امریکہ کا گہرائی سے جائزہ لیجیے۔


گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ امریکہ میں ایک خاص سوچ پاکستان کے حوالے سے بہت مضبوط ہو گئی ہے کہ پاکستان نے امریکہ کا افغانستان میں ساتھ نہیں دیا ہے اور اس وجہ سے افغان طالبان دوبارہ بر سر اقتدار آ گئے مگر اس کے با وجود پاکستان کی اہمیت کیوں کہ مسلمہ ہے اس لئے ہی لورل ملر نے جن کا ذکر گزشتہ کالم میں کیا تھا نے ایک ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ”پاکستان افغانستان سے اگلا دروازہ ہے جو اس وقت دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے اس لئے میرے خیال میں پاکستان کے ساتھ اس قسم کے تعلقات رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے جو امریکہ کو خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے قابل بنائے“ ۔

پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ ہمارے پالیسی ساز افغانستان کے حالات کو بس اس نظر سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ جو صورت حال سوویت یونین کے افغانستان میں داخلے کے بعد سے پیدا ہوئی اور ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ کیوں کہ ہم نے افغان طالبان کی دوبارہ برسر اقتدار آنے میں ”مدد“ کی ہے اس لئے ان کو ہمارے لئے پریشان کن مسائل میں ہمارا ساتھ دینا چاہیے حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی بر سر اقتدار آ جائے اس کی پاکستان کے حوالے سے ایک سی ہی پالیسی رہتی ہے۔

ہم ماضی میں بھی افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم اور ان کو مدد فراہم کرنے والے تھے مگر اس وقت بھی جب پاکستان نے ڈیورنڈ لائن پر معاملات کرنے چاہے تو ہمیں ٹکا سا جواب ہی ملا تھا۔ اور اس پالیسی کا ہی تسلسل دیکھنے میں آیا تھا جو ظاہر شاہ کے زمانے سے پاکستان کے حوالے سے بنائی گئی تھی اور اس پالیسی کا تسلسل ایک تاریخی تصور میں ہے جس کا اعادہ در حقیقت وہاں پر سب کرتے رہے ہیں۔

ایک خیال ہے کہ پاکستان سوویت یونین کے افغانستان میں داخلے کے وقت اس صورت حال میں ملوث ہو گیا اس لئے آج تک پھنسا ہوا ہے حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کسی دور میں بھی کابل کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میسر نہیں آئے تھے اور قیام پاکستان کے فوری بعد ہی افغانستان کی جانب سے باقاعدہ سازشوں کا آغاز کر دیا گیا تھا اور یہ سازش پاکستان کی سر زمین سے اس وقت بھی بندر گاہ کو حاصل کرنے کی غرض سے تھی۔

اس وقت کے پاکستانی دار الحکومت کراچی میں متعین امریکی ناظم الامور چارلس ڈبلیو لیوس نے یکم مارچ انیس سو اڑتالیس کو امریکی وزیر خارجہ مارشل کے نام ارسال کردہ ایک مراسلہ میں قائد اعظم سے اپنی ہونے والی ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ قائد اعظم نے امریکی ناظم الامور چارلس ڈبلیو لیوس کو بتایا کہ ”قلات اور گلگت میں سوویت ایجنٹوں کی سرگرمیوں کے بارے میں ان کے پاس یقینی اطلاعات موجود ہیں۔

انہوں نے اس بات سے بھی خبر دار کیا کہ سوویت ایجنٹ افغانستان کو قلات کے علاقے میں ایک بندر گاہ سمیت بہت سا علاقہ ہتھیانے پر اکسا رہے ہیں“ اور قائد اعظم کی یہ بات انیس سو پچاس میں سچ ثابت ہو گئی جب افغان فوج نے توپ خانے کی مدد کے ساتھ پاکستانی گاؤں دوبندی پر قبضہ کر لیا اور پھر آگے بڑھتے ہوئے چمن کوئٹہ ریلوے لنک پر قبضہ کر لیا جس پر پاک فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو واپس بین الاقوامی سرحد ڈیورنڈ لائن تک دھکیل دیا اور یہ معاملہ یہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ ستمبر انیس سو ساٹھ سے ستمبر انیس سو اکسٹھ تک افغانستان کی طرف سے باقاعدہ فوجی اور غیر فوجی افراد کی مدد سے جارحیت کی گئی جس کو باجوڑ کمپین کے نام سے تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے۔

اس دوران افغانستان کے اندر جا کر پاک فضائیہ تک کو استعمال کرنا پڑا اور پھر امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور شاہ ایران رضا پہلوی کو حالات کو بہتر کرنے کے لئے خصوصی کردار ادا کرنا پڑا۔ افغانستان کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ امریکہ ابھی بھی ہمیں افغانستان کے حالت سے منسلک کر کے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کو افغانستان میں اپنے معاملات کو بہتر کرنے کے لئے صرف اپنے زور بازو پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ دیگر مسلمان ممالک خاص طور پر ترکیہ کو اس میں اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ کوئی تو افغان طالبان کو سمجھانے میں کامیاب ہو سکے ویسے بھی اس وقت ترکیہ کے سفارت کار پاک ترک دوستی کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لئے بہت متحرک ہیں۔

ترک سفیر محمت اور لاہور میں تعینات ترک قونصل جنرل درمش باش توخ بزنس اور دیگر معاملات میں بہت متحرک ہیں اگر ایسے سفارت کاروں کو اپنی بات سمجھائی جائے تو وہ اپنے ملک کو ہماری بات سمجھا سکتے ہیں اور پاک ترک مشترکہ کوششیں افغانستان کے امور میں کامیاب ہو سکتی ہیں کیوں کہ پاکستان کو اس وقت یہ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکی پالیسی میں کسی وقت بھی کوئی بڑی تبدیلی کی گنجائش تیزی سے بنتی جا رہی ہے اور ان کے سفارت کار بھی اس مقصد کے لئے مزید متحرک ہو رہے ہیں۔

ضروری نہیں ہے کہ امریکہ کی ہر پالیسی ہمارے فوری یا طویل المدتی مفادات کے خلاف ہی ہو اور ہمیں اس کی کوشش بھی کرنی چاہیے کہ ایسا نہ ہو کیوں کہ اگر کوشش کی جائے تو توازن کی پالیسی کا حصول ممکن ہے۔ اسی طرح افغان طالبان کو بھی اب کامیابی کے نشہ سے باہر آ کر پاکستان کی بات سننی اور اس کے مسائل سمجھ کر حل کرنے چاہیے ورنہ دنیا تا دیر لا تعلق نہیں بیٹھے گی۔

Facebook Comments HS