پرچہ آؤٹ ہونے سے روک سکو تو روک لو


‏ہر سال کی طرح اس بار بھی کراچی سمیت تمام اندرون سندھ میں ثانوی بورڈ (میٹرک) اور انٹر میڈیٹ بورڈ کے امتحانات کو نقل کا سونامی بہا لے گیا! نقل کی روک تھام کے بلند و بالا دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ حل شدہ پرچہ واٹس ایپ پہ گردش کرتا رہا، کہیں کیمسٹری کا پرچہ آؤٹ ہو گیا، کہیں 1000 میں فزکس کا پرچہ خرید سکتے ہیں 2000۔ 1500میں کوئی بھی پرچہ آپ کی مٹھی میں! نویں جماعت کا پرچہ تو شروع ہونے سے پہلے ہی آؤٹ ہو گیا، انٹر کا انگریزی کا پرچہ شروع ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پہ وائرل ہو گیا۔

دفعہ144نافذ ہونے کے باوجود طلباء کمرۂ امتحان میں کتابیں، نقل کا مواد اور موبائل استعمال کرتے رہے۔ پرچوں کی بولیاں لگتی رہیں، اصل امیدوار کی جگہ پرچہ دینے کوئی اور قابل بندہ امتحان دیتا ہے۔ ممتحن حضرات کو پیسے دے کر یا ڈرا دھمکا کر خاموش کرا دیا جاتا ہے، اور یہ نقل کا رجحان کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اس میں ہر سال نت نئے طریقوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ ‏نقل مافیا کو لگام دینے والا کوئی نہیں! بس انتظامیہ کی طرف سے دو چار کو معطل کرنا کافی ہوتا ہے۔

کیا یہ طالب علم کل کو ملک کی بھاگ دوڑ سنبھال سکیں گے؟ اس نئے پاکستان کے تعلیمی نظام میں بھی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کلاسیں بنیاد کی اہمیت رکھتی ہے اور اگر ہمارے مستقبل کے معمار اپنی بنیاد ہی نقل پہ تعمیر کریں گے تو باقی عمارت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے، کیا ڈاکٹر کیا انجینئر کیا بینکر کیا صنعت کار کیا سائنسدان کیا سیاستدان غرض ہر شعبہ میں ان کی قابلیت پہ اک سوالیہ نشان ہو گا! ایسا لگتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام کرپشن کو فروغ دینے کے لیے ہی بنا ہے اور میٹرک کے امتحانات کرپشن کے کی دنیا میں پہلا قدم رکھنے کا عملی مظاہرہ ہے۔

اس میں طلباء والدین اساتذہ سب شامل ہیں۔ اس میں بچے کو طاقت، پیسا، سفارش اور چوری سے کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ میٹرک امتحانات میں سہولیات کا فقدان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے جس کا فوری سدِباب ضروری ہے۔ وزیر تعلیم سندھ کو چاہیے کہ نقل مافیا کی حوصلہ شکنی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ٹیمیں تشکیل دیں اور کم از کم امتحانی نظام کو نقل سے تو پاک کریں۔ نئی نسل کو ان غیر مہذب طریقوں پر لگانے والے عناصر کی روک تھام کے لئے سندھ حکومت اقدامات یقینی بنائے۔

او اور اے  لیولز تو اکثریت کی پہنچ سے دور ہے، کچھ عرصہ پہلے آغا خان بورڈ متعارف ہوا جس پر بے تحاشا اعتراضات اٹھائے گئے ایک مخصوص سوچ کی طرف سے بعض نے تو کفر کے فتوے بھی لگا دیے تھے۔ اس بورڈ کے سلیبس، امتحانی نظام بمع امتحانی مراکز کی کارکردگی اور پیپر چیکنگ کا طریقۂ کار ذاتی طور پہ جاننے کا تجربہ ہوا جو انتہائی منظم ہونے کے ساتھ تجرباتی اور مشاہداتی تعلیم کی اہمیت سے بھی بخوبی آگاہ لگا، مگر اس بورڈ کو بد قسمتی سے زیادہ پذیرائی نہ مل سکی۔

خیر۔ ہمارے بچے ابھی تک ایک ایسے تعلیمی نظام میں جکڑے ہوئے ہیں جو فرسودہ ہے، بے لچک ہے اور صدیوں پرانے روایتی تعلیمی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اب یہ ناگزیر ہے کہ تعلیمی نظام میں انقلابی اقدامات کیے جائیں اور ایسے انداز تدریس اپنائے جائیں اور نصاب تخلیق کیے جائیں جو مستند اور موثر ہوں نہ کہ نقل پر منحصر ہوں! ‏‏تعلیمی نظام کو بہتر بنا کر ہی معاشرہ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ طلباء کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرانا ضروری ہے اور یہ صرف اساتذہ ہی کی نہیں بلکہ والدین سمیت پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ‏

Facebook Comments HS