نظارے ایک بستی کے

گل بانڈئی نام ہے خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں ایک حسین و جمیل بستی کا، جو یہاں کے ضلعی صدر مقام سیدو شریف سے کوئی دس کلومیٹر دور مرغزار روڈ پر ندی کنارے واقع ہے۔ ’گُل‘ پھول اور ’بانڈئی‘ پوشاک کو کہتے ہیں یعنی پھولوں کی پوشاک۔ واقعی، کائنات کے اِس قطعۂ زمین کو قدرت نے پھلدار پودوں، پھولوں اور سبزے کا جامہ حساب کتاب سے کچھ زیادہ زیب ِتن کروایا ہے، جس کی وجہ سے یہاں انسانوں کا

Read more

حرکت میں برکت

بعد از نمازِ عصر کچھ افراد کا قافلہ، گول آستین والی قمیض پہنے اور شلوار کے پائنچے اوپر کیے ہوئے گلی کوچوں میں گھومتے نظر آتے ہیں، سروں پر ٹوپی، چہروں پر داڑھی، ہاتھوں میں تسبیح، لوگوں سے مل مل کر ایک آدھ منٹ بات کرتے ہوئے۔ ایسی واضح علامتیں رکھنے والے گروہ کے ساتھ کافی لوگوں کا واسطہ پڑا ہو گا۔ یہ مانگتے کیا ہیں لوگوں سے؟ تھوڑا سا وقت، مسجد میں آنے اور اُن کی بات سننے۔ ایک

Read more

کہانی ایک یادگار رات کی

احوال یہ ہے کہ اس وقت رات کے بارہ بجنے کو ہیں۔ ہم اپنی تبلیغی جماعت کے کاروان کے حصار میں صوبہ پنجاب کے شمالی شہر اٹک میں مرکزی جامع مسجد کی دوسری چھت پر مقیم گرد و پیش کا نظارہ کر رہے ہیں۔ دل کرتا ہے، سب کو اس نظارے میں شرکت کی سعادت حاصل ہو۔ جہاں رات گئے گہماگہمی کی کیفیات دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ابھی نمازِ عشاء کی تیاری ہو رہی ہو۔ مسجد کی بابرکت،

Read more

پنجاب کے آخری شمالی شہر میں

یادش بخیر! شیرگڑھ شہر میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد جیسے ہی گاڑی میں قدم رکھا، اُس کے منہ زور انجن نے بھرپور طاقت کے ساتھ دوڑنا شروع کیا۔ چند ہی لمحوں میں کنڈیکٹر بادشاہ نے بلند آواز میں نعرے لگانے شروع کیے ”تخت بھائی والے، تخت بھائی والے اترنے کی تیاری کریں، گیٹ پر آ جائیں“ تخت بھائی کا نام سُن کر دل کباب کھانے کو مچل اٹھا۔ بھلا یہاں سے گزرتے ہوئے کباب کھائے بغیر کیسے

Read more

مینگورہ تا مردان، براستہ جی ٹی روڈ

اپنے امیرِ کارواں اور اُن کے نائب، دعوت و تبلیغ کے منجھے ہوئے کاریگروں میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ ایک زمانے سے اس میدانِ کارِزار کے کاردار ہیں۔ ملک کا چپہ چپہ تو چھان مارا ہے اس دشت کی تبلیغی سیاحت میں، بیرونِ ملک بھی درجنوں ’کافروں‘ کو مسلمانوں کے حسنِ اخلاق اور ایمانداری کا چکمہ دے کر مشرف بہ اسلام کروا چکے ہیں۔ دونوں خوش مزاج اور زندہ دل بندگانِ خدا میں سے ہیں، ۔ ہم میں اور اُن

Read more

مینگورہ کا تبلیغی مرکز: خود سے جنگ؟

مینگورہ پش اور جی ٹی روڈ کے اوڈیگرام بائی پاس پر تین کلومیٹر کے فاصلے پر ، برلبِ دریا ایک زرخیز قصبہ واقع ہے، تختہ بند نام ہے جس کا ۔ عرصہ پہلے یہ زرعی تحقیقاتی سنٹر اور اب اِس کے نواح میں واقع تبلیغی مرکز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پہلی دفعہ یہاں ’قدم رنجہ فرما‘ رہے ہیں، سو اولین فرصت میں پورے عمارت کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔ ساٹھ ستّر کنال زمین پر پھیلے ہوئے اِس مرکز

