کیا سب عورتیں ماں بننا چاہتی ہیں؟


مدرز ڈے کی آمد ہے اور آپ جس مارکیٹ، دکان کا رخ کریں وہاں آپ کو رنگے برنگے تحفے اپنی طرف متوجہ کرتے ملیں گے جس سے آپ اپنی ماں کو یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ آپ کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ آن لائن شاپنگ اور ان کے اشتہار ہمہ وقت ہر سائٹ کھولتے ہی آپ کے انتظار میں لائن لگا کر کھڑے ہوتے ہیں جو آپ جو بتاتے ہیں کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں آپ اپنی اوقات کے مطابق تحفہ خرید سکتے ہیں۔ اس سارے مدرز ڈے کے جشن میں تین طبقے بری طرح متاثر ہوتے ہیں ایک وہ جن کی والدہ ان کے ساتھ نہیں دوسری وہ خواتین جو کسی وجہ سے اپنے بچے کھو چکی ہیں اور تیسرا گروہ ان خواتین کا ہے جو ماں نہیں بننا چاہتیں۔

اگر میری طرح آپ کی والدہ بھی اس دنیا میں جسمانی طور پر موجود نہیں تو اس تکلیف کا آپ کو بخوبی احساس ہو گا کہ یہ ساری کوٹیشن، میسج اور اشتہار آپ کے سر پر ہتھوڑے کی طرح بجتے ہیں اس کے علاوہ یہ سب ان خواتین کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے جنہوں نے اپنے بچے کھو دیے ہوتے ہیں۔ ان ساری تقریبات میں یہ والدین جو اپنے بچے کھو چکے ہوں کیسا محسوس کرتے ہوں گے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ان خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اپنی مرضی سے ماں نہیں بننا چاہتیں۔

کینیڈا میں ایک سروے میں 18 سے چونتیس سال کی اکیس فیصد خواتین نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ کبھی بھی ماں نہیں بننا چاہتیں۔ یہ ایک بہت زیادہ تعداد ہے لیکن اسی طرح کا ٹرینڈ یورپ، امریکہ اور ایشیا میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں پر نوجوان خواتین اپنی مرضی سے ماں نہیں بننا چاہتیں۔ اسی عمر کے مردوں سے جب یہ سوال کیا گیا تو زیادہ مرد عمر کے کسی نہ کسی حصے میں باپ بننے کے خواہشمند تھے۔ نوجوان خواتین کے اس فیصلے کو مغرب میں اپنی تمام تر آزاد خیالی کے باوجود اب تک ایک taboo موضوع سمجھا جاتا ہے اور جو خواتین یہ فیصلہ کرتی ہیں ان کو انتہائی resistance کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ماں بننے کا فیصلہ ذاتی سے زیادہ سوشل پریشر کا شکار ہو جاتا ہے اور اکثر خواتین مختلف دباؤ کے اندر اپنی مرضی کے بغیر یہ فیصلہ کرتی ہے اور ساری عمر ڈپریشن کے ساتھ گزارتی ہیں۔

حالانکہ ماں بننے یہ نہ بننے کا فیصلہ خواتین کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پر اپنے اثرات رکھتا ہے۔ دوران حمل اور زچگی کے بعد خواتین کو جن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے وہ تو اپنی جگہ موجود ہیں لیکن اس کے علاوہ اس کے بہت سارے اسباب ہیں جو ان خواتین نے اپنے فیصلے کے لیے گنوائے۔ ان وجوہات میں سے جو اتنے بڑے فیصلے کو جنم دیتی ہیں سب سے بڑی وجہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے جس نے نوجوان خواتین کو اس فیصلے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ جب تک دو افراد کام نہ کرے گھر کی معاشی حالت درست رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

افراط زر زیادہ خواہشات کی وجہ سے نہیں بلکہ کارپوریٹ کی دنیا کے لالچ اور حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس نوجوان طبقے کے لیے کھڑی گئی مصیبتوں کا ثمر ہے اس کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کی سہولیات کے لیے حکومتی وسائل دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں جس میں یہ خواتین اپنے آپ کو بے یارو مددگار پاتی ہیں اور یہ صرف مغربی دنیا کا المیہ نہیں بلکہ جاپان چین کوریا بھی اب ایجنگ پاپولیشن والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوتے جا رہے ہیں کہ بات دو نواں ایک بچے سے ہو کر کوئی بچہ نہ ہونے تک آ چکی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ نوجوان خواتین کو تیزی سے اس بات کا اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ پٹی جو خواتین کو چھوٹی عمر سے پڑھائی جاتی ہے کہ ”ارے تم تو لڑکی ہو تم تو ملٹی ٹاسکنگ کی ماہر ہو تم سب کام اکٹھے کر سکتی ہو“ یہ جملہ ایک بہت بڑا گڑھا ہے آپ ایک دن کے چوبیس گھنٹے میں اگر صرف ماں کا رول ہی ادا کر لیں تو بہت غنیمت ہے اس کے ساتھ آپ نے اپنے کیریر کی ذمہ داریاں بھی نبھانی ہیں اس میں خواتین کے لیے سب سے بڑا سیٹ بیک برن آؤٹ کی صورت میں آتا ہے کہ آپ ذہنی، جسمانی اور جذباتی طور پر بالکل ختم ہو جاتے ہیں اور بار بار بیمار ہونا، بے تحاشا رونا، دلچسپی کا فقدان اور اپنی زندگی عذاب لگنا شروع ہو جاتی ہے۔

