ایرانی بلوچ ماہر موسیقی بانک سوگل خجستہ


muhammad taqi kuldan

ادب، فن، موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ آج کے جدید دنیا میں باقاعدہ ایک آرٹسٹ کو پڑھنا پڑھتا ہے۔ لوگ آرٹ کے مختلف شعبوں میں علم حاصل کر کے معاشرے میں اس کا پریکٹس شروع کرتے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) ہے۔ جس میں فلم کے متعلق مختلف شعبوں کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔ اور این ایس ڈی نے انڈیا میں نامور اداکار پیدا کیے ہیں۔ اداکاری کے علاوہ فلم کے متعلق مختلف شعبوں میں لوگ این ایس ڈی میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔

ہمارے ایک اور پڑوسی اسلامی ملک ایران میں تہران یونیورسٹی میں موسیقی کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔

مغربی بلوچستان جس کو ہم ایرانی بلوچستان بھی کہتے ہیں میں بانوک سوگل خجستہ کی آج کل دھوم ہے۔ بانوک سوگل جو کہ ایرانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں 1990 میں پیدا ہوئیں۔ بچپن میں ہی والدین کے ساتھ تہران چلی گئیں۔ سوگل کوبچپن سے موسیقی کا شوق تھا۔ چنانچہ گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے تہران میں موسیقی سیکھنا شروع کی۔ سیکنڈری اسکول سے کنزرویٹری میں داخل ہوئیں۔ اور انہیں موسیقی کے تعلیمی کورسز کے بارے میں واقفیت ملی۔

چونکہ انہیں موسیقی سے لگاؤ تھا۔ انہوں نے تہران یونیورسٹی آف آرٹس سے ایرانی موسیقی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے استادوں میں عبدالغنی افشار نیا، محمد علی کیانی نژاد، محمد کاظم موسوی، سیامک جہانگیری، داودورزیدہ، اور پوریا شیوفرڈ شامل تھے۔

اس وقت بانوک سوگل خجستہ خود موسیقی کے خصوصی کورسز پڑھارہی ہیں۔ باقاعدہ کنسرٹس اور تربیتی کلاسز کا انعقاد کر ہی ہیں۔

سوگل خجستہ جب کنزویٹری میں آئیں، انہوں نے مشاہدہ کیا کہ یہاں پر صرف ایرانی اور مغربی کلاسیکی موسیقی پڑھائی جاتی ہے۔ انہوں نے جب ایرانی موسیقی میں مہارت حاصل کی تو انہیں محسوس ہوا کہ انہیں اپنی مادری زبان بلوچ موسیقی پر تحقیق کرنی چاہیے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اپنے مادری زبان کی موسیقی میں اپنے خیالات کی جڑیں تلاش کروں۔ اس موسیقی اور خیالات نے جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے اپنے خیالات اور فنکارانہ ڈیزائن پر عمل کروں، اور سوگل خجستہ کا خیال تھا کہ بلاشبہ یہ خیالات میری نسل و ثقافت سے متاثر ہوتے ہیں۔

بانوک خجستہ جس انداز میں گانا گاتی ہیں، اس کے انداز بلوچی موسیقی میں ایک نئی جہت ہے۔ وہ اپنے گائے ہوئے گانوں کی طرز خود بناتی ہیں۔ فارسی موسیقی میں بلد ہونے کی وجہ سے بلوچی موسیقی میں فارسی انداز محسوس ہوتا ہے، لیکن بلوچی موسیقی کی یہ انداز نہایت ہی دلچسپ ہے۔ سننے والے اس کو خوشدلی سے سنتے ہیں۔ بانوک خجستہ اب بھی بلوچی موسیقی میں مزید دلکشی کے لئے محنت کر ہی ہیں۔

علم موسیقی ایک وسیع علم ہے۔ اور ہر زبان کی موسیقی کی اپنی خصوصیات ہیں۔ اچھی موسیقی کو سب سننا پسند کرتے ہیں، البتہ اپنی مادری زبان میں اچھی موسیقی زیادہ دلچسپی کی باعث ہوتی ہے۔ بانوک سوگل خجستہ کی بلوچی موسیقی میں خدمات کو سراہا جا رہا ہے۔ ان کا موسیقی میں یہ سفر جاری ہے۔ لوگوں کی نیک خواہشات بانوک کے ساتھ ہیں۔

مکران جو کہ پاکستانی بلوچستان اور ایرانی بلوچستان کے ایک بہت بڑے علاقے پر پھیلا ہوا علاقہ ہے، اس علاقے میں میوزک کی اہمیت بہت زیادہ ہے، شاید بلوچی ادب اور موسیقی مکران کے لوگوں کو وراثت میں ملے ہیں، شاعر ایسے شاعری کرتے ہیں کہ وہ معاشرے کے دل کے قریب ہوتی ہے، موسیقار مختلف دھنوں کے ساتھ ان کی شاعری کو امر کرتے ہیں۔

سوگل خجستہ اگرچہ تہران یونیورسٹی کی پڑھی ہوئی ہیں، لیکن ان کی موسیقی مکران کی موسیقی ہے، اور وہ پاکستان کے مکران میں رہنے والے شاعروں کی کلام کو ایک نئے انداز میں اپنی خوبصورت دھنوں کے ساتھ ایک نئی رنگ دے رہی ہیں۔ عطا شاد، سید ظہور شاہ ہاشمی کے کلام کو بانوک خجستہ ایک نئے رنگ میں سامنے لا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بانوک خجستہ ناکو فیضک کے گائے ہوئے گانوں کو اپنے انداز میں گا کر ان کو پھر سے زندگی دے رہی ہیں، قدیم اور جدید کا یہ امتزاج بلوچی موسیقی اور خاص کر مکران کی موسیقی میں ایک نئی رنگ بن رہی ہے، جو دلوں کو چھو رہی ہے۔

Facebook Comments HS