بھارتی موسیقی میں انگریزی اور پاکستانی موسیقی کی نقل


موسیقی میں سرقے سے مراد کسی دوسرے فن کار کے گانے، دھن، شاعری یا موسیقی کو بغیر اصل فن کار کی اجازت کے ہو بہ ہو یا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اپنے کام میں استعمال کرنا ہے۔ موسیقی کی سرقہ بازی کوئی نئی روایت نہیں۔ یہ ایک قدیم اور عالمی گیر حقیقت ہے۔ تاریخی طور پر موسیقی مختلف طرزوں اور موضوعات کو مستعار لینے اور اپنانے کے ساتھ ہی ارتقا پذیر ہوئی ہے۔ بیسویں صدی سے قبل مجموعی طور پر موسیقی کو کاپی کرنا سرقے کی بجائے اصل موسیقی کے حضور خراجِ عقیدت پیش کرنے یا اس سے اثر لینے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ مگر بیسویں صدی میں کاپی رائٹ قوانین کے نفاذ کے بعد اسے انٹیل ایکچوئل پراپرٹی رائٹس کے تناظر میں قابلِ گرفت اور مذمت قرار دیا گیا۔ اس حوالے سے ہم یہاں عالمی سطح اور خاص طور پر بھارت کی میوزک انڈسٹری میں سرقے کی وارداتوں کا اجمالی جائزہ پیش کریں گے۔

مغربی موسیقی کی صنعت میں، اس طرز کے سرقے کی مثالیں بہت سے معروف مقدمات کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہیں۔ مثال کے طور پر، جارج ہیریسن کے 1970 میں ریلیز ہونے والے گانے My Sweet Lord پر The Chiffons کے 1963 میں ریلیز ہونے والے گانے He is So Fine سے مماثلت کا الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا۔ 1976 میں اس مقدمے کو نمٹاتے ہوئے عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ہیریسن نے He is so Fine کو لاشعوری طور پر کاپی کیا تھا۔ بالآخر اس مسئلے کے حل کے لئے ہریسن کو اس گانے کے حقوق خریدنا پڑے۔ یہ کیس لاشعوری سرقہ کے تصور کو اجاگر کرتا ہے اور تخلیقی عمل میں سرقہ اور اثر influence کے درمیان موجود باریک لکیر کو واضح کرتا ہے۔

اسی طرح Robin Thicke اور Pharrell Williams کے گانے ”Blurred Lines“ کو Marvin Gaye کے گانے ”Got to Give It Up“ کی نقل کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مقدمے کا فیصلہ Gaye کی فیملی کے حق میں سناتے ہوئے جیوری نے دوسرے فریق پر 7.3 ملین ڈالر کا ہرجانہ عائد کیا جو بعد ازاں اپیل کے بعد کم کر کے 5.3 ملین ڈالر کر دیا گیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس گانے میں رابن اور فیریل نے ماروِن کے گانے کی کوئی لائن یا لے کاپی نہیں کی تھی، بلکہ ان کے خلاف فیصلہ Got to Give It up گانے کے مجموعی تاثر اور سٹائل سے انپسائریشن لینے کی کی بنیاد پر دیا گیا۔

مغرب سے ایک اور مثال وہ مشہور مقدمہ ہے جس میں Led Zeppelin کے ”Stairway to Heaven“ کو، Spirit بینڈ کے 1968 کے انسٹرومینٹل ”Taurus“ کی نقل کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ ”Stairway to Heaven“ کا ابتدائی گٹار ”Taurus“ سے کاپی کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت دونوں گانوں کی کمپوزیشنز کے درمیان مماثلت پر مرکوز تھی۔ مارچ 2016 میں، جیوری نے Led Zeppelin کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں گانوں میں مماثلت سرقہ کے زمرے میں نہیں آتی تھیں۔ اس فیصلے کَے خلاف امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی مگر 2020 میں امریکی سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت سے انکار کر دیا، جس سے جیوری کا فیصلہ برقرار رہا۔ یہ فیصلہ موسیقی میں سرقہ ثابت کرنے کے معیارات طے کرنے کے ساتھ ساتھ اصل کمپوزیشن کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

