ساچے گرو کا بالکا


علم تاریخ کو کبھی بادشاہوں سے جوڑا گیا اور کبھی طبقات کی باہمی کشمکش سے تعبیر کیا گیا۔ گزشتہ صدی کا اگر جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے تاریخ بادشاہوں اور مزدورں کی قید سے آزاد ہو کر سیاسی لیڈروں کی اسیر ہو چکی ہے۔ سیاسی لیڈروں کی تعریف اور تنقید کے اس شور میں البتہ سیاسی کارکنان ہر قسم کے حساب کتاب سے ماؤرا ہو چکے ہیں۔ کارکنان کا تعلق خواہ دائیں بازو سے ہو یا بائیں بازو سے، پاکستان سے ہو یا دنیا بھر سے، لگتا ہے کہ وہ لیڈران کی مسلسل بے وفائیوں یا کوتاہیوں سے اکتاء کر اپنے اصل راستے سے ہٹ گئے ہیں۔

ہمارے کچھ دوستوں کے مطابق آج کل کے کارکنان ”ترقی۔“ پا کر سیاسی کارکنان سے سیاسی مزارعین کا روپ دھار چکے ہیں۔ چونکہ راقم بھی اپنے تئیں ایک سیاسی کارکن ہونے دعویٰ رکھتا ہے اس ناتے سے ہم اپنے ہمراہیوں بارے میں اتنی سخت رائے نہیں اپنا سکتے۔ یہ بات درست ہے کہ گزشتہ چالیس پچاس سالوں کے دوران جہاں لیڈروں اور سیاستدانوں نے بادشاہوں کا سا طرز عمل اور سوچ کو اپنایا تو دوسری طرف کارکنان نے بھی بزور جمہر کا انداز سوچ اختیار کر لیا ہے۔

بزور جمہر ایران کے کسی بادشاہ کا چالاک درباری ہو گزرا ہے جس کا فلسفہ تھا کہ دربار میں خاموش رہو، بادشاہ کی ہر درست اور غلط بات میں ہاں سے ہاں ملاؤ، چمچ گیری کا کوئی موقع ہاتھ سے مت جانے دو اور خاموشی سے بادشاہ کے پیش کردہ منصوبے کے نتائج کا انتظار کرو۔ اگر نتائج بہتر ہوں تو عوام کو بتاؤ کہ اس کامیاب منصوبے کی منظوری ہم نے دی تھی۔ ناکامی کی صورت میں سارا الزام بادشاہ پہ دھر دو ۔ اس طریقے سے جان بھی محفوظ رہے گی اور عوام کی نظروں میں وقار بھی قائم رہے گا۔

بادشاہ اور درباری بہرحال لازم و ملزوم رہے ہیں البتہ اس بات کا سراغ ضرور لگانا چاہیے کہ ہماری حالیہ سیاست میں بادشاہ پہلے وارد ہوئے یا درباری۔ لہذا انڈے اور مرغی والی اس بحث میں جانے کی بجائے ہم کچھ اور زاویوں سے اپنے اصل موضوع پر بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے اس کالم کو دنیا بھر کے سیاسی کارکنان کے نام کرتے ہیں۔

لیڈر اور کارکن کے معاملات کو ہم دو زاویوں یا تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے کو ہم قدیم زاویہ کہہ سکتے ہیں جبکہ دوسرے کو جدید یا مادی زاویے کا نام دے دیتے ہیں۔ قدیم انسانی تاریخ سے لے کر اٹھارہویں صدی تک لیڈر اور کارکن کی موجودہ اصطلاحات دنیا میں مستعمل ہی نہیں تھیں، سیاسی پارٹیوں کا وجود نہیں تھا، جمہوریت اور پارلیمان کو کوئی تصور نہیں تھا، اسی طرح لیڈر اور کارکنان بھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ تاریخ کے اس دورانیہ کی لیڈر شپ البتہ بادشاہوں، فرعون، سیزر، سلاطین، جرنیل، قاضی، راہب اور ہامان، قبائلی سرداروں اور بعض اوقات بغاوت کی صورت میں باغیوں کے سرغنہ کی صورت میں ہوتی تھی جبکہ درباری، حواری، دس ہزاری ٹائپ کے موالیوں کو کارکنان کے درجے پر رکھا جا سکتا ہے۔

