روزنِ زندان، طلعت حسین اور روبینہ اشرف 


میں نے 2012 میں سندھی میڈیا کو خیرآباد کہہ دیا تھا اور بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فارس انٹرٹینمنٹ جوائن کیا تھا۔ اس سے قبل دس سال تک میں نے سندھی میڈیا کے لئے ڈرامہ اور ٹی وی شوز کے رائٹر ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ مگر اردو میڈیا میں میرے وہ دس سال کسی کھاتے میں نہیں گنے جاتے تھے۔ اس لئے مجھے زیرو سے شروعات کرنی تھی۔

فارس انٹرٹینمنٹ اور مہروز کریم فلمز کے اشتراک سے ہم ٹی وی کے لئے سیریل بن رہی تھی ”رابیا رانیا“ جو ”ہلکی سے خلش“ کے نام سے ہم ٹی وی پہ آن ائر ہوئی تھی۔ رابیا رانیا اس کا ورکنگ ٹائیٹل تھا۔ ہلکی سی خلش کی رائٹر معروف شاعرہ اور ادیبہ عطیہ داؤد صاحبہ تھی۔ ڈائریکٹر عدنان وائی قریشی صاحب تھے۔ کاسٹ میں جاوید شیخ صاحب، جاوید صاحب کے بیٹے شہزاد شیخ، آغا علی، ماورا حسین، مہرین راحیل، لبنیٰ اسلم، عدنان جیلانی اور روبینہ اشرف تھے۔

روبینہ اشرف صاحبہ کو بچپن میں دیکھا تھا پی ٹی وی پہ روزنِ زندان میں، اس میں وہ مظلوم عورت کا کردار نبھاتی تھی اور طلعت حسین صاحب وکیل ہوتے تھے اس سیریز میں کورٹ کہانیاں دکھائی جاتی تھی۔ یہ سیریز معروف ادیب، ڈرامہ لیکھک حمید کشمیری صاحب نے لکھی تھی۔ ڈائریکٹر شاہد اقبال پاشا صاحب تھے۔ طلعت حسین اور روبینہ اشرف کی ایکٹنگ کمال تھی۔ وہ اسکرین پہ کرداروں کو زندگی عطا کر دیتے تھے۔ روبینہ اشرف کلاسک بیوٹی لگتی تھی۔ سمیتا پاٹیل کی طرح مفلسانہ سا حسن، ساحلوں کی اداس شاموں جیسا، سمیٹا پاٹیل کی خوبصورتی بھی دیکھنے والے کو اداسی کی دھند میں لپیٹ لیتی تھی۔ ان دنوں روبینہ اشرف کو دیکھ کر بھی کچھ ویسا ہی احساس ہوتا تھا۔

یہ وہ دن تھے جب ہمارے گاؤں چوہڑ جمالی میں ٹی وی عام نہیں ہوا تھا۔ اکثر ڈراموں کے شائقین فیصل ہوٹل پہ آ کے ڈرامے دیکھتے تھے۔ شام کو چھ بج کر دس منٹ پر سندھی ڈرامہ آتا تھا اور رات کو آٹھ بج کر دس منٹ پہ اردو ڈرامہ، دونوں اوقات میں ہوٹل میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی۔ مناسب نشست پانے کے لئے وقت سے آدھا گھنٹا پہلے آنا پڑتا تھا۔ اثر رسوخ والے لوگوں کے لئے ہوٹل ملازمین پہلے سے کرسیاں محفوظ کر لیتے تھے۔ اپنے کندھے پہ رکھا رومال کندھے سے اتار کر کرسیوں پہ بچھا دیتے تھے کہ یہ کرسیاں فلاں صاحب کے لئے بک ہیں۔ کچھ لوگ پہلے آ کر دیر سے آنے والے اپنے یار دوستوں کے لئے بھی کرسیاں بک کر دیتے۔ جیسا گاؤں دیہات میں چلنے والی بسوں میں ہوتا ہے۔ گاؤں کا کوئی بندہ بس میں پہلے چڑھا تو برابر والی سیٹ پہ اپنا رومال بچھا دیتا ہے اس امید پہ کہ گاؤں کا کوئی شناسا آدمی چڑھا تو اسے بٹھا دے گا گپ شپ میں سفر اچھا گزرے گا۔

