نظم و ضبط سے انکاری پشتون رباب کے لیے فکر مند ہیں


مالاکنڈ یونیورسٹی کے ایک طالب علم متوفی موسی خان کی گزشتہ دنوں میں حادثہ میں زخمی ہونے اور پھر ہسپتال کے آئی سی یو میں بستر نہ ملنے کے بعد موت سے خیبر پختونخوا کے لوگوں میں خصوصاً اور باقی دنیا کے لوگوں میں عموماً شدید غم و غصہ کا اظہار دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ جب کسی نوجوان کی جان جاتی ہے تو اس کا اثر معاشرے کے مکینوں پر زیادہ اثرات ثبت کرتا ہے اور اگر جان کسی کوتاہی کے نتیجے میں چلی جائے تو اس کے خلاف احتجاج کرنا اور بات کرنا معاشرے کے تمام لوگوں پر فرض ہوجاتا ہے۔

لیکن ہمارے ملک میں اکثر و بیشتر اصل واقعہ کو چھوڑ کر معاملے کا رُخ کسی دوسری طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اور پھر اس معاشرے کے تمام طبقے اسی پاپولر بیانیے کا ساتھ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اور ہم ایسے عجیب دور میں جی رہے ہیں جہاں کسی کی جان چلی جائے تو وہ کچھ حلقوں کے لیے سیاسی ایندھن اور شہرت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور پھر وہ لوگ جو اس واقعہ سے خبروں میں رہنے کے لیے اور لائیک لینے کے لیے حد سے گزر جاتے ہیں۔ ایسا ہی اس واقعہ میں بھی ہوا ہے۔

مالاکنڈ یونیورسٹی کے شعبہ جرنلزم کے ایک طالب علم کو یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹل سے بے دخل کر دیا تھا جس کی بنیادی وجہ اس طالب علم کا ہاسٹل میں رباب لانا اور یونیورسٹی نظم و ضبط کی پاسداری نہ کرنا اور ہاسٹل کے تعلیمی ماحول کو متاثر کرنا تھا۔ آپ دنیا کے کسی بھی یونیورسٹی میں جائیں وہاں کے نظم و ضبط کے قوانین ہوتے ہیں جن پر عمل درآمد کرایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوں میں ہزاروں طالب علم ہوتے ہیں جن کا بنیادی مقصد ہاسٹل میں قیام تعلیم کی بہتر حصول کے لیے ہوتا ہے۔

اس لیے ہاسٹلوں میں دیگر جگہوں کے مقابلے میں زیادہ سختی کی جاتی ہے۔ میں چونکہ ملازمت کے ابتدائی دنوں میں پشاور یونیورسٹی کے ایک بڑے ہاسٹل کا وارڈن رہ چکا ہوں۔ اس لیے مجھے ذاتی طور پر ان تمام مسائل کا تجربہ اور ادراک ہے جو ان ہاسٹلوں میں درپیش ہوتے ہیں۔ ہاسٹل میں 99 فیصد بچے سنجیدہ اور پڑھنے کے لیے رہائش اختیار کرتے ہیں۔ لیکن ایک فیصد ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جن کی ترجیحات میں پڑھنا اور محنت کرنا نہیں ہوتا۔

یہ بچے شعوری کوشش کرتے ہیں کہ ہاسٹل کا پرسکون ماحول خراب ہو۔ ایسے طالب علم عمومی طور پر سیاسی جماعتوں کے کارندے یا علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر بنی تنظیموں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان ایک فیصد میں سے بیشتر طالب علم نشہ کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ رباب اور موسیقی کے دوسرے آلات بھی ان کے پاس ہوتے ہیں جس سے یہ تمام ہاسٹل کے ماحول کو پراگندہ کر دیتے ہیں۔ اور یہ طالب علموں گروپ بازی اور غیر ضروری جھگڑوں کا سبب بھی بنتے ہیں۔

اور یہ پاکستان بھر کے تمام یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ ان کی وجہ سے اکثر ایسے جھگڑے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے یونیورسٹیوں کا تعلیمی سلسلہ رُک جاتا ہے اور یونیورسٹیاں ہفتوں اور مہینوں بند ہوتی ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی جیسا ادارہ کو بھی کئی مرتبہ انہی لوگوں کی وجہ سے مہینوں بند کرنا پڑا تھا۔ یہ ایک فیصد طالب علم عموماً اس وقت ماحول خراب کرتے ہیں جب امتحانات سر پر ہوں۔ چونکہ یہ خود پڑھتے نہیں ہیں اس لیے یہ دوسروں کو پڑھنے نہیں دیتے اور اس طرح یہ یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ بڑھاتے رہتے ہیں۔

یہ پس منظر اس لیے بیان کرنا پڑا کہ ان طالب علموں کے والدین کبھی بھی اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی یا تسلسل معلوم کرنے یونیورسٹی آنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ کہ ان کے بچے کیسے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے اساتذہ سے کبھی نہیں ملتے۔ ان کے ہاسٹل جاکر نہیں دیکھتے کہ ان کے بچے کس ماحول میں پڑھ رہے ہیں، ان کی صحبت کیسی ہے۔ کیا وہ منشیات کا استعمال تو نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ہماری قومی بے توجہی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی فکر نہیں کرتے ان پر نظر نہیں رکھتے جس کی وجہ سے وہ بُری صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں، نشے کے عادی ہو جاتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن کر اپنے حقیقی مقصد حصول علم سے توجہ ہٹا لیتے ہیں۔

لیکن جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو ہم ان محرکات کو نہیں دیکھتے اور جو اساتذہ انتظامی اور شخصی طور پر ان چیزوں کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور پھر پروپیگنڈا اصل حقائق کو مسخ کر کے رکھ دیتا ہے اور آئندہ جو چند ایک لوگ یا اساتذہ جو اپنا فرض سمجھ کر ان طالب علموں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی اس سے اجتناب کرتے ہیں۔ مالاکنڈ یونیورسٹی کے اس طالب علم کو حادثہ یونیورسٹی سے بہت دور مالاکنڈ کے بڑی شاہراہ پر پیش آیا ہے۔

جہاں ایک موٹر سائیکل پر تین طالب علم بغیر ہیلمٹ پہنے بغیر موٹر سائیکل چلانے کے لائسنس کے درگئی سے واپس یونیورسٹی کی طرف آرہے تھے کہ سڑک پر دوسری طرف سے آنے والی پنجاب کے سیاحوں کی گاڑی نے الٹے سائڈ پر اس موٹر سائیکل کو ٹکر ماری ہے۔ جس کے نتیجے میں تینوں طالب علم زخمی ہوئے ایک طالب علم موسی خان شدید زخمی ہوا جسے قریبی بٹ خیلہ ہسپتال لے جایا گیا۔ یہ ہسپتال اس پورے علاقہ کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ جس میں محکمہ صحت کے مطابق تمام طبی اور ہنگامی سہولیات موجود ہوتی ہیں۔

وہاں ڈاکٹر اور سہولیات کی عدم دستیابی کی بنا پر اس شدید زخمی طالب علم کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے۔ جب اس طالب علم کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا جاتا ہے جو پشاور شہر کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ جہاں اسے طبی امداد دینے کی جگہ اسے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس بھیجا جاتا ہے۔ جہاں مجروح کو داخل کر نے کے لیے سی سی یو میں کوئی بستر دستیاب نہیں ہوتا۔ اس دوران اس طالب علم کی جان چلی جاتی ہے۔

لیکن ہمارے اس نظام میں کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ مرکزی شاہراہ پر ایک موٹر سائیکل پر تین لوگ کیسے سواری کر رہے تھے، ان تینوں کے سر پر ہیلمٹ نہیں تھے۔ ان کے پاس لائسنس نہیں تھا۔ کسی نے بھی ان کو نہیں روکا۔ بٹ خیلہ کے ہسپتال میں بنیادی سہولیات اور ڈاکٹر کیوں نہیں تھے۔ پھر وہاں سے اسے ریفر کیا جاتا ہے مگر اس کی اطلاع لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو دینے کی کوئی کوشش نہیں کرتا، وہاں مجروح کو طبی امداد دینے کی جگہ اسے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس بھیجا جاتا ہے۔

جہاں سی سی یو میں کوئی بستر دستیاب نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے مریض کو بروقت طبی امداد نہیں دی جا سکی۔ یہ سوال کوئی نہیں کرتا اور یہ سب روز کا معمول ہے۔ ان روڈوں اور ہسپتالوں میں روزانہ ایسے لوگ مرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس کی ذ‏مہ داری کسی پر بھی نہیں ڈالی جاتی۔ ایسے میں مالاکنڈ کے قرب و جوار کے سیاسی لوگوں کو ایک موقع مل جاتا ہے اور وہ سب جمع ہو کر مالاکنڈ یونیورسٹی کے خلاف صف آراء ہو جاتے ہیں۔ اور سب رباب لے کر مالاکنڈ یونیورسٹی پہنچ جاتے ہیں اور ایک میوزیکل فیسٹول کا سا سماں باندھ لیتے ہیں۔

اس طالب علم کی قیمتی جان رباب کی وجہ سے نہیں اس بے حس نظام کی وجہ سے گئی ہے۔ اس کے والدین کی عدم توجہی کی وجہ سے گئی ہے۔ رباب کی وجہ سے منع کرنا، یونیورسٹی کے نظم و ضبط کے قوانین کے عین مطابق ہے۔ اس لیے کہ اس کی وجہ سے امتحان کی تیاری کرنے والے سینکڑوں طالب علموں کا وقت ضائع ہوتا ہے وہ پڑھ نہیں پاتے۔ یونیورسٹیوں کے ہاسٹل رباب کے لیے نہیں ہوتے۔ پڑھنے اور آرام کے لیے ہوتے ہیں۔ رباب کے لیے دیگر مقامات ہیں جہاں جاکر اس سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔

سیاست چمکانے کے لیے یونیورسٹیوں کا استعمال بند ہوجانا چاہیے۔ ادارے نظم و ضبط سے چلتے ہیں۔ ان میں سیاسی اور قومی و مقامی مداخلت سے یہ تباہ ہو جاتے ہیں۔ یونیورسٹیاں پوری دنیا میں خود مختار ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں یونیورسٹیوں کے معاملات میں لوکل کونسل سے لے کر صوبائی، قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران، بیوروکریسی سے لے کر ہر ادارہ مداخلت کی کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی یونیورسٹیوں میں وہ ماحول نہیں بن پایا جو دنیا کی یونیورسٹیوں میں ہے۔

اگر یونیورسٹیوں میں کوئی کوتاہی کرتا ہے یا اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو اس کے لیے ان اداروں میں ایک نظام موجود ہے۔ جس سے ان مسائل کو بخوبی حل کیا جاسکتا ہے مگر بیرونی مداخلتوں سے یہ نظام اتنا متاثر ہو گیا ہے کہ اب یہ کام ہی نہیں کر رہا۔ مالاکنڈ یونیورسٹی یا کسی بھی علاقے کی یونیورسٹی اس علاقے کے علمی، تحقیقی، معاشرتی اور معاشی ترقی کا سب سے بڑا ادارہ ہوتا ہے۔ ان اداروں کو جن اقوام نے سہارا دیا۔

ان کو مالی اور انتظامی طور پر مستحکم کیا وہ اقوام خوشحال ہیں۔ اور جن جن اقوام نے ان میں بے جا مداخلت کی اور ان کو قانونی اور انتظامی ترتیب سے چلنے نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ مشکلات کا شکار رہی ہیں۔ اگر ان اداروں کی خودمختاری ختم کرنی ہے تو پھر انہیں سرکاری کالجوں جیسا بنا دیں۔ اکیڈیمک کونسل۔ سنڈیکیٹ اور سینٹ کو ختم کر دیں، اسمبلی سے پاس شدہ ایکٹ معطل کر دیں۔ پھر جس طرح کالجوں کو سرکار تنخواہ اور دوسری ضروریات مہیا کرتی ہے اس طرح مہیا کرے اور جو ضلع کے چھوٹے بڑے افسران چاہیں وہ کریں۔

پشتوں آبادی والے علاقوں میں تعلیمی اداروں کا ہونا ایک نعمت سے کم نہیں ہے اس لیے کہ ماضی میں پشتون علم کے حصول کے لیے بہت دور دراز علاقوں کا سفر کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ علم کی نعمت سے محروم رہ جاتے تھے۔ اب ان کے گھروں کے پاس یونیورسٹیاں ہیں۔ ان کی قدر کریں اور اپنے بچوں کو دنیا کے دیگر اقوام کی طرح نظم و ضبط کا پابند بنائیں۔ ان کے تعلیمی اداروں میں بار بار جائیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچوں کو توجہ نہیں مل رہی یا ان کی تعلیم میں کوئی کوتاہی بھرتی جا رہی ہے تو اس پر بات کریں۔

اس طرح یہ ادارے بہتر ہوجائیں گے۔ لیکن اگر آپ رباب اٹھا کر یونیورسٹی کے گیٹ پر دھرنا دیں گے تو یہ یاد رکھیں آپ کے بچے کل کو عالم، فاضل اور ‏محقق تو نہیں بن پائیں گے البتہ رباب اور دیگر موسیقی کے آلات میں شد بد ضرور حاصل کر لیں گے۔ اپنے بچوں کو پڑھنے دیں اور اگر آپ رباب کا شوق رکھتے ہیں تو جب وہ گھر آئیں تو اپنے حجروں میں ان کو رباب بجانے اور سیکھنے کا موقع فراہم کریں۔ یا پھر حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ طالب علموں کو رباب ساتھ رکھنا چاہیے، اور وقت بے وقت ہاسٹلوں میں موسیقی ضروری ہے تو ہر علاقہ میں ایک فائن آرٹس کی یونیورسٹی بنا دیں۔

جس میں ایک بڑا شعبہ موسیقی کا بھی ہو جس میں پڑھنے والے، پڑھانے والے اور سننے والے اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور جو لوگ دیگر علوم پڑھ رہے ہیں وہ سہولت سے دوسری یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں پڑھ سکیں گے۔ پشتون خطوں کے بچوں کے ہاتھوں میں کتاب دیں۔ چالیس برس تک اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف دے کر ہم بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں کتاب اور لیب ٹاپ کی جگہ ان کو رباب و گٹار دے کر ان کو دوسری انتہا کی طرف دھکیلنا کہاں کی دانش مندی ہے۔ فنون لطیفہ زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ اس سے انکار نہیں ہے۔ مگر زیر تربیت نوجوانوں کے سارے شب و روز اگر ناچ اور گانے کے نذر کیے جائیں تو یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔ یونیورسٹیاں تحقیق و تدریس کی لیے ہوتی ہیں۔ تماشے لگانے کے لیے نہیں۔ بس یہ باریک سا نکتہ پشتونوں کو سمجھانا ہے۔ تدریس و تحقیق کے لیے نظم و ضبط کا ہونا لازمی ہے۔ نظم و ضبط کے خلاف احتجاج کرنا قوموں کو زیب نہیں دیتا۔

ایک اور پہلو بھی ہے جس کا ذکر بہت ضروری ہے کہ اب یونیورسٹیوں میں ایک سخت گیر ملائیت کا رجحان بھی زور پکڑ رہا ہے۔ جس میں بے جا سختی اور انتہا درجے کی بنیاد پرستی کا پرچار بھی ہو رہا ہے۔ یہ اگر یونیورسٹیوں میں بے جا آزادی کے ردعمل کے طور پر ہو رہا ہے یا کسی مخصوص ذہنی سوچ کے نتیجے میں تو بھی بہت خطرناک رجحان ہے۔ اس لیے یونیورسٹیوں کے صاحبان اختیار کو اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ یہ انتہا پسندی بھی یونیورسٹیوں کے عالمی اور فطری ڈھانچہ کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ یونیورسٹیوں کا ماحول یہ دو طرح کے انتہا پسند خراب کرتے ہیں۔ انتظامی، تعلیمی اور شخصی و ذہنی آزادی کا اعتدال جن معاشروں اور یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے وہاں لوگ قوانین اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ اور ان یونیورسٹیوں اور اداروں سے ترقی اور خوشحالی معاشرے میں آتی ہے۔ اگر یہ اعتدال نہ رہے تو کچھ طبقے خود ساختہ روشن خیال اور کچھ بدترین انتہا پسند بن جاتے ہیں۔ یونیورسٹیاں دنیا بھر میں اپنے طالب علموں کو اپنے جذبات اور صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم اور ذرائع فراہم کرتی ہیں۔

جس سے ان کے معاشروں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں اس کی شدید کمی ہے۔ بحث اور مکالمہ اس پر ہونا چاہیے کہ یونیورسٹیوں کے کیمپسوں میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ اور حکومت کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ایسا کرنے کے لیے ان کو پابند کرے۔ پاکستان کی بیشتر یونیورسٹیوں کی عمر بیس برس سے کم ہے۔ اس لیے ان میں وہ ذہنی پختگی اتنی نہیں ہے جتنی دو سو برس سے زیادہ عمر کی یونیورسٹیوں میں ہے۔ مگر اس پختگی کے سفر میں یونیورسٹیوں کو مقامی لوگوں اور خصوصاً سٹیک ہولڈروں کی حمایت اور مدد درکار ہوتی ہے۔

جس کی ہمارے معاشرے میں کمی ہے۔ حکومت اور مقامی لوگ وقتی جذبات میں آ کر یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے اداروں کو غلط روایات اور احکامات کا پابند نہ کریں۔ کہ اس سے ارتقائی ترقی و بہتری کا راستہ رُک جاتا ہے اور اس سے معاشرتی خرابیوں کو لائسنس مل جاتا ہے جو مسلسل ترقی کرتا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ اپنے موسی خانوں کی فکر کریں، ان کے بہتر مستقبل کی فکر کریں۔ وہ کامیاب اور زندہ رہیں گے تو ملک بھی تعمیر کریں گے اور خوشی کے مواقع پر رباب بھی بجائیں گے۔

سڑکوں پر قوانین نافذ کریں، ہسپتالوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی فکر کریں۔ حادثوں روکنے والوں اور جانیں بچانے والوں کو قانون کا پابند کریں اور اس پر سختی کریں۔ اس لیے کہ ان سڑکوں پر زخمی ہونے والے اور ہسپتالوں میں توجہ اور سہولیات کی عدم دستیابی سے مرنے والوں کی تعداد اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ پاکستان میں ہے۔

Facebook Comments HS