دنیا تعلیم کو بابو سازی سے آگے لے جا رہی ہے
دنیا کا تعلیمی نظام مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں دنیا کا تعلیمی نظام ماضی کے مقابلے میں زیادہ سرعت کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔ بنیادی تعلیم کے حوالے سے دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے اپنے ماڈل متعارف کروائے ہیں اور ان پر عمل کر کے اپنے شہریوں کو تعلیم یافتہ بنا رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک ایسا کرنے میں نہ صرف ناکام ہیں بلکہ وہ ڈیڑھ صدی پرانے تعلیمی نظام سے ہی کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
زیادہ تر ترقی پذیر ممالک انگلستان، فرانس، اسپین اور دیگر ممالک ماضی کے طاقتور ریاستوں کی نو آبادیات ہیں۔ جہاں ان قابض ممالک نے اپنی سہولت اور فائدے کے لیے لوگوں کی تربیت اور تعلیم کا انتظام کیا تھا۔ جبکہ ان ریاستوں نے اپنے حقیقی شہریوں کے لیے ایک بالکل الگ نظام تعلیم اور سلسلہ تعلیم جاری و ساری رکھا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ وہ تبدیلی کرتے رہے جس کے ثمرات انہیں حاصل ہوتے رہے اور وہ اقتصادی اور سماجی طور پر اپنے شہریوں کو بہتر نظام زندگی اور تجارت کے مواقع دینے میں کامیاب رہے۔
جبکہ ان کے آزاد کردہ کالونیوں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جس کی سبب سے وہاں کے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور رہے اور ان کے وسائل پر ان کا اختیار نہ ہونے کے برابر رہا۔ وہ ممالک ستر برسوں سے زیادہ آزاد رہنے کے باوجود اپنے ملکوں میں حقیقی جمہوریت نہ لا سکے، لوگوں کو یکساں حقوق نہ دے سکے۔ اپنے لوگوں کو صحت اور بنیادی سہولیات مہیا نہ کرسکے اور ان ممالک میں نو آبادیاتی ٹھگ ہر سطح پر اپنے ہم وطنوں کو ٹھگتے رہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری و ساری ہے۔
پاکستان بھی ان ہی ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان نے اپنے لیے کوئی نظام تعلیم نہیں بنایا۔ لارڈ میکالے کے بابو سازی کو ہی جاری و ساری رکھا۔ انگریز غاصب ضرور تھے مگر تھے ایماندار وہ ہر کام کو سلیقے اور قانون کے مطابق سرانجام دیتے تھے۔ اس لیے انہوں نے لارڈ میکالے کے بابو سازی کو بھی حقیقی معنوں میں لاگو کیا۔ مگر پاکستان بننے کے بعد انگریزوں کی باقیات اس ملک اور اس کے وسائل و اختیار پر قابض ہوئے وہ ان کی طرح ایماندار اور سلیقہ مند نہیں تھے اس لیے انہوں نے اس بوسیدہ نظام کو اپنی سہولت اور فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔
آج پاکستان میں مروجہ طور پر کوئی عملی نظام تعلیم نہیں ہے۔ مدارس آج سے تین سو برس پرانے رواجی طریقہ کار جسے درس نظامی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے پر کام کر رہا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ اسکولز لارڈ میکالے کے بابو سازی نظام پر عمل پیرا ہیں۔ جبکہ ایلیٹ طبقہ انگلستانی نظام میں بچوں کو پڑھانے یا سادہ الفاظ میں انگریزی زبان میں مہارت دلانے میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایلیٹ طبقہ امریکی نظام تعلیم کا دامن تھامے ہوئے ہے اور اسے بچوں کی انگریزی میں مہارت اور قابلیت سمجھ رہا ہے اور اس نظام میں بچوں کو پڑھانے کے لیے سالانہ لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے۔
پھر کچھ مذہبی، مسلکی اور گروہی طاقتوں نے ان تمام نظاموں کو یکجا کر کے ایک خود ساختہ نظام بنا کر اسے ایک کاروبار کی شکل دی ہے۔ ان تمام نظاموں سے فارغ ہونے والے طالب علم جب اعلی تعلیم کے لیے یونیورسٹیوں کا رُخ کرتے ہیں تو ان کے سکولز اور کالجز کی تعلیم ان کے کسی کام کی نہیں ہوتی۔ جبکہ یونیورسٹیوں کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔ پاکستان بھر میں کسی بھی یونیورسٹی میں دنیا کی طرح یونیورسٹیوں کی سطح کی تعلیم نہیں دی جا رہی۔
