رائزنگ سن۔ خصوصی بچوں کی خدمت کے چالیس سال
ستمبر 1984 کی ایک شام کا قصہ ہے، ایک خصوصی بچی کی والدہ ایک مشہور ماہرِ اطفال کے گھر میں واقع ان کی کلینک میں بیٹھی تھی۔ وہ ڈاکٹر صاحب سے کہہ رہی تھی کہ بیرونِ ملک سے پاکستان آنے کے بعد وہ اپنی بیٹی فاطمہ، جو ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ تھی، کی تعلیم کے لیے کوئی خصوصی تعلیم کا معیاری ادارہ تلاش نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ دو تین اداروں میں اپنی بیٹی کو بھیج چکی تھی لیکن فاطمہ کہیں بھی جا کر سیٹ نہیں ہو پائی۔ یہ باتیں کرنے کے بعد جب وہ کلینک سے باہر نکلی تو اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
اسی دوران ڈاکٹر صاحب کی بیگم نے ان کو برآمدے میں روتا دیکھا تو اپنی ہمدردانہ فطرت سے مجبور ہو کر فاطمہ کی والدہ کے پاس چلی گئیں۔ اٗس ماں کے آنسوؤں نے ان کے دل پر ایسا اثر کیا کے انہوں نے فاطمہ کے لیے کچھ کرنے کا تہیہ کر لیا۔ فاطمہ کے لیے انہوں نے اپنے گھر کے ڈائننگ روم سے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک فلاحی ادارے کا آغاز کیا، جو آج پاکستان میں خصوصی بچوں کا ایک بہترین اور بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے۔
محترم قارئین یہ ڈاکٹر راؤ عبدالتواب خان (تمغہ امتیاز) اور ان کی شریک حیات بیگم پروین تواب (ستارہِ امتیاز) کی خدمت اور قربانی کی سچی کہانی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک ماہرِ اطفال تھے اور اپنے میڈیکل کے حلقوں میں ایک بہت محنتی، دردِ دل رکھنے والے اور قابل طبیب کے طور پر جانے جاتے تھے۔
1970 کی دہائی میں جب وہ لیبیاء میں اپنی خدمات ادا کر رہے تھے تو وہاں کی حکومت کی مدد سے انہوں نے خصوصی بچوں کے لیے ایک ہسپتال قائم کیا۔ بطور فاونڈر ڈائریکٹر، ڈاکٹر صاحب نے اس ہسپتال کو کامیابی سے چلایا اور خدمت کی ایک تاریخ رقم کی۔ بیگم پروین تواب، جو کے چائلڈ ڈیویلپمنٹ کی تعلیم حاصل کر چکی تھیں، انہوں نے بھی لیبیا میں قائم کردہ ہسپتال کا گہرا مشاہدہ کیا۔ اسی تجربہ کی بنیاد پر ڈاکٹر اور بیگم عبدالتواب نے 1984 میں لاہور میں، اپنے گھر سے رائزنگ سن کے نام سے ادارے کا آغاز کیا۔
رضاکارانہ طور پر شروع کیا گیا ادارہ رائزنگ سن ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، اب تین بہت بڑے کیمپس اور بہت سے چھوٹے کمیونٹی اداروں پر مشتمل ہے۔ اس کے لاہور میں موجود دو ادارے 1000 سے زائد خصوصی بچوں کو تعلیم و تربیت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ رائزنگ سن انسٹیٹیوٹ برائے خصوصی اطفال کے نام سے قائم یہ دو ادارے ڈیفنس اور مغلپورہ کے علاقوں میں قائم ہیں۔ ان اداروں میں مختلف معذوریوں سے متاثرہ بچوں کو تعلیم، تھیراپی اور ہنر مندی کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
لاہور کے گردونواح میں موجود علاقوں میں خصوصی تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ادارے کے چھوٹے کمیونٹی سنڑز قصور، شاہدرہ اور کاہنہ کے علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
رائزنگ سن میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے 70 فیصد بچوں کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتے، لہٰذا ان بچوں کو تمام سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔
گوشہ عافیت کے نام سے ایک اقامتی ادارہ مناواں کے علاقے میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس میں جلد ہی ایسے خصوصی افراد، جن کے والدین اس دنیا میں نہیں رہے، کو رہائشی سہولیات فراہم کرنے کا آغاز ہو جائے گا۔ اسی ادارے میں قائم شیلٹرڈ ورکشاپ میں خصوصی افراد کو آن جاب ٹریننگ اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالتواب خان اب اِس دنیا فانی سے کوچ کر چکے ہیں لیکن رائزنگ سن ان کی خدمات کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ بیگم پروین اپنے شریکِ حیات کا مشن پورے جوش و جذبے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم ڈاکٹر عبدالتواب خان اور بیگم پروین تواب کو ان کی شاندار خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ وہ دونوں بلاشبہ ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
اگر ممکن ہو تو رائزنگ سن کو ضرور وزٹ کریں۔ ان خصوصی بچوں سے مل کر اور ان کے چہروں پر موجود خوشی اور اطمینان دیکھ کر آپ کا انسانیت پر ایمان یقیناً پختہ ہو جائے گا۔

