ہماری بہن میمونہ کلثوم : ڈاکٹر مہدی حسن مرحو م کی ایک نایاب تحریر


14  اگست 1947ء کو جنوبی ایشیا میں ہندوستان اور پاکستان نام کے دو آزاد ملک وجود میں آئے۔ اس سے قبل سینکڑوں بلکہ ہزار سال تک یہ علاقہ دور دراز سے ترک وطن کرنے والوں اور مختلف قومیتوں اور علاقوں کے جنگجوﺅں اور حملہ آوروں کا پسندیدہ اور ان کے لیے پرکشش جگہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں کے آخری حملہ آور برطانوی سامراجی تھے جنہوں نے تجارت کے نام پر یہاں وارد ہو کر اڑھائی سو سال کے عرصے میں پورے علاقے کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔

1947ء میں جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں نے اس بہت بڑے خطے کی دو نسلوں کو معاشرتی، ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے اتنا زیادہ متاثر کیا تھا کہ اس کے اثرات 65 سال گزر جانے کے بعد بھی بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان دو نسلوں میں سے ایک نسل تو وہ بزرگ نسل تھی جس نے اپنے اپنے وطن میں سینکڑوں برس کی روایات کے ساتھ زندگی گزاری تھی۔ ان کی اپنی ثقافتی اور خاندانی روایات تھیں۔ ان کے ذہن میں ماضی کی بے شمار کہانیاں محفوظ تھیں۔ یہاں ان کے ابا و اجداد کی حویلیاں بھی تھیں اور چھوٹے بڑے کچے پکے گھر بھی تھے۔ ان کے محلوں، گلیوں اور کوچوں کا ہر موڑ اور ہر پتھر انہیں زبانی یاد تھے۔ ان علاقوں میں ان کے ابا و اجداد کی قبریں بھی تھیں جن سے ان کا تعلق ترک وطن کرنے تک قائم تھا۔ پاکستان اور ہندوستان نام کے دو ملک بنتے وقت وحشت اور بربریت کے جو واقعات رونما ہوئے اس نے اس بزرگ نسل کے دلوں پر ایسے گھاﺅ لگائے تھے جن کی تکلیف اور درد یہ نسل دنیا سے رخصت ہوتے وقت تک فراموش نہیں کر سکی۔ ان واقعات نے ان کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

ان واقعات سے متاثر ہونے والی دوسری نسل ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل تھی جو اس دور میں سکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس نسل کی اکثریت نے شاید ان معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیوں کو اپنے بزرگوں کی طرح محسوس نہیں کیا تھا۔ ان کے لیے صرف ارد گرد کا ماحول اور جغرافیہ تبدیل ہوا تھا۔ تاہم اس نوجوان نسل میں بھی بعض افراد ایسے ضرور تھے جنہیں نئے ماحول میں جوانی سے بڑھاپے تک پہنچنے تک کے طویل عرصے میں بھی پرانی روایات اور ان کی نوجوانی کے زمانے کا ماحول زندگی کے آخری لمحے تک نہیں بھول سکا۔

ہماری بڑی بہن میمونہ کلثوم انہی افراد میں سے تھیں جو پاکستان کے قیام کے وقت علی گڑھ یونیورسٹی میں فرسٹ ایئر سائنس میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں جہاں وہ پانی پت سے میٹرک پاس کرنے کے بعد بھیجی گئی تھیں۔ ہم 9 بہن بھائیوں میں ان کا نمبر اوپر سے دوسرا تھا۔ ان سے بڑے بھائی اظہر حسن مرحوم، جن سے کلثوم کی بہت زیادہ دوستی تھی، اس وقت سینٹ سٹیفن کالج دہلی میں بی اے کے طالب علم تھے۔ ہمارے خاندان نے ترک وطن تین چار قسطوں میں کیا تھا۔ ہم چار بہن بھائی (ایک بہن تین بھائی) اکتوبر 1947 ءمیں اپنی سینئر چچا زاد بہنوں کے ساتھ پانی پت سے لاہور ایک فوجی ٹرک میں آگئے تھے۔ میرے والد، جو پچپن سال کی عمر میں محکمہ مال کی ملازمت سے 1944ء میں ریٹائر ہو کر اپنے آبائی شہر پانی پت میں آباد تھے، ترک وطن کر کے پاکستان نہیں آنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ہندو، سکھ اور مسلم فسادات ختم ہو جائیں گے اور حالات معمول پر آجائیں گے تو وہ ہمیں واپس بلا لیں گے لیکن جب ہندوستان کی پولیس اور فوج نے کئی ہفتوں کے مسلسل کرفیو کے بعد مسلمانوں کے محلوں کو خالی کرنے کا حکم دیا اور انہیں گھروں سے نکال کر ایک میدان میں جمع کر دیا تو ہمارے والد نے پانی پت میں ٹھہرنے کا ارادہ تبدیل کر دیا۔