عالمی منظرنامے سے نظریں ہٹاتے ہوئے جب ہم پاکستان اور ہندوستان کی میوزک انڈسٹری کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ دونوں ممالک کی موسیقی میں مستعمل بیرونی دھنوں، حتی کہ گیتوں میں مستعمل شاعری تک کے سرقے کی عادت بہت پرانی ہے۔ بھارتی موسیقی کی صنعت کا سرقہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ بالی ووڈ، جو بھارتی موسیقی کا مرکز ہے، نے کئی مواقع پر بین الاقوامی اور علاقائی گانوں کا چربہ اپنی فلموں میں استعمال کیا۔ بھارتی موسیقی میں ایسے سرقے کی سب سے پرانی مثال فلم ارادھنا ( 1969 ) کے گانے ”میرے سپنوں کی رانی“ کی ہے۔ یہ گانا امریکی مغربی لوک گیت ”Oh My Darling، Clementine“ سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔

اسی طرح فلم ایجنٹ ونود ( 2012 ) کے گانے ”پیار کی پنگی“ کو ایرانی بینڈ باروبکس کے گانے ”Soosan Khanoom“ سے ملتا جلتا قرار دیا گیا۔ ایک اور نمایاں مثال انو ملک کا گانا ”کہو نہ کہو“ (فلم مرڈر، 2004 ) ہے، جو 2000 میں جاری ہونے والے عربی گانے ”Tamally Maak“ (امر دیاب) کی نقل ہے۔

ایس ڈی برمن اور آر ڈی برمن کے بہت سے مشہور نغمے انگلش دھنوں سے متاثر یا ان کی نقل ہیں۔ مثال کے طور پر فلم یادوں کی بارات ( 1973 ) کا مشہور گانا، چرا لیا ہے تم نے جو دل کو، Walter Scharf کے گانے ”If It ’s Tuesday، This Must Be Belgium“ کی دھن پر ہے جو 1969 میں ریلیز ہوا۔ ایس ڈی برمن کی چربہ سازی کی مثال میرے سپنوں کی رانی والے گانے کے تذکرے پر پہلے ہی اوپر دی جا چکی ہے۔

آر ڈی برمن کی ایک اور دھن، جو فلم شعلے ( 1975 ) کے لئے لکھے گئے گانے محبوبہ محبوبہ گانے میں استعمال ہوئی، اصل میں Say You Love Me by Demis Roussos ( 1974 ) کی دھن کا چربہ ہے۔ آر ڈی برمن صاحب کی دھن میں بنا ایک اور شاہ کار نغمہ جو فلم پیار کا موسم ( 1969 ) کے لئے لکھا گیا، تم بن جاؤں کہاں، بھی ایک امریکی لوک گیت The Yellow Rose of Texas کی دھن سے انسپائرڈ ہے۔

موسیقی کی دھنیں چرانے میں فقط ایس ڈی برمن یا آر ڈی برمن ہی ملوث نہیں، بلکہ اس فسانے میں اور بڑے ثقہ نام بھی آتے ہیں۔ بپی لہری، ہری اوم ہری بہ طرزِ One Way Ticket by Eruption اور جمی، جمی، آجا آجا بہ طرزِ ”T ’es OK“ by Ottawan کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہیں۔ دیگر نام، انو ملک، ندیم شراون، شنکر جے کِشن، اور پریتم کے ہیں۔ جنہوں نے انگلش گانوں کی دھنیں اپنے میوزک میں استعمال کیں۔