Read more

ہے ’گشت‘ کا جہان اور

چھوٹے سے ٹریولنگ بیگ کو کندھے کا زیور بنائے گھر کے اکلوتے ’صدر دروازے‘ کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں تو سب سے پہلے موبائل فون کے سمارٹ واچ میں وقت کی رینگتی ہوئی سوئیوں پر نگاہ ِ ناز ڈالتے ہیں۔ ایک پُرکشش اور چمک دار دن کا سوا بجنے والا ہے لیکن سورج سوا نیزے پر نہیں۔ ’کاتک‘ میں سورج بڑا ’بُردبار‘ ہوتا ہے۔ موبائل ہی کے سکرین پر دن جمعرات، تاریخ پچیس، مہینہ اکتوبر اور سال دو ہزار

Read more

قلم و قرطاس کا قلندر

اپنے وادیٔ سوات میں، پشاور جی ٹی روڈ پر بری کوٹ ٹاؤن سے تین چار کلومیٹر آگے لنڈا کی چیک پوسٹ کے سنگم اور دریائے سوات کے دیار میں دو زندہ و تابندہ جڑواں بستیاں بڑی بے ہنگم طور پر پھیل رہی ہیں، نام ہیں کوٹہ اور ابوہا۔ انہیں بستیاں کہنا، لفظ بستی کی بے حرمتی ہے، کہ ان میں کل کی اُس بستی پن کی رونق آج کہاں؟ آبادی کے بے ربط و بے ترتیب بڑھوتری کے باعث دونوں

Read more

شانگلہ کے بچے اور امیر شہر

پچھلے سال جون کے مہینے میں گھر اور گرمی دونوں جنجالوں سے نجات پا کر، وادی سوات کے شمال میں واقع خوبصورت علاقہ شانگلہ کے لیئے رختِ سفر باندھا۔ شانگلہ ٹاپ سے آگے الپوری ٹاؤن کے گرد و نواح میں ایک چھپر ہوٹل میں سستانے کے لئے بیٹھ گئے۔ آس پاس مسحور کن نظاروں سے نظریں مسرور کرتے ہوئے یکایک تین بچوں کی طرف دھیان گیا جو سڑک کنارے پڑے ایک پتھر پر بیٹھے کن اَکھیوں سے ہماری طرف للچائی

Read more

سخی ارسلا خان

سال اُنیس سو چوالیس کے شروعات میں سلطنتِ برطانیہ کے زیرِ تسلط متحدہ ہندوستان کے شہر پشاور میں موچی عبدالمنان کے گھر پہلا بچہ ’معرضِ وجود‘ میں آیا تو پورے خاندان، اَڑوس پڑوس اور محلہ میں اتنی خوشیاں منائی گئیں گویا دنیا کی سطح مرتفع پر کوئی پہلا مرد کا بچہ ’نمودار‘ ہوا ہو۔ محلہ شیخ جنید آباد دورہ روڈ پشاور کے گلی کوچوں میں ڈھولکیوں، بینڈ باجوں اور بھنگڑوں کے شور شرابے میں زمینی سیارے پر نئے آدم زاد

Read more

فطرت کی آبروریزی

کم و بیش ڈیڑھ صدی قبل کی روداد ہے، مبلغ ایک سو اکتالیس سال ہوتے ہیں۔ جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ، تینوں براعظموں تک پھیلی خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ نگیں وطن لبنان کے شہر، بشاری میں مسیحی پادری خلیل بن سعد کے آنگن میں چھ جنوری اٹھارہ سو تراسی کے دِن آنکھ کھولنے والے بچے کو دنیا کے دُکھ درد دیکھنے، سننے اور سہنے کے لیے جو عمرِ عزیز، پروردگار کی طرف سے مستعار عطا ہوئی، وہ

Read more

لندن تا برمنگھم (آخری قسط) میرا وطن وہی ہے

عین اِس وقت لندن میں چوبیس اپریل دو ہزار چوبیس کی ’صبح کاذب‘ روبہ زوال ہے۔ سورج عالی مقام نے آف وائٹ بادل کا دبیز غلاف چہرے پر چڑھا دیا ہے، لیکن یہ برسنے والے بادل نہیں، تاہم ارض و سماء کے بیچ خطِ تنسیخ کھینچنے والے بادل ضرور ہیں۔ ٹھنڈی اور یخ بستہ ہواؤں کو مادر پدر آزادی ہے جو گستاخانہ حد تک ناک اور کانوں کا قبلہ مروڑتی ہیں۔ ایسے موسم میں یہاں کی جنتا من حیث القوم

Read more

لندن تا برمنگھم ( 9 ) باتیں، جہانِ شرق و غرب کی

کبھی پنگا لیا ہے آپ نے؟ نہیں لیا؟ ہم نے لیا ہے، کیسے لیا کب اور کیوں لیا؟ یہ ہے پتّے کی بات جو ہم بعد میں بتائیں گے۔ پہلے لندن میں گوروں کے لیل و نہار کا احوال بتاتے ہیں۔ جہاں آنیاں کیا، جانیاں کیا؟ لطافتیں اور نزاکتیں کیا؟ عیش و نشاط کی رنگین محفلیں کیا؟ ’نو من تیل‘ اور رادھائیں کیا؟ سوچتے ہیں، اِس مست و مسرور ماحول میں ہم بے چارے معصومیت کے کھوپے پہنے، تماشائیوں کی

Read more

لندن تا برمنگھم ( 8 ) برطانیہ: دور کے ڈھول سہانے

یادش بخیر! آکسفورڈ یونی ورسٹی میں روح پرور سرمن سننے کے بعد باہر نکلتے ہیں۔ سُندر شام کے سرمئی سائے کائنات پر چھانے کو پر تول رہے ہیں۔ مشرقی خطے میں طلوع اور مغرب میں غروب زندگی کی نوید دیتا ہے۔ شام ہونے کے انتظار میں سوکھ جانے والی تھکی ماندی مخلوقِ خدا کام کاج سے فارغ ہو کر جب باہر نکلتی ہے تو ان کے مرجھائے ہوئے چہروں پر تازگی کے آثار اُبھر آتے ہیں۔ شام، بلاشبہ ہر جگہ

Read more

7 کچھ تذکرہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک سرمن کا:لندن تا برمنگھم 

عین اِس وقت دریائے آکس کے کنارے آباد شہر آکسفورڈ میں بائیس اپریل دو ہزار چوبیس کی ابر آلود شام اپنی تمام تر رعنائیوں و حشر سامانیوں کے ساتھ پھیلنے کو ہے۔ شہر میں واقع دنیا کی نامی گرامی آکسفورڈ یونیورسٹی کی شارعِ عام پر واک کرتے کرتے ہلکی پھلکی بوندا باندی شروع ہو جاتی ہے تو راہ چلتی مخلوق کے سِر یک دم چھتریوں میں پنہاں ہو جاتے ہیں۔ کچھ لمحے بارش توقف کرتی ہے تو چھتریاں غائب اور

Read more

شاعرِ مغرب کے شہر میں: لندن تا برمنگھم (6)

”کون تھا ولیم شیکسپئر؟“ ہم دماغ کا دروازہ کھٹکھٹا کر ذہن سے سوال پوچھتے ہیں۔ پی ون کمپیوٹر کی طرح وہ ہلکی سی بونگی مار کر گُم ہو جاتا ہے، کچھ دیر بعد حاضر ہو کر بتاتا ہے، ”گوروں کا کوئی شاعر تھا، دسویں کلاس کے انگریزی کورس میں اُس کی روایتی نظم شامل تھی جس کی تشریح تم نے نری نقل کر کے لکھی اور امتحان میں سرخرو ہوئے۔“ اپنے کُند ذہن کو بات کرنے کا قرینہ ہے نہ

Read more

بابا شیکسپئر کے شہر میں، معاشقہ ایک منشی کا: لندن تا برمنگھم (5)

حالانکہ آٹھ بج رہے ہیں صبح پرنور کے، سورج کی اُجلی اُجلی شعاعوں سے لگتا ہے گویا دوپہر کے دو بجے ہوں۔ یہاں کا آسمان ہمارے والے کی طرح دھویں اور آلودگی سے اَٹا ہوا تھوڑی ہے، کہ سورج ہر وقت باپردہ نظر آئے۔ دن ہے جمعرات کا، مہینہ اپریل، سال دو ہزار چوبیس اور ہم برمنگھم سے سٹراٹ فورڈ ٹاؤن کی جانب رواں دواں ہیں۔ بابا شیکسپیئر کے جنم بھومی اور کنگ ایڈورڈ گرامر اسکول کا دیدار کرنے۔ جہاں

Read more

لندن تا برمنگھم ( 4 )

