شہنشاہ غزل مہدی حسن خان کی برسی


فنون لطیفہ میں فن موسیقی، غزل، اشعار کا مرتبہ بلند تر سمجھا جاتا ہے۔ انسانی تمدن اور معاشرت کی ترقیوں کے ساتھ اس فن کی ترقی پہلو بہ پہلو ہوتی رہی۔ جب سے انسانی تاریخ دنیا میں روشناس ہوئی دنیا نے اس فن کو بھی پہچانا۔ ہر دور میں اس فن کے لیے کچھ گنے چنے افراد میدان عمل میں رہے جس میں ایک چمکتا ستارہ ماضی قریب میں مہدی حسن تھے شہنشاہ غزل مہدی حسن خان پاکستانی موسیقی کا ایک ایسا باب تھے جسے رہتی دنیا تک لوگ اپنے دلوں میں گنگناتا ہوا محسوس کریں گے۔ کروڑوں دلوں پر اپنی عمدہ گائیکی اور سروں سے راج کرنے والے شہنشاہ غزل مہدی حسن خان 18 جولائی 1927 کو راجستھان کے گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ مہدی حسن خان پاکستان میں غزل گائیکی کا ایک جگمگاتا ستارہ تھے۔ جو اس دنیا سے جانے کے بعد بھی پوری آب و تاب سے اپنے گیتوں اور غزلوں کی شکل میں چمکتا رہے گا،

موسیقی آپ کے خون میں رچی بسی تھی ایک موسیقار گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے آپ کی خوبیوں میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ آٹھ سال کی عمر سے ہی آپ نے موسیقی کی تعلیم و تربیت کا آغاز اپنے ہی گھر سے کیا آپ کے ابتدائی استاد آپ کے والد صاحب اور چچا تھے۔ آپ کو راجہ کے دربار میں بھی اپنے بچپن میں پرفارم کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ کی پوری فیملی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان کی سرزمین میں آ بسی۔ پاکستان کے چیچہ وطنی میں اپنی پھوپھو کے گھر رہتے ہوئے انہوں نے بہت سارے کام سیکھے۔ لیکن ساتھ ساتھ اپنی ریاضت کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

آپ کی یہ محنت اور ریاضت اس وقت رنگ لانا شروع ہوئی جب اپنے بھائی کی مدد سے آپ ریڈیو پاکستان پہنچے اور مسلسل پانچ گھنٹے تک اپنے فن کا مظاہرہ کر کے سب کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔ ہر قسم کے گانے آپ نے پرفارم کیے۔ فیصلہ سازوں کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ آپ کو کس کیٹگری میں جگہ دی جائے اور پھر سب کے مشترکہ فیصلے سے آپ کو 35 روپے کنٹریکٹ پر اے کیٹگری میں جگہ دی گئی۔

آپ نے برس ہا برس تک ریڈیو پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا ایسی غزلیں گائیں کہ کوئی اور سنگر اس کو دوبارہ گانے کی ہمت نہ کر سکا آپ نے پچیس ہزار سے زائد فلمی اور غیر فلمی گانے گائے جو کہ عظیم موسیقی کا سنہری باب ہے۔ ستر کی دہائی میں آپ فلمی گانوں کے بادشاہ تھے۔ بڑے بڑے اداکار آپ کے گانوں پر پرفارم کرنے کے لیے بے قرار رہتے تھے کیونکہ مہدی حسن صاحب کا گایا ہوا ہر گانا ہی سپرہٹ اور امر ہو جاتا تھا۔ بہت سارے اداکاروں نے آپ کے گانوں پر پرفارم کر کے لوگوں کے دلوں میں راج کیا جن میں محمد علی، وحید مراد، ندیم، غلام محی الدین اور بہت بڑے نام قابل ذکر ہیں۔

آپ نے اپنا پہلا ریکارڈڈ فلمی گانا انور رفیع صاحب کی فلم شکار کے لیے گایا اس میں آپ نے دو غزلیں جس میں ”میرے خیال و خواب کی دنیا لیے ہوئے“ اور ”نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہو جائے“ شامل ہیں۔