ڈاکٹر مہدی حسن کی والدہ

ہماری اماں کو فساد زدہ دہلی شہر میں اظہر کی موجودگی اور وہاں سے کسی قسم کی کوئی اطلاع نہ ملنے پر بہت زیادہ پریشانی تھی۔ علی گڑھ کیونکہ مقابلتاً پرامن تھا اور ہاسٹل میں لڑکیاں محفوظ سمجھی جاتی تھیں اس لیے آپا جان (کلثوم) کے بارے میں قدرے اطمینان تھا۔ رات کو کرفیو کے سناٹے میں جب کوئی ریل گاڑی اسٹیشن پر آتی تھی اور سناٹے اور خوف کی فضا میں اسٹیشن سے ناقابل فہم شور مسلمان محلوں میں پہنچتا تھا تو بڑی بوڑھیاں اپنی چارپائیوں پر اٹھ کر بیٹھ جاتی تھیں۔ ہماری اماں اس بے ہنگم اور ناقابل فہم شور کے بارے میں کہتی تھیں کہ اظہر ٹرین سے اترا ہے اور فسادی اسے قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ….

اظہر نے اس فساد زدہ ماحول میں دو تین دفعہ دہلی سے علی گڑھ کا سفر کیا اور بالآخر کلثوم اور اظہر دونوں علی گڑھ کی ایک معروف فیملی کے ہمراہ، جس سے ہمارے خاندانی تعلقات تھے، لاہور میں باقی اہل خاندان سے آن ملے۔ ہمارے والد نے روزگار کے سلسلے میں دوبارہ نوکری شروع کی تو ان کے آزادی سے قبل کے سینئر ساتھی اختر حسین نے انہیں منٹگمری (جو اب ساہیوال کہلاتا ہے) میں ڈسٹرکٹ ری ہیلی ٹیشن کمشنر مقرر کر دیا تھا اور انہوں نے انتہائی محنت اور دیانت داری سے مہاجرین کو زرعی زمینیں الاٹ کرنا شروع کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 1947ء سے لے کر 1954ء تک ایک لاکھ خاندانوں کو ضلع منٹگمری اور لائل پور میں زمینیں الاٹ کیں۔ باوا کی اس ملازمت کی بدولت منٹگمری ہمارا ’نیا وطن‘ قرار پایا۔ اظہر اور کلثوم وہاں کالج میں اور ہم باقی بہن بھائی سکولوں میں داخل کروا دیے گئے۔

بھائی جان اظہر حسن اور آپا جان میمونہ کلثوم کو پانی پت کے دور سے ہی قصے کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا۔ منٹگمری میں منیر نیازی نے ایک بہت اعلیٰ معیار کی کتابوں کی دکان ’ارژنگ پبلشرز ‘ کے نام سے قائم کی ہوئی تھی جس میں ترقی پسند تحریک کی تمام کتابیں اور رسائل دستیاب تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس چھوٹے سے پرامن اور پرسکون قصبہ منٹگمری میں ہمارے گھر کے علاوہ ان کتابوں اور رسائل کے خریدار کون لوگ تھے۔ البتہ ہم سب بہن بھائیوں کا تعلق ادب سے خاص طور پر ترقی پسند ادب سے قائم کرنے میں منیر نیازی کے ’ارژنگ پبلشر‘ اور ہفت روزہ ’سات رنگ ‘ نے اہم کردار ادا کیا۔ سیاسی طور پر پاکستان امریکی سامراج کا اہم مہرہ بن کر اس علاقے میں امریکی مفادات پورے کر رہا تھا اس لیے ترقی پسند ادب اور ترقی پسند ادیب مستقل زیر عتاب تھے۔ چنانچہ جب باوا کو کچھ سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی کہ اظہر حسن کے پیچھے سی آئی ڈی لگ چکی ہے تو باوا کو ان کی ملازمت کی فکر لاحق ہوئی۔ اس عرصے میں آپا جان ایف ایس سی کے بعد بی ایس سی کے لیے لاہور چلی گئیں کیونکہ منٹگمری کے لڑکیوں کے کالج میں سائنس کی گریجویٹ کلاسز نہیں تھیں۔ آپا جان نے ساہیوال (منٹگمری) کی معاشرتی زندگی میں بہت تہلکہ خیز وقت گزارا۔ میں نے انہیں اپنی کوٹھی کے سامنے کی سڑک پر رات کو سائیکل چلانے کی پریکٹس بھی کروائی۔ انہوں نے آزادی کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں 1954ءمیں ’کو ایجوکیشن‘ کو دوبارہ رائج کیا۔ 1947ء میں ہندوﺅں سکھوں کے ترک وطن کر جانے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں لڑکیوں نے پڑھنا ترک کر دیا تھا۔ میمونہ کلثوم اور ان کے ساتھ ایک اور طالبہ جس کا نام غالباً عصمت تھا گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن کے والد

اگرچہ لاہور میں برصغیر کا لڑکیوں کا سب سے مشہور اور فیشن ایبل کالج کنیئرڈ کالج بھی تھا جو لکھنو کے ازابلا تھوبرن کالج سے بڑھ کر شہرت رکھتا تھا لیکن ہمارے گھر اور کلثوم کی کلچرل سوچ اور رویہ کنیئرڈ کالج کے کلچر سے میل نہیں کھاتا تھا۔ کنیئرڈ کے طبقے کے رویے کو ہم لوگ مصنوعی سمجھتے تھے۔

میمونہ کلثوم نے گورنمنٹ کالج لاہور میں بہت نام کمایا۔ انہوں نے اردو تقریری مقابلوں میں بہت انعامات حاصل کیے اور کالج میگزین ’راوی‘ کے لیے باقاعدگی کے ساتھ کہانیاں تحریر کیں۔ انہوں نے خاندان میں ایک نئی روایت اور اپنائی جب انہوں نے کالج کے اپنے ساتھی محمود سلیم جیلانی سے شادی کی خواہش کی۔ سلیم جیلانی کا مسلک ہم سے مختلف تھا۔ ان کی ذات ہم سے مختلف تھی ۔ وہ جالندھر کے پٹھان تھے اور آزادی کے بعد گوجرانوالہ میں آباد ہوئے تھے اور کلچر کے حوالے سے پنجاب کا مکمل نمونہ تھے۔ تاہم شادی کے بعد جس طرح وہ ہمارے خاندان کا فرد بنے، اس کے لیے ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ سلیم جیلانی نے بطور یونیورسٹی استاد کے نوکری شروع کی تھی۔ 1958 ءمیں امریکہ کی الی نائے یونیورسٹی (شکاگو) جا کر پی ایچ ڈی کی اور کراچی یونیورسٹی میں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں اکنامک افیئرز منسٹری میں پلاننگ کمیشن میں کام شروع کیا۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے اداروں میں طویل عرصہ بینکاک میں گزارا۔ 14نومبر 2006ء کو دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا اور وفاقی سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہو کر اسلام آباد میں دفن ہوئے۔ ہمارے سرکاری ملازم اسلام آباد میں تعینات ہونے کے بعد وہیں کے ہو رہتے ہیں۔ اسی لیے اسلام آباد کے ماڈرن قبرستان بھی تیزی سے پھیلتے جا رہے ہیں۔

آپا جان نہ صرف اپنے بہن بھائیوں کے لیے ”لیڈر“ کی حیثیت رکھتی تھیں بلکہ ساہیوال کے ہم سب بہن بھائیوں کے ملنے جلنے والوں اور اماں کی ملاقات والی خواتین کے لیے بھی قابل تقلید حیثیت رکھتی تھیں۔ اماں کی حیثیت اہل خاندان اور میل ملاقات والوں کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ یکم اپریل 1981ء کو اماں کے انتقال کے بعد آپا جان نے بھرپور طریقے سے ’مرکز‘ کا کردار ادا کیا اور خاص بات یہ تھی ان کے رویے میں امیر غریب یا طبقاتی تفاوت کا دخل نہیں تھا۔ ہمارے ننھیالی رشتے دار کلچر کے حوالے سے کمزور واقع ہوئے ہیں لیکن آپا جان نے کبھی معاشرتی تفاوت کو اپنے تعلقات کی بنیاد نہیں بنایا۔

کالج سے فراغت کے بعد انہوں نے کہانیاں لکھنی بند کر دی تھیں تاہم انہوں نے اردو اخبارات میں مضمون نویسی جاری رکھی۔ انہیں پاکستان کی سیاسی اور معاشرتی زندگی سے اخلاقیات اور کلچرل روایات ختم ہو جانے پر افسوس کے علاوہ غصہ بھی بہت آتا تھا جس کا اظہار ان کے مضامین سے بخوبی ہوتا ہے۔ آپا جان پاکستان کی اس نسل سے تعلق رکھتی تھیں جنہوں نے آزادی سے قبل اپنے بزرگوں کے سینکڑوں سال کی روایات اور کلچر میں سے صرف اٹھارہ سال کا عرصہ اس ماحول میں گزارا تھا۔ تاہم ان پر اس کلچر اور ان روایات کی چھاپ اتنی گہری تھیں کہ ان کے مضامین پڑھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے اس سات آٹھ سو سال پرانی خاندانی روایات میں طویل عرصہ گزارا ہے۔

 2اکتوبر 2010ء کو انہوں نے بڑے پرسکون انداز میں دنیا کو خیرباد کہا۔ ان کی موت اتنی پرسکون تھی کہ ان کے بیٹے انیس جیلانی نے جس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، یہ خیال کیا کہ وہ سو گئی ہیں۔ یہ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اس نیند سے اب بیدار نہیں ہوں گی۔ انہوں نے زندگی سے منہ موڑ کر ہمارے خاندانی مرکز کو ختم کر دیا۔ اب پیچھے ان کے لگائے خوبصورت پودے اور گھر میں کتابوں سے بھری الماریاں ان کی یاد دلانے کو رہ گئی ہیں۔

Facebook Comments HS