مختلف سروے میں دیکھا گیا کہ خواتین کو بچے کی پیدائش کے بعد کی پہلی دہائی میں ساٹھ فیصد تنخواہ کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا جس کو مدر ہوڈ پینلٹی کہا جاتا ہے اس کے علاوہ آج بھی گھریلو کام اور بچوں کی نگہداشت کا زیادہ بوجھ خواتین اٹھا رہی ہیں جس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ یہ کام اس کام کے علاوہ ہوتا ہے جو وہ اپنے پروفیشن میں سرانجام دیتی ہیں۔ اس میں کچھ خواتین اپنے بچے ڈے کیئر یا کسی اور کے پاس نہیں چھوڑنا چاہتی اور ان کو اپنے اس پیار کی قیمت اپنے کیریر کی قربانی کی صورت میں دینی پڑتی ہے اور اس قربانی کی بھاری قیمت وہ خواتین خود بھی ادا کرتی ہیں کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ خواتین کیونکہ ان فل ٹائم مائیں ہیں ان کو آرام کی یا بریک کی کوئی ضرورت نہیں وہ 24 / 7 کام کرنے کی چکی میں پستی ہیں نہ ان کے دوست رہتے ہیں نہ ان کے پسندیدہ مشغلے پیچھے رہ جاتی ہے تو ایک برن آؤٹ تنہائی کا شکار ماں جو کسی سے اپنے جذبات کا اظہار نہ کر پانے کی وجہ سے فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہوتی ہے کہ ہر انسان کو آرام اور بریک کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس میں مصیبت یہ ہے کہ مہنگائی نے ایک فرد کے لیے گھر کی معاشی ضروریات کو پورا کرنا ناممکن کر دیا ہے اور جب مائیں بچے ڈے کیئر چھوڑ کر کیریر کی طرف واپس آتی ہیں تو وہاں اپنی بے تحاشا خاندانی ذمہ داریوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتی ہیں اور کیریر میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ذہنی اور جسمانی صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جہاں بڑھتی ہوئی افراط زر اور کیریر کی سخت گیر زندگی ان خواتین نے اپنی وجوہات میں بتائیں وہاں بہت بڑی وجہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن بھی ہے۔

کچھ خواتین ایسی بھی تھیں جن کو کم عمری سے ڈپریشن اور انگزائٹی کا سامنا تھا یا ان کے خاندان میں یہ مسائل موجود تھے اور ان بہادر خواتین نے شعوری طور پر یہ فیصلہ کیا کہ کیونکہ ان کو ذہنی مسائل کا سامنا ہے اور ان دنوں میں جب یہ مسائل ان کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں ان کے لیے اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے ان کے لیے بچے کی ذمہ ساری اٹھانا ناممکن ہے تو انہوں نے ماں نہ بننے کا فیصلہ کیا یا اپنے خاندان میں موجودہ جنیاتی مسائل کو اگلی نسلوں میں پاس آن کرنے کی بجائے اس سائیکل کو ختم کرنے کے لیے یہ شعوری فیصلہ کیا۔

اس میں حمل کے دوران اور خاص کر زچگی کے بعد کا پوسٹ پارٹم ڈپریشن ان تمام نوجوان خواتین کے لیے ایک بہت بڑا عنصر تھا اس فیصلے کے دوران کیونکہ جو خواتین پہلے سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوں ان کے لیے یہ مسائل دوران حمل اور زچگی کے بعد بڑھ جانے کا چانس زیادہ ہوتا ہے اور اس سارے عمل میں سے گزرنا بچوں کی نگہداشت کے ساتھ ناممکن ہے جبکہ عموماً خواتین کی اس نفسیاتی صورتحال کو ان کا جذباتی پن یا احمقانہ رویہ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے نہ ہی ڈاکٹر اور نہ ہی گھر والے سہارا دیتے ہیں یا بات سنتے ہیں۔

خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے ماں نہ بننے کی وجہ میں اس سائیکل کو توڑنے کی خواہش کا اظہار کیا جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے اور جس کا شکار انہوں نے اپنی ماں کو دیکھا کہ ان کی ماں کو اپنی مرضی کی آزاد زندگی اور کیرئیر کی قربانی دینی پڑی کیونکہ انہوں نے بچے پالنے تھے اس لیے اپنی ذہانت اور قابلیت کے باوجود ان کی ماؤں نے ایسے کیرئیر کا انتخاب کیا جس میں وہ کم وقت صرف کریں اور بچوں کی ضروریات کے لیے پیسے بنا سکیں جس نے ان کی ماؤں کو اداسی اور ڈپریشن کی طرف دھکیل دیا۔

یہ ان وجوہات میں سے چند ایک وجوہات ہیں جو خواتین نے ماں نہ بننے کے فیصلے کے لیے درج کیں اس میں دلچسپ یہ ہے کہ اس ایک گرپ کے صرف پندرہ فیصد مردوں نے کبھی باپ نہ بننے کے فیصلے کا اظہار کیا کیونکہ بچوں کو خواتین کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اس لیے بہت کم مرد اس کی طرف دھیان دیتے ہیں اور معاشرے کی طرف سے ہر خاتون کے لیے آٹومیٹک فیصلہ دیا جاتا ہے کہ وہ ماں بننا چاہتی ہیں اس کو پدرسری ماں کا نام دیا جاتا ہے جس میں مرد فیصلہ کرتے ہیں کہ عورت ماں بننا چاہتی ہے اور پھر تمام تر ذمہ ساری بھی عورتوں کے سر پر لاد دی جاتی ہے اور اس بات کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ تمام عورتیں فطری طور پر ماں بننا چاہتی ہیں اور بار بار اس عمل سے گزرنا چاہتی ہیں۔

حالانکہ سب سے زیادہ مانع حمل ادویات اور طریقوں کے لیے جدوجہد خواتین نے کی آج بھی خواتین ہی مانع حمل طریقوں کا استعمال کرتی ہیں اور وہ سب دوائیاں انجیکشن اور تکالیف جن سے وہ گزرتی ہیں اس چیز کا اظہار ہے کہ وہ اس عمل کو اپنے لیے کم سے کم کرنا چاہتی ہیں کیونکہ مردوں نے مسلسل اس میں صرف معاشی حد تک اپنا کردار ادا کیا وہ بھی پوری طرح نہیں اس لیے بے شمار خواتین کو بچوں کی معاشی ذمہ دادی بھی اٹھانی پڑتی ہے اور خواتین کو بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی پرورش کے لیے جس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس نے نوجوان خواتین کو اس عمل سے مزید خوفزدہ کر دیا ہے۔

معاشرہ کی بدصورتی اور نا انصافی نے اس خوبصورت عمل کو عورتوں کے لیے ایک خاموش بھیانک خواب میں تبدیل کر دیا ہے اگر ہم ان سب مندرجہ بالا وجوہات کو یہ کہہ کر بھی رد کر دیں کہ یہ فرسٹ ورلڈ کی خواتین کے چونچلے ہیں تو ایک نظر ہم تیسری دنیا کے ممالک پر ڈالیں تو صورتحال وہاں کی خواتین کے لیے زیادہ بھیانک ہے۔ صحت اور تعلیم کی سہولیات کے فقدان کی بدولت خواتین کا دوران حمل اور دوران زچگی مر جانا تو معمول کی بات ہے لیکن اس کے بعد دائیوں اور عطائیوں کے ہتھے چڑھ کر جن مسائل کا خواتین شکار ہوتی ہیں وہ ہولناک ہے، پے درپے حمل اور ان کے درمیان مناسب وقفہ نہ ہونا ماؤں کی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے اس کے علاوہ بیٹے کی خواہش کی تلوار ماں کے سر پر ہر حمل کے دوران لٹک رہی ہوتی ہے ایسے میں کسی ماں کی نفسیاتی کیفیت کیا ہو سکتی ہے، کھانے کا فقدان، ادویات کی عدم دستیابی اور اس کے علاوہ بچوں کی پرورش اور گھر کے کام میں عورتیں اپنے آپ کو بالکل اکیلا پاتی ہیں یہ مقدس ماؤں کی اصل کہانی ہے۔

ماں کو مقدس قرار دے کر اس کے پاؤں کے نیچے جنت چھپا کر دن رات ان سے گدھے کی طرح کام کروایا جاتا ہے اور ان کو ان کے جسمانی اور ذہنی مسائل سے نمٹنے کے لیے بالکل تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس لیے جب جنریشن زی کی خواتین اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکاری نظر آتی ہیں تو حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ صدیوں سے ماں کی عظمت اور مقدس ہونے کے نام پر جو سلوک خواتین سے کیا گیا ہے اور جس طریقے سے ان کے درد اور تکلیف سے منہ موڑا گیا ہے یہ اس کا ردعمل ہے۔

ماں بننا ایک خوبصورت عمل ہے لیکن ہر عورت کے لیے نہیں بہت سی خواتین کے لیے یہ فطری نہیں اور معاشرے کو اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری دنیا میں سب سے اہم فیصلہ ماں بننا بغیر سوچے سمجھے کرنے کے مقابلے میں یہ خواتین سوچ سمجھ کے ماں نہ بننے کا فیصلہ کر رہی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خواتین اپنے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے باشعور فیصلے کرنے کی خواہشمند ہیں اور انہیں محبت سے ساتھ دینے والے رفیق کی ضرورت ہے نہ کہ پدرسری روایات کے غلام رقیب کی۔

(اس مضمون میں استعمال کیے گئے اعداد و شمار CBC Canada کے مضمون Men are more likely than women to want kids، study says۔ But has that always been true؟ اور Why more women are choosing not to have kids سی این این USA سے لیے گئے ہیں )

Facebook Comments HS