کافرستان کی پریاں اور ان کا رقص
صد شکر کہ یہاں پروانہ راہداری پاکستانیوں کے لیے بیس اور غیر ملکیوں کے لئے پچاس روپے تھا۔ چلو کہیں تو فارنرز کے مقابلے میں ان بے چاروں کو بھی عزت و تحریم ملی۔ چیک پوسٹ کا انچارج بڑا خوش و خرم اور چہچہانے والا مرد تھا۔ اس کی چترالی ٹوپی پر لہراتے مرغ زریں کے پر سیاہ لباس گوری رنگت اور ہنستا مسکراتا چہرہ بے رونق پہاڑوں سے گھری اُس اُداس سی شام میں تھوڑی سی رنگینی اور زندگی پیدا کرنے کا موجب تھا۔ انگریزی میں سڑک کے ایک طرف نصب بورڈ پر سیاحوں کے لیے ہدایت نامہ درج تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔
جب راستے کی تنگی کشادگی میں بدلنے لگی جب ہرے بھرے کھیتوں درختوں اور شام کی سرد ہواؤں نے استقبال کیا۔ تب اُس لڑکے کی دندل ٹوٹی۔ پتہ نہیں کیسے وہ بولا اور خوب بولا۔ ”بمبوریت تقریباً بارہ گاؤں پر مشتمل کالاش کی سب سے بڑی وادی ہے۔ چترال سے اس کا فاصلہ کوئی 38 کلو میٹر ہے۔ پہلوواندہ، کندیسار، احمد آباد میں مسلمانوں کی اکثریت جبکہ کراکال، انثیر برون اور بتریک میں کالاشیوں کی کثرت اور شیخاندہ میں مکمل مسلم آبادی ہے۔ “
مکئی اور گندم کے کھیت، درختوں کے سلسلے اور مکانات۔ پھر جیسے اس منظر میں سڑک کے کنارے چلتی چند کیلاشی لڑکیاں اُبھریں۔ اُجلی رنگت سیاہ پیرہن اور رنگ رنگیلے موتیوں ہاروں سے مزین۔ گھنیری راتوں میں جیسے چاند چمکے۔
پتہ نہیں مجھے کیا ہوا جیسے دل کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا۔ بہت پرے بہت دُور گاؤں میں لالٹین کی روشنی میں کہانیوں کی کتاب ہاتھ میں تھامے چوتھی جماعت میں پڑھنے والی وہ لڑکی سامنے آ گئی تھی۔ جو پوہ ماگھ کی سرد تاریک راتوں میں پڑھتی تھی۔ بہت دور اونچے اونچے پہاڑوں سے بھی دور دریاؤں اور سمندروں سے بھی پرے ایک مُلک تھا جس کا نام کافرستان تھا وہاں پریاں رہتی تھیں۔ اور آج بہت دور دریاؤں سے دور پہاڑوں سے دور ایک جگہ کافرستان اس میں رہنے والی پریاں ان کی صورتیں ان کے پہناوے ان کے زیور۔ میرے بچپن کی ساری فینٹسی مجسم ہو کر میرے سامنے تھی۔
سڑک کے ساتھ ساتھ درخت چلتے تھے۔ پس منظر میں کھیت اور پہاڑ چلتے تھے پھر جیسے ہوٹلوں کی بارات چلنے لگی۔ بے نظیر، تاج محل، فرنٹیر، ٹورسٹ، کیلاش، جناح اور لاہور ہوٹل۔ غیر ملکی اور ملکی سیاح کندھوں پر کیمرے لٹکائے بازار میں دکانوں اور سڑکوں پر بکھرے پڑے تھے۔
فضا میں خنکی تھی۔ نورستان کے پہاڑوں سے آنے والی ہواؤں نے ململ کی قمیض اور دوپٹے میں لپٹے وجود کو ہلکی سی کپکپاہٹ دے کر اُسے سکیڑنے کی کوشش کی تھی۔
اور یہاں سڑک ختم ہوتی تھی۔ وادی ختم ہوتی تھی اور یہیں ایک جیسے پہاڑوں درختوں ندی نالوں اور کھیتوں کھلیانوں میں وہ لائن بھی تھی جس کے آر پار دو ملک بستے تھے۔ اس وادی کے آخری کونے میں وہ ریسٹ ہاؤس تھا جس کے لان میں جانے کب سے اخروٹ کا قدیمی درخت پر پھیلائے کھڑا تھا جس کے نیچے بچھی کرسیوں میں سے ایک پر میں بیٹھی۔ اور سامنے اور پشت کے پہاڑوں سے آنے والی افغانی ہواؤں میں سانس لیتے ہوئے ان جھنجھٹوں اور جھمیلوں کو دیکھنے لگی جس میں پروین عاطف اُلجھی ہوئی تھی۔
رات کو ڈرامہ ”دروازہ کھلا رکھنا“ کی شوٹنگ تھی۔ کافرستان کی اصلی پریوں اور نقلی پریوں کی۔ نقلی پریوں کے سیاہ سنگھاش (سیاہ چوغے ) کو پیسی۔ (کوڈیوں والی ٹوپی) نیلے پیلے ہاروں کے بنڈل بیڈوں پر بکھرے پڑے تھے اور تیاریاں زور شور سے جاری تھیں۔
ٹارچ کی روشنی کا چھوٹا سا دائرہ تاریک اور ڈراؤنی رات کے سینے میں کسی تیز اور نوکیلے برمے کی مانند سوراخ کرتا اور راستہ دکھاتا جس پر میں ہانپتے کانپتے گرتے پڑتے رُکتے سانس درست کرتے چلتی جاتی تھی۔ پہاڑ کی اس چوٹی پر گھروں کے اوپر چار سو (ڈانس گھر) کی جانب ملکی و غیر ملکی لوگوں کے ساتھ مقامی آبادی کے لوگ بھی رواں دواں تھے۔
اوپر لالٹینیں جلتی تھیں اور ڈھول بجتا تھا۔ ویڈیو کیمرے کی روشنیاں سیٹ ہو رہی تھیں۔ اونچے اونچے قہقہے سیٹیاں اور آوازوں کا شور سناٹے کو لیر لیر کر تا تھا۔
پھر سین شروع ہوا۔ دو معمر مرد برچھی نما لاٹھیاں ہاتھوں میں تھامے نظریں جھکائے دائرے میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک اجنبی زبان کا گیت فضا میں بکھرتا ہے۔ ہو ہو کی آوازوں کا شور مچتا ہے۔ مشی خان کو اپنے گھیرے میں لیے خواتین چاروں طرف دائرہ بناتی آہستہ آہستہ ہو ہو کی لمبی ہیکوں کے ساتھ آگے پیچھے ہوتی ہیں۔ گیت ختم ہوتا ہے۔ ڈھول کی دھما دھم اور سیٹیوں میں تیزی آتی ہے۔ رقص بھی تیز ہوتا ہے۔ فلیش کی روشنی میں ان کے ترو تازہ چہرے سیاہ لبادے رنگین ہاروں کے گچھے ٹوپیوں پر مرغ زریں کے پروں کے گُچھوں سے بنے پھول سبھی ماحول کو سحر زدہ سا کرتے ہیں۔
یہ گنہگار آنکھیں اب تک رقص کے نام پر جسمانی اعضا پھڑکانے مٹکانے بے ہنگم اُچھل کود اور جذبات برانگیختہ کرنے والی حرکات ہی دیکھتی چلی آئی تھیں۔ اس ٹھنڈے ٹھنڈے سے چل چلاؤ دھیرے دھیرے دھول اُڑاتے آگے پیچھے جاتے پاؤں اور ہو ہو کی آوازوں والے رقص جس کی چاروں کھونٹ دھوم تھی اور جسے دیکھنے کے لئے دم نکلا جاتا تھا۔ کو دیکھ کر قدرے مایوس ہوئی تھی۔ اُس کالاشی لڑکے کی بات دل کو لگتی تھی جس نے نیچے سے آنے والے لڑکوں کی لوفرانہ حرکات پر سیخ پا ہو کر کہا تھا۔
” یاد رکھیں یہ ہماری عبادت ہے۔ “


