لندن تا برمنگھم ( 4 )
لندن کے بعد برمنگھم، فرنگیوں کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں کا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔ مسلمانوں میں ہر چوتھا پاکستانی ہے اور پاکستانیوں میں ہر پانچواں آزاد کشمیر بالخصوص میرپور کا ہے۔ یہاں جگہ جگہ مساجد اور مسلم کمیونٹی سنٹرز ہیں۔ یہاں کے لوگ صفائی کو نصف ایمان نہیں کہتے بلکہ عقیدے کی حد تک اس پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ وہ کچرا یا ردی کا ٹکڑا تو چھوڑیں، سگریٹ کا بچا ہوا فلٹر تک بھی باہر کہیں پھینکنا گناہِ عظیم سمجھتے ہیں، لو کر لو گل۔
قریب قریب ساڑھے گیارہ لاکھ نفوس کا مسکن، یہ برطانوی برمنگھم، آبادی کے لحاظ سے اپنی وادیٔ سوات سے بھی کوسوں پیچھے ہے۔ مضافات تو خیر اس کے علاوہ ہیں جن کو ملا کر بھی کروڑ کا چوتھائی حصہ یعنی سوات کے برابر نہیں بنتا۔ اس شہر کے شرفاء، نر و مادہ دونوں کی شدید خواہش ہے کہ وہ بھی کبھی لندن کو آنکھیں دکھائیں گے، آبادی بڑھا کر، لیکن یہ خواہش بچگانہ ہے، کیوں کہ خالی خولی خواہش سے کیا ہوتا ہے۔ یہ کوئی خالہ جی کا گھر ہے، نہ نانی کے ٹھکانے کا نوالہ ہے، بڑی جی داری سے محنت کرنا پڑتی ہے، خوش بو لگا کے۔
دو ہزار ایک میں پونے دس لاکھ بندوں والا یہ شہر بڑے مشکلوں سے کوئی ساڑھے گیارہ لاکھ کا عدد عبور کر گیا ہے، چوبیس سال میں۔ یعنی، ”کہ خدائے مے نہ خطا کئی“ چوبیس سالوں میں فقط پونے دو لاکھ کی ”بڑھوتری“ ۔ سال میں صرف سات ہزار طفلانِ مکتب کی آمد، عالمِ نیست سے عالمِ ہست میں۔ مدّ مقابل لاہوری ہو تو اتنے ہی عرصے میں انہوں نے جانِ عزیز کو جوکھوں میں ڈال کر پچاس لاکھ نفوس کو ٹرپل کر کے سوا کروڑ تک پہنچایا۔ ”لہور دے بھیان“ اعتراض نہ کریں کہ پورے پاکستان میں ہمیں کیوں آبادی والے کیس میں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، یہ اپنے سوات کی بات کیوں نہیں کرتا! جی قربان، چوبیس سال پہلے تیرہ لاکھ بندوں والی وادیٔ سوات عین اس وقت پچیس لاکھ سروں کی سونامی میں ڈبکیاں کھا رہا ہے اور بے ہنگم رکشوں کے سائلنسرز سے نکلتا دُھواں نتھنوں سے کھینچ کھینچ کر پھیپھڑوں تک پارسل کر رہا ہے، جی داری کے ساتھ۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ مغربی ممالک کی خواتین بچے پیدا کرنے کے عمل سے خود کو ماورا سمجھتی ہیں جب کہ ہمارے والی خواتین بچے پیدا کرنے کی مشینیں بننا چاہتی ہیں، وہ بھی بلاناغہ۔ ہماری پینڈو دلہنیں شادی کے ٹھیک پانچویں ہفتے کمپنی بہادر ساس کو پاؤں بھاری ہونے کی پراگریس رپورٹ پیش نہ کریں اور وہ باقاعدہ چارج شیٹ نہ ہوں تو کہنا۔ ہم نے ایک دفعہ امریکی شہر میری لینڈ میں اپنی لیڈی فرینڈ کو کریدتے کریدتے عالم اشتیاق میں دریافت کیا تھا: ”جانِ من بچے کتنے اچھے؟“ تو وہ اپنے دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے عالمِ خمار میں گویا ہوئی: ”زمانے ہوئے فقط ایک جِنا تھا ہچکی لے لے کر اور ابھی تک ڈیفالٹ میں ہوں، توبہ توبہ۔“ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باسی کتّوں اور بلیوں کی طرف زیادہ راغب ہونے لگے ہیں اور اُن کو بچوں کے نعم البدل کے طور پر ”گود“ دیتے ہیں۔
ہمیں تو خیر احساس نہیں لیکن یہ لوگ جانتے ہیں کہ کتا انسان کا قدیم اور انسان سے زیادہ بہتر دوست ہے۔ بھری دنیا میں کئی تنہا لوگوں کا اگر کوئی رفیق ہے تو وہ کتا ہی ہے جو ہر حالت میں مالک کا وفادار ہوتا ہے۔ اسی طرح بلیوں کی صفات بھی بے حساب ہیں۔ بلی رکھنے والے لوگ حساس اور نیک دل ہوتے ہیں، وہ ضرورت مند لوگوں کا خیال رکھنا جانتے ہیں۔
