مقامی دانش اور شہناز شورو کا افسانوی مجموعہ ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“


شہناز شورو ہماری دھرتی کا روشن چہرہ ہے۔ وہ دھرتی جو ماں ہے، دیوی ہے، پالنہار ہے، جو اپنے ذہن رسا کی کھیتی سے نئی نسل کو سینچتی ہے، پالتی ہے، سوچنے اور سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ شہناز شورو سچی اور سُچی تخلیق کا ر ہیں۔ ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“ ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ہے جو مثال پبلی کیشنز فیصل آباد سے شائع ہوا ہے۔ اس سے قبل ان کے دو افسانوی مجموعے ”لوگ، لفظ اور اَنا“ اور ”زوال دُکھ“ شائع ہو چکے ہیں۔ انہی دکھوں کا تسلسل ہمیں ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“ میں دکھائی دیتا ہے۔

ان کا ہر افسانہ ایک آہ ہے، چیخ ہے، ایک خون رنگ آنسو ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں سبالٹرن (Subaltern) کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔ ان طاقت گزیدہ لوگوں کی صدا بنتی ہے جن کی آوازیں دبا دی جاتی ہیں جنہیں بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ”شہرِ بیاباں“ کے احمد علی کی آواز بنتی ہے جو مستقبل کے سہانے خواب لے کر اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ شہر منتقل ہو جاتا ہے، لیکن اس کی پھول سی بچی ایس ایچ او کی درندگی کا شکار ہو جاتی ہے۔

” احمد علی نے اپنا سر دیوار میں دے مارا۔ دونوں بچیاں دہشت سے بستر میں دبکی منہ چھپا کر سسکتی رہیں۔ یہ کیسے ہو گیا؟ کیوں ہوا؟ سوال بہت سارے تھے آنسوؤں میں ڈوبے۔ اور سسکیوں میں لتھڑے۔ مگر جواب کوئی نہ تھا۔“ (ص 81 )

شہناز شورو صرف اپنے دھرتی واسیوں ہی کے دکھ چن چن کر انہیں مرہم آشنا نہیں کرتی بلکہ ظلم، استحصال اور درندگی جہاں بھی نظر آتی ہے ان کے دل کو بے چین کر دیتی ہیں اور یہ کرب تخلیق میں ڈھل جاتا ہے۔ ان کے افسانوں کا کینوس وسیع ہے۔ وہ کئی تہذیبوں اور ثقافتوں کی شناور ہیں۔ وہ فرانتز فینن کی نیٹو انٹلیکچوئل ہیں جس کی تحریروں سے اس کے وسیب باسیوں کو نوآبادیاتی حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کا علم ہوتا ہے اور وہ ان کے خلاف مزاحمت کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے اپنے افسانے ”کارپوریٹ دنیا“ میں جانسن کے کردار کے ذریعے نام نہاد ترقی یافتہ، انسانی حقوق کے علمبردار اور سرمایہ دار معاشرے کی منہ سے مکھوٹا اتار کر ، اس کلچر کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ یہ طاقتور ممالک کس طرح کمزور ممالک اور دھرتی کے اصل باشندوں کو اپنی نوآبادیات بنا کر نہ صرف ان پر حکومت کرتے ہیں بلکہ تعلیم و تہذیب کے نام پر دھرتی کے بیٹوں کو ان کی زبان، کلچر اور ثقافت سے دور کر دیتے ہیں۔ جانسن کہتا ہے :

” یہ قوتیں مزید طاقتور بننے کی کوشش میں دنیا کے قدیم تہذیبی باشندوں کے ساتھ ہر طرح کا ظلم روا رکھیں گے۔ یہ ہمیں اتنا کچل دیں گی کہ ہم خود بھول جائیں گے ہم کون ہیں یا کیا تھے۔ کینیڈا کا کوئی اسکول ہماری زبان نہیں پڑھاتا۔ ہمارے بچے ہماری زبان بھول رہے ہیں۔ اپنا تشخص کھو رہے ہیں۔ ہمارے بچے اپنے آبا و اجداد، ہمارے ہیروز، ہماری تاریخ اور ان قبضہ گیروں کے ظلم کی کہانیوں سے زیادہ ان جابروں اور وحشیوں کی جھوٹی منافقت بھری کامیابیوں کو رٹ رٹ کر سچ سمجھ رہے ہیں۔“ (ص 120 )