دور جدید میں لیڈر اور کارکن میں زیادہ فرق نہیں رہ گیا جو خوبیاں اور سوچ کارکن میں ہونی چاہیے وہی لیڈرشپ کے لیے درکار ہوتی ہیں البتہ پارٹی کی طرف سے نمائندگی کی اضافی ذمہ داری اسے کارکن سے لیڈر بنا دیتی ہے۔ ہم اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں ایک اچھا سیاسی کارکن ہی اچھا سیاسی لیڈر ہوتا ہے یا وہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہوتے ہیں یا ہونے چاہیں۔

ایک اچھے سماجی اور سیاسی کارکن کی کیا خوبیاں ہونی چاہیں اس ضمن میں بڑا سادہ سا جواب ہے کہ ایک اچھے انسان کی تمام خوبیاں جو آسمانی اور دنیاوی کتابوں میں بیان کی گئی ہیں مثال کے طور پر سچ بولے، وقت کی پابندی کرے، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے شفقت کرے، حرام نہ کھائے وغیرہ۔ ان تمام خوبیوں کا سیاسی کارکن میں کم از کم ہونا ضروری ہے۔

بھگت کبیر اور گاندھی جی جو کہ اپنے اپنے دور کے مشہور زمانہ سماجی اور سیاسی تبدیلی کے طالب علم اور کارکن تھے کی تحریروں میں سیاسی کارکنان کی خوبیوں کے متعلق کچھ خاص تحریریں ملتی ہیں۔ ممکن ہے ان کے علاوہ اور مشاہیر نے بھی اس ضمن میں کچھ لکھا ہو مگر ان کی تحریریں راقم کی نظر نہیں گزریں جس کے لیے پیشگی معذرت۔

گاندھی جی نے سیاسی کارکن کو تلاش حق کا مسافر یا متلاشی لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں تلاش حق کے راستے پر ہر انسان نہیں چل سکتا، یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ بہت پڑھا لکھا ہو اور عمر اور تجربے کی بھی کوئی قید نہیں۔ تلاش حق کے متلاشی کو راستے کی مٹی سے بھی نچلے درجے پر اور نرم و عاجز ہونا چاہیے تا کہ لوگ لوگوں کو کچلیں اور کچلے ہوئے لوگ راستے کی مٹی کو کچلیں اور راستے کی مٹی تلاش حق کے متلاشیوں کو کچلے اور وہ صبر اور استقامت سے معاملات کو سلجھائیں۔

بھگت کبیر نے مذکورہ مضمون کو محض چار مصروں میں بند کر کے پیش کیا جس کی بعد میں بابا گرو نانک نے تفصیل سے تشریح کی جو گرنتھ صاحب میں درج ہے۔

ہرمرے تو ہم مرے
اور ہمری مرے بلاسے
ساچے گرو کا بالکا
سو نہ مرے نہ مارا جائے

ان اشعار میں ساچے گرو یعنی سچے گرو سے مراد کسی سچے مرشد اور بالکے سے مراد مرید یا چیلے سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہی اکائی کا نام ہے۔ سماجی اور سیاسی تبدیلی کا کوئی بھی طالب علم اگر اپنے اندر چار خوبیاں پیدا کر لے جس میں پہلی خوبی کو انہوں نے راستے کے پتھر سے تشبیہ دی ہے یعنی اپنے ارادوں میں ٹھوس پن اور اپنی پسند اور ناپسند اور اپنی ہستی کا رد اور اپنے آپ کو عوام کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا۔ ارادوں کا ٹھوس پن کسی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اس لیے وہ اپنے اندر مٹی کی خوبیاں پیدا کرے کیونکہ مٹی کسی کو زخمی نہیں کر سکتی لیکن کسی کے جسم اور کپڑوں کو میلا کر سکتی ہے۔

اس سے بچاؤ کے لیے سربنگ پانی کی خوبی درکار ہے جو میل اور زخموں کو صاف کرتا ہے۔ پھر بیان کرتے ہیں کہ پانی میں بھی ایک خامی ہے کہ یہ تھوڑی حرارت سے کھولنا شروع ہو جاتا ہے اور ہلکی سردی میں جم جاتا ہے اس لیے پانی کی اس خامی کو بدلنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ نہ ُابل سکے اور نہ برف بن سکے۔ جب یہ چاروں خوبیاں کسی بھی انسان میں پیدا ہو جائیں تو خود ہی اپنا سچا گرو بن جائے گا اور وہ سیاسی طور پر نہ تو مر سکتا ہے اور نہ ہی مارا جا سکتا ہے۔ جب گرو یا لیڈر کو ہی نقصان نہ پہنچ سکے گا تو عوام کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔

Facebook Comments HS