بھارتی موسیقی کی صنعت نے نہ صرف انگلش، عربی، اور ایرانی میوزک سے استفادہ کیا ہے بلکہ بہت سے مشہور پاکستانی گیت بھی ہو بہو نقل کیے یا ان کی دھنیں اپنے گانوں میں استعمال کیں۔ مثال کے طور پر انڈین فلم بازی گر کا گانا ”چھپانا بھی نہیں آتا“ ، مہدی حسن خان صاحب کے گائے گانے، ”جس دن سے دیکھا ہے تم کو صنم“ کی دھن پر بنا ہے۔

ایک اور انڈین گانا ”گھنگھرو ٹوٹ گئے“ جسے فلم دھرم کانتا ( 1982 ) کے لئے آشا بھوسلے نے گایا، اصل میں پاکستانی فلم ناز ( 1969 ) میں گائے مالا جی کے گانے ”گھنگھرو ٹوٹ گئے“ کا چربہ ہے۔

انڈین فلم انڈسٹری نے نصرت فتح علی خان کی بے شمار قوالیوں یا گانوں پر بھی چربہ سازی کے دوران ہاتھ صاف کیا ہے۔ نمونے کے طور پر چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔ انڈین فلم یارانہ ( 1995 ) کا گانا ”میرا پیا گھر آیا“ ، نصرت فتح علی خان کی قوالی کا براہِ راست چربہ ہے جس کے الفاظ میں تھوڑی بہت ردو بدل کر کے استعمال کیا گیا ہے۔ نصرت خان کی ایک اور مشہور قوالی ”دم مست قلندر مست مست“ کی دھن کے چربے سے انڈین فلم مہرا کا گانا، ”تو چیز بڑی ہے مست مست“ بنایا گیا۔

خان صاحب کا ایک اور گانا، ”کِنّا سوہنا تینوں رب نے بنایا“ ، جو انہوں نے 1991 میں ریکارڈ کروایا تھا، کا چربہ انڈین فلم راجہ ہندوستانی ( 1996 ) میں ”کتنا پیارا تجھے رب نے بنایا“ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے، جس کی موسیقی ندیم شیراون نے ترتیب دی۔ راجہ ہندوستانی ایک میوزک بلاک بسٹر فلم ثابت ہوئی۔ ”آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے“ ، ”پردیسی پردیسی جانا نہیں“ ، ”پوچھو ذرا پوچھو مجھے کیا ہوا ہے“ ، جیسے خوبصورت گیتوں کے ساتھ اس فلم کے ساؤنڈ ٹریکس گیارہ ملین کی ریکارڈ تعداد میں فروخت ہوئے۔

اور اس کامیابی میں یقیناَ چربہ شدہ گانے ”کتنا پیارا تجھے رب نے بنایا“ کا بھی بھرپور حِصہ ہے۔ اس کے علاوہ خان صاحب کے، ”سجنا تیرے بناں“ ، ”سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام“ ، ”میں یار یار کہنا“ ، ”کسی دا یار نہ بچھڑے“ ، ”یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے“ ، اور ”سانوں اک پل چین نہ آوے“ ۔ جیسی معرکۃ الآرا قوالیاں بھی ہندوستانی فلموں میں چربہ سازی کی نذر ہوئے۔

ایک اور دلچسپ بات یہ کہ اس تحریر کے لئے ریسرچ کے دوران معلوم ہوا کہ بًھارت کی ”منی“ جس ڈارلنگ کے لئے بدنام ہوئی وہ کوئی آور نہیں پاکستانی عمر شریف تھے۔ ارے اس سے پہلے کہ آپ مجھ پر تہمت درازی اور بہتان طرازی کا مقدمہ قائم کریں، واضح کرتا چلوں کہ بالی وڈ کی فلم دبنگ ( 2010 ) کے گانے ”منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لئے“ ، کی دھن اصل میں پاکستانی فلم مسٹر چارلی عمر شریف ( 1992 ) کے گانے ”لڑکا بدنام ہوا حسینہ تیرے لئے“ کی دھن پر بنی ہے۔ پاکستانی گانے کے بول بہت ہی مزے کے ہیں۔ جو اس وقت کے بین الاقوامی منظرنامے کی خوب صورتی سے تصویر بناتے ہیں۔ چند اقتباسات پڑھئے۔