جدید ترقی یافتہ معاشرہ، صارفیت کا کلچر اور سرمایہ دار معاشرے میں انسان کے مسائل ان کے افسانوں کے نمایاں موضوع ہے۔ ان کے افسانوں میں جابجا مارگیج کے نام پر خود کو گروی رکھے ہوئے لوگ نظر آئیں گے۔ رنگ، نور اور روشنیوں کی دنیا میں بھاگتے دوڑتے انسان، تنہا، بیگانہ ایک دوسرے سے لاتعلق دولت اکٹھی کرنے کی دھن میں غیر جذباتی اور مصنوعی زندگی گزارتے مشین نما انسان، جو اپنی تنہائی سے تنگ آ کر منشیات میں پناہ لیتے ہیں اور پھر ری ہیبیلیٹیشن سنٹر کے باسی بنتے ہیں۔

یا اپنے شناخت کی جنگ لڑتے جانسن کی طرح خودکشی سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ ”قدرت کے بچے“ ، ”کارپوریٹ دنیا“ ، ری ہیبیلیٹیشن سینٹر ”،“ گمشدہ ”اور“ بہار میں خزاں ”ایسے ہی افسانے ہیں جس میں مغرب کے ترقی یافتہ معاشرے کے ساتھ قدم ملا کے چلنے کی چاہ میں ہانپتے ہوئے انسان نظر آئیں گے۔ شہناز شورو مغرب کی ترقی، خاندانی نظام اور تہذیب و تمدن سے مرعوب نظر نہیں آتیں، بلکہ ان معاشروں کے بارے میں ان کا کہنا ہے :

”پہلے ذہن گروی رکھتے ہیں، پھر جسم، پھر روح، پھر کسی کتے کی طرح اپنی دُم پکڑنے کی کوشش میں ساری عمر ایک دائرے میں گھومتے رہتے ہیں۔ نہ دُم پکڑ پاتے ہیں نہ خود کو روک پاتے ہیں۔“ (ص 114 )

شہناز شورو کے افسانوں کے مطابق سماج کے حاشیائی طبقے میں سب سے زیادہ استحصال کا شکار خواتین ہیں، مرد اساس اور نو آبایاتی معاشرے میں خواتین دوہرے استحصال کا شکا ر ہیں۔ اس مظلوم طبقے کی آہیں اور کراہیں ان کے افسانوں کا مرکزی موضوع ہے۔ اس کے محرکات شاید ان کی تعلیم اور تحقیق ہے۔ شہناز شورو نے انگریزی اور اردو ادبیات میں ایم کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی آف ناٹنگھم (برطانیہ ) کے ویمن سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ان کی تحقیق کا موضوع ”غیرت کے نام پر قتل : عورتوں اور مردوں کا مختلف موقف“ ہے جو کتابی شکل میں ”Honour Killing in the 2 nd Decade of 21 st century“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کے افسانے پدرسری سماج میں خواتین کی حالت زار کے عمدہ عکاس ہیں۔ افسانہ ”مرگِ مفاجات“ میں نواب صاحب کے رشتہ طے کرنے کے موقع پر ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”دونوں خاندانوں کا ماننا تھا کہ مذہبی امور، حدِ ادب اور معاشرتی قیود و اخلاقیات کے اسباق سیکھنے کے بعد لڑکیوں میں گائے کے سے اوصاف پیدا ہو جاتے ہیں جو کہ آئندہ زندگی گزارنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔“

