قدرت نہیں بھولتی
یہ سترہ جون 2019 جون کی بات ہے۔ گھر والوں اور کزنز کے ساتھ کاغان، ناران جانے کا پروگرام بنا۔ ان دنوں اے آر وائی ہیڈ آفس کراچی کے ساتھ منسلک تھا تو حسب توقع نیوز کی بہتات کی وجہ سے لیٹ سٹنگ ہوتی تھی اور ٹور کی تیاری کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ اس دن جیسے تیسے کر کے آفس سے جلدی اٹھا، ٹی شرٹ اور جوتے لینے گھر کے نزدیک راستے میں پڑنے والے سینٹرم شاپنگ مال جا پہنچا۔ ان دنوں چائنا برانڈ کے جوتے نئے نئے مارکیٹ میں آئے تھے اور ان کی دھوم مچی ہوئی تھی۔
مال کے بیسمنٹ میں قائم جوتے کی دکان پر ایک سے بڑھ کر ایک سے خوبصورت جوتے رکھے ہوئے تھے۔ خریداری کی اور دو جوڑے جوتے پسند کیے لیکن جو دوسرا جوڑا تھا اس میں صمد بانڈ کی طرح کے لوشن کا نشان سامنے ہی لگا ہوا تھا۔ پوری دکان میں اس ڈیزائن کا وہ ایک ہی جوڑا تھا۔ دکاندار نے کہا کہ آپ گھر جا کر اس کو پیٹرول سے رگڑ لیجیے گا یہ صاف ہو جائے گا۔ دکاندار کی اس یقین دھانی پر دونوں جوڑے خرید کر گھر لے آیا اور رات کو صحن میں بیٹھ کر اس ایک جوتے کے نشان کو ہلکے ہلکے پیٹرول سے صاف کرنے لگا۔
لیکن جیسے جیسے جوتے کے نشان پر پیٹرول لگ رہا تھا وہ اور پھیلتا جا رہا تھا۔ نہ صرف وہ نشان پھیل گیا بلکہ جوتا اندر سے بھی پھول گیا۔ بہرحال اس کو سوکھنے کے لیے کمرے کے ایک کونے میں رکھ دیا۔ اگلی صبح جب آفس جانے سے پہلے اس جوتے پر نظر پڑی تو سر چکرا کر رہے گیا۔ جوتا اپنی شکل ہی کھو بیٹھا تھا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اسی رات گرین لائن سے روانگی تھی اور اتنا وقت نہیں تھا کہ دکان پر دوبارہ جایا جائے۔ بہرحال کسی بھی طرح وقت نکال کر شام کو بھاگتے بھاگتے جوتا لے کر دوبارہ دکاندار کے پاس پہنچا اور اس کو اس جوتے کا حال دکھایا۔
لیکن حسب توقع پیارے مسلمان بھائی نے جوتا واپس لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بقول یہ اصول ہے کہ خریدی ہوئی چیز واپس یا تبدیل نہیں ہو گی۔ بہرحال سخت بحث و مباحثہ ہوا اور لوگ بھی جمع ہو گئے لیکن اس نے جوتا لینے سے انکار کر دیا اور پھر میرے پاس بھی کیوں کہ وقت کی کمی تھی اس لیے میں بھی دل میں کوفت لیے وہ جوتا اس کی دکان پر چھوڑ کر آ گیا یعنی دو ہزار روپے ضائع گئے۔ بات آئی گئی ہو گئی میں بھی یہ بات بھول گیا۔
پانچ سال بعد گزشتہ دنوں یعنی جون کے مہینے میں ہی ایک بار پھر میں سینٹرم شاپنگ مال گیا۔ مجھے ایک جینز اور گرمیوں کے حوالے سے ہلکی بیسک ٹی شرٹ درکار تھی۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے یہ ان پانچ برسوں میں اس مال میں دوسرا چکر تھا۔ کچھ عرصے قبل فرنٹ کی دکان سے ہی بیٹے کے لیے جینز خرید کر چلا گیا تھا لیکن مال کے اندر اس عرصے میں پہلی مرتبہ آنا ہوا۔ اتفاق ہے میں نے اسی جوتے کی دکان کے سامنے والی دکان سے ایک جینز پسند کی۔
ابھی میں جینز کی قیمت کے حوالے سے بات کر ہی رہا تھا کہ پیچھے دو تین خواتین کی چیختی ہوئی آواز آئی آگ آگ آگ اور وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی اسی جوتے والے کی دکان سے باہر نکلیں۔ دیگر دکاندار بھی گھبرا کر باہر نکل آ گئے۔ دیکھا تو اسی جوتے کی دکان کے ایک شیلف میں آگ لگی ہے جس کی شدید دھواں چاروں طرف پھیل رہا ہے۔ ایک دم کہرام سا مچ گیا کوئی واٹر کولر لے کر پہنچا کوئی موٹے کپڑے کو آگ پر مار مار کر آگ بجھانے لگا۔
لیکن آگ آہستہ آہستہ پھیلتی جا رہی تھی۔ خیر اتنے میں ایک شخص کہیں سے فائر ایگزٹنگوشر لے آیا جس نے آگ پر چند لمحوں میں ہی کنٹرول کر لیا۔ لیکن دھواں اتنا شدید تھا کہ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ بہرحال پانچ دس منٹ بعد لوگوں کے اوسان قابو میں آئے تو مجمع چھٹنا شروع ہوا۔ مارکیٹ کے عہدے دار نے بتایا کہ ہم دس پندرہ سال سے یہاں کاروبار کر رہے ہیں آج تک کسی دکان میں ایسا واقعہ نہیں ہوا۔ میں بھی واپس اسی دکان پر پہنچا اور اپنی خریداری مکمل کی۔
واپسی پر گاڑی چلاتے ہوئے میرے ذہن میں یہ تمام واقعہ بار بار گھوم رہا تھا۔ تب مجھے ایک دم وہ پانچ سال پہلے کا قصہ یاد آیا کہ یار اسی دکان والے نے تو میرا جوتا واپس لینے سے انکار کر دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آگ میری اس خریداری تک آنے کے لیے روکی رکھی۔ یہ آگ تو کبھی بھی کسی وقت لگ سکتی تھی ان پانچ برسوں میں لیکن جب تک میں وہاں نہیں گیا اور اسی کے سامنے والی دکان کے سامنے نہیں کھڑا ہوا یہ آگ نہیں لگی۔
یوں لگ رہا تھا کہ قسمت پانچ سال سے میری موجودگی کا انتظار کر رہی تھی اور جسے ہی میں وہاں پہنچا پانچ سال قبل کی ہوئی دل آزاری نے چنگاری کا روپ دھار لیا۔ بہرحال میں نے اس دکاندار کو ایک بار پھر معاف کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کے اس کا نقصان جلد از جلد پورا ہو اور اس کو حق حلال کی روزی کمانے کی توفیق عطا ہو۔ لیکن اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ کسی کی دل آزاری نہ کرو۔ آپ تو ہو سکتا ہے بھول جاؤ لیکن قدرت کبھی نہیں بھولتی