ہوٹل پہ بیٹھ کر ڈرامہ دیکھنے والوں کے لئے چائے پینا لازم تھا بغیر چائے پیئے کوئی ہوٹل میں بیٹھ نہیں سکتا تھا۔ کیوں کہ ہوٹل مالک کا کاروبار چائے کی بکری سے چلتا تھا۔

طالب علمی کے دن تھے آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے شاید، جیب میں اکثر سناٹا چھایا رہتا تھا۔

میں اور میرے بچپن کے دوست سندھی ڈرامہ اور شارٹ اسٹوری رائٹر ممتاز ساقی ہم دونوں سر توڑ کوششوں کے بعد بھی جا کے ایک چائے کے کپ کے پیسے اکٹھے کر پاتے تھے اور ڈرامہ ہم دونوں نے دیکھنا ہوتا تھا۔ اس لئے ہم روزانہ ہوٹل میں ایک ڈرامہ کرتے تھے جب ہوٹل کا بیرا چائے لے کر آتا تھا تو ایک دن ساقی اور ایک دن میں منہ بنا کے کہتے نہیں آج میرا چائے پینے کا موڈ نہیں ہے۔ ہمارے موڈ کی بات سن کر بیرے کا موڈ خراب ہو جاتا، مگر وہ کسی طرح ہمیں برداشت کر لیتا تھا پھر ہم دونوں آدھا آدھا چائے بیرے سے چھپ کر پیتے تھے کہ کہیں وہ دیکھ نہ لے کہ جس کا موڈ نہیں تھا وہ بھی چائے کے آدھے پہ موڈ بنا رہا ہے۔

سادھے اینٹینا کا زمانہ تھا لوگ ابھی ڈش اینٹینا یا سیٹلائٹ چینل کے تصور سے نا آشنا تھے۔ سادھے اینٹینا پہ اکثر سگنلز ٹھیک نہیں ملتے تھے بار بار چینل خراب ہو جاتا تھا۔ چیخ پکار مچ جاتی ایک ہوٹل ملازم چھت پر بھاگتا ایک بندہ باہر کھڑا ہو کر اس کو ہدایتیں دیتا کہ اینٹینا ادھر گھما نہیں ادھر گھما، ابھی ٹی وی میں مچھر آ رہے ہیں۔ ہاں رک رک ابھی ٹھیک ہو گیا یہاں باندھ دے، بعض اوقات تو ایک بندے کو اینٹینا ٹھیک کرنے کے لئے چھت پر ہی رکنا پڑتا تھا۔

میں کے ٹی این کے اوائلی دنوں میں ڈائریکشن میں میرے استاد نوید ذکی صاحب کے ساتھ سندھی ڈرامہ سیریل منزل اسسٹ کر رہا تھا۔ منزل کی شوٹ ہم گلستان جوہر کے ایک بنگلے میں کر رہے تھے۔ بنگلے کے اوپر والے حصے میں ہم منزل شوٹ کرتے تھے اور نیچے والے حصے میں ایک اردو ڈرامے کے لئے ادیب کے ڈرائنگ روم کا سیٹ لگا ہوا تھا جس میں ایک بک شیلف رکھا تھا۔ شیلف میں بہت ساری کتابیں تھی۔ کتابیں اور موویز میری کمزوری ہیں میں جہاں بھی دیکھتا ہوں نظر بھر کے دیکھتا ہوں۔

ڈرامے کے سیٹ کی لائبریری کے شیلف سے میں نے قرۃ العین حیدر صاحبہ کا ناول آگ کا دریا اٹھایا اور پنے پلٹنے لگا تو میرے سماعتوں سے ایک مانوس سی بھاری آواز ٹکرائی،
نوجوان کتابوں کا شغف رکھتے ہو۔

