کیمرے کی آنکھ


”کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے“ یہ جملہ اب اکثر مقامات پر لکھا نظر آتا ہے۔ جو کسی بھی انسان کو خبردار کر رہا ہوتا ہے کہ آپ کی حرکات و سکنات کوئی اور بھی دیکھ رہا ہے۔ میری پوری زندگی بینک ملازمت میں گزری ہم بہت کوشش کرتے تھے لیکن ہمارے سٹاف اور خصوصاً کیشیر کی شکایات بہت ہوتی تھیں لیکن جب سے یہ کیمرے کی سہولت آئی ہے یہ شکایت ختم ہو چکی ہے کیونکہ کیمرے کی آنکھ سب دیکھ بھی رہی ہے اور ریکارڈ بھی کر رہی ہے۔

بلکہ اب تو پورا بینک کیمرے کی زد میں ہوتا ہے۔ اور ہمارا سالانہ آڈٹ بھی اب تو کیمرے کی ریکارڈنگ کی چیکنگ سے ہوتا ہے۔ میرے ایک دوست نے جو بیرون ملک رہتے ہیں اپنے بزنس کے سلسلے میں پاکستان میں ایک دفتر کھولا ہے جس کی وہ وہیں بیٹھ کر نگرانی کرتے ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک ان کے لگے ہوئے کیمرے سب کچھ نہ صرف دیکھ رہے ہوتے ہیں بلکہ ریکارڈ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ سائنس کی اس ترقی نے ہمارے بہت سے مسائل حل کر دیے ہیں اور جرائم میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے کیونکہ ”کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے“ ۔

میں نے دوران ملازمت بے شمار فراڈ اور واقعات ان کیمروں کے ذریعے ہی ٹریس کیے اور مجرموں کی بروقت نشاندہی سے بینک کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہا۔ لاہور اور اسلام آباد کے سیف سٹی ادارے نے سٹریٹ کرائمز میں بڑی کمی کر دی ہے اور ٹریفک کنٹرول کرنے میں آسانی ہو چکی ہے۔ موٹر وے پر جگہ جگہ لکھا نظر آئے ُ گا ”خبر دار آگے کیمرا ہے“ یا رفتار چیکنگ ہے ”یا پھر کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے۔ پھر یکایک آپ کو روک لیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ آپ کی گاڑی کی رفتار مقررہ رفتار سے زیادہ تھی، آپ نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی ہوئی یا آپ دوران ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کر رہے تھے۔

اگر آپ انکار کرتے ہیں تو وہ کیمرے کی ریکارڈنگ آپ کو دکھا دیتے ہیں۔ آپ کو غلطی کو ماننا ہی پڑتا ہے۔ سیف سٹی کے کیمرے تو خود بخود ٹریفک کی خلاف ورزی پر آپ کی گاڑی کا چالان کر دیتے ہیں۔ اس چا لان پر خلاف ورزی کی مکمل تفصیل کے ساتھ آپ کی گاڑی اور ڈرائیور کی تصویر بھی لگا دیتے ہیں۔ تاکہ آپ اس خلاف ورزی سے انکار نہ کر سکیں۔ گویا ایک معمولی کیمرے کے خوف سے انسان قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے چوری یا کوئی بھی غیر قانونی حرکت سے باز رہتا ہے کہ کہیں کوئی جرمانہ یا سزا نہ ہو جائے۔

کہتے ہیں آج اگر ایک تنہا کمرے میں ایک مرد اور ایک عورت کو بند کیا جائے اور ان کو صرف اتنا بتا دیا جائے کہ یہاں کیمرہ لگا ہے۔ جو آپ کے حرکات کو ریکارڈ کر رہا ہے اور بوقت ضرورت یہ پبلک بھی ہو سکتا ہے اور دنیا کے سامنے بھی لایا جا سکتا ہے۔ تو کوئی بھی صاحب عقل، عزت دار اور خاندانی انسان اس خوف کے مارے کوئی غلط حرکت نہیں کر سکتا کہ کہیں لوگوں کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں۔ اسی طرح بینک کے اے ٹی ایم اور عمارات کی لفٹ میں لگے کیمرے لوگوں کو خبردار کر رہے ہوتے ہیں۔

ان کی وجہ سے بے شمار مجرم قانون کی گرفت میں فوری آ جاتے ہیں۔ بینکوں میں رات کو ڈیوٹی دینے والے گارڈ اب بینک کے اندر موجود نہیں ہوتے۔ بلکہ سیکورٹی کا سنٹرلائز نظام ہر ہونے والی نقل و حرکت دیکھ رہا ہے۔ بلکہ سب کچھ ریکارڈ کر رہا ہے۔ اب تو پورے ملک میں اکثر مقامات پر نصب کیمروں نے ہماری زندگی آسان کر دی ہے۔ ہمیں خبردار بھی کر دیا ہے کہ ہم کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو ہمارے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہو۔

Facebook Comments HS