اے حسینہ،
اپنے عاشق کی درخواست پر غور تو کر
نظر سے نظر تو ملا
مجھے مارنے کی تیاری تو کر
باہر نکل،
میرے دل کی آبادی پر امریکہ بن کر بم باری تو کر
تو عورت ہے فطرتاً اسرائیل ہے
کوئی چال تو چل، کوئی مکاری تو کر
تو بش ہے حسینوں کی اگر
میں عاشقوں کا صدام ہوں

یہ بھی دیکھا گیا ہے اکثر اوقات گانوں کی چربہ سازی میں چربہ شدہ گانے میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی، بات بس دھن یا شاعری کو کاپی کرنے، یا تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ استعمال کرنے تک رہتی ہے، اور بندہ اوریجنل گانے کو کاپی شدہ پر ترجیح دیتا ہے۔ مگر اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کچھ مواقع پر انڈین موسیقاروں اور شاعروں نے گانے کی دھن یا شاعری کاپی کرتے وقت بہت اچھی تخلیقی صلاحیت کا استعمال کیا ہے اور کاپی شدہ گانے کی اپنی الگ خاص حیثیت منوائی۔

جیسا کہ 1993 کی انڈین فلم پھر تیری کہانی یاد آئی کا گیت، ”تیرے در پر صنم چلے آئے“ ، 1959 میں بننے والی پاکستانی فلم نیند کے لئے نور جہاں کے گائے ہوئے گانے ”تیرے در پر صنم چلے آئے“ کی نقل ہے۔ مگر موسیقار انو ملک نے دھن کاپی کرتے ہوئے نہایت خوبصورت improvisation کا استعمال کیا اور سادھنا سرگم نے اسے واقعی سروں میں ڈوب کر گایا۔ اور اس طرح یہ کاپی شدہ گانا اپنی علیحدہ شناخت بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ گانے کا پہلا شعر تو دونوں کیسز میں ایک ہی ہے مگر دونوں گانوں کے باقی اشعار مختلف ہیں اور بے حد شان دار بھی۔ دونوں گانے میرے نہایت پسندیدہ۔

اسی طرح فلم زہر ( 2005 ) کا گانا، ”اگر تم مل جاؤ“ جس کی موسیقی انو ملک نے ترتیب دی، بھی پاکستان فلم ایماندار ( 1974 ) کے گانے ”اگر تم مل جاؤ“ کا چربہ ہے جسے نوشاد کی ترتیب شدہ موسیقی میں تصور خانم نے گایا۔ انڈین چربہ شدہ اس گانے میں بھی انو ملک نے improvisation سے کام لیتے ہوئے دھن کو تھوڑا الگ سا ٹچ دیا جو کانوں کو بھلا محسوس ہوتا ہے۔ شاعری بھی مختلف ہے سوائے پہلے شعر کے۔

سال 1990 میں ریلیز ہونے والی انڈین فلم عاشقی ایک میوزیکل بلاک بسٹر تھی جس کے تمام گانے انتہائی مقبول ہوئے۔ اس کا ایک گانا ”تو میری زندگی ہے“ ، جس کے میوزک ڈائریکٹر ندیم۔ شیراون ہیں، اور جسے انورادھا پوڈوال اور کمار سانو نے گایا تھا، بھی مہدی حسن کے 1979 میں EMI کے پلیٹ فارم سے ریلز کردہ گانے ”تو میری زندگی ہے“ ، کا چربہ ہے۔ عاشقی کا ایک اور گانا، ”جانِ جگر جانِ من“ ، جس کے میوزک ڈائریکٹر ندیم شیراون ہی ہیں، بھی پاکستانی فلم دوریاں ( 1984 ) کے ایک گانے، ”بس اک تیرے سوا کوئی نہیں ہے میرا“ کا چربہ ہے۔ اس بات سے ظاہر ہے کہ عاشقی کو میوزیکل بلاک بسٹر بنانے میں پاکستانی دو گانوں کے چربے کا کمال بھی ہے۔

