سردی کی بارش میں سفر

سردی کی بارشوں میں وہ سفر جو گرمیوں میں وادی پر خار سے گزران جیسا ہوتا ہے غزل حافظ کی طرح گلزار ہو جاتا ہے۔ اس سفر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ گانے بج اٹھے۔ ان میں نصرت فتح علی خان کی ایک مشہور قوالی ’ایسا بننا سنورنا ہو مبارک تمھیں‘ بھی سنی۔ کچھ دھیان قوالی میں موجود اشعار کی طرف بٹ گیا۔ ان اشعار میں موجود تصور عشق اور معاملات بندی کے تجزیے کرنے لگے۔ وہاں محبت

Read more

ہوائی جہاز میں

ہوائی جہاز تک پہنچتے پہنچتے تک جو ہوا سو ہوا لیکن جونہی جہاز میں داخل ہوئے تو یوں لگا کہ جوزف کونراڈ کے ناول لارڈ جم والے حاجیوں کے جہاز میں آ گئے ہیں، بس فرق اتنا ہے یہ والا ہوائی ہے۔ اپنی نشست تک پہنچے تو وہاں آب گینوں سی بزرگی بیٹھی تھی اور ہم سوچنے لگے کہ اگر ان کے ساتھ بیٹھ گئے تو یہ تو ہم جو کبھی ہڑبڑا کر اور کبھی بوکھلا کر اور کبھی سوتے

Read more

الحمرا میں چاند

الحمرا گئے تو چاند کے آمنے سامنے ہو گئے۔ چاندنی بھی نفیس سی حسینہ جیسی ہی ہوتی ہے جس سے ملاقات ہو جائے تو سب کچھ بھلا سا ہو جاتا ہے۔ یا پھر کسی خوش مزاج فلسفی کی طرح کہ ایسے مدبر سے ملاقات ہو جائے تو ارد گرد سب کچھ اچھا لگنے لگتا ہے۔ لیکن زمانہ کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ چاندنی، حسینہ، فلسفہ، خوش مزاجی اور تدبر وغیرہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ اجنبی اور پردیسی ہو

Read more

روشن اور فتح

روشن اور فتح بھی ہماری زندگیوں میں ایسی شخصیات ہیں جن کہ نہ عروج کی داستانوں پر یقین آتا ہے اور نہ زوال کی کہانیوں پر۔ دونوں میں تھوڑا بہت سچ تو ہوتا ہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم لوگ بھی اوسط کاری کا استعمال کرتے ہوئے سچ کے قریب پہنچ ہی جاتے ہیں۔ یعنی جب وہ تباہی کے گڑھے میں گرے ہوتے ہیں تو ہم لوگوں کے ہاتھ خودکار طریقے سے جیبوں کی طرف چلے جاتے

Read more

خیر الدین کشتی سے ملاقات ( ایک فرضی قصہ )

کشتی صاحب نے مہربانی کی۔ علیل و زرد کو ہسپتال لے گئے۔ جب بھی ملتے ہیں دقائق معارف پر گفتگو ہوتی ہے۔ بس کوئی سوال پوچھتے ہیں تو ہم رواں ہو جاتے ہیں۔ دقائق معارف کا ہم تو ذکر نہیں کرتے۔ وہ پسندیدہ کتاب کا پوچھنے لگے۔ ہم نے کلام مجید کا بتایا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ دقائق معارف کے زمرے میں آتی ہے، اس سے گریز کرتے ہیں۔ اور کتابوں کا پوچھنے لگے تو ہم نے

Read more

امیر المومنین کیسے کیسے بہانے بنائیں گے؟

مشیر اچھے نہیں تھے، وزیر اچھے نہیں تھے، حالات بھی خراب تھے۔ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی؟ ان کے لیے اچھے سے بہانے سوچو۔ اردشیر عرف آقا ایران اور توران کی مٹی ٹوکروں میں بھر لایا تھا لیکن امیر المومنین نے موسم کی خرابی کی وجہ سے ایران اور توران پر حملہ کر کے انھیں فلاحی ریاست عطا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ان کی حمیت انصاف ایسی پھڑکی کہ انھوں نے میرے پاکستانیوں کو بھی

Read more

مقامی منگول سے ملاقات

ارے یہ دیکھیں، اس گھامڑ کو، بھیڑوں پر موٹر بائیک چڑھا دی۔ ہم نے کہا سب ہماری اور آپ کی طرح خاندانی نہیں ہوتے، مرزا جی۔ یہ کوئی موچی ہے۔ وہ کہنے لگے ارے آپ کو کیسے پتا چلا؟ ہم نے پوچھا کوئی خاندانی آدمی ہوتا تو ہم پر موٹر سائکل چڑھاتا ناں۔ ہماری کھال کھنچوانے کی سوچتا، لیکن یہ اسے کھال کی طرف لپکا جس کے جوتے بنتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا اور ہم جان گئے کہ انھیں

Read more

یہ سیر تن نحیف و نزار کی

سارتھی کہہ رہے تھے کہ نئی ٹریل دریافت کی ہے اور اس نئی ٹریل پر یارڑے کے خرام کی بات ہی اور ہو گی۔ رستے میں نصرت فتح علی خان کی قوالیاں سنتے رہے۔ آنکھ اٹھتی رہی اور محبت انگڑائیاں لیتی رہی۔ کوئی پینتالیس بار ایسا ہوا تو ہم اونگھنے لگے۔ اسی رنجیدہ سی غنودہ حالت میں وہاں پہنچے تو سارتھی ابھی سفر کر رہے تھے۔ اتنے عرصے میں گردوپیش کے جائزے کے بعد معلوم ہوا کہ وہی بلند ضلع