یہ کیا؟ آئے ہیں برمنگھم سیر سپاٹے کے ارادے سے، لگے ہیں آپ سے کتوں اور بلیوں کی باتوں میں۔ میزبان بھی ہمارے دیدار کے بیک گراؤنڈ میں جنتِ نظیر وادی کے خیالوں کی طغیانی میں ڈبکیاں کھا رہے ہیں۔ حرام با اللہ کہ ایک لحظہ کے لئے وہ یہ سوچیں کہ خدا کے یہ تین مسافر بندے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں دنوں فضاؤں اور خلاؤں میں معلق رہ کر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے ملک کے حالات و واقعات کے قصے سنانے کا کوئی کنٹریکٹ لیا ہوا ہے یا گھر کی چار دیواری سے نکل کر کہیں گھومنا پھرنا اور کچھ دیکھنا بھی ہے۔
کچھ دیر کے لئے میزبان کو خاموش پا کر ہم پوچھتے ہیں : ”یار ذرا باہر نہ نکلیں؟“ وہ ہمارا سوال سنی اَن سنی کر کے اُلٹا ہم سے سوال پوچھتے ہیں : ”اور بتاؤ، کالام بحرین کا موسم کیسا ہے آج کل؟ دریائے سوات کی موجوں کی اُس چستی و مستی و روانی کا احوال دیں نا؟ وہ کنڈول جھیل کا کیا دُکھڑا ہے خان جی؟ آج کل تو وہاں سیاحوں کا غُل غپاڑہ ہو گا، وہ دریائے سوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے چک درہ کے وسیع و عریض کھیتوں میں چاول کی لہلہاتی فصل کی خوش بو سونگھنے کو دل کرتا ہے مگر آج کل تو شاید مونجھی کا موسم نہیں رہا؟“
”بس جی سر بہ دے سہ خوگوم،“ اُن کے سوالوں کا کیا جواب دیں، یہ سوال تو عالمِ اجسام کے نہیں علمِ ارواح کے ہیں جو کسی باؤنڈری کے پابند نہیں ہیں، نہ وقت اور موقع محل کے۔ روح کے سوال کا جواب کون دے؟ بالآخر خاموش احتجاج کرتے ہوئے ہم خود ہی باہر نکلنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ بھابھی محترمہ اس دوران مداخلت کرتی ہیں، میزبان کو خوابِ غفلت سے بیدار کرتی ہیں، اُس کو زبردستی کوٹ پہنا دیتی ہیں اور ہمارے ساتھ چلتا کر دیتی ہیں تنبیہ کر کے۔
خدا خدا کر کے ہم پیدل باہر نکلتے ہیں۔ اُجلی اُجلی، دُھلی دُھلی، کھلی کھلی سڑکوں کے ساتھ فٹ پاتھ، فٹ پاتھ کے ساتھ ہرے بھرے دُرانٹے، کیاریاں، پودوں اور پھولوں کے آماج گاہ۔ ہر طرف خوش بو اور معطر فضائیں۔ گاڑیوں کے ہارن، نہ دھواں، کوئی شور شرابا، نہ گرد و غبار۔ یہاں کپڑے میلے نہیں ہوتے، بس اُن کو کبھی کبھی زبردستی میلا کرنا پڑتا ہے۔ جوتوں کی طرف تو میلی نظر سے دیکھنا بھی زیادتی ہے۔ گراؤنڈز، پارک حتیٰ کہ کچے راستوں کی صفائی ستھرائی دیکھیں تو دل کرتا ہے کہ پاؤں کو جوتوں کی ناجائز قید سے آزادی دلا کر ننگے پیر گھوما جائے۔ خواہ مخواہ اتنی صاف ستھری جان دار زمین اور جان دار پیروں کے بیچ میں بے جان جوتوں کو حائل کرنا کفرانِ نعمت نہیں؟ پتہ نہیں کس نے انسانوں کو جوتے پہننے کا اسیر بنایا ہے۔ اگر یہ وبا نہ پھیلی ہوتی تو لوگ زمین کو ہر قیمت پر پاک و صاف رکھتے تاکہ ننگے پیر گھومنے سے پاؤں کو کوئی گزند نہ پہنچے۔
ہم نے اپنی آنکھوں سے کئی لوگوں کو بڑے فخر کے ساتھ ننگے پیر گھومتے دیکھا ہے۔ انڈونیشیا کے شہر بالی میں ٹریننگ پروگرام کے دوران ہم پاپوا نیوگنی کے فارسٹ افسر کے ساتھ کسی ہوٹل میں قیام پذیر تھے۔ شام کو چہل قدمی کے لئے باہر نکلتے تو کمرے سے بڑے پرتپاک انداز میں بغیر جوتوں کے نکلتے اور لمبے لمبے بھاری بھاری ڈگ بھر کر چلتے۔ لوگ ان کو ننگے پاؤں گھومتا دیکھ کر عجیب نظروں سے دیکھتے لیکن وہ اِس کی پرواہ نہ کرتے۔ ایک دن پوچھ ہی لیا تو مسکراتے ہوئے کہا: ”اندھا کیا جانے بسنت کی بہار۔“ اس کا استدلال تھا کہ مٹی کو مٹی سے خطرہ نہیں بلکہ جسم پاؤں کے راستے مٹی کا لمس محسوس کر کے خوش ہوتا ہے۔ اُس نے بتایا کہ ہمارے ملک میں کافی لوگ برہنہ پا گھومتے پھرتے ہیں۔