فلم کل کی آواز ( 1992 ) کا گانا ”تمہاری نظروں میں ہم نے دیکھا“ ، پاکستانی فلم میرے حضور ( 1977 ) کے گانے، ”ہماری سانسوں میں آج تک وہ حنا کی خوشبو مہک رہی ہے“ ، جسے نورجہاں نے گایا تھا، کا چربہ ہے۔

ابرار الحق نے ایک گانا، ”بھیگا بھیگا سا یہ دسمبر ہے“ 1998 میں ریلیز کیا تھا یہ بہت ہی خوبصورت اور میلوڈئس گانا تھا جس میں دسمبر کی ہجریہ شاعری کا دکھ شدت سے رچا بسا ہے۔ اس گانے کا چربہ 2005 میں بننے والی ہندوستانی فلم چاکلیٹ میں انہیں بولوں والے ایک گانے سے کیا گیا۔ جس کی موسیقی پریتم نے ترتیب دی تھی۔ مگر کیا کہتے ہیں کہ وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔

بالی وڈ میں 1991 میں ایک اور خوب صورت میوزیکل ہٹ فلم سڑک بنی جس کے سارے گانے بہت مشہور ہوئے تھے۔ ”ہم تیرے بِن کہیں رہ نہیں پاتے“ ، ”زمانے کے دیکھے ہیں رنگ ہزار“ ، ”جب جب پیار پہ پہرا ہوا ہے“ ، ”تک دِھن دِھن تک“ ، ”رہنے کو گھر نہیں“ ، اور ”تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی ہے“ جیسے شاہ کار گانوں کی بدولت اس فلم کے ساؤنڈ ٹریکس پانچ ملین کی تعداد میں فروخت ہوئے۔ اس فلم کا گانا ”تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی ہے“ ، پاکستانی گلوکارہ مسرت نذیر کے گانے، ”چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ“ کا ری میک ہے۔ مسرت نذیر کے اس گانے کا چربہ ایک اور بالی وڈ مووی یں بھی استعمال ہوا ہے۔ 2015 میں بنی فلم ہیٹ سٹوری 3 کا گانا، ”تمہیں اپنا بنانے کا جنوں سر پہ ہے“ بھی مسرت نذیر کے ”چلے تو کٹ ہی جائے گا“ ، کا چربہ ہے۔

آئی ایم ڈی بی میں 8 / 10 ریٹنگ پانے والی ”ساجن“ ایک ایسی بالی وڈ مصالحہ مووی ہے جس میں کامیڈی، محبت، ٹریجڈی، دوستی، قربانی اور آؤٹ کلاس میوزک، سبھی کچھ شامل ہیں۔ اس فلم کا گانا ”بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم“ ، جس کے میوزک ڈائریکٹر عظیم چربہ ساز ندیم۔ شراون ہیں، اصل میں 1978 میں بننے والی پاکستانی فلم آبشار کے گانے، ”بہت خوب صورت ہے میرا صنم“ ، کی نقل ہے۔ آبشار فلم کے لئے یہ گانا مہدی حسن صاحب نے گایا تھا۔

میوزک ڈائریکٹر ندیم۔ شیراون کا فلم دل تیرا عاشق ( 1993 ) کے لئے کمپوز کیا گیا گانا، ”پیاسا کوئیں کے پاس آتا ہے“ ، اصل میں پاکستانی مووی میرا نام ہے محبت ( 1975 ) کے لئے مہدی حسن خان صاحب کے گائے ہوئے نغمے، ”پیاسا کوئیں کے پاس آتا ہے“ ، کا چربہ ہے۔ خان صاحب کا ہی ایک اور نہایت خوب صورت نغمہ فلم نیکی بدی کے لئے 1975 میں ریلیز ہوا۔ اس گانے کی دھن اور شاعری کلاس کی ہیں۔