میں نے پلٹ کے دیکھا میرے پیچھے طلعت حسین صاحب کھڑے تھے میری طلعت صاحب سے کوئی شناسائی نہیں تھی اور طلعت صاحب کو کون نہیں جانتا وہ اسٹار تھے۔

میں آگے بڑا جھک کے ان سے ملا اور کہا۔
جی سر۔

آگ کا دریا پڑھی ہے؟ طلعت صاحب نے میرے ہاتھوں میں کتاب دیکھ کر دریافت کیا۔

میں نے کتاب واپس شیلف پہ رکھتے کہا۔
جی سر نا سمجھی کے دنوں میں پڑی تھی۔

طلعت صاحب نے کہا۔
تو آپ سمجھتے ہیں اب آپ سمجھدار بن گئے ہیں۔

میں نے جواب دیا۔
نہیں سر بس کہانی اور الفاظ کی تھوڑی تمیز آ گئے ہے۔

طلعت صاحب نے کہا۔
تو تمیز کے زمانے میں آگ کا دریا پڑھنا چاہو گے۔

میں نے کہا۔
جی سر۔

طلعت صاحب نے شیلف سے کتاب اٹھائی اور مجھے دیتے ہوئے کہا۔
یہ میری طرف سے گفٹ ہے۔

وہ آگ کا دریا آج بھی میرے پاس ہے۔

اتفاق ہے کہ مجھے کبھی طلعت صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ نہیں ملا، انہیں کبھی یاد بھی نہیں رہا ہو گا کہ کسی کو انہوں نے آگ کا دریا گفٹ کیا تھا۔

ڈرامہ سیریل ہلکی سی خلش کے سیٹ پہ روبینہ اشرف صاحبہ کا پہلا دن تھا میر محمود احمد ہالیپوٹا نے مجھے کہا۔

عبد صاحب روبینہ آپا کو پک کرنے آپ جائیں۔

میر صاحب تخلیقی ذہن کے مالک با صلاحیت انسان ہیں آج کل وہ ٹی وی کمرشلز اور کوک اسٹوڈیو وغیرہ کرتے ہیں اور ڈرامے کو سر کھپانے والا کام سمجھتے ہیں۔ ہلکی سی خلش کے دنوں میرے ساتھ سیریل کے اسسٹنٹ تھے۔

میں نے کہا۔
مجھے خوشی ہوگی میں بچپن سے ان کا فین ہوں، ان کے کام سے بہت متاثر ہوں، انہوں نے بہت عمدہ کیریکٹر نبھائے ہیں۔ یہ عزت افزائی ان کا حق ہے۔

عموماً آرٹسٹ کو پک کرنے پروڈکشن کا ڈرائیور جاتا ہے پروڈکشن یا ڈائریکٹر ٹیم سے کوئی بندہ نہیں جاتا،

میں پروڈکشن ڈرائیور عارف بھائی کے ساتھ ڈیفینس میں روبینہ اشرف صاحبہ کے گھر کے باہر پہنچا تو عارف بھائی نے کار گیٹ کے بالکل سامنے لگا دی تھی۔ میں نے عارف بھائی سے کہا کہ۔

گاڑی تھوڑا سائیڈ کر کے لگائیں گیٹ کے سامنے گاڑی لگانا مناسب بات نہیں۔

عارف بھائی نے گیٹ سے چھ فٹ دور دیوار کے ساتھ گاڑی پارک کردی۔ میں کار سے اترا تو مجھے گھر سے ایک عجیب قسم کا شور سنائی دیا جیسے کوئی کسی پہ چلا رہا ہو۔

میں نے موبائل فون سے روبینہ اشرف صاحبہ کو کال کی انہوں نے فون ریسیو کیا میں نے کہا۔