ایک دفعہ مظفرآباد میں کسی پیر صاحب کے ساتھ ایک لڑکے کو ننگے پاؤں چلتا دیکھا، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پیر صاحب کا مرید ہے۔ حج پر بھی ننگے پیر گیا تھا۔ کہتا ہے کہ اس سے جسم کو سکون ملتا ہے۔ ہم بھی بڑے ادب کے ساتھ ہلکے ہلکے اور آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے جوتے بھی اُتارنے کا سوچتے ہیں تاکہ برمنگھم کی صاف ستھری زمین ہمارے جوتوں تلے خراب نہ ہو اور اتنی نرم نرم زمین پر ننگے پاؤں چل کر سکون حاصل ہو لیکن ہماری اِس تجویز کو ساتھی لطیفہ سمجھ کر قہقہوں میں اُڑاتے ہیں۔ کوئی سمجھے خدا کرے، کوئی۔ آخر مٹی سے آئے ہیں اور اسی مٹی میں جا کے خاک ہونا ہے، پھر اِس سے اتنا سلسلہ جنبانی کیوں؟
چلتے چلتے برمنگھمی میزبان ایک بہت بڑے وسیع و عریض بلڈنگ کی طرف اشارہ کر کے بتاتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا ہسپتال ہے جہاں جنگوں میں شدید زخمی ہونے والے فوجیوں کا بہترین علاج ہوتا ہے۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا اور جدید ٹراما یونٹ موجود ہے، اس کا نام ہے کوئین الزبتھ ہسپتال۔ ہسپتال کا نام سُن کر دماغ میں بجلی سی کوندتی ہے، کھوپڑی کی نسیں بھڑک اُٹھتی ہیں، دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں کہ کیوں اِس شہر کا نام سُن کر کچھ اپنائیت کی، کچھ اُنسیت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اِس شہر میں ہمیں اجنبیت کا احساس کیوں نہیں ہوتا اور کیوں لگتا ہے گویا عزیزم برمنگھم کہیں وادیٔ سوات کے آس پاس اپنے کسی ہمسایہ شہر کا نام ہے۔
یہاں ہماری وادیٔ سوات کی اُس پندرہ سالہ بیٹی کا طویل علاج ہوا اور کئی پیچیدہ آپریشنز ہوئے جو بد امنی کے دوران ٹارگیٹڈ فائرنگ سے شدید زخمی ہوئی۔ پھر سوات، پشاور اور اسلام آباد کے ہسپتالوں سے ہوتی ہوئی یہاں پہنچائی گئی۔ اس ہسپتال کے ڈاکٹروں کی مہارت اور مکمل توجہ کی بدولت وہ بچی زندگی کی ہاری ہوئی بازی جیت گئی۔ اُس چودہ سالہ بچی کی عمر اب خیر سے چھبیس برس کے لگ بھگ ہے، اُس کو دنیا کی تاریخ کے سب سے کم عمر ترین نوبل پرائز ونر کا رتبہ حاصل ہے، وہ آکسفورڈ کی گریجویٹ ہے اور نام تو آپ جان گئے ہوں گے، ملالہ یوسفزئی۔
ملالہ یوسفزئی اب لڑکیوں کی تعلیم کے لئے قائم غیر سرکاری بین الاقوامی ادارے ملالہ فنڈز کی چیئرپرسن ہیں جو محروم دنیا کی بچیوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔ اِس فنڈز کے ذریعے کئی ممالک میں تعلیم کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ملالہ فنڈز کے تعاون سے پاکستان میں سیکڑوں طالبات کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پختونوں کی یہ بیٹی ہمارے میزبان اور مصیبتوں کے دور کے اولوالعزم ساتھی ضیاءالدین یوسفزئی اور حوصلہ مند خاتون محترمہ تورپیکئی یوسفزئی کی دخترِ نیک اختر ہیں۔ کتنے مضبوط اعصاب کے مالک ہیں یہ والدین جنہوں نے اس جاں کاہ صدمہ کو صبر و استقامت سے برداشت کیا اور زندگی کی کٹھن راہوں میں ایک دوسرے کو سہارا دیا۔
برمنگھم کی بڑی دل چسپ باتیں تو بیچ میں ہی رہ گئیں، سفر جاری ہے، ساتھ چلنا ضروری ہے :
باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
(دل چسپ سفرنامہ جاری ہے )