دل میں طوفان چھپائے بیٹھا ہوں یہ نہ سمجھو کہ مجھ کو پیار نہیں
تم جو آئے ہو میری دنیا میں، ابھی کسی کا بھی انتظار نہیں۔

اس دل موہ لینے والی دھن کو بالی وڈ نے 1996 میں بننے والی فلم ہمت وار کے گانے، ”کتنی چاہت چھپائے بیٹھا ہوں“ ، میں استعمال کیا۔ اور کرنے والے وہی ہمارے المشہور ندیم۔ شراون۔ شوکت علی المعروف ناشاد بھارتی اور پاکستانی فلم انڈسٹری میں فلم کمپوزر اور میوزک ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے لئے بہت سے مشہور گانوں کی موسیقی ترتیب دی ہے۔ جان کہ کر جو بلایا تو برا مان گئے (سلیم رضا) پیار ہوتا نہیں زندگی سے جدا (رونا لیلی) ، ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا (رونا لیلی) ، معصوم سا چہرہ ہے، ہم جس کے ہیں دیوانے (احمد رشدی اور رونا لیلی) ، لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے (نور جہاں ) گوری کے سر پہ سچ کے (احمد رشدی) ، اور زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں (مہدی حسن) جیسے لافانی گیت ناشاد کے کمالِ فن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

نوشاد کی موسیقی پر بنا ایک لازوال گیت، ”وہ میرا ہو نا سکا تو میں برا کیوں مانوں“ میڈم نور جہان نے فلم عظمت ( 1973 ) کے لئے گایا۔ اس دل میں کھب جانے والی دھن اور پر سوز شاعری کے حامل نغمے کا چربہ بالی وڈ کی فلم قصور ( 2001 ) کے ایک گیت، ”دل میرا توڑ دیا اس نے، برا کیوں مانوں“ ، کی شکل میں کیا گیا۔ اور اس بار بھی چربہ ساز کوئی اور نہیں، ندیم۔ شیراون ہی تھے۔

ندیم۔ شراون ہی کی موسیقی میں فلم صنم تیری قسم ( 2009 ) کا گانا، ”اتنا بھی نہ چاہو مجھے“ ، بھی پاکستانی فلم پردہ نہ اٹھاؤ ( 1974 ) کے لئے ایم اشرف کی ترتیب شدہ دھن میں نیرہ نور کے گائے ہوئے گانے کا چربہ ہے۔ انہی (ندیم۔ شراون ) کی موسیقی میں فلم جینا صرف میرے لئے ( 2002 ) کا گانا، ”مجھ کو مل گیا، میرا پیار اللہ اللہ“ ، بھی اصل میں ناہید اختر کے 1974 میں گائے ہوئے گیت، ”یہ رنگینیِ نو بہار اللہ اللہ“ کی دھن پر بنایا گیا ہے۔

حدیقہ کیانی پاکستان کی جانی پہچانی اداکارہ، گلوکارہ، گٹارسٹ، کمپوزر، اور فلنتھراپسِٹ ہیں جنہیں ان کی گائیکی اور دیگر خدمات کے اعتراف کے طور پر کئی ملکی اور غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ بوہے باریاں، ان کا ایک بہت خوبصورت دھن والا نغمہ ہے جو 1998 میں ریلیز ہوا۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ اتنے خوبصورت گیت پر ندیم۔ شیراون کی للچائی ہوئی نظر نہ پڑتی۔ وہ تو پڑی اور انہوں نے حسبِ عادت، اس گیت کا چربہ 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم دل ہے تمہارا، کے گانے، ”دل لگا لیا“ ، کی صورت میں بنا ڈالا۔

