عید قربان اور واٹس ایپ یونیورسٹی


عید قربان آتے ہیں۔ واٹس ایپ سمیت دیگر سوشل میڈیا یونیورسٹیز کے سینئر پروفیسر حضرات سرگرم ہو جاتے ہیں۔ وہ اس اسلامی حکم پر ایسی ایسی توجیہات لے کر آتے ہیں کہ ذہن گڑ بڑا کر رکھ دیتے ہیں مثلاً عید قربان سے پہلے آپ کو کچھ تحریریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی نظر آئیں گی جس میں لکھا ہو گا کہ قربانی کرنے کی بجائے کسی سکول کے بچے کی فیس دے دیں۔ کسی مریض کا علاج کر دیں، کسی غریب کی جھونپڑی کی چھت ڈلوا دیں۔ کسی کو سبزی کی ریڑھی لگوا دیں وغیرہ وغیرہ۔ ایسے دلائل لفظوں کے ایسے ہیر پھیر میں پیش کیے جاتے ہیں کہ اچھا بھلا عقلمند انسان بھی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کی بات میں وزن تو ہے۔

ایسے ہی پروفیسر حضرات کو اگر بتایا جائے کہ اسپین میں ایک ایسا ٹماٹر فیسٹیول ہوتا ہے جس میں 150 ہزار کلوگرام ٹماٹر کا اسٹیج بنا کر گلیوں میں لوگ ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکتے اور ناچتے ہیں اور اس فوڈ کو ضائع کر دیتے ہیں تو وہ اسے ثقافت کا نام دے دیں گے۔ اگر انہیں بتایا جائے کہ ہر سال دنیا میں 120 ملین درخت کاٹ کر صرف کرسمس ٹری جیسی ایسی رسم نبھائی جاتی ہے جس کا کرسمس کی مذہبی روایات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ اسے بھی ثقافت کا نام دے کر منہ بند کروا دیں گے اگر بتایا جائے کہ ہر سال دنیا بھوتوں کا فیسٹیول ہالووین منانے کے لئے 700 ملین ڈالر صرف عجیب و غریب لباس اور ماسک پر خرچ کر دیا جاتا ہے تو اسے بھی ثقافت کا نام دے دیا جائے گا۔ دنیا کیا پاکستان میں ہی دیکھ لیں بسنت ہو یا کرکٹ، شادی بیاہ ہو یا میلے ٹھیلے، سیاستدانوں کی شعبدہ بازیاں ہوں یا پیروں کی جی حضوریاں کتنا زیادہ پیسا خرچ کر دیا جاتا ہے لیکن کسی کو غریبوں کا درد نہیں جاگتا۔ لیکن ہمارے اندر کا مصلح حج، قربانی یا افطاری جیسے اسلامی احکام پر ہی جاگتے ہیں

اس لاجک پر بحث کرنے کی بجائے سوال یہ بنتا ہے کہ کیا قربانی کا گوشت کہیں پھینک کر ضائع کر دیا جاتا ہے، جیسے کچھ مذاہب میں دودھ، پانی و دیگر مشروب عبادت گاہوں کو دھوتے ہوئے ضائع کر دیتے ہیں۔ یا پھر گھی یا خوردنی تیل کو آگ میں جلا دیا جاتا لیکن کسی غریب کی ہانڈی نہیں پکنے دیتے۔ یا کسی عبادت گاہ میں موم بتیاں جلانے کی رسم تو کی جاتی ہے لیکن کسی کے گھر میں روشنی نہیں کی جاتی یا کسی قبر پر چادریں چڑھا دی جاتی ہیں لیکن کسی کی غریب طالبعلم کو یونیفارم نہیں بنا کر دیا جاتا اگر ایسا ہے تو قربانی پر بھی کھل کر تنقید کریں لیکن اگر کسی غریب کے گھر میں سال میں ایک دفعہ گوشت بننے والا ہے تو پھر آپ کو کیا تکلیف ہو گئی۔

اگر آپ قربانی کے گوشت پر یہ بحث چھیڑنا چاہتے ہیں کہ اس رقم سے کوئی دوسرا نیکی کا کام کر سکتے ہیں تو یہ دلیل اتنی ہی بھونڈی ہے کہ اگر کوئی ایک شخص کسی معذور کو بیساکھی لے کر دینے والا ہو تو آپ اسے مشورہ دیں کہ اس پیسے سے کسی نابینا کو چھڑی کیوں نہیں لے دیتے۔ دو نیکیاں ایک دوسرے کے مقابلے میں کیسے رکھی جا سکتی ہیں۔ صدقہ و خیرات ایک الگ اسلامی حکم ہے اور قربانی ایک الگ اسلامی حکم ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں رکھنا اصل میں ایک نیک کام سے آپ کا دل کھٹا کر نا ہے اور آپ کو باز رکھنا ہے۔ ورنہ آئی فون کا نیا ماڈل خریدنے والا بھی اسی رقم سے پرانا فون لے کر کسی غریب کی مدد کر سکتا تھا۔

اٹلی میں کرسمس میں ایک روایت ہے کہ کمپنی مالکان اپنے اسٹاف کو ایک گفٹ پیک دیتے ہیں جس میں کھانے پینے کی چیزیں اور مٹھائیاں وغیرہ ہوتی ہیں۔ مجھے یاد ہے بیس سال پہلے میں ایک کمپنی میں یونین لیڈر تھا۔ ہماری کمپنی کے مالک نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی ورکر کو کرسمس گفٹ نہیں دے گا۔ بلکہ اس گفٹ کی ساری رقم افریقہ کے کسی ملک کے سکول کے بچوں کو بھیج دے گا۔ سب اطالوی ورکرز کے منہ لٹک گئے۔ میں نے نوٹس بورڈ پر لگا ہوا کاغذ اکھاڑا اور سیدھا ورکرز کے حقوق کے لئے لڑنے کمپنی مالک کے دفتر پہنچ گیا۔

نوجوان اطالوی مالک مجھے کہنے لگا کہ تم ایک مسلمان کمیونسٹ ہو اور مسیحیوں کے کرسمس گفٹ کے لئے مجھ سے جھگڑا کرنے آئے ہو حالانکہ تمہیں مجھے شاباش دینی چاہیے کہ میں ایک مسلمان افریقی ملک کے بچوں کو رقم گفٹ کر رہا ہوں۔ میں نے اسے بھی یہی دلیل دی کہ دو نیکیاں ایک دوسری کی ضد نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ ڈولفن بچانے کے لئے جد و جہد کرنا چاہتے ہو تو یہ نعرہ نہیں لگا سکتے کہ مجھے کچھوے کی کوئی پرواہ نہیں ہے وہ مرتے ہیں تو مر جائیں۔ اگر تمہارے دل میں افریقی بچوں کا درد جاگ گیا ہے تو ان کی مدد اپنی جیب سے کرو۔ اپنے ورکرز کے حق کے پیسے دوسروں کو دے کر تقدس کے مینار پر نہ چڑھو۔ خیر وہ میری دلیل مان گیا اور تمام اسٹاف ممبرز کے لئے گفٹ پیک کا انتظام کر دیا گیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments