توہین مذہب اور قانون شکنی


25 مئی کو سرگودھا کی مجاہد کالونی میں مبینہ طور پر نذیر مسیح ولد صادق مسیح سکنہ مجاہد کالونی سرگودھا کی طرف سے قرآن ِپاک کی بے حرمتی کے ارتکاب کا الزام لگایا گیا۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق عمران حسین کی وقوعہ سے تین روز قبل لڑائی ہوئی اور عمران کا بجلی کا میٹر ملزم پارٹی کی طرف سے توڑا گیا جو زیادتی اور نا انصافی ہے تاہم یہ کہاں کا انصاف ہے کہ نذیر مسیح کے بیٹوں سلطان مسیح اور الیاس مسیح کے ساتھ ذاتی رنجش کو مذہبی رنجش میں بدل دیا جائے۔

ایک مسیحی گھرانے کے ساتھ ذاتی دشمنی کو مذہبی رنگ دے کر تباہ و برباد کر دیا گیا، جس کی وجہ سے نہ صرف اندرون بلکہ بیرون ملک پاکستان کو سبکی کا سامنا ہے، ایک ہجوم نے نہ صرف قانون کو ہاتھ میں لیا بلکہ عمر رسیدہ شہری نذیر مسیح کو موقع پر ڈنڈوں، مکوں اور اینٹوں سے حملہ کیا گیا اور وہ بعد میں وہ جانبر نہ ہو سکا۔

سرگودھا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس طرح کے واقعات اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہیں، ہمارے مذہب میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہے، غیر مسلموں کے ساتھ ناروا سلوک کی گنجائش نہیں، توہین مذہب کے نام پر اقلیتی برادری پر تشدد، املاک کو نقصان پہچانے کے اقدامات دنیا بھر میں اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کا سبب ہیں جس کا کوئی بھی محب اسلام اور محب وطن تصور بھی نہیں کر سکتا۔ قرآن مجید کی بے حرمتی کے ساتھ ساتھ گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ اقلیتی لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

دیکھا جائے تو صرف مذہبی طبقات پہ ہی موقوف نہیں، ہمارے عمومی اور مجموعی روّیوں میں اشتعال انگیزی، انتہا پسندی، الزام تراشی اور تشدّد آمیزی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ چونکہ مذہبی تصادم و تشدّد سوسائٹی کے لیے زیادہ ہیجان خیز اور اَمن و امان کی مجموعی صورتحال کے لیے زیادہ خطرناک ہے، اس لیے جیسے ہی خطّے میں، کسی بھی مقام پر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو پورا معاشرہ دم سادھ لیتا ہے کہ نہ جانے اب بات کہاں تک پہنچے۔

مذہب کے حوالے سے حساسیت اس لیے بھی ذرا زیادہ ہے کہ ہمارا دین بلکہ دنیا کے تمام ادیان اور مذاہب کا مدار، امن، رواداری اور محبت ہے اور اگر اخوت و بھائی چارے کے اَمین ادارے بھی تشدّد، افتراق اور وحشت کے علمبردار بن جائیں تو پھر سوسائٹی کو امان کہاں سے ملے۔ ”توہینِ مذہب“ کے نام پر کتنے بے گناہ بھی مارے جا چکے ہیں۔ گزشتہ سال جڑانوالہ میں 26 چرچ نذرِ آتش ہوئے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو رسوائی کا سامنا ہوا۔

ہجوم کے اپنے ڈائنا میکس ہوتے ہیں، ایک خاص مرحلے پہ پہنچ کر اس کا قابو میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کو جس طرح کی حفاظت اور حقوق میسر ہیں، وہ یقیناً لائق تحسین ہیں، پاکستان کی یونیورسٹیز میں عبرانی اور لاطینی زبانیں تک پڑھائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں ہیومن رائٹس اور مینارٹی اَفیئرز کے محکمے مستقل بنیادوں پہ کام کر رہے ہیں، کرسچیئن، سکھ، ہندو، بہائی اور پارسی سمیت تمام مذاہب مکمل آزادی کے ساتھ، اپنے مذہبی عقائد کی روشنی میں، اپنے خاص ایام، عبادات اور رسومات کا اہتمام کرتے ہیں۔

حالیہ واقعہ میں بھی مسلم زعماء اور بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا سیّد عبد الخبیر آزاد کرسچیئن قائدین کو ساتھ لے کر سرگودھا کی مجاہد کالونی پہنچے۔ اصل معاملہ پسِ پردہ محرکات تک رسائی ہے۔ تمام مسالک کے اکابر علماء نے ہمیشہ انتہاپسندی، تشدّد اور افراط و تفریط کی مذمت کی۔ جب کوئی ہنگامہ یا حادثہ ہوجاتا ہے تو اس پر فوری میٹنگز، ڈیکلریشن، اجتماعات اور اعلانات کا اہتمام کر کے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ ان ایشوز کے مستقل حل کے لیے موثر یا دیر پا اقدام معرض ِ عمل میں نہیں آتے۔ آج تک ہم کوئی ایسا ادارہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ جہاں بین المذاہب ڈائیلاگ کا مستقل انتظام، معاشرتی روّیوں کی تطہیر، انتہاپسندانہ نظریات اور رجحانات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ہوں تاکہ تشدّد اور دہشت کے یہ سَوتے ہمیشہ کے لیے خشک ہوجائیں۔

اس سے قبل سانحہ سیالکوٹ کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے اہل دانش و علماء سے سانحہ کے تناظر میں آراء طلب کیں۔ اہل دانش نے جو آراء پیش کیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔

• یہ صرف مذہبی نہیں بلکہ ایک معاشرتی اور نفسیاتی معاملہ ہے اسے بروقت نہ سمجھا گیا تو مزید نقصانات کا قوی اندیشہ ہے۔

• ہجوم میں ایک احساس قوت موجود ہوتا ہے اس لیے وہ کوئی بھی کام کر ڈالتا ہے۔ جذباتیت کا عنصر غالب ہونے سے عقل کام نہیں کرتی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت محدود اور افواہیں لوگوں میں ردعمل پیدا کرتی ہیں اور وہ ایسے کام کر جاتے ہیں جن پر وہ بعد میں نادم بھی ہوتے ہیں۔

• ہجوم میں جرم مشترکہ ہونے کی وجہ سے کسی پر ذمہ داری ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں موقع کی عکس بندی ایک اچھا عمل ہے جس سے بندوں کی پہچان ہو سکتی ہے اور سزا کے خوف سے لوگ غلط کام سے بچیں گے۔

• ہمارا ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی توانائیاں صحیح طور پر استعمال کرنے کے مواقع میسر نہیں۔ ہمارے ہاں کھیلوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور نہ ہی ہم نصابی سرگرمیوں کے مناسب مواقع ہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں کی توانائیاں منفی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔

• ہمارے نظام عدل اور انتظامی ڈھانچے پر لوگوں کو اعتماد نہیں ہے جس کی وجہ سے قانون کو ہاتھ میں لینے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ بنیادی تعلیم اور تربیت پر زیادہ توجہ دے۔ بدقسمتی سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC ) نے سائنس اور ٹیکنالوجی پر تو بہت زیادہ توجہ دی لیکن سماجی، مذہبی اور آرٹ کے مضامین کو پس پشت ڈال دیا گیا جس سے معاشرے کی سمت میں تبدیلی آئی۔ اب بھی اس کمی کا ازالہ کر کے معاشرتی بگاڑ کو درست کیا جاسکتا ہے۔

• ہمارا ایک بہت بڑا قومی مسئلہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ہے، جس کے اصول و ضوابط ہیں اور نہ اس پر حکومتی کنٹرول ہے ٹی وی پر ایسے رول ماڈل دکھائے جاتے ہیں جن کا کام تشدد کی ترویج ہے۔

• منبر و محراب، اسکول اور مدر سے کا معاشرے کو سنوارنے میں اہم کردار ہے، عوام کو برداشت کی تعلیم دینا وقت کا بڑا تقاضا ہے، اساتذہ کی تربیت ان خطوط پر ہونی چاہیے کہ وہ یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھا سکیں۔ معاشرے کی سمت درست ہو۔ صبر، برداشت اور اپنی اصل سے جڑے رہنا ہی وہ عناصر ہیں جن کی بدولت ہم کھوئی ہوئی منزل پا سکتے ہیں، نفرت صرف نفرت کو اور تقسیم مزید تقسیم کو جنم دیتی ہے جس کی روک تھام ہم سب کا فرض ہے۔

•قومی مفاد کے نام پر طاقت کے بل بوتے پر ملکی آئین معطل کرنے والے عدالت اور قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ اس طرح ملک کا طاقتور طبقہ اپنے طرز عمل سے پورے معاشرے کو یہ پیغام نہیں دیتا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینا بڑی بات نہیں۔ جب تک بالا دست طبقہ خود قانون کی عمل داری تسلیم نہیں کرتا عوام سے قانون کی حکمرانی کی توقع کار عبث ہے۔

• انتہا پسندی کا ایک سبب کم علمی ہے، جیسے چرچ پر حملہ آور ایک نوجوان کا موقف یہ تھا کہ وہ امریکہ میں ایک پادری کے قرآن جلانے کا ”قصاص“ لینا چاہتا ہے۔ اب اسے کون سمجھائے کہ ایک کے کیے کی سزا دوسرے کو دینا ظلم ہے۔

• اکثر ایسے مواقع پر کہا جاتا ہے کہ نئی قانون سازی کی جائے، پاکستان میں مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ قوانین کے موثر نفاذ کی ہے۔

• قانون کی پابندی اور پاس داری کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنے کی غرض سے مختلف اسباب اختیار کیے جا سکتے ہیں جن میں مناسب اور سنجیدہ نعرے کمپین کی شکل میں ہوں۔

•ہمارے معاشرے میں جس طرح دیگر مقدمات مثلاً 302 جیسے مقدمات میں جھوٹ، غلط بیانی اور جعل سازی کا رجحان ہے اسی طرح توہین مذہب کے مقدمات میں بھی ذاتی مخاصمت، عصبیت، ذاتی انتقام اور سیاسی مفادات جیسے اسباب پائے جاتے ہیں۔ اس رجحان کے سدباب میں بھی عدالتی کمزوری واضح ہے۔ جہاں توہین کے حقیقی مجرموں اور توہین مذہب کا جھوٹا اور غلط الزام لگانے والوں کو سزائیں دینے کی کوئی قابل قدر عدالتی کار کردگی ہمارے سامنے نہیں۔ توہین کے مرتکب اور جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی عبرتناک سزا دے کر ہی اس معاملے کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments