کوانٹم مکینکس کے اسرار

پچھلے مضمون میں، میں نے ایک ایسے سادہ سسٹم کو متعارف کروایا جس کی کوانٹم مکینیکل خصوصیات انتہائی حیرت انگیز ہیں۔ یہ سسٹم ایک واحد فوٹون پر مشتمل ہے جس کی پولرائزیشن (polarization) کی خصوصیت ایک ایسے رویے کی نمائش کرتی ہے جس کی ہم اپنے کلاسیکی وجدان کی بنیاد پر توقع نہیں کرتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ اس سادہ سسٹم کی خصوصیات کی بنیاد پر کوانٹم مکینکس سے وابستہ بہت سے اسرار کو سمجھا جا سکے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ کون سے اسرار ہیں جن کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔
· ہماری عام فہم کے مطابق ہر خصوصیت کی ایک معروضی حقیقت ہوتی ہے، جیسے ایک پنسل کھڑی ہو سکتی ہے۔ جس آلے سے یا جس طرح اسے دیکھیں، یہ ایک ہی سمت میں کھڑی نظر آئے گی۔ لیکن کوانٹم مکینکس کے مطابق کسی خصوصیت کی کوئی معروضی حیثیت اس وقت تک نہیں جب تک اس کی پیمائش نہ کی جائے۔
· بیسویں صدی کے شروع تک سائنس کی بنیاد اس مفروضے پر قائم تھی کہ کسی بھی ذرے کی حرکت کی پیشن گوئی مکمل طور پر کی جا سکتی ہے۔ 1924 میں کوانٹم میکانکس کی آمد نے یہ تصور پاش پاش کر دیا۔ کوانٹم میکانکس کا سب سے مشہور اور زیر بحث پہلو اس کی پیشن گوئیوں کی امکانی نوعیت ہے۔
· ہمارے کلاسیکی وجدان کے مطابق یہ تصور ناممکن ہے کہ کوئی چیز بیک وقت دو جگہ ہو سکتی ہے۔ لیکن کوانٹم میکانکس کے مطابق ایسا ممکن ہے۔
· یہ ناممکن لگتا ہے کہ کوئی چیز بیک وقت دو مختلف حالتوں میں موجود ہو۔ کھڑکی یا تو کھلی ہو گی یا بند۔ لیکن کوانٹم میکانکس کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ کوئی چیز بیک وقت دو مختلف حالتوں میں موجود ہو۔
· کوانٹم میکانکس کا ایک حیران کن نتیجہ یہ ہے کہ دو مشاہدات اس طرح ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں کہ ان میں سے ایک کے بارے میں درست علم یہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے کی پیمائش کے تمام ممکنہ نتائج یکساں طور پر ممکن ہیں۔
· اور سب سے اہم سوال تو حقیقت کے بارے میں ہے۔ کیا کسی چیز کی کوئی خوبی اس وقت بھی حقیقت کا درجہ رکھتی ہے جب ہم اس کا مشاہدہ نہیں کرتے؟ کیا چاند اس وقت بھی موجود ہوتا ہے جب ہم میں سے کوئی اس کو دیکھ نہیں رہا ہوتا؟
اگر یہ سب کچھ درست ہے تو یہ کائنات کسی حیرت کدے سے کم نہیں۔ یہ تو ہمارے تصورات سے کہیں مختلف ہے۔ اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام خصوصیات کو سمجھنا ممکن ہے۔
یہ بات انتہائی دلچسپ اور حیران کن ہے کہ پچھلے مضمون میں بیان کردہ فوٹون کی پولرائزیشن سے وابستہ نوعیت کی بنیاد پر ان تمام تصورات کو با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ پچھلے مضمون میں دیکھا گیا کہ عمودی سمت میں پولرائزڈ (polarized) فوٹون ایک پولرائزیشن بیم اسپلٹر (polarization beam splitter) سے اس طور نمودار ہوتا ہے کہ اس کی پولرائزیشن عمودی سمت میں ہوتی ہے۔ تاہم جب پولرائزیشن بیم سپلٹر کو 45 ڈگری گھمایا جاتا ہے، تو یہی عمودی سمت میں پولرائزڈ فوٹون کے 45 ڈگری اور 135 ڈگری پر پولرائزیشن کے ساتھ نمودار ہونے کے 50 50 فیصد امکان ہوتے ہیں۔ صرف اس مثال کی بنیاد پر اوپر دیے گئے تمام اسرار کی آسانی سے وضاحت کی جا سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ کوانٹم میکانکس کے قوانین کے تحت ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ بیم سپلٹر سے گزرنے کے بعد پولرائزیشن کی سمت کیا ہو گی۔ ہم تو کسی بھی سمت میں پولرائزیشن کے ساتھ گزرنے کی صرف امکانی پیشن گوئی کر سکتے ہیں۔
