مشی خان کی چترال بازار میں مست خرامیاں


کہاں اور کیوں پینی باجی۔ ”آپ کی جیب میں پرنس محی الدین کاجو کارڈ ہے یہ کب کام آئے گا؟ میں قلعے کے اندر محل میں جانا چاہتی ہوں۔ جہاں اس جیالے مہم جو اور بہادر پرنس سیف الرحمٰن کی پری پیکر محبوبہ ہے جو دیر کے نواب کے کسی بیٹے کی منگیتر تھی۔ وادی کی سڑکوں پر سپورٹس کار دوڑانے اور ان خوفناک پہاڑوں میں جہاز اُڑانے والے اس شہزادے نے سینہ تان کر کہا تھا۔ وہ میری پسند ہے۔ اسے کوئی مجھ سے کیسے چھین سکتا ہے۔ اور اس کی اس بات پر ریاست دیر اور چترال ایک دوسرے کے مد مقابل آ کر کھڑی ہو گئی تھیں۔ مجھے تو اُسے دیکھنا ہے اس سے باتیں کرنی ہیں۔

پرنس محی الدین سے ہی تو ملنے جا رہی ہوں۔ انہوں نے میری دل گرفتگی کم کرنے کی کوشش کی اور جب ہم قلعے کی کچی دیواروں کے ساتھ باہر جانے والی سڑک پر رواں تھے ہمیں وہ جرمن ملے تھے انہیں بھی اُسنیلی کچور آنکھوں والے سے شکایت تھی۔ ہولفلنر روسومئیر۔

Rosemaireاور Holfelnerسے کافی دیر ہاکی اور سیاست پر باتیں ہوئیں۔ میرے چہرے پر بشاشت آئی کہ میں ایک نئے منظر میں داخل ہوئی تھی۔ زرگراندہ محلے میں چترال کی اہم سیاسی شخصیت پرنس محی الدین کی سرگرمیوں کا مرکز ایک لمبی چوڑی عمارت اور لان کی صورت سامنے تھا۔

یہاں خدام بھی بہتیرے تھے اور چائے پانی کی بھی فراوانی تھی۔ پر صاحب کے بارے میں معلومات کی بہت کمی تھی۔ سیاست اسی کا نام ہے۔ لان میں بیٹھے ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی جب گیٹ سے ایک لینڈ کروزر اندر آئی اور اس میں سے ایک ہنستا مسکراتا دلدار سا لڑکا برامد ہوا۔ جو شندھور ٹاپ سے آ رہا تھا۔ لمبے اور دشوار گزار سفر کی گرد لینڈ کروزر اور جوان چہرے پر چھائے ہونے کے باوجود دونوں جوانی کی بشاشت اور تازگی سے پور پور بھرے پڑے تھے۔

پروین سے تھوڑی دیر گپ شپ۔ بابا کے بارے میں مکمل لا علمی۔ اب یہ پروین کی خوش قسمتی کہ جب واپسی کے لیے نکل رہے تھے پرنس محی الدین کی پجارو زن سے پاس آرکی اور پھر الہ دین کے طلسمی چراغ کی طرح گاڑی کا مسئلہ حل ہو گیا۔ اور جب چترال کا چہرہ تاریکی کی زلفوں سے گہنا رہا تھا ہماری مارچ پاسٹ دینین ریسٹ ہاؤس کی طرف رواں دواں تھی۔

چترال ائر پورٹ پر مشی خان کی آمد لوگوں کے لیے جیسے خوشبو کا ایک خوشگوار جھونکا تھی۔ اب ایسے میں اظفر جیسے نوجوان اسسٹنٹ کمشنر کا ائر پورٹ پر گھومنا اور پینی باجی کو خوشدلی سے گاڑیاں فراہم کرنا سمجھ میں آتا تھا۔

پینی باجی نے لمبا سانس بھرا تھا اس سانس کے ہر تار میں شکریے کے جذبات تھے۔ کہ ان کا عملہ آگے پیچھے کے دونوں جہازوں میں پہنچ چکا تھا۔ ریسٹ ہاؤس میں اُس قلانچیں بھرتی شوخ و شنگ ہرنی کو چائے پینی دوبھر ہو گئی تھی کہ وہ فی الفور بازار جا کر اپنے یار دوستوں کو فون کرنا چاہتی تھی۔ چیو پل سے اتالیق بازار کے آخری کونے تک مشی خان مشی خان کی آواز کی بھرپور گونج تھی۔ ساتھ نشیلی آنکھوں اور بونے سے قد والی زیب چودھری بھی تھی۔ شاہی بازار کے کارنر سٹور پر کال پر کال ہو رہی تھی اور پینی باجی کا دل دھڑک دھڑک پڑتا تھا کہ بل معلوم نہیں کتنا آئے گا۔

” ارے آپ چپکی رہئیے ادھر اُدھر کھسک جائیے کرنے دیں انہیں خود پے منٹ“ میں نے ذرا تسلی دی۔

میں ایک جنرل سٹور میں بیٹھی تھی جب پینی باجی چنگیر میں تنوری نان پر گرم گرم تکے لیے میرے پاس آئیں۔ کیسا ممتا بھرا لہجہ تھا ان کا جب وہ بولیں ”لو تم کھاؤ“ ۔

ہم دونوں جب بُرکیاں توڑ توڑ کر کھا رہی تھیں انہوں نے بتایا تھا پورا عملہ سیخ کبابوں کی دکان پر کھڑا موج میلے کر رہا ہے دکاندار کی تکوں کی پرات خالی ہو گئی ہے۔ میں بہت خوش ہوں آخر ان لوگوں کی کمائی کا ذریعہ ہم جیسے لوگ ہی تو ہیں۔

مشی خان کے لیے اُن کا سُکڑتا دل مقامی غریب لوگوں کے لیے کیسا دریا بنا ہوا تھا۔

سچی بات تھی کہ سارے بازار میں تھرتھلی مچی ہوئی تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر اظفر کی جیپ سڑکوں پر دندناتی پھرتی تھی۔ مشی خان اور زیب چودھری سروں پر ہیٹ دھرے جانے کہاں کہاں خجل ہوتی پھر رہی تھیں۔ ڈرامے کا ہیرو ظل عاطف لونگ بوٹس اور واسکٹ کی تلاش میں دکانوں میں کہیں گم تھا۔

ایک بج رہا تھا اور چترال سے نکلنے کی مجھے کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔ شاہی قلعہ روڈ کے کونے پر کھڑی میں اس تماشے کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ”آج کا دن بھی ضائع ہی ہوا ’‘ کے احساس پر کڑھ رہی تھی۔ چترال کی یہ دوپہر 35 سینٹی گریڈ کے نیچے جل بھن رہی تھی۔ جب پروین گروسری کی دکان سے نکلی۔ قریب آئی اور بولی۔ پشاور ٹی وی کی آرٹسٹ عفت صدیقی جس نے ڈرامے میں کالاشی بوڑھی عورت کا کردار کرنا تھا ابھی تک نہیں پہنچی۔ ٹیم نے تمہیں یہ کردار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مجھے یوں محسوس ہوا جیسے پروین کے ہاتھوں میں سنہری و سرخ پنی سے منڈھی اور کروشیے کی لیس سے سجی رنگین ڈنڈی والی پنکھیا ہے جس نے مجھے ہوا دینی شروع کردی ہے اور حرارت میں ڈوبا میرا وجود یک دم لطیف سی خوشگواری محسوس کرنے لگا ہے۔ اس وقت میں کہیں کسی گھی شکر والی پرات پر بیٹھی ہوتی تو پروین کا منہ میٹھے سے بھر دیتی۔ مجھے نیلی چھت والے پر بے اختیار ہی بہت پیار آیا۔ نیاز مندی اور عاجزی کا گداز پن میرے قلبی محسوسات کو رقیق کرنے لگا۔

مدتوں سے دماغ میں اظہار خود نمائی کا ایک کیڑا کلبلاتا رہا ہے۔ جو یقین دلاتا تھا کہ اگر گلوکاری کے میدان میں کود وگی تو جھنڈے گاڑ دو گی اور اگر اداکاری کرو گی تو کشتوں کے پشتے لگاتی ہوئی شہرت کے چوبارے کی ممٹی پر جا بیٹھو گی۔

تو کیا اب۔
میں نے سر جھٹک دیا تھا۔

Facebook Comments HS