اے کشتۂ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا


ارضِ وطن میں تعلیمی انحطاط اظہرمِن الشمس مگر اب فکری انحطاط کے مظاہر بھی جابجا۔ جب مغرب کی فکری یلغار کے زیرِاثر عالمِ اسلام کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کی مرعوبیت کو دیکھتا ہوں تو فشارِ خوں بلند ہوجاتا ہے۔ یہ طبقہ حکمت کی عظیم النظیر کتاب سے رَہنمائی کی بجائے اُن پر وردۂ شَب اہلِ مغرب کا لکھا ہی حرفِ آخر سمجھتا ہے۔ کاش کہ وہ اُس علیم و خبیر کی کتاب کا گہرائی میں جاکر مطالعہ بھی کر لیتے تو اُن پر یہ راز افشا ہوتا کہ اِس کتاب میں اُن کے ہر سوال کا جواب موجود ہے۔

کوئی اُنہیں لاکھ سمجھائے کہ پتھر کبھی گہر بن سکتا ہے نہ کرگس کبھی ہما لیکن یہ ظلمت کو ضیا ثابت کرنے پر بضد۔ یہ سب مغرب کی فکری یلغار کے آگے بند نہ باندھنے کا شاخسانہ ہے۔ مغرب نے تو انقلابِ فرانس کے بعد مذہب کو سیاست سے الگ کر دیا لیکن ہمارے مکمل ضابطۂ حیات کے مطابق سیاست دین کے تابع ہے اور بقول اقبال ”جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“ ۔ اہلِ مغرب کی اسی ”چنگیزی“ کے مظاہر عالمِ اسلام میں جابجا نظر آتے ہیں۔

اہلِ مغرب نے عالمِ استکبار میں محکوم قوموں کو یہ باور کروانے کی سعی کی کہ دورِ حاضر میں اسلام قابلِ عمل نہیں اور تہذیب مغرب میں ہی فلاح کی راہ ہے۔ اِس کے علاوہ شعائرِ اسلام اور اسلامی احکام کو مطعون کرنا، اُنہیں تضحیک کا نشانہ بنانا اور اُن کے خلاف نفرت کے جذبات کو ہوا دینا اُن کا وتیرہ بن چکا۔ اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے وہ شورش وورش کا ہر حربہ آزما رہے ہیں۔ رَبِ لم یزل کا تو حکم ہے ”االلہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی“ (سورۃ الانفال آیت 48 ) ۔

حقیقت مگر یہ کہ مسلمان اپنے مغربی آقاؤں کے زیرِ اثر ہر جگہ باہم دست و گریباں۔ ایران عراق جنگ، عراق کی کویت پر چڑھائی، عراق کی بربادی، صدام حسین کو نشانِ عبرت بنانا اور لیبیا کے صدر معمر قذافی کی دردناک موت دیدۂ عبرت نگاہ میں رقم ہو چکی۔ شام میں 3 لاکھ سے زائد مسلمان اپنوں ہی کے ہاتھوں تہ تیغ ہوئے، مصر، لیبیا اور یمن میں بھائی ہی بھائی کا قاتل بنا۔ امریکہ نے نائین الیون کا بہانہ بنا کر افغانستان کے پہاڑوں کو ڈیزی کٹر بموں سے ریگزاروں میں تبدیل کیا، لاکھوں شہید اور بے گھر ہوئے۔

آج بھی 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین پاکستان میں پناہ گزین۔ اِس اندھی جنگ میں پاکستان کی معیشت کو 110 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور 80 ہزار پاکستانی شہید ہوئے جن میں 8 ہزار پاک فوج کے جری جوان بھی تھے۔ برما کے مسلمانوں کا قتلِ عام اور روہنگیا کے مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد اِس سے الگ۔ اب غزہ میں وحشت و بربریت کا ننگا ناچ، ہزاروں خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ اسرائیلی درندے کسی کیمپ کو چھوڑتے ہیں نہ ہسپتال کو ۔ غزہ میں سوائے بارود کی بُو کے اب باقی بچا ہی کیا ہے۔ اِس کے باوجود بھی ملتِ واحدہ کی بجائے مختلف اوطان میں تقسیم 2 ارب نفوس پر مشتمل قومِ مسلم ایک کروڑ سے بھی کم اسرائیلیوں کا ہاتھ روکنے سے قاصر۔ وجہ یہ کہ عالمِ اسلام کے حکمران یا تو دشمنانِ دیں کے مملوک یا پھر حلیف۔

