ریٹائرمنٹ، افسروں کے رویے اور عزت


کہتے ہیں موت اور ریٹائرمنٹ سے کسی کو چھٹکارا نہیں ہے۔ یہ دونوں اٹل ہیں اور یہ دونوں یقینی بھی ہیں اور ایک انجانے خوف سے دوچار بھی رکھتی ہیں۔ دوسری جانب میرے ایک دوست کہتے ہیں ریٹائرمنٹ دراصل اپنی منزل مراد پا لینے کا نام ہوتا ہے اور منزل پر پہنچنے کے لیے بنیادی شرط سفر کی ہوتی ہے۔ گو طویل سفر کا اچھا اختتام یا منزل اور مقصد کا حصول سفر کی تھکاوٹ ختم کر دیتا ہے۔ لیکن منزل کا حصول اور پا لینے کی خوشی اپنی جگہ مگر طویل سفر کی لذت کے خاتمہ اور ہمسفروں سے جدائی کا غم اپنی اپنی جگہ موجود ہوتا ہے۔

لیکن نئے آنے والے مسافروں نے بھی تو اپنے سفر کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ ہم ان کے لیے سیٹ اور جگہ خالی کریں گے تو وہ سیٹ پر بیٹھ کر اپنے سفر کا آغاز کر سکے گا۔ اسی لیے ریٹائرمنٹ کو کسی عہدے یا پیشے سے ہٹنا یا کسی سرگرم عملی زندگی سے دستبرداری کا نام دیا جاتا ہے۔ جہاں اسے اس کی خدمات کے اعتراف میں پنشن یا گریجویٹی کی شکل میں معقول رقم بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ آنے والے دنوں میں مالی مشکلات سے بچ سکے اور اسے ہی ایک ”باعزت ریٹائرمنٹ“ کہا جاتا ہے۔

لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایک باعزت ریٹائرمنٹ کے لیے کتنے ہی لوگوں کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور نا جانے کتنے ہی سال کی بے عزتی اور سختیاں برداشت کر کے یہ آخری عزت حاصل ہوتی ہے اور کچھ لوگ جو اپنی پوزیشن سے کوئی ناجائز فائدہ یا مفاد نہیں اٹھاتے اور اپنے دامن کو کسی بدنما داغ سے بچائے رکھتے ہیں۔ وہ پھر وقتاً فوقتاً اپنی اصول پسندی اور ایمانداری کی کہانیاں بڑے فخر سے سناتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ریٹائرمنٹ دراصل ایک سفر مکمل کرنے کے بعد ایک اور نئے سفر کے آغاز کا نام ہے کوئی اسے زندگی کا اختتامی مرحلہ قرار دیتا ہے۔

