نواز شریف نے پارٹی ”ٹیک اوور“ کر لی!


32 سال قبل کی بات ہے اسلام آباد میں حاجی نواز کھوکھر کی رہائش گاہ کے سامنے لان میں پنڈال سجایا گیا جس میں ایک نئی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا چونکہ یہ جماعت نواز شریف کی سربراہی میں قائم کی گئی اس لئے اس کا نام مسلم لیگ (ن) رکھا گیا دراصل مسلم لیگ (ن) نے مسلم لیگ (ج) کے بطن سے جنم لیا۔ جنرل ضیاء الحق نے پیر صاحب پگارا کی مدد سے یہ جماعت مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو اکٹھا کر کے بنائی تھی۔ محمد خان جونیجو کی وفات کے بعد مسلم لیگ (ج) دو حصوں میں تقسیم ہو گئی جس گروپ کی قیادت حامد ناصر چٹھہ اور اقبال احمد خان کے ہاتھ میں تھی اسے اس وقت کے صدر مملکت غلام اسحق خان کی سرپرستی حاصل تھی نواز شریف اور غلام اسحق خان کے درمیان سرد جنگ جاری تھی۔ وہ نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا صدر بننے کی راہ میں حائل تھے۔

1992 ء میں نواز شریف پر بڑا کڑا وقت تھا۔ وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں کوئی ہوٹل انہیں مسلم لیگ کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس منعقد کرنے کے لئے جگہ دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ مجبوراً حاجی نواز کھوکھر کی رہائش گاہ کے سامنے جلسہ کا انتظام کیا۔ حاجی نواز کھو کھر نے راتوں رات ٹینٹ لگا کر جلسہ کا ماحول پیدا کر دیا۔ اسی رات صدر غلام اسحق خان نے حاجی نواز کھوکھر کو فون کیا اور مسلم لیگ کے اجلاس کے لئے جگہ نہ دینے کا ”حکم“ صادر کیا جسے حاجی نواز کھوکھر اپنی جوتی کی نوک پر لکھا۔ انہوں نے نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔۔ حاجی نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر ہی مسلم لیگی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں میں نواز شریف، راجہ محمد ظفر الحق، چوہدری نثار علی خان، سردار مہتاب احمد خان، حاجی نواز کھو کھر، صدیق کانجو اور پیر صابر شاہ سمیت مجموعی طور 15 مسلم لیگی رہنما شریک تھے۔ ان رہنماؤں نے نواز شریف کو نئی قائم ہونے والی مسلم لیگ کا بانی صدر منتخب کر لیا۔

اس وقت اجلاس میں تمام قد آور قائدین موجود تھے لیکن سب نے متفقہ طور نواز شریف کو بنانے کا فیصلہ کیا اور پھر مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل سے اس فیصلے کی توثیق کرائی۔ یہیں سے نواز شریف کی سیاست کے نئے رخ کا آغاز ہوا۔ غلام اسحق خان جو اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ تھے 58 ٹو بی کی طاقت کے استعمال سے منہ زور جمہوری حکومتوں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ ایجاد کر رکھا تھا۔ نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ”مہرے“ کی آنکھوں آنکھیں ڈال کر جہاں اس کے پسندیدہ سیاست دان کو وزیر اعظم نہ بننے دیا۔ وہاں انہوں نے وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے اپنی جگہ بنا لی۔ پہلی بار نواز شریف اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیڈر کے طور سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ تصادم کی پالیسی نے نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ تو کر دیا لیکن اس کے نتیجے میں نواز شریف اور غلام اسحقٰ دونوں کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔

نواز شریف نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیڈر کے طور شہرت پائی۔ بے نظیر بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے دوبارہ برسر اقتدار آ گئیں لیکن ان کی اپنے ہی صدر فاروق لغاری سے نہ بنی۔ فاروق لغاری نے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ان کی چھٹی کرا دی۔ 1997 ء میں نہ صرف نواز شریف پوری قوت سے دوبارہ بر سر اقتدار آ گئے بلکہ دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئین میں 8 ویں ترمیم ختم کر دی جس کے تحت اسٹیبلشمنٹ جب چاہتی تھی منتخب وزیر اعظم کو گھر بھجوا دیتی تھی۔ 8 ویں ترمیم کی تنسیخ کے بعد وزیر اعظم کا منصب با اختیار ہو گیا۔ قبل ازیں وہ ایک آرمی چیف سے وزیر اعظم سے استعفاٰ لے چکے تھے۔ جب کہ دوسرے آرمی چیف کی برطرفی کا حکم جاری کر دیا تھا جسے فوجی قیادت نے تسلیم نہ کیا۔ فوج نے رد عمل میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا بلکہ جلا وطنی کی صورت میں ان کی جاں بخشی کی گئی۔