فلم شکار 1956 میں ریلیز ہوئی تھی اس فلم سے قبل فلم ”کنواری بیوہ“ ریلیز ہوئی اس فلم کے لیے بھی خان صاحب نے تین گیت گائے تھے۔ ”گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے“ فیض احمد فیض کا لکھا ہوا سونگ خان صاحب کی شہرت کو بلندیوں تک لے گیا۔ یہ گانا جب ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا تو کراچی سے لے کر خیبر تک لوگوں نے دل تھام لئے اور بڑی پذیرائی ملی۔ سارے اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے آپ کے فلمی گانوں کی دھن تھی کہ بچہ بچہ ان کے گانے گنگناتا تھا۔

فلم گھونگھٹ کا گانا ”مجھ کو آواز دے کہاں ہے“ ”جان جاں تو جو کہے گاؤں میں گیت تیرے“ ”یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم کہانی محبت کی زندہ رہے گی“ فلم چاہت کا گانا ”پیار بھرے دو شرمیلے نین“ یہ وہ سدابہار گانے ہیں جنہوں نے نہ صرف مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑے بلکہ اپنی سلور جوبلی بھی مکمل کی اور آج بھی اپنی اسی پوری آب و تاب کے ساتھ لوگوں کے لبوں پر ہیں۔

فلم میری زندگی ہے نغمہ کا ایک سونگ تو مشہور کامیڈین رنگیلا صاحب پر پکچرائز کیا گیا تھا ”ایک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا“ ایک امر گیت ہے اس کے علاوہ ”زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں“ یہ وہ گانے ہیں جنہوں نے موسیقی کی دنیا میں برسہا برس تو دھوم مچائی اور شہرت کے تمام ریکارڈ توڑے آپ کی فنی قابلیت کو دیکھتے ہوئے فیلڈ مارشل ایوب خان نے آپ کو شہنشاہ غزل کے خطاب سے نوازا۔ آپ کی خدمات کے سلسلے میں انیس سو پچاسی میں آپ کو پرائیڈ آف پرفارمنس اور نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ”پلے بیک سنگر کے طور پر“ آپ کو لکس اسٹائل ایوارڈ فور لائف ٹائم اچیومنٹ سے بھی نوازا گیا ہے۔ جنرل ایوب خان نے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا۔ جالندھر انڈیا میں سہگل ایوارڈ حاصل کیا۔ 1985 میں ضیاء الحق نے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔

جنرل پرویز مشرف نے ہلال امتیاز سے نوازا پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سنٹر نے آپ کی خدمات کے اعتراف میں جولائی 2001 میں خان صاحب کو لائف ٹائم اچیومنٹ کے اعزاز سے بھی نوازا

خان صاحب نے اپنے 45 سالہ فنی کیریئر میں 441 فلموں میں 626 گیت گائے۔ 1366 اردو فلموں کے لئے 541 گیت اور 74 پنجابی فلموں کے لئے 82 گیت گائے۔ 1962 سے 1989 تک 28 مسلسل فلموں کے لئے گائیکی کے جوہر دکھائے۔ اور ان فلموں میں سو سے زائد گانے اداکار محمد علی پر فلمائے گئے تھے۔ 2000 میں ریلیز ہونے والی فلم چل پتر آپ کے فنی سفر کی آخری فلم تھی۔

آپ نے 50 سے زائد ایسی فلموں کے گانے بھی گئے جو کہ ریلیز نہ ہو سکی آپ کو ملکی اور غیر ملکی بے شمار اعزازات ملے جن میں 1964 میں فلم فرنگی 1968 میں فلم صائقہ 1969 میں فلم زرقا 1972 میں فلم میری زندگی ہے نغمہ 1973 میں فلم نیا راستہ 1974 میں فلم شرافت 1975 محفل زینت 1976 میں فلم شبانہ 1977 نئی فلم آئینہ میں سے نو فلموں کو نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔

آپ کے کئی شاگردوں نے موسیقی میں نام بنایا جن میں پرویز مہدی علام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز قابل ذکر ہیں آپ کے صاحبزادے عارف مہدی نے بھی موسیقی کی دنیا میں آپ کے نام کو آگے بڑھایا۔

گائیکی کے میدان میں بام عروج پر پہنچنے کی طویل جدوجہد کے بعد مہدی حسن فالج، سینے اور سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے اور طویل علالت کے بعد 13 جون 2012 کو کراچی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ موسیقی کی دنیا کا یہ عظیم نام رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں جگمگاتا رہے گا۔ آپ کے کتبے پر لکھے سنہری الفاظ یہ ہیں ”اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں“۔

Facebook Comments HS