یہ صورت حال کچھ ایسی ہے جیسے عمودی حالت میں چلتے شخص کے سامنے دو دروازے ہوں، ایک 45 ڈگری کے زاویے پر اور دوسرا 135 ڈگری کے زاویے پر۔ تو اس شخص کے ان دونوں میں سے کسی ایک میں سے گزرنے کا امکان 50 فیصد ہو گا۔ وہ شخص یہ فیصلہ خود کرے گا کہ اسے کس دروازے سے گزرنا ہے۔ لیکن فوٹون میں تو سو چنے کی صلاحیت نہیں تو یہ فیصلہ کب اور کیسے ہوتا ہے کہ اس کو کس پولرائزیشن کے ساتھ گزرنا ہے۔
پولرائزیشن کی سمت کے بارے میں قطعی پیشن گوئی کرنے میں ناکامی تقریباً ایک صدی سے بحث کا موضوع ہے اور سائنسدان ابھی تک اسے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوانٹم مکینیکل پیشین گوئیوں کی ممکنہ نوعیت نے البرٹ آئن سٹائن کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ کوانٹم میکانکس ایک ’نامکمل‘ نظریہ ہے۔ ان کے نقطہ نظر میں، ایک ’مکمل‘ نظریہ کو یقینی پیشین گوئیاں کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ نیوٹن کی دریافت کردہ میکانکس ایسا کرتی ہے لیکن کوانٹم میکانکس ہمیں صرف یہ بتا سکتی ہے، جیسا کہ اوپر کی مثال میں، کہ کوئی واقعہ رونما ہونے کا کیا امکان ہے۔ اس لیے آئن سٹائن نے کوانٹم میکانکس کو نامکمل سمجھا۔
اس نکتے کو مزید واضح کرنے کے لیے، ہم ایک فوٹون کے بجائے دو فوٹون پر غور کرتے ہیں جو ہر لحاظ سے ایک جیسے ہیں اور عمودی پولرائزڈ حالت میں تیار ہوئے ہیں۔ ان فوٹونز کو ایک ایک کر کے ایسے پولرائزیشن بیم اسپلٹر سے گزرنے دیں جو 45 ڈگری گھوما ہوا ہے۔ اوپر کی بحث کے مطابق، پہلے فوٹون کے پاس دو امکانات ہیں : پولرائزیشن بیم اسپلٹر سے گزرنے کے بعد یا تو 45 ڈگری کی پولرائزیشن کے ساتھ، یا 135 ڈگری کی پولرائزیشن کے ساتھ پایا جائے گا۔ دونوں کا امکان 50 فیصد ہے۔ دوسرے فوٹون کے ساتھ بھی بالکل یہی صورت حال ہے۔
اس طرح ہمارے پاس دونوں فوٹون کے لیے چار ممکنہ نتائج ہیں جن کا امکان برابر یعنی 25 فیصد ہے : دونوں 45 ڈگری کی پولرائزیشن میں پائے جائیں گے، پہلا 45 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جائے گا اور دوسرا 135 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جائے گا، پہلا 135 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جائے گا اور دوسرا 45 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جائے گا، اور دونوں 135 ڈگری کی پولرائزیشن میں پائے جائیں گے۔
صورت حال دو سکوں کے ٹاس کرنے کے مترادف ہے جہاں ہمارے پاس 25 فیصد امکان ہے کہ ہمیں دونوں سکے ہیڈ اپ کے ساتھ ملیں گے، پہلا ہیڈ اپ کے ساتھ اور دوسرا ٹیل اپ کے ساتھ، پہلا ٹیل اپ اور دوسرا ہیڈ اپ کے ساتھ، اور دونوں ٹیل اپ کے ساتھ۔ تاہم، اس معاملے میں، اگر ہم تمام قوتوں اور سکوں کی ابتدائی سمتوں کو جانتے ہوں، تو ہم یقین کے ساتھ پیشن گوئی کر سکتے ہیں کہ آیا ہم سکے کو ہیڈ اپ پائیں گے یا ٹیل اپ۔ نتیجہ امکانی طور پر ظاہر ہونے کی وجہ دونوں سکوں کی ابتدائی پوزیشن سے ہماری لاعلمی ہے۔
یہ صورت حال کوانٹم آبجیکٹ، جیسے کسی فوٹون کی پولرائزیشن حالت، کے سلسلے میں درست نہیں۔ ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ہم دونوں فوٹون کے بیم سپلٹر سے گزرنے سے پہلے ان میں فرق کر سکیں، پھر بھی یہ پیشگی اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ پولرائزیشن بیم اسپلٹر میں سے گزرنے کے بعد فوٹون کی پولرائزیشن کون سی سمت اختیار کرے گی۔
فرض کریں کہ پہلا فوٹون 45 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جاتا ہے اور دوسرا 135 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جاتا ہے۔ اس کا امکان 25 فیصد ہے۔
سب سے پہلے، ہم ایک سادہ سوال پوچھتے ہیں : دونوں فوٹون کے درمیان کیا فرق ہے؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پولرائزنگ بیم اسپلٹر سے گزرنے کے بعد پہلا فوٹون 45 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جاتا ہے اور دوسرا 135 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جاتا ہے۔
لیکن پھر ہم مشکل سوال پوچھتے ہیں : بیم سپلٹر سے گزرنے سے پہلے دونوں فوٹون میں کیا فرق تھا؟
اگر، کسی نہ کسی طرح، ہمیں یہ فرق معلوم ہو، تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ دونوں فوٹون کی پولرائزیشن بیم سپلٹر سے گزرنے کے بعد کیوں مختلف تھی۔ تاہم، جیسا کہ اوپر بحث کی گئی ہے، کوانٹم میکانکس کے مطابق، دونوں فوٹون کے درمیان قطعی طور پر کوئی فرق نہیں تھا، پھر بھی ان میں سے ایک 45 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جاتا ہے اور دوسرا 135 ڈگری کی پولرائزیشن میں۔
یہ بہت پراسرار ہے۔ یہ کوانٹم میکانکس کا امکانی پہلو ہے جسے آئن سٹائن نے، یہ کہتے ہوئے کہ ’خدا پانسہ نہیں کھیلتا‘ ، کبھی قبول نہیں کیا۔ کوانٹم میکانکس کے قطعی جواب دینے میں ناکامی کے پیش نظر آئن سٹائن نے کوانٹم میکانکس کو نامکمل قرار دیا۔
اس معمے سے نکلنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ دونوں فوٹون، جو بظاہر ہر لحاظ سے ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں، بیم سپلٹر میں داخل ہونے سے پہلے درحقیقت مختلف تھے۔ آئن سٹائن نے 1935 میں قیاس کیا کہ ان فوٹونز میں کچھ ایسی ’چھپی ہوئی‘ خصوصیات ہیں جو نہ تو ہم جانتے ہیں اور نہ ہی ان کی لیبارٹری میں پیمائش کر سکتے ہیں، لیکن یہ خصوصیات انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ یہ کچھ کچھ ایسا ہی ہے کہ ہم دعوی کریں کہ تجربہ گاہ میں ایک بھوت موجود ہے جسے ہم براہ راست یا بالواسطہ طور پر نہ تو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی محسوس کر سکتے ہیں۔
اگر یہ بھوت بائیں طرف اشارہ کرتا ہے، تو فوٹون 45 ڈگری کے ساتھ پولرائز ہو جائے گا اور اگر، یہ دائیں طرف اشارہ کرتا ہے، تو فوٹون 135 ڈگری کے ساتھ پولرائز ہو۔ آئن سٹائن کے مطابق اگر کسی دن، ہم ان ’چھپی ہوئی خصوصیات‘ کی شناخت کرنے اور ان کو تھیوری میں شامل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، تو ہم نیوٹن کی وضع کردہ میکانکس کی طرح قطعی پیشین گوئیاں کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کوانٹم میکانکس پھر ’مکمل‘ ہو جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کوانٹم میکانکس کے مکمل یا نامکمل ہونے کے بارے میں حتمی جواب 30 سال بعد ، 1965 میں آئن سٹائن کی موت کے تقریباً دس سال بعد آیا، اور یہ جواب ایسا نہیں تھا جس کی آئن سٹائن کو توقع ہو سکتی تھی۔ اس کے بارے میں مزید بعد کے مضمون میں جب ہم حقیقت کی حقیقت کے بارے میں سوالات پر بات کریں گے۔
اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے : کیا ہم کسی ایک فوٹون کی polarization کو معروضی طور پر بیان کر سکتے ہیں؟ کیا ہم غیر مبہم انداز میں یہ کہ سکتے ہیں کہ فوٹون کی polarization ایک خاص سمت میں متعین ہے؟
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، یہ کوانٹم میکانکس کی تصوراتی بنیادوں کا بنیادی سوال ہے۔ مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں، ایک سوال جیسا کہ ’دئے گئے فوٹون کی polarization کی سمت کیا ہے؟‘ مبہم اور نامکمل ہے۔ ایک واضح طور پر متعین سوال میں تجرباتی آلات کی تفصیل بھی شامل ہوگی (اس مثال میں، پیمائش کے آلے کے طور پر پولرائزیشن بیم اسپلٹر کو شامل کرنا ہو گا) ۔ لہذا، ایک مکمل سوال یہ ہونا چاہیے : ’دیے گئے فوٹون کی polarization کی سمت کیا ہے اگر یہ ایک خصوصی سمت پر مبنی پولرائزیشن بیم اسپلٹر سے گزرتا ہے‘ ۔