کوئی اسے کچھ بھی کہے یا سمجھے بہر حال ریٹائرمنٹ ایک ایسی حقیقت ہے جو اٹل ہے اور سب نے اس مرحلے سے گزرنا ہے۔ میرے ایک دوست تو ریٹائرمنٹ کو موت اور زندگی کے درمیان انتظار کا وقفہ قرار دیتے ہیں ان کے خیال میں موت کی طرح ہر شخص نے ریٹائرمنٹ کا مزا بھی ضرور چکھنا ہے۔ لیکن اس مرحلے کے بعد ہر ریٹائرڈ آدمی کا رویہ الگ الگ نظر آتا ہے۔ ملازمت انسانی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتی ہے اسی سے معاشرے میں عزت اور قدرومنزلت کا تعین ہوتا ہے اسی سے مالی معاملات بہتر ہوتے ہیں اور اسی سے آپ کی دوستیاں اور دشمنیاں بنتی ہیں اور اسی سے آپ کے کردار کی تکمیل اور تشکیل ہو پاتی ہے ریٹائرمنٹ کے چند اثرات سے سبھی ملازمین خاص طور پر افسران بہت گھبراتے ہیں وہ سرکاری پروٹوکول، کرو فر، مراعات، سرکاری گاڑی اور گھر اور مفت کے ملازمین کا چھن جانا ہوتا ہے اور ان چیزوں کے چھن جانے کے بعد یہ ریٹائرڈ ملازم یا افسر کا جو آفس کی گھنٹی بجا کر چشم زدن حکم جاری کرنے کا عادی ہوتا ہے وہ اس نشہ، عادت یا حالت سے باہر آنے کے لیے بہت عرصہ تک ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتا اور ایک طرح کے ڈپریشن کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد ایک سب سے بڑا مسئلہ اپنے سابقہ رفیقان کار اور نئے ساتھیوں سے تعلقات کا ہوتا ہے ریٹائر منٹ کے بعد آپ اپنے سینئرز اور خصوصاً ماتحتوں سے بڑی توقعات رکھتے ہیں لیکن ان کے رویے بدل چکے ہوتے ہیں۔ جو آپ کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ نے ریٹائرمنٹ لے کے کوئی جرم کیا ہے۔ کچھ لوگ جو دوران ملازمت اپنے رویوں سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں ان کے بے شمار احسانات تلے دبے لوگ چاہتے اور نا چاہتے ہوئے ُ بھی انہیں عزت و احترام دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ریٹائر منٹ کے بعد افسران کا سوشل سرکل بھی سکڑنا شروع ہو جاتا ہے جن پتوں پر ہمیشہ تکیہ رہا ہوتا تھا وہ ہوا دینا تو درکنار کوئے یار سے گزرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ رفتہ رفتہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کی مثال سب دوری اختیار کرنے لگتے ہیں ملازمت کے بعد فراغت کو کچھ لوگ مصیبت اور عذاب سمجھتے ہیں لیکن بے شمار لوگ اسے رحمت الہی اور فراغت کے مزے قرار دیتے ہیں اور اکثر لوگ اگر صحت اور مالی حالت اچھی ہو تو فراغت کے یہ لمحات مسجدوں اور تبلیغی اجتماعات میں گزارنا پسند کرتے ہیں۔

موت کو قریب دیکھ کر مذہبی رجحان بہت بڑھ جاتا ہے۔ کچھ مالی طور پر کمزور لوگ دوبارہ ملازمت یا کسی شعبہ زندگی میں کاروبار میں قسمت آزمائی کرتے نظر آتے ہیں اور جو یہ سب نہیں کر پاتے وہ اپنے اہل خانہ کی ہلکی پھلکی گولہ باری کا شکار بنتے رہتے ہیں۔ ذرا سخت جان ہوں تو برداشت کر لیتے ہیں اور اگر کمزور دل اور کمزور اعصاب کے مالک ہوں تو بستر کا سہارا لے کر اس میں اپنی پناہ تلاش کر لیتے ہیں۔

ہمیں ریٹائرمنٹ کے بعد دوسروں کے رویوں کا شاکی ہونے کی بجائے ملازمت کے دوران اپنے رویوں اور اپنے کردار کو یاد رکھنا چاہیے۔ اپنے اختیار و اقتدار کی دوران لوگوں سے اچھا سلوک کیا ہو تو ہمیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پہلے سے زیادہ پیار، محبت اور وارفتگی ملتی ہے۔ کہتے ہیں جب ترقی کی منزل چڑھ رہے ہوتے ہوتو راستے میں سے کانٹے ہٹاتے اور پھول پھینکتے جاؤ واپسی پر آپ کو یہ پھول ہی ملتے ہیں اور کانٹوں سے زخمی ہونے کا احتمال بھی نہیں ہوتا۔

ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جب منزل کی بلندی پر پہنچو تو ان محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھو جن کی بدولت یہ بلندی نصیب ہوئی ہے کیونکہ آپ کی واپسی بھی اسی راستے سے ہونی ہے اور واپسی کی مشکلات میں بھی یہی محسن آپ کا سہارا ہوں گے بے شک زندگی میں عزت و عظمت کا دار و مدار آپ کے رویے ہی تو ہوتے ہیں۔ ہمارے اچھے دنوں کے رویے ہی ہمارے مشکل لمحات کے ساتھی ہوتے ہیں۔

میں کئی ایسے ریٹائرڈ سرکاری افسروں کو جانتا ہوں جن کے بارے میں لوگوں کو ان کی نالائقی، اکھڑ پن، بداخلاقی، بد دیانتی کی شکایت ہوتی ہے اور انہیں پیٹھ پیچھے چلے ہوئے کارتوس، فیوز بلب اور جلی ہوئی سگریٹ سے تشبیہ دی جاتی ہے ان کی بدعنوانی اور بداخلاقی کے قصے وائرل ہو جاتے ہیں اور پھر یہ ریٹائرمنٹ کے بعد اس بات کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ عام لوگ اب انہیں محفلوں میں عزت نہیں دیتے ہیں۔ یہ کس قدر اذیت ناک ہے کہ جب لوگ آپ کو پہچان کر بھی نظر انداز کریں اور سلام دعا کرنے سے بھی پہلو تہی کریں۔

کچھ ریٹائرڈ افسر تو شدید ذہنی تناؤ کا شکار نظر آتے ہیں کہ لوگ ہمیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ریٹائرڈ افسروں کے ساتھ اس رویے کی وجہ میرے نزدیک یہ خود ہوتے ہیں، یہ جب حاضر سروس ہوتے ہیں تو یہ آسمانوں میں اڑ رہے ہوتے ہیں، کسی غریب کے کام آنا، کسی سائل کا کام نکالنا یہ عار سمجھتے ہیں بلا مقصد کسی سے ملنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ یاد رکھیں یہ کرسی بھی چھوٹ جائے گی، یہ دفتر کے ساتھی بھی بچھڑ جائیں گے، آپ کو لوٹ کر انہی لوگوں کے درمیان جانا ہے جہاں سے آپ آئے تھے۔

لہذا اپنے اچھے کل کی بنیاد آج ہی رکھ لیں، تاکہ لوگ آپ کو اچھے نام سے یاد کریں۔ اپنی افسری کو رعب داب اور غریبوں کو ڈرانے کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ جتنی تواضع اور عاجزی کرو گے اتنی بلندیاں اور عزتیں رب تعالی آپ کے نصیب کرے گا۔ میرے خیال میں ریٹائرمنٹ ایک ایسی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کا نام ہے جو آپ پر آپ کے اہل خانہ اور سوسائٹی پر ایک عجیب سا بوجھ تو ضرور ڈالتی ہے لیکن اگر ہم تہیہ کر لیں کہ ہم نے معاشرے میں کچھ مثبت رول ادا کرنا ہے اور ایک ناکارہ عضو معطل بننے کی بجائے ایک فعال، کارآمد اور مفید انسان بن کر معاشرے کی بہتری اور اصلاح کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنا ہے تو اس سے بہتر لمحات زندگی شاید پہلے کبھی نہیں ملتے۔

اگر آپ اپنے تجربے، علم، معلومات، مشاہدات کو احسن انداز میں بول کر یا لکھ کر دنیا میں بانٹ دیتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح، بہتری، کارخیر اور رفاہی اور فلاحی کاموں میں حصہ ڈالنے کی سکت اور حوصلہ رکھتے ہیں تو اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی اور نہ ہی اس سے بہتر ریٹائرڈ زندگی کا تصور ممکن ہو سکتا ہے۔ آپ کا اطمینان قلب، قناعت۔ اچھی صحت، مالی آسودگی، لائق اور تابعدار اولاد، ہمدرد و غمگسار بیوی، اچھا اور صاف ستھرا ماحول، اچھے اور مخلص دوست، بچپن اور جوانی کے بے لوث ساتھی، سبھی مل کر راحت و آسودگی، پرکیف اور دلنشین زندگی کا مزا دیتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ دنیاوی جنت نہیں ہے؟ رہا خوف خدا اور اس کی عبادات کا معاملہ تو یہ تو جوانی میں بھی اتنی ہی لازم تھیں جتنی بڑھاپے میں ہوتی ہیں ان کے بغیر تو بندگی کا حق ادا ہو ہی نہیں پا تا۔

Facebook Comments HS