طالبان کو رویے بدلنا ہوں گے


پچھلے ماہ افغانستان میں ایک سیلابی کیفیت ہوئی جس کے نتیجے میں بدخشاں، بغلان اور تخار کے صوبوں میں کئی لوگ جانیں گنوا بیٹھے اور بے شمار لوگ زخمی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک زلزلہ آیا تھا تو مغربی افغانستان میں 2,000 افراد جان کھو گئے اور دیگر 150,000 لوگ زخمی ہوئے۔ بے شمار لوگوں کو بنیادی اشیائے صرف کی اشد ضرورت تھی۔ امداد اور بحالی کا کام ناپید ہے کیونکہ افغان معاشرے میں وہ بنیادی عوام دوست ضروری علامات ہی نہیں جو ایک اچھی فلاحی ریاست کی پہچان ہوتی ہیں۔ ناٹو افواج کے دستے جب اگست 2021 میں انخلاٗ کر کے چلے گئے تو طالبان نے ملکی انتظام سنبھال لیا اور اب تک معاملات ان کے قابو میں نہیں کیونکہ میدان جنگ اور حکومتی گرفت میں بہت فرق ہوتا ہے۔

بنیادی اشیائے صرف اور ادویات کی فراہمی حکومت وقت کی ذمہ داری ہیں۔ لاکھوں لوگ خوراک کی کمیابی کا شکار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طالبان کی اس حکومت کو آج تک دنیا میں کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔

لہذا کسی حکومتی ادارے اور عالمی تنظیموں نے کوئی سرمایہ کاری کرنے یا امداد دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ایسی امداد و نصرت ہی وقت کی اشد ضرورت ہے۔ عوام اس سے یکسر محروم ہوچکے ہیں۔ جن ممالک کے ساتھ غیر سرکاری سطح پہ تعلقات ہیں وہ بھی کسی امدادی پروگرام کو اعلان کر کے دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ عالمی برادری ان کو تسلیم کرنے میں اس لئے تامل سے کام لے رہی ہے کہ وہ افغانستان میں 1990 کی دہائی والا ظالمانہ دور حکومت دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے۔

2021 میں کسی کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بچیوں کے سکول بند کر دیے گئے ہیں انہیں گھر سے بھی نکلنے کی اجازت نہیں، خواتین کی ملازمتیں ختم کردی گئی ہیں اور دہشتگرد گروہ سرعام دندناتے پھرتے ہیں ان کی سرعام موجودگی سب سے تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ طالبان کے اندر کئی مکاتب فکر ہیں جو باہم دار و گریبان ہیں اور عالمی برادری کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ بات چیت کس سے کریں، یہی وجہ ہے کہ انہیں کسی نے اب تک تسلیم نہیں کیا۔

ازبکستان اور ترکمانستان نے بھی انسداد دہشتگردی کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا ہے۔ نظریاتی اختلافات کے باوجود ایران کے ساتھ آج کل ان کی خوب گاڑی چھنتی ہے۔ ظاہر ہے یہ تعاون مقامی معاملات اور انتظامی معاملات کے حوالے سے ہے۔ دریائے ہلمند ایران کے لئے انتہائی اہم ہے۔

پاکستانیوں کی برس ہا برس کی میزبانی کو افغانوں نے یکسر بھلا کر آنکھیں ماتھے پہ رکھ لی ہیں۔ تاریخی تناظر میں اس قدر تعلقات نچلے سطح پہ کبھی نہ تھے جو آج ہیں۔ سرحد پہ بارہا سرحدی جھڑپوں میں کافی نقصانات ہوچکے ہیں۔ ماسکو اور بیجنگ بھی با امر مجبوری محض رسمی بات چیت پہ محدود ہیں۔ کیونکہ طالبان نے ایک سپر پاور کو شکست فاش دے کر تاریخ رقم کردی ہے۔ روسی سمجھتے ہیں کہ طالبان ہی داعش کا درست مقابلہ کر سکتے ہیں جبکہ چین کی نظر افغان قدرتی وسائل پہ ہے۔

علاقائی اور عالمی سطح پہ کسی تنظیمی اجلاس اور عالمی تنظیموں مثلاً اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں میں رسائی نہیں ہوئی اس لئے تو انہیں کوئی بیرونی امداد نہیں مل سکتی۔ اب تک کئی سرکردہ رہنما اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کا شکار ہیں۔ طالبان مخالف دھڑوں کی بھی کوئی امداد نہیں کرتا یا ان کی کوئی سیاسی شناخت نہیں سوائے تاجکستان کے وہ بھی خفیہ طریقے سے ہی باہم ربط قائم کرتے ہیں۔ جب تک طالبان اپنی پالیسیوں کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہیں کرتے کوئی ملک اور تنظیم انہیں تسلیم نہیں کرے گا۔ اور غریب عوام ظلم کی چکی میں یوں ہی پستے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments