سویلین بالادستی! مگر کیسے؟
اکثر سیاسی محفلوں میں ایک جملہ سننے کو ملتا ہے کہ اس ملک میں سویلین بالادستی جب تک قائم نہیں ہوگی تب تک ملک میں جمہوریت نہیں پنپ سکتی اور جمہوریت کے پنپے بغیر ملک میں مساوی ترقی ممکن نہیں۔ یہاں میری کچھ گزارشات ہیں اگر کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی ایکٹوسٹ مجھے مدلل جواب دینا چاہے تو ضرور دے سکتا ہے۔
پہلے میں آپ کو ایک قصہ سنانا چاہتا ہوں میں انتخابی مہم کے دوران میں ایک بزرگ کے پاس ووٹ مانگنے کے لیے گیا تو ان بزرگوں نے میری پوری بات سنی میری عزت کی مشروب پیش کیا اور آخر میں بولا کہ ہم ووٹ ادھر ڈالیں گے جدھر ہمیں ”حاجی صاحب“ کہیں گے، میں اس جواب پر سٹپٹا گیا اور ایک جذباتی نوجوان کی طرح غصے سے اُٹھ کھڑا ہوا کہ اس حد تک ذہنی غلامی والے شخص کے ساتھ کیا گفتگو کرنی مگر مجھے ان بزرگ نے گلے لگایا اور کہا کہ بیٹھو میری بات غور سے سننا کچھ گارنٹیاں میں مانگتا ہوں مجھے اگر دے سکتے ہو تو ووٹ تمہارا، مجھے ان بزرگ کا لہجہ بہت مسحور کُن لگا اور میرے تجسس نے مجھے غور سے ان کی بات سننے پر مجبور کر دیا۔
کہنے لگے میں تمہیں، تمہارے والد اور تمہارے دادا کو بھی جانتا ہوں اور میرے بزرگوں کے تمہارے دادا کے ساتھ کیسے تعلقات تھے تمہیں اندازہ نہیں آج بھی میں اپنے والد کی قبر پر جاؤں اور تمہارے دادا کی قبر پر دعا نہ کروں تو مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے والد کی نافرمانی کر رہا ہوں لیکن بیٹا بات یہ ہے کہ تم بہت اچھی باتیں کرتے ہو دل کو لگتی ہیں لیکن بدقسمتی سے جس آئین اور قانون کی بات تم کر رہے ہو اس پر عملدرآمد کی ضمانت مجھے دے دو میں تمہیں سپورٹ کرتا ہوں۔
میرا بیٹا بھرتی ہونے کے لیے جاتا ہے آئین یہ کہتا ہے کہ میرٹ پر بھرتی ہوگی مگر میرا بیٹا میرٹ پر پورا ہونے کے باوجود بھی بھرتی نہیں ہو سکتا حاجی صاحب کا فون جاتا ہے میرا بیٹے کی نوکری لگ جاتی ہے اب مجھے بتاؤ میں حاجی صاحب کی عزت کروں یا تمہارے اس آئین کی جس کی تعریفیں کر کے تم زمین آسمان ایک کیے ہوئے ہو؟ رات کو جب میرا بیٹا دیر سے ڈیوٹی سے گھر واپس لوٹتا ہے تو آئین اور قانون کے مطابق ریاست میرے بیٹے کی حفاظت کی ذمہ دار ہے لیکن اس ملک میں کوئی کسی عام آدمی کی حفاظت کا ذمہ دار نہیں ہے اس لیے رات کو ڈکیتوں اور دشمنوں سے بچنے کے لیے اپنی حفاظت کے لیے میرا بیٹا بغیر لائسنس کے ہتھیار رکھتا ہے کیوں کہ ریاست ہم جیسوں کو اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار کا لائسنس نہیں بنا کر دیتی جبکہ دو نمبر اور قبضہ گروپ والوں کو ریاست پوچھتی نہیں اور ایک شریف شخص کو رات کو ناکے لگا کر پولیس روک کر تفتیش کرتی ہے اور شریف آدمی پر آئینی رعب جھاڑتی ہے، حاجی صاحب کے کارندے کی کال جاتی ہے اور میرے بیٹے کو پولیس چھوڑ دیتی ہے اور یوں میرا بیٹا خیر و عافیت سے گھر پہنچ جاتا ہے اب مجھے بتاؤ کہ میں کس کی سنوں اور کس کی عزت کروں تمہارے آئین و قانون کی یا حاجی صاحب کے بنائے راج کی؟
مجھے ضمانت دے دو کہ تم آئین اور قانون کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کر دو گے تو میں حاجی صاحب کی مخالفت میں تمہیں ووٹ دے دوں گا۔ مجھے اس بات کی ضمانت دے دو کہ آج حاجی صاحب تمہارے مخالف دھڑے میں ہیں میں ان کی مخالفت مول لے کر تمہارے قافلے میں شامل ہوتا ہوں میں اور میرا پورا خاندان حاجی صاحب کے عتاب کا شکار ہوتے ہیں مجھے ضمانت دو کہ کل تمہاری پارٹی اسی حاجی صاحب کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے ہم سب کے سروں پر لاکر مسلط نہیں کردے گی۔
میرے پاس ان کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا اور نہ ہی ان کو دینے کے لیے کوئی ضمانت تھی میں نے ان کے ساتھ اختیار کیے گئے رویے پر معافی مانگی اور خوشدلی کے ساتھ واپس آ گیا لیکن ان کی ان باتوں نے مجھے سوچنے کا ایک نیا انداز دیا اور پھر میں نے دنیا کے ان تمام ممالک جن کی افواج بھی مضبوط ہیں مگر وہاں کے اہم ترین فیصلے سویلین قیادت کے پاس ہوتے ہیں ان کے سیاسی سٹرکچر کا بغور مطالعہ کرنے کی کوشش کی تو کچھ واضح فرق نظر آئے جس کا ہمارے سیاسی سٹرکچر میں وجود ہی نہیں ہے۔