لندن کے بعد برمنگھم، فرنگیوں کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں کا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔ مسلمانوں میں ہر چوتھا پاکستانی ہے اور پاکستانیوں میں ہر پانچواں آزاد کشمیر بالخصوص میرپور کا ہے۔ یہاں جگہ جگہ مساجد اور مسلم کمیونٹی سنٹرز ہیں۔ یہاں کے لوگ صفائی کو نصف ایمان نہیں کہتے بلکہ عقیدے کی حد تک اس پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ وہ کچرا یا ردی کا ٹکڑا تو چھوڑیں، سگریٹ کا بچا ہوا فلٹر تک بھی باہر کہیں

Read more

لندن تا برمنگھم ( 3 ):  وہ ایک شخص دلربا سا

”کچھ ہی دیر میں آپ برمنگھم شہر پہنچنے والے ہیں، اگلے چوراہے پر سیکنڈ رائٹ لیں، پانچ میل سیدھے چلیں، ساٹھ میٹر بعد لیفٹ لیں۔“ سیٹلائٹ نیوی گیشن پر ہدایات دینے والی ’خاتونِ سوم‘ کی دِل نشیں آواز ابھی کانوں میں رَس گھولنے لگتی ہے کہ بیچ میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہمارے میزبان رحیم شاہ ’بھئی صیب‘ کی ریڈ اِلرٹ بھی ہماری سماعت سے ٹکراتی ہے۔ ”ہم آدھے گھنٹے میں اپنے میزبان کے گھر پہنچنے والے ہیں، تیاری پکڑیں۔“

Read more

لندن تا برمنگھم (2)۔

چار بندوں کا قافلہ لندن سے برمنگھم کی جانب رواں دواں ہے۔ چاروں کے چار اپنی اپنی دُھن میں مگن ہیں۔ درون کا ماحول یہ ہے کہ ایک بندہ ڈرائیونگ کے عمل کے ساتھ موسیقی کی سُریلی دُنیا میں منہمک ہے۔ دورانِ انہماک بقراطی انداز بناتے ہوئے فرماتے ہیں : ”موسیقی سُننے یا گنگنانے کے لئے کھانے کی طرح کوئی اوقات متعین نہیں، یہ تو ایک چلتی پھرتی کیفیت ہے جو جسم کو انرجی، فکر کو تازگی اور روح کو

Read more

لندن سے برمنگھم تک ( 1 )

تیرہ اپریل دو ہزار چوبیس، ہفتے کے دن کا سحرانگیز پہلا پہر پھیلنے کو ہے۔ لندن کے ”رمفرڈ کاؤنٹی“ میں بہار اپنے جوبن پر ہے۔ پودوں کی پناہ گاہوں میں پرندوں کے سُر سنگیت سے جو سماں بندھ رہا ہے، ہمارے قلم کی نوک میں وہ دَم کہاں کہ اس کی منظر کشی کر سکے۔ سورج بادشاہ غیر معمولی طور پر چمک رہا ہے۔ یہ بادشاہ، شاذ و نادر گھٹاؤں کا گھونگھٹ سرکا کر چہرہ مبارک کا دیدار کروانے کی

Read more

مالکوں کے دیس میں

ہم نے لندن میں بھائی رحیم شاہ کی معیت میں دریائے تھیمز کے کنارے پندرہ کلومیٹر کی مٹر گشت کی۔ دلچسپیوں کی کیا روداد سنائیں ہم۔ مبلغ چھ گھنٹے تک ہمارا اور دریا کا ساتھ رہا لیکن دل ہے کہ مانتا نہیں، والی کیفیت اب بھی ہے۔ ایک طرف دریا کی روانی اور اس میں کشتیوں کی بہار، دوسری طرف انواع و اقسام دریا دل گوریوں کی فراوانی اور تیسری طرف ہماری لاغر کمریا کی پشیمانی، جو اَب کوئی سربستہ

Read more

محمد اقبال خان عیسیٰ خیل (ایڈووکیٹ) کی یاد میں

سولہ آنے سچ کہیں تو یہ کہ عمر بھر کوئی ڈھنگ کا کام ہی نہیں کیا، سِوائے اِس کے کہ بنجاروں کی طرح گھومے گھامے۔ اونچی اونچی چٹانوں پر چڑھ دوڑتے، چوٹی پر پہنچتے تو دم لیتے۔ یہ گئے گزرے دنوں کی باتیں ہیں جن پر فخر کرنے کی کوئی گنجائش تو خیرنظر نہیں آتی لیکن لکھنے میں حرج کیا ہے۔ سواری میں صرف بیچارے گدھے کو استثنٰی دے رکھا ہے کہ اُس کا اپنا لوڈ بہت ہے لیکن گدھا

Read more