کیپیٹل ریئل ازم سے پوسٹ کیپٹل رئیل ازم تک


کیپٹل رئیل ازم کی اصطلاح بیانیوں کا حصہ برطانوی تھیرپسٹ مارک فِشر کی سن 2009 کی کتاب ”کیپٹل رئیل ازم : کیا کوئی متبادل نہیں ہے؟“ کی اشاعت کی وجہ سے بنی۔ جس کے بنیادی قضیہ میں سے چند یہ تھے : :

1۔ سرمایہ داریت ہماری زندگیوں میں اتنی رچ بس گئی ہے کہ اب اس کا دوسرا متبادل معاشی نظام ناممکن ہے۔

2۔ اب سرمایہ داریت کے دروں ایک قدرتی طور پر ناگزیریت کا عنصر شامل ہو گیا ہے کہ ایک بہتر سماج کے لیے یہ جزوِ لاینفک بن گئی ہے۔

3۔ سرمایہ داریت اب مذہبی، سماجی، لسانی، تصوراتی، نظریاتی حدود کو توڑ کر ایک ایسا ثقافتی حصار قائم کرچکی ہے کہ اس کے متبادل کے طور پر کوئی بھی دوسرا نظام غیر حقیقی اور غیر ٰیقینی تصور ہو گا۔

4۔ سیاسی نظریات اب سرمایہ داریت کی منطق پر زندہ رہتے ہیں کوئی بھی سیاسی نظریہ سرمایہ دارنہ منطق سے متصادم ہو تو وہ مضحک تصور ہو گا۔

( خاک سار اس ضمن میں ہمارے یہاں کے مذہبی طبقے کی طرف سے دیے گئے متبادل معاشی بیانیوں کو عوام اور معیشت دانوں کی طرف سے ان کے ارتداد کی مثال دے گا)

5۔ سماجی طور پر پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے کہ ڈپریشن، خفقان، تشدد، خوف وغیرہ کا حل انسان نے سرمایہ داریت میں تلاش کر لیا ہے لہٰذا اب سرمایہ داریت کا کوئی بھی متبادل ناقابلِ قبول ہو گا۔

مذکورہ بالا نکات کو ذہن میں رکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی تمام مشکلات کا حل فی زمانہ سرمایہ داریت کے پاس ہی موجود ہے جو اسے ناگزیر بناتا ہے۔

تاہم پوسٹ کیپیٹل رئیل ازم ان تصورات سے اختلاف کرتا ہے نظریاتی طور پر تمام مسائل کا حل سرمایہ داریت سے الگ ہو کر تلاش کرنے پر زور دیتا ہے۔ پوسٹ کیپٹل رئیل ازم کے بنیادی قضیہ درج ذیل ہیں :

1۔ سرمایہ داریت نے سماج میں طبقاتی نظام کو فروغ دیا لہٰذا سرمایہ داریت کے متبادل کے طور پر ان تمام تصورات پر کام کرنا چاہیے جو سماج میں طبقاتی فاصلوں کو ختم کر کے مساوات قائم کریں۔

2۔ سرمایہ داریت بھی ثقافتی تنوع کے خاتمے اور ایک عالمی ثقافت کی پرچارک ہے پوسٹ کیپٹل رئیل ازم بھی مقامی ثقافتوں کو ختم کر کے ایک شناخت کی طرف قدم بڑھانے پر زور دیتا ہے۔

3۔ پوسٹ کیپٹل رئیل ازم سرمایہ داریت کے اختراع کردہ ان تصورات جو سماج، سیاست، لسانیات وغیرہ سے متعلق ہیں کو چیلنج کر کے نئے تصورات تخلیق کرنے اور ان کے تجربات کرنے پر زور دیتا ہے۔

4۔ پوسٹ کیپٹل رئیل ازم صنف، رنگ، نسل، معاشرہ، طبقے اور مغائرت کے دیگر حلقوں کی حوصلہ افزائی کی بجائے ایک ایسے نظام کا متلاشی ہے جو سب کو اپنے اندر سمو کر امتیاز کی ہر صورت کو ختم کر  سکے۔

خاک سار کو کہیں کہیں شائبہ گزرتا ہے کہ کہیں پھر سے سوشلسٹ اور عمرانیات کے مجاہد سر اٹھا کر سماجی بیانیوں میں جگہ تو نہیں بنا رہے ہیں۔ اگر کبھی ایسا ہوتا ہے تو سرمایہ داریت اور سوشلزم کے دوراہے پر آپ کو کون سا نظام کھڑا نظر آتا ہے؟ آتا بھی ہے کہ نہیں۔

Facebook Comments HS