مغرب کی فکری یلغار نے ہمارے نظریات، افکار و کردار اور اطوار میں تشکیک اور تذبذب کا ایسا زہر گھولا جو احساسِ کمتری و شکست خوردگی کا سبب بنا اور ہم مغلوب و معتوب قوم بن کر رہ گئے۔ ہم اسلامی تعلیمات کو قدامت پسندی و تاریک خیالی محسوس کرنے لگے اور قرآنی تعزیرات کو وحشیانہ اور انسانی حقوق کے منافی سمجھنے لگے۔ اِسی فکری یلغار کے سحر میں گرفتار عالمِ اسلام میں ایک ایسا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ پیدا ہو چکا جو ایک زمانے میں اپنے سیکولر نظریات کی سرگوشیوں میں بات کیا کرتا تھا مگر اب دھڑلے سے قومِ مسلم کے افکار و نظریات کو چیلنج کرتا نظر آ رہا ہے۔

اہلِ مغرب شاداں و فرحاں کہ اُنہیں اپنے افکار کی پاسبانی کے لیے اہلِ اسلام ہی سے ایک مضبوط طبقے کی حمایت حاصل ہو چکی جو اُن کے نظریات اور تہذیب و تمدن کا ترجمان۔ ایسے لوگوں کے لیے ہی حکمِ ربی ہے ”اے نبی! اِنہیں کہو کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جدوجہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ ٹھیک کر رہے ہیں“ (سورۃ الکہف آیات 102,03 ) ۔

بدقسمتی سے ہماری دینی درسگاہیں عبادات، اعتقادات، اخلاقیات اور معاشرت کی تبلیغ و ترویج تک محدود جبکہ مغرب کی فکری یلغار کی یا تو ہمارے علماء کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں یا پھر اُنہیں اِس کا علم نہ ادراک۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نسلِ نو کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے سے محروم اور اِسی لیے آج کا نوجوان تقلیدی روش ترک نہیں کر پاتا۔ یہ بھی تلخ حقیقت کہ ہمارے علمائے دیں کو فرقہ واریت سے ہی فرصت نہیں۔ اُن کی صرف درسگاہیں ہی نہیں مساجد بھی فرقوں میں منقسم۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ہی علامہ اقبالؒ نے فرمایا

فقیہ شہر کی تحقیر! کیا مجال مری
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دِل کی کشاد

کچھ اہلِ جنوں تاحال موجود جو سنتِ منصور ترک کرنے کو تیار نہیں۔ کوئی اُنہیں سمجھائے تو کیسے کہ اِس گنبدِ بے دَر میں اُن کے درد کا درماں ممکن نہ اُٹھتی فغاں پر لبّیک کہنے والا ابنِ قاسم موجود مگر اُن کی ایک ہی ضد کہ جلد یا بدیر غزہ کا خون رنگ لائے گا اور کشمیر کی بیٹی کے سَر سے ردا چھیننے والے اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ اُن کے نزدیک اِن خستہ تنوں کی دعائیں ایک نہ ایک دن ضرور مستجاب ہوں گی اور رنگ و نور میں ڈوبا روشن و تاباں سپیدۂ سحر نمودار ہو گا۔

یہ عشاق ایسے زرِناب جن کے کا سۂ چشم کی بریق یہ پیغام دیتی ہوئی ”تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے“ (سورۃ آل عمران آیت 104 ) ۔ یہ اہلِ جنوں درس دیتے ہوئے کہ اللہ ہمارے ساتھ نہیں کیونکہ ہم خود اپنے ساتھ نہیں جبکہ اُس خالق و مالک کائنات کا یہ واضح فیصلہ ”حقیقت یہ کہ اللہ کسی قوم کا حال نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی“ ) سورۃ الرعد آیت 11 ) ۔

اُن کی جنوں خیزی سے اُبھرتی ہوئی یہ منادی، یہ صدائے جرس کہ جب عرب کے ریگ زاروں پر جہالت کے گھور اندھیرے چھائے ہوئے تھے تب وہیں سے علم و عرفان کی کرنیں پھوٹیں، اخلاق و کردار کے دَر وا ہوئے، شرم و حیا کے دیپ جلے اور امن و عافیت کے نغمے گونجے۔ پھر گزرتے وقت کے ساتھ ہم وسوسوں کا شکار ہو کر گُم کردہ راہ ہوئے اور قعرِمذلت میں جا گرے مگر پھر بھی رَب کی رحمت بیشمار اور دَرِ مراجعت وا۔ تحقیق کہ قومِ مسلم کی حیاتِ نَو ممکن اگر وہ اُسی صراطِ مستقیم پر چل نکلے جس کا حکم اُس لَم یزل نے دیا ہے۔

(امریکہ سے)

Facebook Comments HS