Read more

یہ سیر کوہسار کی

سردیوں کا چاند شاید پاگل ہو، سردیوں کا خورشید تو اسلام آباد میں کافی سلیقہ شعار ہوتا ہے اور زندگی رخ و سر پر آسان کر دیتا ہے۔ کبھی ملاقات ہو جائے تو ہم بھی جنگل بزرگ کی راہ لیتے ہیں اور پانچویں کھونٹ ( ٹریل فائیو) کے مسافر ہو جاتے ہیں۔ کوشش یہی کرتے ہیں کہ ظہر کے آس پاس ہی بزرگوں سے ملاقات ہو کہ بزرگوں سے ملاقات کا مناسب وقت یہی ہوتا ہے۔ ورنہ عصر و مغرب

Read more

سورج مشرق سے نکلتا ہے

پہلے صحافی: برباد ہو گئے وہ لوگ جو ایسے بیانات دیتے ہیں جن کی حقیقیت تجربہ کی جا سکتی ہے۔ مغرب کے فلسفوں کے دیوانے، باطن سے بے گانے، بھاڑے کے ٹٹو ( یہ ان کا پسندیدہ فریز ہے، کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور کبھی تندی تیزی میں پھسل جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کی ہنستے ہنستے پسلیاں بھی دکھنے لگتی ہیں ) شاندار کو معمولی کرتے رہتے ہیں۔ اب جس آئن سٹائن نے اس مبتذل جملے

Read more

طاہرہ کاظمی کا حقائق سے دور سوال؟

گر پوری دنیا کی عورتیں یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ بچے نہیں پیدا کریں گی تو سوچیے کیا ہو گا؟ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی ہمارے ایک بڑے اچھے دوست ہیں اور ان کا بحث کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ بذریعہ ’اگر‘ بنیادی بات پر متفق کرا لیا کرتے ہیں اور اس کے بعد بحث کے نتائج اپنی مرضی کے حاصل کر لیا کرتے ہیں۔ اور ہم ششدر سے رہ جاتے ہیں کہ ہم بات بھی ٹھیک کہہ رہے

Read more

جشن ماتم

یک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی یہ بادہ خوار کا تصوف ہے، ہم ایسے کم عقل ہنسوڑوں کی رسائی سے بہت دور ہے اور جیسے کہ ملک الشعرا جناب شیکسپئیر نے کہا تھا کہ مرگ میں ہنسنا اور شادی میں رونا کچھ احسن بات نہیں۔ اپنے وارث شاہ نے بھی کچھ ایسا ہی کہا تھا کہ بین کرتی سہاگنیں اور زیور پہنے بیوائیں اچھی نہیں لگتیں لیکن چونکہ ہم کافی

Read more

ایک ادبی میلے کی روداد

اس دفعہ بڑے عرصے بعد ایک ادبی میلے میں چلے گئے۔ ہماری ایک دوست ہیں بڑی اچھی افسانہ نگار، ان کا افسانہ سننے کے لیے۔ لیکن اس سے پہلے بہت سے مرحلوں سے گزرنا پڑنا۔ پہلے مرحلے میں سب دیے گئے ہوئے موضوع سے ہٹے ہوئے تھے۔ بہت سارا وقت اپنے مربی کے قصیدوں میں بتا دیتے، جو تھوڑا بچتا، وہ اپنی تعریفوں کی نذر کر دیتے۔ گفتگو بڑی جذباتی ہو رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہنسی کوئی بیتی ہوئی

Read more

نوشین و نکتہ چین

نوشین:اچھا یہ بتاؤ، کہ تم کسی گھسی پٹی، گئی گزری، گری پڑی، مہمل اور لغو چیز کی تعریف کر سکتے ہو اگر کرنی پڑ جائے؟ نکتہ چین:یہ بھی کوئی مسئلہ ہے۔ ایسے کتنے ہیں جن کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔ نوشین:ارے یہ تم کس طرف پلٹ پڑے۔ میں تو دیکھ رہی تھی کہ تمھارے ہاں خوش اخلاقی کے کچھ امکانات ہیں بھی کہ نہیں۔ نکتہ چین:نیٹشا کا کہنا تھا کہ خوش خلقی میں اگر شدید بیزاری نہیں تو شدید حقارت

Read more

شہرے چنیں (بنام ایٹالو کالوینو)

کائی پنگ فو سے تین دن کی مسافت پہ آپ چند دریا، چند صحرا، چند پہاڑ اور چند درے عبور کرنے کے بعد پاکیشیا پہنچتے ہیں۔ پاکیشیا، دریاؤں، صحراؤں، پہاڑوں اور دروں والا شہر۔ یہ دریا، صحرا، پہاڑ اور درے ایک دوجے سے شدید نفرت میں مبتلا ہیں اور جہاں کہیں ملتے ہیں ایک دوسرے کو ضرر پہنچاتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی اپنی زبانوں میں اس عمل کو دوسروں کی اصلاح کرنا کہتے ہیں۔ جیسے دریا پہاڑوں کے نیچے

Read more

مرزا صاحب نے پنجابی آرٹ فلم دکھائی

مرزا صاحب ہمارے ایسے دوست ہیں جن کی رائے ہم ہر غیر ضروری اور ہر غیر مفید معاملے میں صائب جانتے ہیں جیسے فلسفہ، عالمی سیاست، شعر و سخن، موسیقی، موویز، ناٹک، ناچ، مصوری، ثقافت کی سربلندی اور فنون لطیفہ سے متعلق دیگر معاملات۔ اس کی وجہ سے ہم میں ایک احساس کمتری بڑھ گیا ہے اور مرزا صاحب بھی بڑھاتے رہتے ہیں لیکن ہم نے اس احساس کمتری سے سمجھوتہ کر لیا ہے کہ مرزا صاحب کے حلقہ اثر

Read more