اسلام علیکم میں عبد کھٹی عرض کر رہا ہوں سیریل ہلکی سی خلش کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر، پروڈکشن کی گاڑی آپ کے گھر کے باہر کھڑی ہے ہم آپ کو ریسیو کرنے آئے ہیں۔

روبینہ صاحبہ نے بڑے روکھے لہجے میں یا شاید غصے میں کہا۔
آپ کو ڈور بیل نظر نہیں آ رہی۔

میں نے جواب دیا۔
جی نظر آ رہی ہے۔

ڈور بیل بجائیں۔

ٹھک سے انہوں نے فون بند کر دیا میں نے حکم کی بجا آوری کرتے ڈور بیل بجا دی، وہ شدید گرمی کے دن تھے وہاں کوئی سایہ دار درخت بھی نہیں تھا۔ میں اور عارف بھائی دھوپ میں کھڑے رہے، چھ سات منٹ گزر گئے ڈور بیل پہ باہر کوئی نہیں نکلا تو میں نے دوبارہ ڈور بیل بجا دی، کوئی دس منٹ کے بعد ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکی نکلی جو حواس باختہ لگ رہی تھی۔ شاید ملازمہ تھی۔ اس نے دروازے سے منہ باہر نکال کر پوچھا۔

کیا ہے۔

میں نے جواب دیا۔
جی روبینہ صاحبہ کو بتا دیں کہ پروڈکشن کی گاڑی آپ کے لئے باہر کھڑی ہے۔

لڑکی جواب سن کر چلی گئی۔ دس منٹ اور گزر گئے عارف بھائی اور میرا گرمی سے برا حال ہو گیا تھا۔ ہم دونوں جا کے گاڑی میں بیٹھ گئے۔ چھ سات منٹ مزید گزرے مگر روبینہ صاحبہ نہیں آئی، گھر کے اندر سے شور بدستور آ رہا تھا۔ میں نے پھر ایک بار ڈور بیل بجائی، دس منٹ کے بعد کسی کے آنے کی آہٹ ہوئی اور دروازہ کھلا روبینہ اشرف صاحبہ مسٹرڈ کلر کی پینٹ اور لائنز والی ڈریس شرٹ میں ڈائی کیے ہوئے کھلے بالوں سے سن گلاسز لگائے باہر آئیں ان کے پیچھے وہ حواس باختہ لڑکی تھی جو ان کا بیگ گھسیٹتی آ رہی تھی۔ میں بڑی عقیدت سے آگے بڑھا اور سلام کیا، روبینہ صاحبہ نے سلام کا جواب دیے بنا سخت لہجے میں پوچھا گاڑی کہاں ہے۔

میں نے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے جواب دیا جو گیٹ سے چھ فٹ دور دیوار کے ساتھ کھڑی تھی ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی۔

جی یہ کھڑی ہے۔
تو کیا میں وہاں تک چل کے جاؤں گی۔
انہوں نے غالباً غصے سے کہا، میں نے ڈرائیور سے کہا عارف بھائی گاڑی پیچھے لے آئیں وہ گاڑی پیچھے لے آیا روبینہ صاحبہ پچھلی سیٹ پہ بیٹھ گئی۔ عارف بھائی نے ان کا بیگ لڑکی سے لے کے گاڑی کی ڈگی میں رکھا، ہم لوکیشن کی طرف روانہ ہوئے، کوئی دو منٹ کے بعد روبینہ صاحبہ نے تلخ لہجے میں کہا۔

گاڑی کا اے سی کیوں نہیں چل رہا۔

عارف بھائی نے جواب دیا۔
میڈم چل رہا ہے۔

روبینہ صاحبہ نے اسی سخت لہجے میں کہا۔
اتنا مرا مرا سا یہ خبر ہوتی تو میں اپنی گاڑی میں آجاتی۔

اس کے بعد گاڑی میں لوکیشن تک مکمل خاموشی رہی کوئی کچھ نہیں بولا۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments