُنیاداری کا تجربہ نہ ہو سکا، میرے ذہن میں جو بھی خدشات اور واہمے تھے وہ سب آپ کے حوالے سے درست اور مبنی بر حقیقت ٹھہرے، تو کیا تمہارے اِس اقرار نامے سے بیٹی کو اُس کے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔
اگر ہم یہ اقرار کر لیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے اور ہم نے جان بوجھ کر محض اپنی اَنا کی تسکین اور رعونت کے جبر کا اظہار کرنے کے لیے ایک دوسرے کو تھانہ، کچہری، پنچایت اور مصالحت گاہوں میں گھسیٹا اور ہر ممکن حربہ استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خاندان کو ذلیل و رسوا کرنے کا ناقابلِ فراموش کار نامہ انجام دیا ہے۔ علیحدگی کے بعد ہم اپنے اپنے خاندان میں عبرت و رسوائی کا بہترین نمونہ بن گئے ہیں، دُنیا بھر کی رسوائی اور ذلت ہمارے نام منسوب ہو گئی ہے۔
اس اقرار نامہ کے بعد ہم خود کو مطمئن تو کر سکتے ہیں لیکن معاشرے میں ہماری جُدائی کے توسط سے پھیلے ہوئے منفی تاثر کو ہم کسی صورت زائل نہیں کر سکتے۔ دراصل ہم نے بیٹی کے لیے سیکڑوں سوالات اُٹھا دیے ہیں جن کے جوابات یہ عمر بھر ہم سے، معاشرے سے، قانون اور مذہب سے پوچھتی رہے گی اور جوابات اسے نہیں ملیں گے۔
بیٹی جب شعور کی عمر کو پہنچے گی، ہمارے بارے میں ہمارے خاندان کے افراد سے سوالات کرے گے اور ہمارے خاندان کے افراد اِسے اپنے طریقے سے ہماری جملہ کرتوت اور احوال کے قصے سنائیں گے، موقع پا کر اس کے ذہن میں ہر طرح کا زہر بھرنے کی کوشش کریں گے جو ناسور بن کر اس کی رگوں میں دوڑے گا اور رفتہ رفتہ اس کی زندگی اجیرن کر دے گا، مرورِ وقت کے ساتھ اسے تمام قسم کی نفسیاتی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کا اعتماد، قوتِ ارادی اور مضبوط حوصلہ کی بنیادیں ہمیشہ کمزور اور ناتواں رہیں گے۔
جیسے جیسے یہ بڑھی ہوتی جائے گی اس کی سوچ، عادات اور رویے میں عجیب و غریب منفی داعیات جنم لیں گے، یہ بظاہر ایک پڑھی لکھی، کامیاب اور با کردار لڑکی ہوگی لیکن اندر سے ٹوٹ پھوٹ کر شکستوں سے چُور کسی منہدم عمارت کی طرح ہوگی جسے ہوا کا معمولی جھونکا ریزہ ریزہ کر نے کو کافی ہو گا۔ یہ عمر بھر اپنے اندر سے اُٹھنے والے اضطراب کے دریا کو سمجھوتوں، مصلحتوں اور مجبوریوں کے بندھن سے باندھنے کی کوشش کرے گی۔
اسے ہم دونوں سے نفرت کی آخری حد تک نفرت ہوگی لیکن یہ کبھی اس نفرت کا اظہار نہیں کرے گی، ہم اِس کے لیے دُنیا جہان کی نعمتیں، آسائشیں، سہولتیں بہم پہنچائیں، اس کے نزدیک یہ بے سود اور لاحاصل ہوں گی اور یہ اپنے رویے سے ظاہر کرے گی کہ ہم ڈراما بازی کرتے ہوئے اس اپنی غلطی کی تلافی کر نے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ کبھی ہمیں دل سے معاف نہیں کرے گی اور اِسے کرنا بھی نہیں چاہیے کہ یہ غلطی نہیں ہے بلکہ مذہب سے بغاوت تھی جسے ہم نے سہل سمجھ کر مُول تو لیا ہے لیکن اب اس کے نتائج کے لیے ہم ذہنی طور پر تیار ہونے سے گھبرا رہے ہیں۔
ہم دونوں اِس کے مجرم ہیں، اس لیے کہ پیدا ہونے سے قبل اِس سے یہ نہیں پوچھا گیا تھا کہ تمہاری پیدائش کے بعد ہم دونوں باہم جُدا ہو جائیں گے اور مجبوراً تمہیں کسی ایک کے سہارے دُنیا بھر کی تکلیفوں، اذیتوں، آزمائشوں اور آلام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اُولاد پیدا کرنے اور نہ کرنے کا فیصلہ ماں باپ کا ہوتا ہے، معاشرے، مذہب اور خاندان کو اِس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ داری کو قبولتے ہیں۔
اُولاد پیدا کرنا مجبوری نہیں بلکہ میاں بیوی کے ذاتی اختیار، پسند اور خواہش پر منحصر ہے۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ ہم دونوں نے خود کو میاں بیوی کے درجے تک محدود رکھا، ہمیں یہ پتہ ہی نہ چلا کہ ہم تو ماں اور باپ کے روپ میں ڈھل چکے ہیں۔ ہم دونوں نے بطور ماں اور باپ کے بیٹی کے جملہ حقوق سے اِسے دانستہ محروم کر دینے کی ہر ممکنہ کوشش کو ممکن بنایا ہے۔
اب ہم دنیا کے سامنے خواہ جتنا شرمندہ ہوں، ندامت محسوس کریں یا اپنی شکست کا اعتراف کریں، ہمارے گناہ کو معاف نہیں کیا جائے گا، قیامت کے دن رب تعالیٰ کے روبرو ہمیں اِس سوال کا جواب دینا پڑے گا کہ ہم نے اپنی اپنی اَنا کی تسکین کے لیے ایک دوسرے کو چھوڑنا گوارا کر لیا لیکن جس بیٹی کو ہم نے باہم متفقہ رضامندی سے اس کی پرورش و تربیت کا ذمہ لیتے ہوئے جنم دیا، اُس کے جملہ حقوق سے منہ موڑ لیا۔
مرد عورت کے بغیر ہمیشہ ادھورا رہتا ہے اور عورت مرد کے بغیر زندہ کیسے رہ سکتی ہے۔ آج یا کل میں دوسری شادی کر لوں گا، تم بھی کسی مرد سے اپنا رشتہ اُستوار کر لو گی، زندگی کا پہیہ چل پڑے گا، خواب اور خواہشوں کے رین بسیرے میں ننھے ننھے شگوفے پھوٹیں گے اور کلیاں بھی چٹکیں گی۔ اس عالمِ ممکنات میں سب کچھ ممکن ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک تنہا بچی جس کے والدین نے اسے اپنے حقیقی بہن بھائیوں سے محروم کر دیا ہو، وہ کیسے اپنے سوتیلے بہن بھائیوں سے سگوں جیسا رشتہ اُستوار کر سکتی ہے۔
باپ مر جائے تو اُولاد کو صبر آ جاتا ہے کہ دین و دُنیا کے اُصول و ضوابط اس کی موت کا جواز دے کر اُولاد کو مطمئن کر دیتے ہیں، ایک زندہ، ہٹا کٹا، چلتا پھرتا، دندناتا ہوا باپ اگر حیات ہے تو اسے شعوری طور پر بیٹی مرا ہوا کیسے تسلیم کر سکتی ہے، خودکشی کا یہ عمل حقیقی موت سے زیادہ تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم نے جُدا ہونا تھا تو سلیقے، قرینے اور احترام ِ انسانیت کے اعلیٰ طریق سے جُدا ہوتے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے جان بوجھ کر باہم اتنی دیواریں حائل کی ہیں کہ انھیں دُنیا کے طاقتور ترین ہتھیار سے منہدم کرتے کرتے عمر بِیت جائے گی۔ جون ایلیا نے اپنی بیگم سے یہی گلہ کیا تھا:
نیا اِک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دُشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا، اِخلاص، قربانی، محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن کہہ نہیں سکتا، یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ آخری خط کبھی ختم نہ ہو گا کہ باہم محبت کرنے والے ایک دوسرے ٹوٹ کر نفرت کر لینے کے باوجود محبت ِ گزشتہ کے جذبات کو دل محلے سے دیس نکالا دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یہ کیسی محبت ہے کہ بہانے بہانے سے خط لکھنے پر مجبور کرتی ہے، اعتراف کرنے پر اُکساتی ہے اور سب کچھ تیاگ کر، بُھلا کر پھر سے ایک بار ایک ہو جانے کی آرزو کے خواب دکھاتی ہے۔ کاش! یہ ممکن ہوتا۔