نواز شریف سے نہ صرف وزارت عظمی چھین لی گئی بلکہ انہیں نا اہل قرار دے کر ان کی جماعت پر مسلم لیگ (ق) کے نام سے قبضہ کر لیا گیا۔ 10 دسمبر 2000 ء کو شریف خاندان کو سعودی عرب جلاوطن کر دیا۔ مخدوم جاوید ہاشمی کو قائم مقام صدر اور راجہ محمد ظفر الحق کو چیئرمین بنا دیا گیا۔ پرویز مشرف نے راجہ محمد ظفر الحق سے مایوس ہو کر مسلم لیگ (ق) کے نام سے ایک سرکاری مسلم لیگ کھڑی کر دی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب راجہ محمد ظفر الحق اور مخدوم جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ (ن) کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیا۔ پرویز مشرف نے منتخب حکومت پر شب خون مارنے کے بعد لمبی اننگز کھیلنے کا پرو گرام بنایا تھا۔ نواز شریف کو 10 سال تک ملکی سیاست سے آؤٹ کرنے پروگرام بنایا تھا لیکن اللہ تعالی کو کچھ اور منظور تھا۔ نہ صرف نواز شریف 10 سال قبل پاکستان واپس آ گئے بلکہ پرویز مشرف کو آئین شکنی کے جرم میں سزا سے بچنے کے لئے متحدہ امارات فرار ہونا پڑا۔ وہ اپنی زندگی میں وطن واپس نہ آ سکے۔ 11 سال بعد ان کی لاش ہی وطن واپس آئی۔

2013 ء کے انتخابات میں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے خلاف تیسری بار وزیر اعظم بننے میں کامیاب تو گئے لیکن اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ نے انہیں تیسری بار بھی ان کی حکومت کی آئینی مدت پوری نہ کرنے دی۔ اب کی بار بھی ان کو اقتدار سے دور رکھا گیا۔ ان سے 6 سال قبل پارٹی کی صدارت چھین لی گئی۔ کم و بیش 4 سال کی جلا وطنی کے بعد ان کی پارٹی نے انتخابی معرکہ سر لر لیا لیکن واحد اکثریتی جماعت نہ بن سکی۔ ایک اطلاع کے مطابق انہوں نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی بیساکھیوں کے سہارے وزیر اعظم بننے سے انکار کر دیا جب کہ دوسری اطلاع یہ کہ ”راولپنڈی والوں“ نے شہباز شریف پر ہاتھ رکھا اور ان کی سربراہی میں حکومت بنانے کا پیغام بھجوا یا تھا چونکہ مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں تھی لہذا نواز شریف اس پر ہی اکتفا کیا لیکن انہوں نے جاتی امرا میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کی بجائے پارٹی کو از سرنو منظم کرنے فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے جہاں پہلے ہی مریم نواز کو پارٹی کا سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر بنا یا تھا اب شہباز شریف کی بجائے خود صدارت سنبھال لی ہے۔ چوہدری نثار علی خان 6 سال قبل ہی مسلم لیگ (ن) سے الگ ہو چکے ہیں۔ اب شاہد خاقان عباسی، سردار مہتاب احمد خان اور مفتاح اسماعیل نے بھی خاموشی اپنی راہیں جدا کر لی ہیں اور ”عوام پاکستان“ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی بھی غیر علانیہ طور ناراض ہو کر الگ تھلگ بیٹھ گئے ہیں۔ نواز شریف کی زندگی جہاں اقتدار کے لئے ایوان پھولوں کی سیج تھے۔ وہاں ان کی زندگی قید و بند سے عبارت ہے۔ انہیں جہاں بار بار اقتدار سے ہٹایا گیا۔ وہاں ان کو بار بار جیل یاترا کرائی گئی۔ نواز شریف ایک مضبوط اعصاب کے مالک بہادر سیاسی لیڈر ہیں۔ انہوں نے 12 اکتوبر 1998 ء کو بندوق کی نوک کے سامنے وزارت عظمی سے استعفاٰ اور قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ شاید آج بھی نواز شریف کے اندر لچک کی کمی ان کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے میں رکاوٹ تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے نواز شریف پارٹی کو از سر نو کس حد منظم کریں گے؟ نواز شریف کے پارٹی ٹیک اوور کرنے کے بعد پارٹی کارکنوں سے رابطہ نہ رکھنے والے لیڈروں کو مسلم لیگ (ن) میں پچھلی صفوں میں بٹھانا ہو گا۔

Facebook Comments HS