انہی حضرات (ندیم۔ شیراون) نے فلم پھول اور کانَٹے ( 1991 ) کے گانے، ”میں نے پیار تمہیں سے کیا ہے“ کی دھن بھی، پاکستانی فلم، لیڈی سمگلر ( 1987 ) کے لئے مسرت نذیر کے گائے ہوئے گانے، ”مجھے دیکھ کے بین بجائیں“ ، سے ہی مستعار لی۔ ویسے حد ہو گئی یعنی کوئی حد ہی نہیں۔ آخر کتنا چربہ سازی کریں گے بھئی؟ اب تو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ ندیم۔ شراون کے تمام گانوں میں ان کی اپنی اوریجنل دھنی کتنی ہیں اور کاپی شدہ کتنی۔

سجاد علی پاکستان کے مایہ ناز گلوکار ہیں۔ ”ہر ظلم تیرا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں“ ، ”ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا“ ، ”سوہنی لگدی او مینوں سوہنی لگدی“ ، جیسے شاہ کار گانے انہیں کے گائے ہوئے ہیں۔ ان کا 1995 میں ایک گانا آیا تھا، ”یاد تو آتی ہو گی“ ۔ دھیمے سروں اور دل کش شاعری کے ساتھ یہ گانا اپنے وقت کا مشہور گانا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس گانے کی دھن ڈبو ملک نے بالی وڈ کی فلم، میں نے دل تجھ کو دیا ( 2002 ) کے گانے ”تھوڑا سا پیار ہوا ہے، تھوڑا ہے باقی“ ، میں استعمال کی۔ البتہ چربہ شدہ گانا بھی سجاد علی کے اوریجنل گانے سے کسی درجے کم نہ تھا، اگرچہ تھا تو چربہ ہی۔

بالی وڈ کی فلم مرڈر کے ایک گانے ”کہو نا کہو“ ، کا ہم پہلے ہی بتا چکے کہ ایک عربی گانے تملی مآک، کا چربہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی فلم کا ایک بولڈ گانا ”بھیگے ہونٹ تیرے“ ، جس کے میوزک ڈائریکٹر انو ملک ہیں، ایک پاکستانی پاپ سنگر نجم شیراز کے گانے، ”مینوں تیرے نال“ ( 2004 ) کا چربہ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فلم مرڈر بجائے خود ایک امریکی فلم Unfaithful کا ری میک ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، Unfaithful بھی ایک فرانسیسی فلم The unfaithful wife ( 1969 ) سے انسپائرڈ ہے۔ گویا مرڈر فلم چربے کے چربے کا چربہ ہے۔

موسیقی میں سرقہ جہاں دیگر ثقافتوں، اور مارکیٹس کے رجحانات کے تخلیقی قوت پر اثرات کی عکاسی کرتا ہے، وہیں بیسویں صدی کے بعد یہ ایک غیر قانونی اور ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی فورم پر تو چربہ سازی کا رجحان کاپی رائیٹس کے قوانین کی وجہ سے بہت کم ہو گیا ہے۔ مگر انڈ و پاک میں ان قوانین کے کمزور اطلاق کی وجہ سے سرقہ بازی یا چربہ سازی کی صنعت کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی چلی گئی۔ انگلش میوزک والے تو چند سیکنڈز کا ساؤنڈ ٹریک، یا سٹائل اپنانے پر ہی مقدمات کا شکار ہو جاتے ہیں، جب کہ ہمارے یہاں تو پورا پورا گانا اٹھا کے کاپی کر لیا جاتا ہے، پوری کی پوری دھن اپنا لی جاتی ہے مگر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ویسے بھی کسی کے میوزک سے اثر قبول کرنے اور سرقہ یا چربہ کے درمیان لکیر باریک اور اکثر سبجیکٹِو ہوتی ہے۔ انگریزی اور پاکستانی موسیقی کی دھنوں کو بھارتی موسیقی کی صنعت میں نقل کرنے کے یہ واقعات سرقہ یا چربہ کرنے والوں میں تخلیقی صلاحیت کی کمی، یا ان کی سستی اور کاہلی پر دلالت کرتے ہیں۔ جو کہ ایک نہایت قابلِ افسوس امر ہے۔

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari