بوڑھا صوفہ
کوئی چھتیس سال پہلے بڑی قیمت بھر کے خریدا گیا۔ اس وقت دکان دار کو اس کا مول نہیں آتا تھا اور صوفے کا نخرا اللہ معاف کرے، بس یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ ”پتا نہیں کیوں اللہ نے اسے غرور میں دھرا نہیں“ ؟ لکڑ خالص شیشم اور وہ بھی کالی سیاہ، جا بجا کَندہ کاری کے فنکارانہ جوہر۔
کُرسی کے پائے کسی ایسے ماہر خرادیے کی ایجاد جس کو شاید اللہ میاں نے پیدا ہی خراد گھڑنے کے لیے کیا تھا، آگے پیچھے لکڑی کے تانے بانے لمبائی، چوڑائی، گولائی، رتی ماشوں کے فرق بِناں۔
گدیوں کی تو بات نہ کریں، اسیں کہ جو بیٹھے دھنس جائے، اُٹھنے کو من نہ چاہے۔ کپڑا، کیا نرم و ملائم، بس کُچھ نہ پوچھیں ایک دن کا بِلی کا بچہ بھی چاہے کہ ”اگر میری کھال اُسی کپڑے کی ہوتی تو کہیں بہتر ہوتا“ ۔ پالش تو بس، کسی حلال خور شوقین مزدور نے ہاتھی دانت کی ملائمت کو چاروں شانے چِت۔
دونوں بازوں پر انگشتِ شہادت برابر موٹی تین تین عُود کی کِلکیں، ہر وقت خوش بُو کے فوارے چھوڑتیں رہتیں۔ موسم جو بھی عُودی کِلکوں نے بیٹھک میں عطر کے چھڑکاؤ کی ضرورت محسوس نہ ہونے دی۔
بیس سال بڑی ٹھاٹھ کے ساتھ بیٹھک کی ماسٹر وال کے ساتھ اپنے دونوں بازوں میں قد آور گملوں کو سمیٹے ٹِک کے پڑا رہا اور آنے والے کو اپنی معطر بُودوباش سے اپنی طرف کھینچتا رہا۔
پھر زمانہ بدلہ، بدلنا ہی ہوتا ہے، گھر میں نئے نئے مکین اور نئے نئے صوفے آنے لگے۔ عُودی کِلکوں والے کو اُٹھوا کے برآمدے میں کر دیا گیا۔
صوفہ آنے والے دِنوں کی بے رحمی سے واقف نہیں تھا۔ اُس نے اپنی تنزلی یہ کہہ کے قبول کر لی ”کوئی بات نہیں فرنٹ پر آ گیا ہوں، اچھا ہو گیا ہے، باہر آکسیجن بھری ہوا مِلا کرے گی“ ۔
صوفہ اب ہراُس آنے والے کی خدمت میں لگ گیا جو بیٹھک میں بٹھانے کے قابل نہ ہوتا۔ دس سال برآمدے میں خدمات سرانجام دینے کے بعد اُس گھر میں اختیار اُن کو مِل گیا جو لکڑی اور لکڑی کے کاری گروں کو داد دینے والوں کے بجائے پلاسٹک اور مشینی چیزوں سے پیار کرنے والے تھے۔
صوفے کو برآمدے سے اٹھوا کر ملازموں والے کمرے میں رکھوا دیا۔ صوفے نے اب معاملے کو سیریس لینا شروع کر دیا، وہ ہر وقت سوچتا کہ کسی وقت مجھے گھر سے باہر نکال دیا جائے گا۔
چھے سال ملازموں کے کمرے میں اِس خدشے کے ساتھ گزار دیے، ہر آنے والے کو دیکھ کر ڈر جاتا۔
”ہو سکتا ہے آنے والا یہ حُکم دینے آ رہا ہو کہ کہ اِس کو گلی میں رکھ دو“ ۔
چھے سال میں اس کی گدیاں گرد سے اَٹ گئیں، سارے گھر کی دھول نے صوفے کی کُندہ کاری کو اپنا گھر بنا لیا، پُشت پر اور نیچے چاروں پایوں کے درمیاں کوببویوں (سپائیڈرز) کے جالوں کے تانوں بانوں سے ایک مچھردانی سی بن گئی۔
مالکوں کی اِتنی بے رُخی کے باوجود بھی دانت ٹوٹ جانے کے خوف سے دیمک نے قریب آنے کی جرات نہ کی۔
آخر وہ دن آ گیا جِس سے صوفہ چھ سال سے ڈر رہا تھا، گھر والوں نے اُٹھایا اور گلی کی طرف لے کر چل دیے، جب گلی کی طرف جا رہے تھے تو صوفے سے مدہم سی آواز آئی ”ایک دفعہ جھاڑ کر تو دیکھو، وہی ہوں، اب بھی ویسا ہی“ ۔
مالک نے بے دھیانی میں بس اِتنا کہا ”اب تمہیں کون جھاڑتا پھرے“ ؟
اِتنے میں گلی آ گئی۔


