یہ سیر کوہسار کی


naseer ahmad

سردیوں کا چاند شاید پاگل ہو، سردیوں کا خورشید تو اسلام آباد میں کافی سلیقہ شعار ہوتا ہے اور زندگی رخ و سر پر آسان کر دیتا ہے۔ کبھی ملاقات ہو جائے تو ہم بھی جنگل بزرگ کی راہ لیتے ہیں اور پانچویں کھونٹ ( ٹریل فائیو) کے مسافر ہو جاتے ہیں۔

کوشش یہی کرتے ہیں کہ ظہر کے آس پاس ہی بزرگوں سے ملاقات ہو کہ بزرگوں سے ملاقات کا مناسب وقت یہی ہوتا ہے۔ ورنہ عصر و مغرب کے قریب تو بزرگ تو خود پہ ایک قسم کی موت سی طاری کر لیتے ہیں۔ اور بات چیت کا کچھ ایسا رخ لے

لیتی ہے۔
خیریت ہے؟
کیسی حیرت، کس بات پر حیرت؟
حال پوچھ رہے ہیں
کال، ہمیں کون کا کرتا ہے، سب ہی حرامی نکلے، کسی نے بھی پلٹ کی خبر نہ لی۔

پھر دوسرا فائدہ یہ ہے کہ حضرت انسان سے بھی راہ گزار پر ذرا کم کم ہی ملاقات ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں حضرت انسان کی ایک قسم سے ذرا زیادہ ٹاکرا ہو جاتا ہے۔ وہی مغرب کے لہجوں اور فیشنوں کی نقالی میں مصروف سنگدل انسان، جس سے نہ جھگڑو تو فرعون بن جاتا ہے اور جھگڑو تو رفو چکر ہونے میں وہ تیزی دکھاتا ہے کہ بے مدعا عالم تقریر پر کچھ سج دھج نہیں دکھا سکتا۔ اور عالم تقریر کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے ایک دھرنا تو درکار ہی ہوتا ہے۔

اچھے لوگ بھی ہوتے ہی ہوں گے مگر نجانے کس گپھاہ میں آنے والوں کے لیے مصوری کر رہے ہیں۔ پھر اب ہم سے بھی والٹئیر کے پانگلوس جیسی احمقانہ رجائیت نہیں نبھائی جاتی اور کچھ شوپنہار جیسا عالم ہوتا جا رہا کہ حسن سلوک صرف آتما ( شوپنہار کے کتے کا نام جس سے وہ بہت پیار کرتا ہے ) تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ اب اب ہمارے پاس آتما کہاں، کبھی کبھی کوئی بھولا بھٹکا دوست ہی آ نکلتا ہے۔ اور پھر جنگل تو آباد ہے ہی، جو جلد ہی ہمیں قائل کر لیتا ہے اور پانگلوس اور شوپنہار کی صلح ہو جاتی ہے۔

ویسے ہم کیا اور ہماری کیفیات کیا لیکن پاکستان میں انسانیت میں بہتری کی ضرورت ہے۔ یہ بھی کیا کہ کسی سے بھی کچھ اختلاف ہو جائے، کچھ خوباں سے چھیڑ ہو جائے اور وہ اپنی زندگی کا مشن بنا لیتا ہے کہ آپ کے جینے کی جگہ اتنی کم ہو جائے کہ یا تو آپ بھاگ نکلیں یا نکال دیے جائیں۔ یا پھر انکسار کا وہ شاہکار ہو جائیں کہ میں ناہیں سب توں۔ خود ہی سوچیے ساری دنیا اگر رشتہ داروں جیسی ہو جائے تو پھر رجائیت کا کچھ نہ کچھ تو بگڑ ہی جاتا ہے۔

خیر یہ ایک قدیم مسئلہ ہے جسے انگریز بھی موتی سی چھب دکھا کر ٹھیک نہ کر سکے اور جو معاملہ انگریز نہ سلجھا سکیں اسے پھر کون سلجھا سکتا ہے؟

موتی سی چھپ پورے دو سو سال لگائے یہاں پر انگریزوں نے؟
لیکن یہ مسئلہ ابتدائے آفرینش سے ہی موجود ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اس سے بھی پرانا؟
اس سے بھی پرانا؟ پھر بھی کتنا پرانا؟
یہ تو قائم علی شاہ صاحب ہی بتا سکتے ہیں۔

لیکن کہتے رہنا چاہیے کہ کہنے سے کم ازکم لب و دندان کی ورزش ہو جاتی ہے حالانکہ کھاتے رہنے سے یہ ورزش زیادہ بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔

جنگل میں چلتے ہیں، ہم بھی یہ اصلاحی دفتر خواہ مخواہ ہی کھول لیتے ہیں، ورنہ اس دفتر بے معنی کا وہی حشر سب سے مناسب ہے جس کی حافظ تلقین کر گئے ہیں کہ این دفتر بی معنی غرق می ناب اولا

جنگل میں تھوڑی دیر کے بعد خورشید غائب ہو جاتا ہے اور جنگل کی آوازیں اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں۔ یہ درخت جھٹک جھٹک کر کیس کیوں جھٹکا رہے ہیں؟ کیا ان کے سجن بھی پردیس چلے گئے ہیں یا انھیں بھی کوئی ٹھیس پہنچی ہے؟ تھوڑی دیر بعد پتا چل جاتا ہے کون شوخی میں مصروف ہے۔

اب جھاڑیاں ٹوٹنے کے ساتھ پتھر بھی راڑ کر رہے ہیں۔
کیا ہوا؟
تمھیں پتا ہی ہے کہ یہاں اوندھوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے؟
دیکھو تو سہی؟
اچھا تو یہ ہیں، یہ اوندھوں کے تربیتی مرکز میں کیا کر رہے تھے؟
اور ہنستے ہنستے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

اب خزاں رسیدہ پتوں پر چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ وہی مرغ جو زیادہ تر جوڑوں میں جنگل میں گھومتے پائے جاتے ہیں۔ ان کا آپس میں حسن سلوک بھی مثالی ہوتا ہے لیکن آج آپس میں لڑ رہے تھے۔ لگتا ہے ان کی سیاست میں بھی مذہب کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔

اب درختوں پر لگے پتوں میں پر پھڑپھڑائے جا رہے ہیں۔
کوئی مینا ہو گی یا تمھاری طرح ہر وقت کوکتی کوئی کوئل؟
نہیں تمھارے جیسا کوئی لمبے دم والا ہے۔

اس کے بعد جنگل کی آوازوں سے کچھ توجہ ہٹ جاتی ہے کہ جان زار پتھروں اور چڑھائیوں سے جنگ آزما ہو جاتی ہے اور سانسیں خود بخود ہی ذکر الہی میں گم ہو جاتی ہیں۔

اب اگر مسلمان گھرانے سے ہوں تو بے دینی کب نبھتی ہے؟

ارے یار کو شش تو کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے نبھ ہی جائے۔ اب تو یہاں سے چلے جائیں گے اور باقی یونانی بھائی کے سنگ فسق و فجور میں گزار دیں گے۔

پہلے تو تم جیسے تہجد گزار ہو ناں؟
اب تو ہنسا بھی نہیں جا رہا۔

پھر سانسوں سے لڑتے جھگڑتے قلہ کوہ پر پہنچ جاتے ہیں اور خورشید سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ اور خورشید نے وہاں ماحول ہی اور بنایا ہوتا ہے۔

دیکھو ناں، پہاڑی کے روشن حصے تمھاری خالہ جیسے ہیں، ایک شفقت آمیز طمانیت اور پہاڑی کے تاریک حصے تمھاری پھپو کی طرح ہیں، بے کیف، بے رنگ، منہ بنائے ہوئے۔ اور آپ لگتا ہے بالکل اپنی پھپو پر گئی ہو۔

ہاں ناں، جب گھسے پٹے مقامی لطیفوں کی باری آتی ہے، تم برطانوی آداب معطل کرتے ہوئے کبڈی کبڈی کرنے لگتے ہو۔ اب پھپو کو کون سٹیریو ٹائپ کر رہا ہے؟

چھوڑو اس بات کو ، وہ بلبلیں دیکھو، سر دیوں کا خورشید ہو کہ گرمیوں کی بارش، جانوروں اور پرندوں کی ترنگ دیکھنے والی ہوتی ہے۔ یہ پرندوں اور جانوروں کی ذہانت کا عقدہ شاید انسانوں سے کبھی نہ کھل سکے۔

ہاں ناں، وہ تو کب کا کھل چکا۔ سب کو معلوم ہے کہ اس بلبل نے ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی تھی اور وہ کھرسو آج کل کیمبرج میں زیر تعلیم ہے۔

اوہ اچھا، بڑی بات ہے کہ تمھیں نہ صرف ہارورڈ اور کیمبرج کی خبر ہے بلکہ بلبل اور کھرسو کے فرق سے بھی آگاہی ہے۔ بری بات، دوسروں کے پچھواڑوں کا بنظر غائر ہی جائزہ لینا چاہیے۔ یہاں سے ہم تمھاری پیروی کو ہی ترجیح دیں گے۔

ھاھا، اب تم بیہودگی پر اتر آئے ہو، ویسے یہ تم خود کو ہم کیوں کہتے ہو اور لکھتے ہو؟
یہ راز۔
رہنے دو اتنی اچھی شام ہے اور میرا کوئی موڈ نہیں ہے کہ اسے داستان سنتے سنتے ضائع کر دوں۔
یہ عشق کا چرچا ہے حمزہ کا قصہ نہیں۔
یہ حمزہ کون ہے؟
رہنے دو اتنی اچھی شام ہے اور میرا کوئی موڈ نہیں کہ اسے تعلیم بالغان کی نذر کر دوں۔

شام نے ڈھلتے ڈھلتے کچھ وقت لیا تھا لیکن قریبی مارکیٹ میں، بھٹو کل بھی زندہ تھا، آج بھی زندہ ہے بج رہا ہے اور اس زور و شور سے بج رہا ہے کہ دیوار و در بجتے ہیں اور سر شوریدہ کو دیوار جو ہونے پر مجبور کر رہے ہیں اس لیے سمجھیں شام ڈھل گئی۔

لیکن اگر بھٹو زندہ ہے، تو اس کی زندگی کا اعلان دھیرے دھیرے کریں اور اگر مر گیا ہے تو بے چارے کی تدفین کر دیں یا ہمیں برج خموشی کے تلے پھینک آئیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).