اس لیے کہ دنیا کا نظام تعلیم مسلسل ارتقا پذیر ہے وہ زندگی کے ہر شعبہ میں پیش رفت کو سب سے پہلے اپنی یونیورسٹیوں میں جانچتے ہیں پھر اسے انڈسٹری، تجارت اور زندگی کے دیگر معاملات میں لاگو کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ایک بوسیدہ اور عصری تقاضوں سے عملاً لاتعلق نظام تعلیم یونیورسٹیوں میں رائج ہے جس کو پڑھ کر اور اس میں ڈگری لے کر کوئی بھی طالب علم اس شعبہ میں عملی طور پر کچھ بھی کرنے کا اہل نہیں ہے۔
یہ ساری تمہید مجھے اس لیے باندھنے کی ضرورت پیش آئی کہ میں وہ فرق واضح کر سکوں جو دنیا اور ہمارے ہاں کے تعلیمی نظام میں ہے۔ مگر اب صورتحال اس سے بھی قدرے مختلف ہونے جا رہی ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کی یونیورسٹیاں اب روایتی نظام کو خیر باد کہہ رہی ہیں اور انٹرپرینیورشپ کی عملی تعلیم کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے پہلے فرض کر لیں کہ ہم یونیورسٹی کے تعلیم کس لیے حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ ہم علمی، تحقیقی اور عملی مہارتوں کے لیے یونیورسٹیوں کا رُخ کرتے ہیں جہاں سے فارغ ہونے کے بعد اس حاصل کردہ علم، مہارت، تجربہ اور تحقیق کو بروئے کار لاکر ہم اپنے، جس ادارے میں کام کر رہے ہیں اس کے اور ملک کے معاشی اور سماجی بہتری میں حصہ ڈال سکیں۔
جس کے نتیجے میں ہمیں مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور شخصی زندگی کے ساتھ ساتھ ملک کی عمومی معاشرتی زندگی میں سہولیات کی دستیابی ممکن ہوجاتی ہے۔ جدید دور میں ترقی یافتہ دنیا کی حکومتوں نے ایسے اشخاص کو جن کے پاس صلاحیت اور تجربہ موجود تھا ان کو خود سے کام کرنے کی راہ ہموار کی جس سے معاشرے کی اقتصادی ترقی کی رفتار بہت زیادہ تیز ہو گئی اور ان کا حکومتی سہولیات پر انحصار کم سے کم تر ہوتا گیا اور ملک میں سرمائے کی گردش بہتر انداز میں ہونے لگی اور اس بنا پر روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہوئے۔
اس لیے اگر گزشتہ تین دہائیوں میں ارب پتیوں کی فہرست نکال کر دیکھیں تو ان میں نوے فیصد افراد دراصل انٹرپرینیور ہی ہیں۔ یعنی انہوں نے اپنے کاروبار خود شروع کیے اور اپنے ساتھ لاکھوں لوگوں کو بھی کاروبار کرنے کا مواقع فراہم کیا۔ جس سے دنیا میں کام کرنے کے نظام میں یکسر تبدیلی آ گئی اور انٹر نیٹ، اے آئی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی نے اس سلسلے کو مزید دوام دیا۔ اس لیے ترقی یافتہ دنیا کی یونیورسٹیوں نے اپنے تعلیمی اور تحقیقی ماڈل بدلنے شروع کیے اور اس میں گزشتہ دو برسوں میں بہت زیادہ تیزی آ گئی ہے۔
ہارورڈ کے پروفیسر اس بات پر متفق ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں جو نظام تعلیم ہے اس کی آئندہ پانچ برسوں میں کوئی عملی ضرورت باقی نہیں بچے گی۔ اور جو یونیورسٹیاں امریکہ اور یورپ میں لوگوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کوانٹرپرینیور بنانے کے گرُ نہیں سکھاتے وہ بھی بند ہوجائیں گی۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اس وقت امریکہ اور یورپ، چین، کینیڈا، جنوبی کوریا، جاپان، سنگاپور وغیرہ کی یونیورسٹیوں کے پاس بہت زیادہ انڈومنٹ فنڈز ہیں جس کی وجہ سے وہ اس وقت مالی طور پر خوشحال ہیں لیکن روایتی تعلیم و تحقیقی طریقہ کار ان کی موجودہ حالت کو برقرار نہیں رکھ پائے گی۔
اس لیے انہیں فوراً انٹرپرینیوریل تعلیم و تربیت پر منتقل ہونا پڑے گا۔ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں پہلے ہی سے اس جانب سفر شروع کر چکی ہیں۔ لیکن مغرب اور امریکہ کی یونیورسٹیوں کو زیادہ تر افرادی قوت ایشیائی ممالک سے آتی ہے۔ اگر ایشیائی ممالک نے ان کے وضع کردہ نئے ماڈلز کو اپنا نے سے انکار کیا یا اس میں دیر کردی تو وہ ان یونیورسٹیوں تک رسائی یا پھر ان ممالک میں معاشی ترقی کے سرکل سے نکل جائیں گے۔ اس مقصد کو سامنے رکھ کر انڈیا اور بنگلہ دیش کی یونیورسٹیوں نے عملی کام کا آغاز کر دیا ہے۔
مگر پاکستان میں اس سلسلے میں دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آنے والے چند برسوں میں ہمارے ہمسایہ ممالک ہم سے ترقی اور تعلیم کی دوڑ میں بہت آگے نکل جائیں گے۔ پاکستان میں اس وقت کسی بھی یونیورسٹی میں ان خطوط پر آگے بڑھنے کی بحث نہیں ہوئی۔ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف بزنس ایجوکیشن میں ہی انٹرپرینیوریل تعلیم کی ضرورت ہے۔ جبکہ باقی مضامین جیسے انجینئرنگ، طب، زراعت، بنیادی سائنسز، شماریاتی سائنس، اطلاعاتی سائنسز اور سماجی علوم میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کے یہ اندازے درست نہیں ہیں۔ اس لیے کہ اب تعلیم کی ہر شاخ کو صرف سرکاری نوکری کی بنیاد پر حاصل کرنے کا رواج ختم ہو گیا ہے۔ کسی بھی شعبہ میں تعلیم حاصل کرنے والا شخص اس تعلیم کو خود سے ذریعہ روزگار بنا سکتا ہے اور اس میں اپنے اور دیگر لوگوں کے لیے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ جیسا کہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں اول تو فنی تعلیم ہے ہی نہیں۔ جو نام نہاد ادارے فنی تعلیم دے بھی رہے ہیں وہ قدیم روایتی تھیوریاں پڑھا رہے ہیں اور پر انی مشینوں پر سیکھنے والوں کو ہاتھ صاف کروانے کی تربیت دے رہے ہیں۔
دنیا اس تیزی کے ساتھ مشینی دنیا میں انقلاب لا رہی ہے کہ سب کچھ بدل رہا ہے۔ مگر نہ تو ان فنی اداروں کے انسٹرکٹرز اس سے آگاہ ہیں اور نہ ہی تربیت حاصل کرنے والے جس کی وجہ سے اب مشرقی وسطی اور دیگر ممالک میں ان کو نوکریاں اور کام نہیں مل رہے۔ دنیا جس تیزی کے ساتھ آئی ٹی اور اے آئی ٹیکنالوجی پر منتقل ہو رہی ہے اس کا ادراک ہمارے ہاں اب بھی نہیں ہے۔ ہمارا بنکنگ نظام اور قوانین اس سلسلے میں سب سے زیادہ بوسیدہ اور ناقابل عمل ہیں۔
اور یونیورسٹیوں کے نصابات میں تو ابھی ان کا ذکر بھی نہیں شامل نہیں ہوا۔ ہم ایک عالمگیریت کے اس دور دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتے۔ اگر ہمیں دنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اپنے بارے میں سوچنا ہو گا۔ اور دنیا کے ساتھ قدم مل کر چلنا ہو گا۔ ورنہ ہم جدید دور میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ ہم اس وقت بھی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ دنیا ہمیں قبول نہیں کر رہی اور نہ ہی ہمیں ہمسایہ ممالک کے لوگوں کے برابر اہمیت و حیثیت مل رہی ہے۔
اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم دنیا تک رسائی کے راستے خود پر بند کرتے جا رہے ہیں۔ تعلیم وہ واحد ذریعہ ہے جو دنیا سے آپ کو جوڑے رکھتا ہے۔ اس کے بعد تجارت آپ کو دنیا سے جوڑتی ہے۔ ہمارے ہاں دونوں کا فقدان ہے۔ اور دنیا تعلیم اور تجارت کو آپس میں مربوط کر کے اس کے فائدے اٹھا رہی ہے۔ ہمیں بھی اب بابو سازی سے آگے کا سوچنا ہو گا۔ جس طرح بنگلہ دیش اور انڈیا نے لارڈ میکالے کے نظام کو ترک کرنا شروع کیا ہے ہمیں بھی اس کا آغاز کرنا ہو گا۔
یہ کام آسان نہیں ہے اس لیے کہ اس بابو سازی کی صنعت سے لاکھوں لوگوں کا مفاد وابستہ ہے۔ اس کی پشت پر اشرافیہ ہے۔ یہ طبقات پیدا کرنا کا سہل ترین ذریعہ ہے۔ اس کی موجودگی میں اسمبلیوں میں جاگیر دار اور سرمایہ دار اپنی بالادستی یقینی بناتے ہیں۔ اس لیے اس نظام کو بدلنا فوری ممکن نہ ہو گا۔ مگر اس کو مرحلہ وار بدلا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اس پر کام شروع ہی نہیں کرنا چاہتے۔ اور نہ ہی ہم مستقبل بین ہیں جو کل کی مشکلات اور پریشانیوں کا ادراک کرسکیں۔ کہ اس بوسیدہ نظام سے جان چھڑائے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ پائیں گے اور ہم سے پسماندہ لوگ بھی دور جدید کی فضیلتوں سے فیض یاب ہوں گے۔


