"امیر باپ غریب باپ ” کا خلاصہ
1997 میں رابرٹ کیوساکی نے ایک کتاب لکھی ”Rich Dad Poor Dad“ ۔ اس کتاب نے مارکیٹ میں آتے ہی دھوم مچا دی، اور آج 27 سال بعد بھی اس کتاب کی مقبولیت ویسی ہی ہے جیسی اس وقت تھی۔ اس کتاب کی 32 ملین سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کتاب میں رابرٹ دو باپوں کے پیسے کے بارے میں اپنے نظریات پیش کرتے ہیں۔ ایک رابرٹ کا اپنا باپ جسے وہ ”Poor Dad“ کہتے ہیں اور دوسرا اس کے بہترین دوست (مائیک) کا باپ جسے وہ ”Rich Dad“ کہتے ہیں۔ رابرٹ کا اپنا باپ نہایت پڑھا لکھا پروفیسر ہوتا ہے جبکہ امیر باپ آٹھویں جماعت تک ہی تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔
ایک دن رابرٹ اسکول سے آتے ہیں اور بچوں کو دیکھ کر ان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی امیر بن جائیں۔ وہ اپنے غریب باپ سے پوچھتے ہیں ”How to make money؟“ تو وہ آگے سے کہتے ہیں ”کہ تمہیں پیسہ کمانا میں نہیں سکھا سکتا، آپ کو مائیک کا باپ سکھائے گا“ ۔ یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
رابرٹ کے امیر باپ نے جو بھی سبق اسے امیر بننے کے لئے سکھائے وہی سبق وہ اس کتاب میں آسان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ اور سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ ”Rich don ’t work for money“ یعنی امیر پیسے کے لئے کام نہیں کرتے۔ عام طور پر انسان امیر بننے کے لئے سب سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ شروع ہی سے اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر مہینے اچھی تنخواہ والی نوکری مل جائے۔ جب نوکری مل جاتی ہے تو پوری محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اور اس طرح وہ ایک ایسی دوڑ میں پھنس جاتے ہیں جسے رابرٹ ”ریٹ ریس“ کا نام دیتے ہیں۔ اس طرح وہ ساری زندگی پیسہ کمانے میں گزار دیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ مہینے کے آخر میں ایک تنخواہ ملنے والی ہے، تو پہلے ہی سے وہ اس تنخواہ کو خرچ کرنے کے منصوبے بنا لیتے ہیں۔ اس طرح وہ تنخواہ پر انحصار کرتے ہوئے قرض پر ایک بڑا گھر، گاڑی وغیرہ لے لیتے ہیں۔ تو ساری زندگی وہ اس دوڑ میں پھنس جاتے ہیں جہاں سے نکلنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جو چیز وہ خریدتے ہیں، ان کا قرضہ ادا کرنے کے لئے سالوں تک نوکری کرنی پڑتی ہے۔ نوکری سے جو پیسے آتے ہیں وہ زیادہ تر قرض کی ادائیگی میں چلے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ پوری زندگی پیسے کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ جبکہ امیر لوگ ایسا نہیں کرتے۔ وہ کیا کرتے ہیں؟ اس کا جواب اگلے چیپٹر میں ہے۔
Invest in assets not in liabilities.
امیر لوگ کبھی پیسے کے لئے کام نہیں کرتے بلکہ پیسہ اُن کے لئے کام کرتا ہے۔ امیر لوگ اپنے پیسے کسی ایسے کام میں لگاتے ہیں جس سے اُن کے لئے مستقل آمدنی آتی رہے۔ وہ چیز ہے ”اثاثہ“ ۔ امیر لوگ کوئی ایسی چیز یا جائیداد خرید لیتے ہیں جس سے ان کی جیب میں پیسہ آتا رہتا ہے۔ جیسے کہ کوئی گھر خرید کر اُسے کرائے پر دینا۔ اس سے اُن کے پیسے محفوظ رہتے ہیں اور وہ اس سے اور پیسے کما رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کا پیسہ ان کے لئے کام کر رہا ہوتا ہے جیسے ایک ملازم۔ جبکہ غریب لوگ ہمیشہ اپنی سہولیات اور ذمے داریوں پر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ جیسے کہ گاڑی یا بڑا گھر خرید لینا۔ اس سے اُن کا پیسہ خرچ ہوتا رہتا ہے۔ یہ ہوتا ہے ”اثاثہ“ اور ”ذمہ داری“ میں فرق۔ ”اثاثہ“ آپ کو پیسہ کما کر دیتا ہے اور ”ذمہ داری“ سے آپ کا پیسہ خرچ ہوتا ہے۔
