ایک ڈراؤنا خواب


ہم سب گھر والے رات کے وقت اپنے پرانے مکان کی تیسری منزل والی چھت پر موجود تھے۔ ہمارے ساتھ والے گھر میں شادی کی کوئی تقریب ہو رہی تھی۔ ہم اپنی چھت کی دیوار سے لگ کر نیچے ہمسایوں کے پر رونق پروگرام میں شریک تھے۔ چچا کی فیملی کو ملا کر ہم کوئی دس افراد تھے۔ ہم سب خوش تھے، ہم سب سرشار تھے۔ ہمارے ہمسایوں کا گھر ہم سے ایک منزل نیچے تھا۔ ان کی چھت تا حد نظر مہمانوں سے بھری ہوئی تھی۔ مجھے اس سے غرض نہیں تھی کہ وہاں حقیقتاً کیا ہو رہا تھا۔ میں تو بس اس مجمع سے، اس روشنی سے اور اس ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

کسی بڑے نے ہمیں ٹوکا کہ چھت کی دیواریں کمزور ہیں، ہم ان پر زیادہ زور نہ ڈالیں۔ ہم فوراً رک گئے۔ ہمارے اور ہمارے ہمسایوں کے گھروں کے درمیان ایک بند گلی تھی جہاں کافی گھروں کا پچھلا دروازہ کھلتا تھا۔ یہ سب کی مشترکہ جگہ تھی جو مختلف کاموں کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اس وقت وہ اندھیرے میں مکمل طور پر ڈوبی ہوئی تھی۔ ہمسایوں کی چھت پر چندھیا دینے والی روشنی تھی۔ ہماری چھت کے بھی ایک کونے میں ایک بلب لگا ہوا تھا۔

ایسے میں بند گلی ایک تاریک زنداں معلوم ہوتی تھی۔ جس میں سیاہی کا نادیدہ عفریت مقید تھا۔ جو چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا۔ اور اونچی دیواروں کی وجہ سے اوپر آ نہیں سکتا تھا۔ لیکن ہمیں اپنے بڑوں کی بات بہت مناسب معلوم ہوئی۔ دیواروں کو با آسانی ہلتا ہوا محسوس کیا جا سکتا تھا۔ گرد کے منور ذرے دیواروں سے جھڑ کے رات کے آسمان پر ستاروں کی طرح معلوم ہوتے تھے۔ مبادا ہم سب ہنستے، مسکراتے ظلمت کے اس پاتال میں جا گریں۔

کسی بڑے نے ہمیں نیچے کچن سے کچھ لانے کا کہا۔ چھوٹا سا کوئی کام ہو گا۔ لیکن اس چھت سے دو منزلیں نیچے عین اسی جگہ پر واقع کچن میں اس وقت ہم میں سے کوئی اکیلا جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ چھت اور کچن کے درمیان میں پورا گھر موجود تھا۔ تاریک، تنہا اور خاموش گھر! اور ہمیں اس سے گزر کے جانا تھا۔ میں، میری بہن اور ایک کزن نیچے جانے کے لیے تیار ہو گئے۔

ظاہر ہے ہم پر جوش تھے، اٹکھیلیاں کرتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔ وہاں چھت کو روشنی فراہم کرنے والا بلب لگا ہوا تھا۔ چھت کے دہانے پر پہنچ کر جب ہم نے سیڑھیوں سے دیکھا تو روشنی نیچے دوسری منزل تک پھیلی ہوئی تھی۔ ہم اسی پھرتی سے سیڑھیوں میں داخل ہوئے۔ بلب کے نیچے سے گزرتے ہوئے دو تین پیڑھیاں ہی اترے تھے کہ ہمارے وجود سے بہت بڑے ہمارے سائے برق رفتاری سے سیڑھیوں کے نیچے تک پہنچ گئے۔ گویا وہ بھی ہمسایوں کی شادی میں برابر کے شریک تھے۔ اور انہیں ہم سے زیادہ اس کام کی جلدی تھی۔

کاش ہمارے سائے ہمارا کام سر انجام دے سکتے! تب ہم سایوں کو ہی بول دیتے کہ جاؤ نیچے کچن سے یہ کام کر آؤ۔ اور ہم خود ہمسایوں کی شادی میں مگن رہتے۔ اور اس کا ایک لمحہ بھی ہم سے نہ چوک پاتا!