پدرسری معاشرے میں ایسی خواتین تیار کی جاتی ہیں جنہیں بولنے کی اجازت نہیں جہاں خاندانی ہونے کا معیار یہ سوچ ہے کہ بیٹی کی رخصتی کا مطلب ہی اسے لحد میں اتارنا ہے۔ شہناز شورو ایسی خواتین کی آواز بنتی ہیں جو ڈری اور سہمی ہوئی ہیں، جو حویلی میں بکری اور مورنی کی طرح ہیں اتنی ہی بے وقعت۔ اور جب وہ ظلم کے خلاف آواز نہیں اُٹھا سکتی تو اپنی جان دے دیتی ہیں۔ بخت سو جانے پر کس طرح بخت آوریں بکھوڑی بن جاتی ہیں افسانہ ”بخت آور“ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

شہناز شورو سوال اٹھاتی ہیں خواتین کی شناخت پر ، ان کی سماجی کم تر حیثیت پر ، انہیں فقط جسم سمجھنے پر ، زیادتی کا شکار ہونے پر ذلت کا نشانہ بننے والی احمد علی کی بیٹی خودکشی کر کے بہت سے سوال چھوڑ جاتی ہے۔ ان کے افسانے اس معاشرے کے خلاف احتجاج ہیں، کہیں کہیں یہ احتجاج مدھم ہے اور کہیں بلند آہنگ۔ ”من کی ملکہ“ ایک ایسا ہی شاہکار اور کلاسیک افسانہ ہے جس میں مزاحمت کا رنگ باقی تمام رنگوں پر حاوی ہے۔ وہ ملکہ جیسا باغی کردار تراشتی ہیں جو بے باک ہے، شوخ و چنچل ہے، منہ پھٹ ہے، افسانے کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”اُف کیا آزادی تھی۔ گندے رہنے کی آزادی، ایک گھر سے دوسرے گھر بلا روک ٹوک جانے کی آزادی، ہر چیز چرنے کی آزادی، ہر جگہ سے تحفہ وصولنے کی آزادی۔ چھوٹے کا لحاظ نہ بڑے کا ۔ سب بے حد ناپسند دیدہ تھا“ (ص 167 )

وہ ایک شخص کی خاطر خود کو آگ لگا لیتی ہے اور بعد ازاں اس سے شادی کر کے اپنی زندگی کو مزید برباد کر لیتی ہے۔ ایسی خواتین کے ساتھ مرد اور معاشرے کا سلوک بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ مرد کی خود غرضی کو اس افسانے میں عمدگی سے موضوع بنایا گیا، اور ایک باغی عورت نے کس طرح اپنی زندگی جیسی قیمتی شے کو ٹشو پیپر کی ضائع کر دیا یہ احتجاج تھا یا بغاوت یہ فیصلہ قارئین ہی کر سکتے ہیں۔

”جفا“ ایک اور افسانہ ہے جو ہمارے معاشرے کی ازدواجی زندگی اور اس میں عورت کی حیثیت کو موضوع بناتا ہے۔ اس میں بظاہر خوش باش نظر آنے والے میاں بیوی انیتا اور کبیر کے گرد گھومتی ہے۔ انیتا جسے اپنے شوہر سے بہت محبت ہوتی ہے، رفاقت کے پچیس برس کے بعد جب اسے کبیر کی بے وفائی کا علم ہوتا ہے تو وہ بہت آزردہ ہوتی ہے، کبیر کا اعتراف اور معافی اسے مزید دکھی کر دیتے ہیں۔ کیونکہ معافی کے لیے وہ انہی پدرسری کہاوتوں، بودی اور کمزور باتوں کا سہارا لیتا ہے۔ پرائی عورت اپنا بچہ، مرد بے لگام گھوڑا، چھوٹی موٹی خطائیں تو معاف ہونی چاہیے، وہ لمحاتی تعلقات تم مستقل محبت، وغیرہ وغیرہ

”وہ مسکرایا۔ ایسی مسکراہٹ جس میں احساس تفاخر تھا، قتل کر کے بری ہو جانے کا فاتحانہ احساس تھا۔ کچھ کر سکتی ہو تو کر لو ڈنکہ تھا۔ چھوڑ دو یا سہ لو کا نوشتہ تھا۔ ہوتا آیا ہے، ہوتا ہے، ہوتا رہے گا کا خاموش مگر سلگا تا ہوا اعلان تھا۔“ (ص 214 )

یہ الفاظ ہمارے سماج میں خواتین کے بے بسی اور حالت زار کے عمدہ عکاس ہیں لیکن شہناز شورو کے تمام خواتین کردار گھٹ گھٹ کر زندگی ختم نہیں کرتی کچھ ببانگ دہل مزاحمت بھی کرتی ہیں، انتقام بھی لیتی ہیں، ملکہ رانی بھی انہی میں سے ایک ہے اور انیتا بھی۔ وہ اپنے شوہر سے انتقام لیتی ہے اور کہتی ہے مجھے بھی اعتراف کرنا ہے کہ یہ غلطیاں مجھ سے بھی ہوئی اور یہ کمزور لمحے میری زندگی میں بھی آئے، تمہاری ایمانداری اور سچائی نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں بھی اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لوں۔ اب تڑپنے کی باری کبیر کی تھی۔ افسانے کا اختتام ملاحظہ ہو:

” اب جو دن آئیں گے وہ ٹرین کی پٹریوں جیسے ہوں گے جو ساتھ ساتھ چلتی ہیں پر ملتی نہیں۔ سنا ہے پٹڑیاں اُکھڑ جائیں تو بہت نقصان ہوتا ہے، قیمتی جانیں جاتی ہیں۔“ (ص 216 )

”تیسری بیٹی“ بھی ایک ایسا افسانہ ہے جس میں تقسیم کے فسادات سے لے کر ملک میں لسانی فسادات تک، دشمن سے انتقام کس طرح ان کی خواتین کی عزتوں کی دھجیاں اڑا کر لیا گیا، اس درندگی اور سفاکیت کی کہانی ہے۔ عورت ہمیشہ ہی آسان ٹارگٹ رہی ہے۔ تقسیم کے فسادات میں درندگی کا شکار ہونے والے سردار جی کی بیٹی آج سندھ میں ہونے والے لسانی فسادات میں مہاجروں کی آبادی میں سندھی لڑکی کی عزت کی رکھوالی بنی۔

شہناز شورو فنی اعتبار سے بھی ایک پختہ افسانہ نگار ہیں۔ انہیں کسی بھی واقعہ اور سانحہ کو کہانی کرنے کا ہنر بخوبی آتا ہے۔ ان کئی افسانوں میں وہ خود بحیثیت راوی موجود ہوتی ہیں۔ ان کے افسانوں کو ادھورا چھوڑنا قاری کے لیے ممکن نہیں ہوتا وہ جس روانی اور تجسس کی کہانی کی فضا ترتیب دیتی ہیں وہ لائق تحسین ہے۔ ان کی افسانوں کی دوسری بڑی خوبی ان کا ڈکشن ہے۔ وہ سندھی، پنجابی، اردو اور انگریزی زبان کا عمدہ اور برمحل استعمال کرتی ہیں۔ ان کے افسانوں کی ایک اور غیر معمولی چیز وہ کاٹ دار جملے ہیں، کچھ جملے ملاحظہ کیجیے :

”ہم جو ہمارے ملک پر قبضہ کرنے والوں کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے پر مجبور ہیں۔“

”ایک رات دائی کے ہاتھ میں اپنی پہلی چیخ کو جبراً روک دیے جانے والے بچے نے احتجاجاً دنیا میں سانس نہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔“

انسان دوست تخلیق کار شہناز شورو اور اُردو قارئین کو افسانوی مجموعہ ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“ کی اشاعت مبارک ہو۔

Facebook Comments HS