زمین کی پکار: ورلڈ انوائرمنٹ ڈے پر ایک تحقیقی فیچر


کراچی کی تپتی دوپہر میں جب چمکتی ہوئی سورج کی روشنی سمندر کی لہروں پر رقص کرتی، تو کسی زمانے میں یہ منظر دلوں کو تازگی بخشتا تھا۔ مگر آج یہی ساحل کچرے کے ڈھیروں میں ڈھکا ہوا ہے، اور سمندر کی موجوں میں پلاسٹک کی بوتلیں تیرتی نظر آتی ہیں۔ ہوا میں گٹر کے پانی اور آلودگی کی بدبو شامل ہے، جو سمندر کے پانی میں مضر مادوں کی بھرمار کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہے۔ یہ مناظر اور بدبو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اپنی زمین کے محافظ ہیں؟ سمندر کا پانی اب انسانوں کے لئے مضر صحت اور سمندری حیات کے لئے جان لیوا بن چکا ہے۔ اور یہ سوال ہمیں اورلڈ انوائرمنٹ ڈے کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔

اورلڈ انوائرمنٹ ڈے 1972 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران قائم کیا گیا تھا، اور پہلی بار 1974 میں منایا گیا۔ اس دن کا مقصد ماحولیاتی مسائل کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور عوام کو ماحول کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے ماحول کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان میں بھی مسائل شدید صورت اختیار کر چکے ہیں۔ کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اورلڈ انوائرمنٹ ڈے کا مقصد ان مسائل کو اجاگر کرنا اور عالمی برادری کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ ہم سب مل کر ماحول کی حفاظت کے لئے اقدامات کرسکیں۔

ماحولیاتی تبدیلی: گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ نے دنیا بھر میں موسموں میں تبدیلیاں لائی ہیں۔ پاکستان میں غیر معمولی بارشیں اور شدید گرمی کی لہریں اس کا ثبوت ہیں۔

آلودگی: ہوا، پانی، اور زمین کی آلودگی نے انسانی صحت اور ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ کراچی کی فضائی آلودگی، دریائے سندھ کی آبی آلودگی اور شہری کچرے کا بے ہنگم پھیلاؤ ان مسائل کی مثال ہیں۔

حیاتیاتی تنوع کا نقصان: جنگلات کی کٹائی اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان میں بھی بہت سی جنگلی حیات کی نسلیں ختم ہونے کے خطرے میں ہیں۔ مارگلہ کے پہاڑوں کے جنگلات کی کٹائی اور چولستان کی ریتلی زمینوں کا نقصان اس کی زندہ مثالیں ہیں۔

پاکستان کے ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک، جیسے کہ برائٹن (برطانیہ) ، میکسیکو، اور بھارت میں بھی سمندری آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ برائٹن میں سمندر کے کنارے کچرے کے ڈھیر اور پانی میں پلاسٹک کی بھرمار نے نہ صرف مقامی لوگوں کی صحت کو متاثر کیا ہے بلکہ سمندری حیات کے لئے بھی شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

ہمیں پائیدار ترقی کے اصولوں کو اپنانا ہو گا جس میں وسائل کا موثر استعمال اور ماحولیاتی نظام کی حفاظت شامل ہو۔ اس میں شامل ہیں :

قابل تجدید توانائی: سورج، ہوا اور پانی جیسے وسائل کا استعمال کر کے توانائی پیدا کرنا۔
پانی کی بچت: پانی کے استعمال میں کمی اور ری سائیکلنگ کے طریقے اپنانا۔
زرعی عمل میں کم کیمیائی مادوں کا استعمال اور نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینا ہو گا۔

حکومتوں کو سخت ماحولیاتی قوانین اور پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی تاکہ آلودگی کو کم کیا جا سکے اور قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، کچھ ممالک میں پلاسٹک کی مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے :

بھارت نے کئی ریاستوں میں پلاسٹک بیگز پر پابندی لگا دی ہے۔

کینیا نے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی ہے، جس سے فضائی اور زمینی آلودگی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

عوامی شعور بیداری: عوام میں ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لئے تعلیمی مہمات اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ پاکستان میں این جی اوز اور تعلیمی ادارے اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سکولوں میں ماحولیاتی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے :

گرین اسکولز پروگرام: کئی ممالک میں یہ پروگرام چل رہے ہیں جو بچوں کو ماحولیاتی مسائل سے آگاہ کرتے ہیں اور انہیں حل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اورلڈ انوائرمنٹ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے ماحول کی حفاظت کریں۔ کیا ہم آنے والی نسلوں کو ایک صحتمند اور محفوظ دنیا دینے کے لئے تیار ہیں؟ آئیے، اس دن کو عہد کریں کہ ہم اپنے ماحول کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہمیں فوری اقدامات کرنے ہوں گے، کیونکہ وقت ہمارے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ اپنی زمین کو بچائیں، اپنے ماحول کو صاف رکھیں، اور ایک پائیدار مستقبل کے لئے قدم اٹھائیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments