خاص قوم اور خاص نسل


زندگی تجربات سے بھری پڑی ہے اور ہمارا یہ تجربہ ہے کہ کچھ لوگ زندگی کے کسی بھی تجربے کی زد میں نہیں آتے، نہ اچھے نہ برے نہ تلخ اور نہ ہی خوشگوار۔ موت تک پیدائشی رویہ ہی اپناتے ہیں۔ یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا تجربہ ہوتا ہے۔ کوئی اور نہیں ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کسی تجربے سے کچھ بھی نہ سیکھا۔ ایسا ہم نے جان بوجھ کر نہیں کیا بلکہ ہمیں ایسی نابغہ روزگار اور عجوبہ عالم بنانے اور اس بے شعوری سانچے میں ڈھالنے کے لئے بہت سا وقت اور سرمایہ لگایا گیا۔

ٹوٹے اور قابل فروخت قلموں والے نام نہاد صحافیوں اور ٹیڑھے سروں والے جاہل دانشوروں نے اپنا پورا گروی شدہ ضمیر خرچ کر کے ہمیں تیار کیا ہے۔ ایسی بھیڑ جس پر اتنی محنت کی گئی کوئی بے کار اور غیر اہم چیز نہیں ہے بلکہ حکمران طبقہ کی چہیتی اور منظور نظر چیز ہے۔ ہمارے حکمران طبقے کو ایسی ہی قوم پسند ہے جو دانش مندی میں شیخ چلی کو پیچھے چھوڑے اور تابعداری میں ایاز بھی اس کا پانی بھرے۔ دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں اس نوع کی قلت ہو مگر ہمارا ملک تو اس نسل سے لبالب ہے۔

یہی وہ خاص قوم ہے جس کو نہ کبھی غم اور نہ ہی خوشی پریشان کرتی ہے بلکہ یہ دکھ اور سکھ کو ورطہ حیرت میں ڈال چکی ہے کہ جو بھی آئے یہ ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ کراچی سے آگے جزیروں سے لے کر خیبر سے آگے افغان بارڈرز تک پورا ملک اس قوم سے مالا مال ہے۔ اب ہمارے پاس ہم ہیں اور ہم خود کو کسی سے کم نہیں سمجھتے بلکہ ہمارے اندر ایک قوم تو ایسی بھی ہے کہ جو اپنے علاوہ باقی سب کو احمق اور بے وقوف سمجھتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ آج تک کوئی عقل کی بات نہ سمجھ سکی نہ کہ سکی اور نہ ہی کر سکی۔

یہ قوم کوئی صرف بائیس سالہ جدوجہد سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس خطے کا ہزاروں سال کا یہی قصہ ہے کہ جو آیا وہ ہی سمایا۔ ہم نے اسی کو سر پہ بٹھایا جو باہر سے آیا اور جو اپنا ہو گیا مقامی کہلانے لگا اسے گھٹیا کمتر سمجھا اور جانا۔ ہماری آبائی نسلوں نے اتنے حکمران قبول کیے اور ایسے ایسے حکمران قبول کیے جو حکمران کہلانے کے قابل ہی نہیں تھے مگر ٹیڑھے سروں والے مشیروں اور بکے قلموں اور ٹوٹے ہاتھوں والے دانشوروں نے اس نسل کے سامنے انہیں مسیحا اور نجات دہندہ بنا کر پیش کیا۔

اس طرح ہر اجنبی حکمران کی پذیرائی کرنا اس بھیڑ کی جبلت بن گیا اور بہت سے نظام سقہ یہاں بادشاہی کرتے رہے۔ آج بھی وہی دور ہے۔ انگریز نے ادھر کا رخ ڈرتے ڈرتے کیا مگر یہاں آ کے حیرت زدہ تھا کہ اتنی پذیرائی تو اسے اپنے ملک میں کبھی نہیں ملی جتنی یہاں۔ یہ بھیڑ تو اپنی آل اولاد سے بھی زیادہ انگریز کی وفادار ہے۔ انگریز بھی بے وفا نہیں تھا اس نے بھی انہی خوشامدیوں کو خوب نوازا اور نواب، مخدوم، میر، سردار، تمن، وڈیرہ بنا کے استعمال کیا اور عوام کو کبھی سر نہ اٹھانے دیا۔

اسے جب بھی ضرورت پڑی اس نے انہی اپنے نمک خواروں کو استعمال کیا اور اپنی حکومت کو دوام بخشنے کے لئے جو بھی تبدیلی لانا چاہی لائے۔ آج بھی وہی لاٹ جو اب الیکٹیبلز کہلاتی ہے حکومتیں گرانے اور بنانے کا محور ہے۔ وہ محدود چند لوگ جو صدا سے قابل خریدوفروخت رہے ہیں بیچ دیے جاتے ہیں یا خرید لئے جاتے ہیں اور اپنی حکومت بنا لی جاتی ہے۔ اس طبقہ کو پاکستان سے کچھ مطلب یا غرض نہیں ہے کیونکہ ان کا اوڑنا بچھونا تو وہ مغربی ممالک ہیں جہاں ان کے محل جائیدادیں اور اولادیں ہیں یہاں پر تو وہ پاکستانی بھیڑوں کی اون، دودھ اور گوشت جمع کرنے کے لئے حکومت کرتے ہیں اور بچارے اپنی جمع پونجی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے باہر بھیجتے رہتے ہیں۔

یہاں اگر کوئی چیز وافر مقدار میں دستیاب ہے تو وہ وقت ہے جو انہوں نے عوام کو فراہم کر دیا ہے۔ ہم بھیڑوں کے پاس خود کو موٹا تازہ کرنے اور اون گوشت دودھ بڑھانے کے لئے وافر وقت موجود ہے جو کہ ان کے لئے سب سے بڑی دولت ہے۔ وقت کی دولت ہی تو ہمارے پاس وافر مقدار میں موجود ہے یوں کہیں کہ یہ واحد چیز ہے جو ہم آئی ایم ایف سے بھیک کے طور پر نہیں مانگتے بلکہ جسے بھی چاہیے اسی کے لئے بے شمار لٹانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

وقت کی کمی ہو بھی کیوں؟ کمی تو اس کے پاس ہوتی ہے جو اس پر غور کرتا ہے اور اسے اپنے استعمال میں لاتا ہے۔ ہم نے کبھی نہ اس بات پر غور کیا ہے اور نہ ہی وقت کی فراوانی اور اس کے اصراف و ضیاع پر غرور کیا ہے! اسے استعمال کر کے فربہ جسم ہونے میں مصروف رہتے ہیں تاکہ ہمارے وڈیروں میروں سرداروں کی موجیں چلتی رہیں۔

Facebook Comments HS