آئیے پولرائزیشن جیسی خصوصیت کی وضاحت میں پیمائش کے کردار کو مزید واضح طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ذرا ایک ایسے فوٹون پر غور کریں جس کی پولرائزیشن عمودی سمت میں ہے۔ اس طور یہ سمجھنا مناسب لگتا ہے کہ عمودی سمت میں پولرائزیشن، فوٹون کی اسی طرح خصوصیت ہے جیسے عمودی سمت میں کھڑی ایک پنسل کی۔ لیکن جب یہ فوٹون ایک 45 ڈگری گھومے ہوئے پولرائزیشن بیم اسپلٹر سے گزرتا ہے، تو جیسا کہ اوپر دیکھا گیا ہے، یہ 45 ڈگری کی پولرائزیشن کے ساتھ یا 135 ڈگری کی پولرائزیشن کے ساتھ پایا جائے گا اور دونوں کا امکان 50 فیصد ہو گا۔
آئیے فرض کریں کہ فوٹون 45 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جاتا ہے۔ اگر، اس پیمائش کے بعد ، ہم پولرائزیشن کو عمودی سمت میں موجود پولرائزیشن بیم اسپلٹر میں ناپتے ہیں، تو ہمارا کلاسیکی وجدان ہمیں بتاتا ہے کہ فوٹون کو یقینی طور پر عمودی پولرائزیشن میں پایا جانا چاہیے۔ تاہم، ایسا نہیں ہوتا ہے۔ جب 45 ڈگری کی پولرائزیشن کی حالت میں فوٹون اس بیم سپلٹر میں سے گزرتا ہے تو اس بات کا 50 فیصد امکان ہے کہ فوٹون عمودی حالت میں پایا جائے اور 50 فیصد امکان ہے کہ یہ افقی حالت میں پایا جائے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ انتہائی حیران کن اور ناقابل یقین نتیجہ ہے جس کی توجیہہ دینا ممکن نظر نہیں آتی۔ اس رویے کی کلاسیکی میکانکس میں توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔
اس مشاہدے کی روشنی میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ہی فوٹون کے لیے بیک وقت عمودی اور 45 ڈگری کی پولرائزیشن وابستہ کر سکتے ہیں؟ کوانٹم مکینکس کے مطابق اس سوال کا جواب ہے : نہیں ہرگز نہیں!
مندرجہ بالا تجزیہ نیلز بوہر سے وابستہ اس اصول کی ایک خوبصورت اور سادہ مثال ہے، جس کے مطابق، دو مشاہدات اس طرح ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں کہ ان میں سے ایک کے بارے میں درست علم یہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے کی پیمائش کے تمام ممکنہ نتائج یکساں طور پر ممکنہ ہیں۔ مندرجہ بالا مثال میں، اگر ہم فوٹون کی پولرائزیشن کی پیمائش کرتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ پولرائزیشن عمودی سمت میں ہے، تو اگر اس کی پیمائش پولرائزیشن بیم سپلٹر کو 45 ڈگری گھما کر کی جائے تو دونوں پولرائزیشن، 45 ڈگری کی پولرائزیشن اور 135 ڈگری کی پولرائزیشن حاصل کرنے کے امکانات برابر ہوں گے۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پیمائش کے نتیجے میں سسٹم میں تبدیلی آتی ہے۔
ان نتائج کی روشنی میں ہم ایک اور ہوش ربا صورت حال پر غور کرتے ہیں۔
روایتی طور پر ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے جو دو ممکن حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں موجود ہو سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ سسٹم بیک وقت دونوں حالتوں میں موجود ہو۔ مثال کے طور پر، ایک دروازہ یا تو کھلا ہو سکتا ہے یا بند ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ بیک وقت کھلا اور بند ہو۔ اسی طرح ایک گیند ڈبے کے اندر موجود ہو سکتی ہے یا ڈبے کے باہر موجود ہو سکتی ہے، لیکن کبھی بھی ’اندر‘ اور ’باہر‘ حالتوں میں بیک وقت موجود نہیں ہو سکتی۔ ایک کوانٹم سسٹم کی حیران کن خاصیت یہ ہے کہ یہ ’حالتوں کی مربوط سپر پوزیشن‘ جس کو انگریزی میں ’coherent superposition of states‘ کہا جاتا ہے، موجود ہو سکتا ہے۔
یہ ایک انتہائی حیران کن اور ناقابل یقین نتیجہ ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی سسٹم بیک وقت دو صورتوں میں موجود ہو؟
اس نتیجے کو سمجھنے کے لئے ہم ایک دفعہ پھر پولرائزیشن کی مثال پر غور کرتے ہیں۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی فوٹون کی پولرائزیشن کے بارے میں کوئی قطعی بات اس وقت تک نہیں کی جا سکتی جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ پیمائش سے وابستہ پولرائزیشن بیم سپلٹر کی سمت کیا ہے۔
فرض کریں کہ ایک فوٹون ایک عمودی سمت میں موجود بیم سپلٹر سے گزرتا ہے اور اس کی پولرائزیشن عمودی سمت میں ہے۔ پھر عمودی سمت میں پولرائزڈ فوٹون ایک 45 ڈگری پر گھومے ہوئے پولرائزیشن بیم سپلٹر میں سے گزرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بغیر کسی پیمائش کے ہم فوٹون کی پولرائزیشن کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ اس کا تو سادہ سا جواب ہے کہ بیم سپلٹر میں سے گزرنے کے بعد 50 فیصد امکان یہ ہے کہ فوٹون 45 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جائے اور 50 فیصد امکان یہ ہے کہ 135 ڈگری کی پولرائزیشن میں پایا جائے۔ لیکن یہ صورت حال تو بالکل ایک دروازے کی سی ہے جس کے کھلے اور بند پائے جانے کے امکانات برابر ہیں۔
تو پھر کوانٹم مکینکس سے وابستہ پر اسراریت کہاں ہے؟
جو بات انتہائی حیران کن ہے وہ یہ کہ اگر پولرائزیشن بیم سپلٹر 45 ڈگری کی بجائے کسی اور زاویے پر گھمایا جائے تو بھی فوٹون اس میں سے گزر جائے گا لیکن امکانات مختلف ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر بیم سپلٹر کو صرف 10 ڈگری گھمایا جائے تو اس صورت میں ایک عمودی پولرائزڈ فوٹون 3 فیصد امکان کے ساتھ 10 ڈگری پر پولرائزڈ ہو گا اور 97 فیصد امکان کے ساتھ 100 ڈگری پر پولرائزڈ ہو گا۔ اور اگر بیم سپلٹر کو 20 ڈگری گھمایا جائے تو اس صورت میں یہ فوٹون 12 فیصد امکان کے ساتھ 20 ڈگری پر پولرائزڈ ہو گا اور 88 فیصد امکان کے ساتھ 110 ڈگری پر پولرائزڈ ہو گا۔
یہ وہ صورت حال ہے جس کا ہم دروازے کی سمت یا گیند کی ڈبے کے اندر موجودگی اور غیر موجودگی کی عام مثالوں میں سوچ بھی نہیں سکتے۔
اس صورت میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ فوٹون ایک ’coherent superposition of states‘ یا ’حالتوں کی مربوط سپر پوزیشن‘ میں موجود ہے جس کی نوعیت کا دار و مدار اس بات پر ہو گا کہ عمودی سمت میں پولرائزڈ فوٹون کس سمت میں موجود بیم سپلٹر میں سے گزر کر آیا ہے۔ اس بات کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ بیم سپلٹر میں سے گزرنے کے بعد فوٹون کی پولرائزیشن دو مختلف زاویوں میں بیک وقت موجود ہے۔ یہ صورت حال اس وقت تک موجود رہتی ہے جب تک ایک نئی پیمائش نہ کی جائے۔
آخری بات۔ اگر آپ نے یہ مضمون غور سے پڑھا ہے اور آپ خوب کنفیوژڈ محسوس کرتے ہیں تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی سوچ آئن سٹائن کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہے جو ساری زندگی اس کوانٹم مکینکس کی بنیادوں سے غیر مطمئن رہے جس کو پروان چڑھانے میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
کوانٹم مکینکس سے وابستہ ان حیران کن نتائج کی اہمیت صرف فلسفیانہ سوچ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ نتائج مکمل رازداری کے ساتھ پیغام رسانی اور کمپیوٹنگ کے میدان میں کچھ انتہائی ڈرامائی کامیابیوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ میرے اگلے مضامین کا موضوع ہو گا۔