سب سے پہلا اور واضح فرق سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر موروثیت کے بجائے جمہوریت ہے، دوسرا بڑا فرق کرپشن ان ممالک میں بھی ہے مگر ادارہ جاتی کرپشن اور سیاست دانوں کا مجموعی طور پر کرپشن کو پروموٹ اور ڈیفینڈ کرنے کا رواج نہیں، تیسرا واضح فرق سیاسی جماعتیں مجموعی طور پر انتخابات کو منصفانہ بنانے کے عمل میں شریک ہوتی ہیں اور ایسے انتخابات جن میں دھاندلی کے الزامات لگیں ان الزامات کو سنجیدہ لیا جاتا ہے تاکہ اگلے انتخابات میں وہ غلطیاں نہ دہرائیں جائیں جبکہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں جب حکومت میں ہوتی ہیں تو دھاندلی کرنے والوں اور کروانے والوں کی سپورٹ کرتی ہیں اور جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو واویلا مچاتی ہیں۔
ایک اور واضح فرق (کو ایگزسٹنس ) فارمولے پر سنجیدگی سے عمل کرنا ہے یعنی ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے کے بجائے صحتمندانہ مقابلہ کی فضا کو پروموٹ کیا جاتا ہے اور سسٹم میں اصلاحات کا عمل بتدریج جاری رکھنے، ریاستی معیشت کے لیے لانگ ٹرم پالیسیاں بنانے اور عوامی مفادات کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں کی سیاسی جماعتیں اس ماحول سے کوسوں دور ہیں اور نہ ہی اس طرف آگے چلنے کو تیار ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جن اداروں کا ملکی سیاست پر زیادہ کنٹرول ہوتا ہے وہ نہایت ہی پیشہ ورانہ بنیادوں کے حامل ہیں، ان کی بھرتیوں سے لے کر تقرریوں اور ترقی کا معیار خالصتاً میرٹ پر مبنی ہے ہر ترقی کے لیے انھیں پہلے کچھ کورسز کرنے پڑتے ہیں مکمل چھان بین ہوتی ہے اعلی عہدیداروں کے اثاثوں کی چھان بین کا انٹرنل سسٹم موجود ہے اگر کوئی کرپشن ہوتی ہے تو وہ ریاست کے سویلین اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے دوران ہوتی ہے، اور اسے چھپانے کے لیے بھی ریاست کے سویلین سٹرکچر کی کمزوریوں سے استفادہ کیا جاتا ہے میں یہاں بالکل بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ ان اداروں کے سربراہان کی سویلین معاملات میں مداخلت بالکل جائز ہوجاتی ہے، کوئی بھی سیاسی کارکن کسی بھی صورت ملکی سیاست میں ملکی یا غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کرتا لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ معاملات صرف زبانی سٹینڈ لینے سے حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے دنیا کے تقاضوں کو سمجھنا ہو گا، بدلتے حالات کا ادراک کرنا ہو گا اور یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ عوام کو آپ نے ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید دنیا کی لَت لگا دی ہے اور اب وہ اپنے لیے بھی وہی سہولیات اور خصوصیات مانگیں گے جو باقی دنیا میں عوام کو میسر ہیں اس لیے سماج کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ از حد ضروری ہو چکا ہے اور نیا عمرانی معاہدہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ریاست ہو یا قوم غلطیاں ہوتی ہیں ان غلطیوں کا اندازہ ہونے پر انھیں سدھارا جاتا ہے نہ کہ ان غلطیوں پر اڑ جایا جائے۔
ازل سے یہی وتیرہ ہے کہ جو اقوام، مخلوقات ریاستیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوئیں انھیں ان سے بہتر نے ریپلیس کر لیا ہے نہ طاقت سدا رہتی ہے نہ حُسن اور نہ ہی اقتدار لہٰذا طاقت اور اقتدار کا بہترین استعمال کریں تاکہ خلق خدا آپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھ سکے اور ہماری ریاست اور ریاست کے ادارے بھی دنیا میں اپنا وہ مقام حاصل کرسکیں جس کے لیے یہ ملک بنا تھا