Chapter 3: Learn financial literacy
اب پیسے کو اپنے لئے کام کروانے کے لئے آپ کے پاس علم ہونا ضروری ہے کہ پیسے سے کیسے کام لیتے ہیں۔ کیونکہ سکول جہاں ہم زندگی کا ایک اہم حصہ گزارتے ہیں، وہاں ہم صرف ایک ملازم کے طور پر کام کرنا سیکھتے ہیں۔ کیونکہ وہاں خود بھی ملازمین ہوتے ہیں۔ سکول میں کبھی بھی آپ کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ پیسے کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لئے رابرٹ کہتے ہیں کہ امیر بننے کے لئے آپ کو اپنے مالیاتی تعلیم کو بڑھانا ہو گا۔ اپنا پیسہ بچانے کی بجائے سرمایہ کاری کرنا سیکھنا ہو گا۔ کیونکہ صرف نوکری سے کوئی بھی انسان امیر نہیں ہوتا۔ امیر بننا صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان اپنے پیسے کو سرمایہ کاری میں لگاتا ہے۔ کیونکہ سرمایہ کاری سے انسان کا پیسہ محفوظ رہتا ہے اور اس کے بڑھنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
Chapter 4: Mind your own business
اس چیپٹر میں رابرٹ لکھتے ہیں کہ ان کے امیر باپ نے بتایا کہ کوئی بھی نوکری کرنے والا انسان کسی دوسرے کام کو شروع کر کے اپنی آمدنی بڑھا سکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری نہیں کہ شروعات کسی بڑے لیول سے کی جائے کیونکہ بعض لوگوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہوتا۔ آپ کی نوکری آپ کا پیشہ ہے، نہ کہ آپ کا کاروبار۔ آپ کا کاروبار وہ ہو گا جو آپ خود شروع کریں گے۔ ایک دن میکڈانلڈ کے بانی رے کروک ایم بی اے کے طلباء کو لیکچر دے رہے تھے کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ میرا کاروبار کیا ہے؟ طلباء نے جواب دیا کہ ہاں! ہم سب کو پتا ہے کہ آپ کا کاروبار ہیمبرگر کا ہے۔ تو اُس وقت وہ مسکرائے اور کہا کہ میرا اصل کاروبار ”رئیل اسٹیٹ“ کا ہے۔ اصل میں جب بھی کوئی میکڈانلڈ کا فرنچائز خریدتا تھا تو اُس کے ساتھ ہی اُس زمین کے پیسے بھی دینے پڑتے تھے۔ اور آج میکڈانلڈ دنیا کی سب سے بڑی ”رئیل اسٹیٹ“ کمپنی ہے۔
رابرٹ یہی کہتے ہیں کہ آج غریب لوگ ہمیشہ دوسروں کے لئے کام کرتے ہیں لیکن اپنے لئے کوئی کام نہیں کرتے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ اپنا باس خود بنے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ فوری اپنی نوکری چھوڑ دیں۔ نہیں! بلکہ جب آپ کا سائیڈ کاروبار اچھا خاصا پیسہ کمانے لگے، تو اُس وقت اپنی نوکری چھوڑ کر مکمل طور پر اپنے کاروبار کو وقت دیں۔
Chapter 5: Question things
رابرٹ کہتے ہیں کہ ان کے غریب باپ ہمیشہ کہتے تھے کہ اگر میرے بچے نہ ہوتے تو آج میں امیر ہوتا۔ وہ سب کچھ افورڈ کر پاتے جو آج نہیں کر سکتے۔ اور ان کے امیر باپ کہتے تھے کہ تمہارا باپ غریب اس وجہ سے ہے کہ وہ سست ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں کچھ افورڈ نہیں کر پاتا، اس لئے وہ غریب ہے۔ لیکن رابرٹ کے امیر باپ کہتے تھے کہ ”میں کیسے وہ چیز افورڈ کر سکتا ہوں جو آج افورڈ نہیں کر پاتا“ ۔ ایک سٹیٹمنٹ دماغ کو بند کر دیتا ہے، اور ایک سوال دماغ کے دروازے کو کھول دیتا ہے۔ جب آپ سوچتے ہیں کہ ”میں کیسے کسی چیز کو افورڈ کر سکتا ہوں؟“ تو اُس وقت ہر کام میں کوئی نہ کوئی موقع نظر آنے لگتا ہے۔ اس لئے کبھی یہ نہ کہو کہ میں غریب ہوں بلکہ یہ کہو کہ ”میں غریب ہوں اور امیر کیسے بن سکتا ہوں؟“ خود سے سوال کرو اور پھر ان سوالوں کے جواب ڈھونڈو۔
اس کتاب کے پانچ اہم نکات یہ ہیں :
1.Rich don ’t work for money
2.Invest in assets not in liabilities
3.Learn financial literacy
4.Mind your own business
5.Question things