ہم دوسری منزل والی چھت سے گزر رہے تھے۔ ہمارے بائیں جانب گھر کا سب سے بڑا کمرہ تھا جس کی چھت پر سب گھر والے کھڑے تھے۔ دائیں جانب چھوٹا کمرہ تھا جس کی چھت پر جانے کے لیے لکڑی کی سیڑھی استعمال ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ سیڑھی کھوکھلی ہو گئی تھی۔ ہم اس پر چڑھتے ہوئے بہت ڈرتے تھے۔ دوسری منزل کی چھت پر گپ اندھیرا تھا۔ یہ تو ہم ان راستوں سے آشنا تھے جو اندھوں کی طرح دیواروں پر ہاتھ پھیرتے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہے تھے۔

ساتھ والے کمروں کی بھی روشنیاں گل تھیں۔ وہ ہمارے ہوتے ہوئے بھی اجنبی بنے ہوئے تھے۔ وہاں سے ہم ایک ڈیوڑھی میں داخل ہوئے جو آگے جا کر ایک غسل خانے پر ختم ہوتی تھی۔ وہیں ایک سیڑھی بل کھاتے ہوئے نیچے صحن تک آتی تھی۔

صحن میں آ کر ہماری بینائی بحال ہو گئی۔ صحن میں ٹیوب لائٹ جل رہی تھی۔ ہم صحن کا فاصلہ طے کرتے ہوئے کچن تک پہنچ گئے۔ کچن بھی روشنیوں سے منور تھا۔ کچن کے ساتھ ایک ڈیوڑھی تھی۔ ڈیوڑھی کا دروازہ بند گلی میں کھلتا تھا۔ جس کے آگے پھر ان ہمسایوں کا گھر تھا جن کے ابھی شادی کی تقریب چل رہی تھا۔ ہم کچن کے دروازے تک پہنچ گئے۔

کچن کے اندر دیکھ کر ہم مبہوت ہو کر رہ گئے۔ سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص ڈولی کے ساتھ کھڑا شیشے میں اپنا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ شیشے کے چھوٹے سائز کے باوجود اس کا چہرہ چھپا ہوا تھا۔ لیکن ہمارے آنے سے مخل ہو کر اس نے چہرے کے سامنے سے ذرا سا شیشہ ہٹایا تو اس کے کالے چشمے کا کچھ حصہ نظر آ گیا۔

ہم بھول گئے کہ ہم وہاں کس مقصد سے آئے تھے۔ ہم واپس سیڑھیوں کی طرف بھاگے۔ سب سے آگے میری کزن تھی۔ وہ سیڑھیوں کے دروازے پر رک کر پیچھے ہماری طرف دیکھنے لگی۔ میں سیڑھیوں سے تھوڑے سے فاصلے پر تھا۔ میں نے بھی مڑ کر پیچھے دیکھا۔ میری بہن صحن کے وسط میں بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ وہ روتی ہوئی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ گویا وہ خطرے سے بھاگنے کی بجائے خطرے سے الجھ رہی تھی۔ میں اور میری کزن اسے بازؤں کے اشارے اور زبان سے جلدی جلدی آنے کا بول رہے تھے۔

اللہ اللہ کر کے ہم دوسری منزل کی سیڑھیوں تک پہنچ گئے۔ اوپر بلب روشن تھا۔ ہم تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ اب سائے سستی دکھا رہے تھے۔ ہم اوپر پہنچ گئے۔ وہ دور کہیں نیچے رہ گئے۔ ہم نے گھر والوں کے پاس پہنچ کر سکھ کا سانس لیا۔ کسی نے پوچھا نہیں کہ ہم نے مطلوبہ کام کیا یا نہیں۔ ہم نے بھی نہیں بتایا کہ ہمارے ساتھ نیچے کیا ماجرا ہوا۔

دوبارہ ہم دیواروں سے لگ کر کھڑے ہو گئے۔ دوبارہ ہم ہمسایوں کی خوشیوں میں شریک ہو گئے۔ مگر اب یہ سب زبردستی کر رہے تھے۔ ہماری آنکھیں ہمسایوں کی تقریب میں شریک تھیں۔ ہمارے ذہن کچن میں موجود اس مخلوق کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ اور ہمارے دل سوالوں، اندیشوں اور وسوسوں سے بھرے ہوئے تھے۔

میں نے اپنی آنکھوں کی دھندلاہٹ کو کم کر کے سامنے کے پروگرام پر توجہ مرکوز کرنا چاہی۔ کیمرے کے لینز کی طرح میں نے ایک چہرے کو فوکس کیا۔ ایک سہرے کے پیچھے چھپا ہوا چہرہ۔ کیا یہ دولہا ہے؟ میرے ذہن میں ابھی یہ سوال پنپ ہی رہا تھا کہ اس شخص نے ذرا سا سہرا اپنے چہرے سے ہٹایا تو اس کے کالے چشمے کا کچھ حصہ نظر آ گیا۔ خوف کی ایک لہر کرنٹ کی مانند میرے تن بدن سے گزر گئی۔ اور میری آنکھ کھل گئی۔

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid